سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

بھارت اور برطانیہ کے درمیان دو طرفہ مذاکرات میں خلاء ، سول  نیو کلیائی توانائی اور  ابھرتی ہوئی ٹیکنا لوجیز کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر غور کیا گیا :  ڈاکٹر جتیندر سنگھ


ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ مذاکرات میں چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹروں،  ماحول کے تئیں ساز گار توانائی کی ٹیکنا لوجی اور نئے کاروباری اداروں کے لیے مواقع پر تبادلۂ خیال کیا گیا

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے  بھارت کے سائنس اور ٹیکنا لوجی کے بڑھتے ہوئے نظام کو اجاگر کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان مزید گہرے تعاون کے امکانات پر روشنی ڈالی

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ دونوں فریقوں نے مصنوعی ذہانت، کوانٹم ٹیکنالوجی، سائبر – فزیکل سسٹمز اور طبی تحقیق کے شعبوں میں تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 12 OCT 2026 4:45PM by PIB Delhi

سائنس و ٹیکنا لوجی اور ارضیاتی  سائنسز کے مرکزی وزیر مملکت  (  آزادانہ چارج ) اور وزیر اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات و پنشن،  جوہری توانائی اور خلائی امور کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج برطانیہ کے کاروبار، اختراع، سائنس اور تجارت کے وزیر جوناتھن رینالڈز کے ساتھ دو طرفہ مذاکرات کیے۔ ان مذاکرات کا مقصد  ، خلائی تحقیق،  سول  نیو کلیائی توانائی، سائنسی تحقیق اور جدید ٹیکنا لوجی کے شعبوں میں  بھارت اور برطانیہ کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے کے امکانات کا جائزہ لینا تھا۔

بھارتی وفد کی قیادت مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کی۔ وفد میں محکمۂ سائنس و ٹیکنا لوجی  (  ڈی ایس  ٹی )   کے سکریٹری پروفیسر امیش واگھمارے اور ڈی ایس ٹی میں بین الاقوامی دو طرفہ تعاون کے مشیر و سربراہ ڈاکٹر پروین کمار سوماسندرم شامل تھے۔

برطانوی وفد میں رکنِ پارلیمنٹ اور کاروبار، اختراع، سائنس و تجارت کے وزیر جوناتھن رینالڈز،  بھارت میں برطانیہ کی ہائی کمشنر لنڈی کیمرون اور محکمۂ کاروبار، اختراع، سائنس و تجارت کی قائم مقام مستقل سکریٹری امانڈا بروکس شامل تھیں۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ  بھارت میں خلائی شعبے میں کی گئی اصلاحات سے نجی صنعتوں، نئے کاروباری اداروں اور ٹیکنا لوجی تیار کرنے والوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے سے قائم تحقیقی اداروں کو جدید تحقیق اور ٹیکنا لوجی کی ترقی پر توجہ مرکوز کرنے کا موقع ملا ہے۔ اس تجربے کی بنیاد پر  بھارت اور برطانیہ تحقیقی شراکت داری، ٹیکنا لوجی کی ترقی، سرمایہ کاری اور صنعتوں کی زیادہ سے زیادہ شمولیت کے ذریعے اپنے تعاون کو وسعت دے سکتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات اور سائنسی صلاحیتوں میں ایک دوسرے کی تکمیل، دو طرفہ تعاون کو اگلی سطح تک لے جانے کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔

مذاکرات میں خلائی سائنس، مصنوعی سیاروں کی تیاری اور تحقیق کے شعبوں میں تعاون کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے سائنسی اداروں اور ٹیکنا لوجی سے وابستہ کاروباری اداروں کے درمیان روابط مضبوط بنانے پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔  بھارت میں خلائی ٹیکنا لوجی کے شعبے میں تقریباً 800 نئے کاروباری اداروں کی موجودگی کا ذکر کرتے ہوئے  ، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے  بھارتی اور برطانوی نئے کاروباری اداروں اور چھوٹی کمپنیوں کے درمیان روابط بڑھانے کی تجویز پیش کی، تاکہ اختراع کو فروغ دیا جا سکے،  سپلائی چین کو  مضبوط بنایا جا سکے اور تجارتی مواقع میں اضافہ ہو۔

سول نیو کلیائی توانائی کے شعبے میں ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے  ، بھارت میں جوہری توانائی کے شعبے میں کی گئی اصلاحات کا ذکر کیا، جن میں ’’   بھارت کی تبدیلی کے لیے جوہری توانائی کے پائیدار استعمال اور فروغ کا قانون  (  شانتی )  ، 2025 ‘‘  بھی شامل ہے۔ خلائی شعبے کو کھولنے کے تجربے سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے  ، بھارت جوہری توانائی اور ٹیکنا لوجی کی ترقی میں زیادہ وسیع شمولیت کے لیے نئے مواقع پیدا کر رہا ہے۔

مذاکرات میں چھوٹے ماڈیولر جوہری ری ایکٹروں  (  ایس ایم آرز )  ،  جدید جوہری ٹیکنا لوجی اور ان سے وابستہ صنعتی صلاحیتوں کے شعبوں میں  بھارت اور برطانیہ کے درمیان تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ اس سلسلے میں توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات، صنعتی ترقی، بجلی کے بڑھتے ہوئے استعمال اور ڈیٹا سینٹروں کی توانائی کی  مانگ کو خاص طور پر مدنظر رکھا گیا۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بجلی پیدا کرنے کے علاوہ  ، بھارت کے جوہری پروگرام کے وسیع تر استعمال، بالخصوص جوہری طب اور صحت کی دیکھ بھال کے شعبوں پر بھی بات کی۔  ریڈیو آئسو ٹوپس   اور سرطان سے متعلق علاج کے شعبوں میں  بھارت کا کام، حیاتیاتی علوم اور طبی تحقیق میں برطانوی مہارت سے استفادہ کرنے کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سائنسی تعاون کی دیرینہ تاریخ، جس میں استوائی خطوں میں پھیلنے والی بیماریوں پر ماضی کی تحقیق بھی شامل ہے، حیاتی طبی تحقیق میں اشتراک کے امکانات تلاش کرنے کے لیے مزید بنیاد فراہم کرتی ہے۔

مصنوعی ذہانت  ( اے آئی )  ، کوانٹم ٹیکنالوجی، سائبر طبعی نظاموں اور سائبر تحفظ کے شعبوں پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت مستقبل کی ترقی کے لیے ایک لازمی ذریعہ ہوگی اور اس کے فوائد سے بھرپور استفادہ کرنے کے لیے اس کا مؤثر استعمال انتہائی اہم ہوگا۔ بھارت مقامی ضروریات اور دستیاب وسائل کے مطابق مصنوعی ذہانت کے چھوٹے پیمانے کے نمونوں کے امکانات بھی تلاش کر رہا ہے۔

مذاکرات میں جدید ٹیکنا لوجی کے عملی استعمال، ان سے وابستہ خطرات سے نمٹنے کی ضرورت اور اہم نظاموں میں ان ٹیکنا لوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے پیش نظر سائبر تحفظ کی اہمیت پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

دونوں فریقوں نے کوانٹم ٹیکنالوجی، جدید حسّاس آلات، ثقلی پیمائش کے آلات اور خلائی تحقیق سے متعلق جغرافیائی معلومات کے استعمال کے شعبوں میں ممکنہ تعاون پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔ خلائی سائنس اور جدید ٹیکنا لوجی کے باہمی امتزاج سے مشترکہ تحقیق اور نئی ایجادات کے امکانات پیدا ہوتے ہیں، جب کہ سائنسی اداروں، ماہرین اور صنعتوں کے درمیان زیادہ قریبی تعاون سے تحقیقی صلاحیتوں کو عملی نتائج میں تبدیل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

جوناتھن رینالڈز نے  ، دونوں ممالک کے درمیان قریبی روابط کا خیرمقدم کیا اور اداروں کے درمیان باقاعدہ تبادلے، تحقیق و اختراع میں شراکت داری اور تجارتی تعاون کے امکانات پر زور دیا۔ برطانیہ کی خلائی حکمت عملی کا حوالہ دیتے ہوئے  ، انہوں نے پُرامن مقاصد کے لیے  سول نیو کلیائی توانائی کے شعبے میں تعاون کو آگے بڑھانے میں دلچسپی ظاہر کی، جس میں تحقیق، تجارت اور اشتراک کو فروغ دینے کے مواقع بھی شامل ہیں۔ انہوں نے برطانیہ کی آئندہ جی 20 صدارت کے لیے مصنوعی ذہانت کو ترجیحی شعبہ قرار دیتے ہوئے تکنیکی اختراع اور پیداواری صلاحیت بڑھانے کے سلسلے میں بھارت اور برطانیہ کے درمیان تعاون کے امکانات کا بھی خیرمقدم کیا۔

مذاکرات میں سائنسی تحقیق، تکنیکی اختراع اور باہمی مفاد پر مبنی تعاون کے شعبوں میں  بھارت اور برطانیہ کی شراکت داری کو آگے بڑھانے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ دونوں ممالک اپنی ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والی صلاحیتوں سے  استفادہ کر سکتے ہیں، اداروں اور صنعتوں کے درمیان روابط مضبوط بنا سکتے ہیں اور اہم ٹیکنا لوجی کے شعبوں میں تعاون کے عملی امکانات تلاش کر سکتے ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image001_20261012164706_d7782c.jpghttps://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image002_20261012164711_6bf066.jpghttps://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image003_20261012164718_c93653.jpghttps://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image004_20261012164724_791789.jpg

*****

) ش ح –   ض ر      -  ع ا )

U.No. 5026

 


(ریلیز آئی ڈی: 2322383) وزیٹر کاؤنٹر : 7
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Bengali