سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

’بھکشا ورتی مکت بھارت- دہلی کو بھکشا ورتی مکت بنانے کی جانب پیش قدمی‘


مرکزی وزیر برائے سماجی انصاف و تفویضِ اختیارات جناب وریندر کمار اور دہلی کی وزیرِ اعلیٰ محترمہ ریکھا گپتا 14 اکتوبر کو قومی راجدھانی میں منعقد ہونے والے پروگرام میں شرکت کریں گے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 12 OCT 2026 2:54PM by PIB Delhi

 حکومتِ ہند کی سماجی انصاف و تفویضِ اختیارات کی وزارت، قومی راجدھانی خطہ دہلی کی حکومت کے سماجی بہبود کے محکمے کے تعاون سے بدھ، 14 اکتوبر کو یہاں قومی راجدھانی میں ڈاکٹر امبیڈکر بین الاقوامی مرکز (ڈی اے آئی سی) میں ’بھکشا ورتی مکت بھارت –دہلی کو بھکشاورتی مکت  سے پاک بنانے کی جانب پیش قدمی‘ کے عنوان سے ایک پروگرام منعقد کرے گی۔

یہ پروگرام ’بھیک مانگنے سے پاک ہندوستان‘ کے تصور کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مرکزی حکومت کے عزم کا حصہ ہے، جو ’آتم نربھر بھارت‘ اور وکست بھارت@2047 ‘ کے وسیع تر قومی عزائم سے ہم آہنگ ہے۔

مرکزی وزیر برائے سماجی انصاف و تفویضِ اختیارات جناب وریندر کمار اس پروگرام میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت کریں گے، جبکہ دہلی کی وزیرِ اعلیٰ محترمہ ریکھا گپتا خصوصی مہمان کے طور پر شریک ہوں گی۔ سماجی انصاف و تفویضِ اختیارات کی وزارت کے سکریٹری جناب سدھانش پنت بھی اس موقع پر موجود رہیں گے۔

اس پروگرام میں مرکزی اور ریاستی حکومتوں، ضلعی انتظامیہ، شہری بلدیاتی اداروں، عمل درآمد کرنے والی ایجنسیوں، سماجی تنظیموں اور مستفیدین کے نمائندے شرکت کریں گے۔ اس دوران بھیک مانگنے میں مصروف افراد کی پائیدار بحالی اور سماج میں دوبارہ شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے عمل درآمد کے تجربات پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا، بہترین طریقۂ کار کا تبادلہ ہوگا اور آئندہ کے لائحۂ عمل پر غور کیا جائے گا۔

وزارت کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ سماجی انصاف و تفویضِ اختیارات کی وزارت بھیک مانگنے میں مصروف افراد کی جامع بحالی، سماجی و اقتصادی خودمختاری اور معاشرے میں دوبارہ شمولیت کو آسان بنانے کے لیے ’اسمایل — بھیک مانگنے سے نجات کی اسکیم‘ نافذ کر رہی ہے۔

عہدیدار نے مزید بتایا کہ اس اسکیم پر فی الحال 33 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے 216 شہروں میں عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد ان افراد کے وقار کو بحال کرنا، خود انحصاری کو فروغ دینا اور ان کی پائیدار سماجی و اقتصادی بحالی کو یقینی بنانا ہے۔ عہدیدار نے مزید کہا کہ اب تک اس اسکیم کے تحت 45,073 افراد کی شناخت کی جا چکی ہے، جن میں سے 13,134 افراد کو بحالی کے لیے امداد فراہم کی گئی ہے۔

عہدیدار نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اسکیم محض افراد کو سڑکوں سے ہٹانے تک محدود نہیں ہے، بلکہ بھیک مانگنے کی نوبت لانے والے بنیادی مسائل اور کمزوریوں سے نمٹنے کے لیے بحالی پر مبنی ایک جامع طریقۂ کار اپناتی ہے۔ اس کے تحت افراد کی شناخت اور ان کے حالات کا جائزہ لینے، انہیں بچانے اور ان تک مدد پہنچانے، مشاورت، رہائش اور بنیادی سہولیات، صحت کی دیکھ بھال، تعلیم، ہنر مندی کی ترقی، روزگار کے لیے معاونت اور سماجی تحفظ کی اسکیموں سے استفادے کو یقینی بنانے جیسے اقدامات شامل ہیں۔

عمل درآمد کو مزید مؤثر بنانے اور قابلِ پیمائش نتائج کو یقینی بنانے کے لیے وزارت نے کئی اصلاحات متعارف کرائی ہیں۔ ان میں بھیک مانگنے میں مصروف افراد کے جامع سروے اور ان کے حالات کا جائزہ لینے کے لیے ایک موبائل ایپلی کیشن اور ڈیجیٹل نگرانی کے لیے ایک پورٹل شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، معزز سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق بھکاریوں کے مراکز کو باوقار بحالی اور نگہداشت کی سہولیات میں تبدیل کرنے کے لیے نمونہ جاتی رہنما اصول وضع کیے گئے ہیں۔ ساتھ ہی، واضح اور قابلِ پیمائش کلیدی کارکردگی اشاریوں (کے پی آئیز) پر مبنی ’بھیک مانگنے سے پاک شہر کا لائحۂ عمل‘ بھی متعارف کرایا گیا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image001_20261012145609_51490d.jpg

