وزارت دفاع
azadi ka amrit mahotsav

ہندوستانی بحریہ نے مقامی طور پر تیار کردہ کم گہرے پانیوں والے آبدوز شکن جنگ کے لیے تیار کردہ بحری جہاز آئی این ایس منگرول کو بحری بیڑے میں شامل کر لیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 12 OCT 2026 8:13PM by PIB Delhi

ہندوستانی بحریہ نے 12 اکتوبر 2026 کو ممبئی کے نیول ڈاک یارڈ میں آئی این ایس منگرول (P82) کو بحری بیڑے میں شامل کیا۔ یہ ماہے کلاس کا تیسرا کم گہرے پانیوں میں آبدوز شکن جنگ کے لیے تیار کردہ بحری جہاز (اے ایس ڈبلیو-ایس ڈبلیو سی) ہے۔ اس تقریب کی صدارت نائب امیر بحریہ سنجے وتسایان، فلیگ آفیسر کمانڈنگ اِن چیف، مغربی بحری کمان نے کی۔

تقریبِ شمولیت میں دفاعی افواج کے سینیئر افسران، وزارتِ دفاع، کوچین شپ یارڈ لمیٹڈ (سی ایس ایل)، صنعتی شراکت داروں اور دیگر ممتاز شخصیات کے نمائندوں نے شرکت کی۔

کوچین شپ یارڈ لمیٹڈ، کوچی کے ذریعے مقامی طور پر ڈیزائن اور تعمیر کیا گیا آئی این ایس منگرول، جنگی جہازوں کے ڈیزائن، تعمیر اور مختلف نظاموں کو یکجا کرنے کے شعبوں میں ہندوستان کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس جہاز میں 80 فیصد سے زیادہ مقامی سازوسامان کا استعمال کیا گیا ہے، جو آتم نربھر بھارت اور میک اِن انڈیا کے تئیں ملک کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ مقامی بحری صلاحیتوں کو مضبوط بنانے میں ہندوستانی دفاعی صنعتوں اور مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) کے تعاون کو بھی نمایاں کرتا ہے۔

ساحلی اور کم گہرے پانیوں میں کارروائیوں کے لیے تیار کردہ آئی این ایس منگرول آبدوز شکن جنگ (اے ایس ڈبلیو)، زیرِ آب نگرانی اور کم شدت کی بحری کارروائیوں (ایل آئی ایم او) کے ساتھ ساتھ بارودی سرنگوں سے متعلق کارروائیاں انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے جدید سینسر، سونار اور ہتھیاروں کے نظام ساحلی و ساحل سے متصل دشوار گزار سمندری ماحول میں زیرِ آب خطرات کا پتہ لگانے، ان کا سراغ لگانے اور ان کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرتے ہیں۔ ڈیزل انجن سے چلنے والے تین واٹر جیٹ پروپلشن یونٹس سے لیس یہ جہاز بہترین نقل و حرکت اور تیز رفتار ردعمل کی صلاحیت رکھتا ہے، جو کم گہرے اور محدود آبی علاقوں میں کارروائیوں کے لیے انتہائی اہم ہے۔

نائب امیر بحریہ سنجے وتسایان نے اپنے خطاب میں آئی این ایس منگرول کو بحری بیڑے میں شامل کیے جانے پر ہندوستانی بحریہ اور کوچین شپ یارڈ لمیٹڈ کو مبارک باد دی۔ انہوں نے ہندوستان کی بحری نگرانی اور آبدوز شکن جنگ کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے میں مقامی طور پر تیار کردہ جنگی جہازوں کی اہمیت کو اجاگر کیا، خصوصاً بدلتے ہوئے بحری سلامتی کے ماحول کے تناظر میں۔ انہوں نے ہندوستان کی مقامی جہاز سازی کی صنعت کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں اور ٹیکنالوجی میں ترقی، عملی تیاری اور دفاعی مینوفیکچرنگ میں خود انحصاری کے لیے ہندوستانی بحریہ کے مسلسل عزم پر بھی زور دیا۔

آئی این ایس منگرول کا نام گجرات کے ضلع جوناگڑھ کے ساحلی قصبے اور مشہور ماہی گیری کی بندرگاہ منگرول کے نام پر رکھا گیا ہے۔ یہ جہاز سابقہ آئی این ایس منگرول (M85) کی وراثت کو بھی آگے بڑھاتا ہے، جو بارودی سرنگوں کی صفائی کے لیے استعمال ہونے والا جہاز تھا اور اپریل 2004 تک ہندوستانی بحریہ میں خدمات انجام دیتا رہا۔ اس طرح یہ ممتاز جنگی جہازوں کے نام محفوظ رکھنے کی بحری روایت کو برقرار رکھتا ہے۔

آئی این ایس منگرول کی بحری بیڑے میں شمولیت ہندوستانی بحریہ کی آبدوز شکن جنگ کی صلاحیتوں اور ساحلی دفاعی تیاری کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اور اہم سنگ میل ہے۔ یہ جہاز ہندوستان کے ساحلی سمندری راستوں اور بحری مفادات کے تحفظ، بحری حدود سے متعلق صورتِ حال کی آگاہی میں اضافے اور زیر آب خطرات کا مقابلہ کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اس کی شمولیت بحری سلامتی، علاقائی استحکام اور جنگی جہازوں کی تعمیر میں خود انحصاری کے تئیں ہندوستانی بحریہ کے عزم کو مزید مستحکم کرتی ہے اور بحرِ ہند کے خطے میں ہندوستان کے بحری مفادات کو آگے بڑھاتی ہے۔

 

 

 ***

ش ح۔ ف ش ع

U: 5057


(ریلیز آئی ڈی: 2322595) وزیٹر کاؤنٹر : 5
یہ ریلیز پڑھیں: English , Marathi , हिन्दी