ارضیاتی سائنس کی وزارت
آئی آئی ٹی ایم پونے میں اے پی اے آر سی کی جنرل اسمبلی 2026 کا آغاز، فضائی اور موسمیاتی سائنس کے مستقبل کی تشکیل کے لیے عالمی ماہرین یکجا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
12 OCT 2026 5:47PM by PIB Delhi
ماحولیاتی عمل اور ماحولیات میں اُس کے رول ( اے پی اے آر سی ) کی جنرل اسمبلی 2026 کی افتتاحی تقریب آج پونے میں واقع انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹراپیکل میٹرولوجی ( آئی آئی ٹی ایم ) میں منعقد ہوئی۔ تقریب میں مہمانِ خصوصی ڈاکٹر سری نواس کمار تُمّالا ( حکومتِ ہند کی ارضیاتی سائنسز کی وزارت کے سکریٹری ) نے ورچوئل طور پر شرکت کی۔ مہمانِ اعزازی محترمہ کو بیریٹ ( اقوام متحدہ کی عالمی موسمیاتی تنظیم کی نائب سکریٹری جنرل ) بھی ورچوئل طور پر شریک ہوئیں۔ اس موقع پر ڈاکٹر ہندومتی پلانی سوامی ( سائنسی افسر، عالمی موسمیاتی تحقیقاتی پروگرام، عالمی موسمیاتی تنظیم ) ، ڈاکٹر اسٹیفنی ایوان ( فرانس کے جزیرے ریو یونین میں واقع لیبارٹری آف دی ایٹموسفیئر اینڈ سائیکلونز کی تحقیقی سائنس داں اور اے پی اے آر سی کی شریک سربراہ ) ، ڈاکٹر ہیلا گارنی ( جرمنی کے ڈی ایل آر انسٹی ٹیوٹ آف ایٹموسفیرک فزکس اور اے پی اے آر سی کی بین الاقوامی مقامی انتظامی کمیٹی)، ڈاکٹر سوریہ چندر راؤ ( ڈائریکٹر، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹراپیکل میٹرولوجی ) اور ڈاکٹر سوورنا فڈنویس ( سائنسی انتظامی کمیٹی کی چیئرپرسن اور آئی آئی ٹی ایم کے پروجیکٹ ڈائریکٹر، سی سی سی آر ) بھی موجود تھے۔
مذکورہ تاریخی موقع پر ، بھارت چار سال بعد ہونے والے اس اجلاس کی میزبانی میں پیش پیش ہے۔ اس اجلاس میں دنیا بھر کے ممتاز سائنس داں، محققین، طلباء اور پالیسی ساز جمع ہو رہے ہیں تاکہ سائنسی شعبے میں ہونے والی اہم پیش رفت پر تبادلۂ خیال کیا جا سکے اور موسمیات اور فضائی علوم کے شعبوں میں باہمی تعاون کے اقدامات کو فروغ دیا جا سکے۔
پانچ روزہ یہ اجلاس ( 12 سے 16 اکتوبر ، 2026 ء ) یوروپ، امریکہ، جنوبی ایشیا، جنوب مشرقی ایشیا، آسٹریلیا اور دیگر خطوں سے 550 سے زائد شرکا کو یکجا کر رہا ہے۔ ان میں 380 شرکا بالمشافہ شرکت کر رہے ہیں، جن میں 250 ملکی اور 130 بین الاقوامی مندوبین شامل ہیں، جب کہ تقریباً 180 عالمی محققین ورچوئل طور پر اجلاس میں شریک ہو رہے ہیں۔
مضبوط قیادت اور کلیدی خطبہ
تقریب کا آغاز پونے میں واقع آئی آئی ٹی ایم کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سوریہ چندر اے راؤ کے کلیدی خطبے سے ہوا، جس کا عنوان تھا : ’’مانسون کی ماڈل سازی: ممکنہ پیش گوئی اور پیش گوئی کی مہارت کے درمیان فرق کو کم کرنے کے راستے ‘‘ ۔
اسمبلی کی قیادت کرنے والی اہم شخصیات اور فضائی علوم کے ماہرین میں فرانس کے سی این آر ایس کے سائنس داں اور اے پی اے آر سی کے شریک سربراہ ڈاکٹر اسٹیفنی ایوان، جرمنی کی موسمیاتی خدمات کے ادارے کے ماہر اور اے پی اے آر سی کے شریک سربراہ ڈاکٹر اولاف مورگن اشٹرن، جنیوا میں عالمی موسمیاتی تنظیم ( ڈبلیو ایم او ) کی ڈاکٹر ہندومتی پلانی سوامی، کینیڈا کی یونیورسٹی آف ٹورنٹو کے پروفیسر پال کشنر، پونے میں واقع آئی آئی ٹی ایم کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سوریہ چندر اے راؤ اور آئی آئی ٹی ایم کے مرکز برائے تحقیقِ موسمیاتی تبدیلی کی پروجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر سوورنا فڈنویس شامل ہیں۔
سماجی فوائد کے لیے اہم موضوعات پر توجہ
اے پی اے آر سی، عالمی موسمیاتی تحقیقاتی پروگرام ( ڈبلیو سی آر پی ) کا ایک بنیادی منصوبہ ہے۔ ہر چار سال میں منعقد ہونے والی یہ جنرل اسمبلی تحقیق کے ابھرتے ہوئے خلا کی نشاندہی کرنے، سائنسی شراکت داری کو مضبوط بنانے اور معاشرتی فوائد کے لیے موسمیاتی تبدیلی کے اہم چیلنجوں سے نمٹنے کی خاطر قابلِ عمل لائحۂ عمل تیار کرنے کے لیے ایک عالمی پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔ اجلاس کے دوران ہونے والے تبادلۂ خیال اور قائم ہونے والے روابط سے اے پی اے آر سی کی مستقبل کی سرگرمیوں میں مدد ملنے اور فضائی و موسمیاتی تحقیق کے نئے رخ متعین ہونے کی توقع ہے۔
اس جنرل اسمبلی کے سائنسی پروگرام میں زبانی پیش کشوں کی 67 نشستیں شامل ہیں، جن میں 9 کلیدی خطابات، 17 مدعو خطابات اور 41 دیگر تحقیقی خطابات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 400 سے زائد پوسٹر پیش کشیں بھی پیش کی جائیں گی۔ اسمبلی کے پروگرام کو چھ بنیادی موضوعات کے گرد ترتیب دیا گیا ہے:
- موسمیاتی نظام کی باریک تفصیلات پر مبنی عکاسی
- بدلتے ہوئے موسم میں فضائی ترکیب اور اس میں تغیرات
- موسمیاتی اثرات کے محرکات کے حرکیاتی اور حرارتی نقوش
- استوائی خطوں میں فضائی گردش، ترکیب اور شدید موسمی واقعات
- چند ہفتوں سے لے کر کئی دہائیوں تک کے دورانیے کے لیے موسمیاتی پیش گوئی
- اے پی اے آر سی کی سائنس، معاشرے کے لیے اور معاشرے کے ساتھ
مصنوعی ذہانت اور مشینی لرننگ ( اے آئی/ایم ایل ) سمیت موسمیاتی ماڈل سازی، فضائی کیمیا، شدید موسمی واقعات کی پیش گوئی اور بنیادی موسمیاتی تحقیق کو معاشرے کے لیے قابلِ عمل اقدامات سے جوڑنے جیسے ابھرتے ہوئے اہم شعبوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
سائنس دانوں کی نئی نسل کو بااختیار بنانا
کانفرنس میں 120 سے زائد طلباء اور ابتدائی مرحلے کے 150 محققین کی شرکت کے پیش نظر رہنمائی اور باہمی روابط کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔ پوسٹر پیش کشوں کے اجلاس اور باہمی تعاون کے فورم ابتدائی مرحلے کے سائنس دانوں کو بین الاقوامی سطح کی ممتاز شخصیات سے براہِ راست تبادلۂ خیال کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ اس سے نئے خیالات اور عالمی تحقیقی شراکت داریوں کو فروغ ملتا ہے، جو فضائی تحقیق کے مستقبل کے رخ کا تعین کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔
اے پی اے آر سی اور ڈبلیو سی آر پی کے بارے میں
فضائی عمل اور موسمیاتی تبدیلی میں ان کے رول ( اے پی اے آر سی ) کا منصوبہ عالمی موسمیاتی تحقیقاتی پروگرام ( ڈبلیو سی آر پی ) کا ایک بنیادی منصوبہ ہے۔ اس کا مقصد ان فضائی عوامل اور عمل کو سمجھنا ہے ، جو موسم کے انداز اور عالمی آب و ہوا کی حرکیات کو کنٹرول کرتے ہیں۔







*****
) ش ح – ض ر - ع ا )
U.No. 5036
(ریلیز آئی ڈی: 2322452)
وزیٹر کاؤنٹر : 5