 

دیگر اہم اقدامات میں مستحق افراد کو ان کے حقوق اور بنیادی سہولیات تک رسائی فراہم کرنے کے لیے سماجی تحفظ اور سماجی بہبود کی اسکیموں کے ساتھ تال میل قائم کرنا، نیز شہروں کو بھیک مانگنے سے پاک ہونے کا درجہ حاصل کرنے کی سمت قابلِ پیمائش پیش رفت کرنے کی ترغیب دینے کے لیے کارکردگی کی بنیاد پر مراعات فراہم کرنا شامل ہیں۔ مجموعی طور پر ان اقدامات کا مقصد نتائج پر مبنی، جواب دہ اور مختلف اسکیموں کے باہمی تال میل سے چلنے والا بحالی کا نظام قائم کرنا ہے۔

عہدیدار نے مزید بتایا کہ بحالی کی خدمات کو مستحکم کرنے، روزگار کے مواقع بڑھانے، سماجی تحفظ تک رسائی بہتر بنانے اور پائیدار طور پر معاشرے میں دوبارہ شمولیت کو آسان بنانے کے لیے خصوصی کوششیں جاری ہیں۔ ان کوششوں سے دہلی کو ’بھیک مانگنے سے پاک دہلی‘ کے ہدف کی جانب آگے بڑھنے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے بتایا کہ مالی سال 22-2021 میں اسکیم کے آزمائشی مرحلے کے دوران منتخب کیے گئے سات شہروں میں دہلی بھی شامل تھا۔ اب اس اسکیم پر دہلی کے تمام 14 اضلاع اور شہروں میں عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ جو جامع بحالی اور سماج میں دوبارہ شمولیت کے لیے جاری کوششوں کے دائرے میں توسیع کی عکاسی کرتا ہے۔

پروگرام کے دوران ’اسمائل-بیگری اسکیم‘ کے تحت شناخت کیے گئے اور امداد فراہم کیے جانے والے بڑی تعداد میں مستفیدین کو اعزاز سے نوازا جائے گا۔ انہیں خود انحصاری اور پائیدار ذرائع معاش اختیار کرنے کی جانب پیش قدمی میں مدد دینے کے لیے ہنر مندی کے فروغ اور بحالی کی کِٹس بھی فراہم کی جائیں گی۔

 

2031 تک 100 شہروں کو بھیک مانگنے والوں سے پاک بنانے کا ہدف

2031 تک 100 شہروں کو بھیک مانگنے والوں سے پاک بنانے کا ہدف حاصل کرنے کے لیے وزارت نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں، شہری بلدیاتی اداروں، ضلعی انتظامیہ، غیر سرکاری تنظیموں، رضاکارانہ تنظیموں اور مقامی برادریوں کی مربوط اور مسلسل کوششوں کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ پائیداربحالی کے لیے ضروری ہے کہ سبھی مل کر افراد کی محرومیوں اور کمزوریوں کو دور کرنے، بنیادی سہولیات تک ان کی رسائی یقینی بنانے اور انہیں باوقار و خودمختار زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کرنے کے عزم کے ساتھ کام کریں۔

مالی سال31-2026 کے لیے ’اسمائل- بیگری اسکیم‘ کے تحت حکومت نے 100 شہروں کو بھیک مانگنے سے پاک بنانے کا بلند ہدف مقرر کیا ہے۔ اس حکمتِ عملی کو قابلِ پیمائش کلیدی کارکردگی اشاریوں، ڈیجیٹل نگرانی، اختراعات اور مختلف محکموں کے باہمی تال میل کے ذریعے تقویت دی جا رہی ہے، تاکہ اسکیم پر عمل درآمد کو مؤثر بنایا جا سکے اور پیش رفت پر نظر رکھی جا سکے۔

دہلی میں منعقد ہونے والا یہ پروگرام اس قومی ہدف کی جانب پیش رفت تیز کرنے کے اجتماعی عزم کا اعادہ کرے گا۔ اس میں اجاگر کیا جائے گا کہ کس طرح مختلف اسکیموں کے باہمی تال میل، جواب دہی، ہمدردی اور عوامی شرکت کے ذریعے ’بھیک مانگنے سے پاک ہندوستان‘ کے تصور کو پائیدار حقیقت میں بدلا جا سکتا ہے اور دہلی کو ’بھیک مانگنے سے پاک دہلی‘ بنانے کی سمت آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔

********

 

ش ح۔م ح۔ج ا

U-5016

 


(ریلیز آئی ڈی: 2322285) وزیٹر کاؤنٹر : 8
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी