کارپوریٹ امور کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

کارپوریٹ سماجی ذمہ داری  ( سی ایس آر )  سے متعلق تیسری قومی کانفرنس اور نمائش ( این سی سی ایس آر 2026 )  اختتام پذیر، وکست بھارت کے لیے بہتر  حکمرانی ، مختلف شعبوں کے درمیان تال میل اور نتائج پر مبنی سی ایس آر  پر زور


سی ایس آر  محض ایک قانونی ذمہ داری نہیں، بلکہ بھارت کی ترقی کے لیے ایک اسٹریٹجک ذریعہ ہے:  اجیت سیٹھ، سابق کابینہ سکریٹری، حکومتِ ہند

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 10 OCT 2026 4:13PM by PIB Delhi

وزارتِ کارپوریٹ امور، حکومتِ ہند کے تحت انڈین انسٹی ٹیوٹ آف کارپوریٹ افیئرز ( آئی آئی سی اے ) نے نئی دلّی کے دی اشوک ہوٹل میں کارپوریٹ سماجی ذمہ داری  (   سی ایس آر )  سے متعلق تیسری قومی کانفرنس اور نمائش  ( این سی   سی ایس آر  2026 )  کا اختتام کیا۔

دو روزہ اس کانفرنس کا انعقاد آئی آئی سی اے کے اسکول آف بزنس انوائرنمنٹ نے کیا۔  اس کانفرنس کا موضوع تھا ، ’ ’وکست بھارت کے لیے کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کے جذبے کی ازسرِنو تشریح:  قانونی تعمیل سے عہد و وابستگی تک‘‘ ۔

 

 

کانفرنس کا اختتام ’’ قانونی تعمیل سے عہد و وابستگی تک ‘‘  کے موضوع پر منعقدہ باضابطہ اختتامی اجلاس کے ساتھ ہوا۔ اس اجلاس میں حکومتِ ہند کے سابق کابینہ سکریٹری جناب اجیت سیٹھ، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف کارپوریٹ افیئرز ( آئی آئی سی اے ) کے ڈائریکٹر جنرل اور چیف ایگزیکٹو آفیسر جناب گیانیشور کمار سنگھ اور آئی آئی سی اے کے اسکول آف بزنس انوائرنمنٹ کی سربراہ پروفیسر گریما ددھیچ موجود تھیں۔

اجلاس میں دو روزہ تبادلۂ خیال کے دوران   سامنے آنے والے اہم مسائل کا جائزہ لیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی بہتر  حکمرانی ، اداروں کے درمیان تال میل، شواہد پر مبنی منصوبہ بندی اور ترقیاتی نتائج کی قابلِ پیمائش جانچ پر زیادہ توجہ کے ذریعے  ، بھارت کے کارپوریٹ سماجی ذمہ داری  ( سی   ایس آر  )  کے نظام کو مزید مضبوط بنانے پر غور کیا گیا۔

حکومتِ ہند کے سابق کابینہ سکریٹری جناب اجیت سیٹھ نے اپنے اختتامی خطاب میں  ، اس بات پر زور دیا کہ کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کی کامیابی کا اندازہ صرف خرچ کی گئی رقم سے نہیں لگایا جانا چاہیے، بلکہ یہ دیکھا جانا چاہیے کہ اس سے لوگوں کی زندگیوں اور ملک کی ترقی میں کیا تبدیلی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ  سی ایس آر ترقیاتی اخراجات کے ایک اہم ذریعے کے طور پر ابھرا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس نظام کے تحت ذمہ داری دانستہ طور پر کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو سونپی گئی ہے، جس سے  سی ایس آر  کو کارپوریٹ  حکمرانی اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کے وسیع تر نظام کا حصہ بنایا گیا ہے۔

انہوں نے علامتی نوعیت کی سرگرمیوں سے گریز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مؤثر اقدامات کو بڑے پیمانے پر وسعت دی جانی چاہیے،  سی ایس آر پر اخراجات کے جغرافیائی عدم توازن کو دور کیا جانا چاہیے اور ان اضلاع پر زیادہ توجہ دی جانی چاہیے  ، جو اب تک مناسب سہولتوں سے محروم ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ٹیکنالوجی شفافیت، نگرانی اور جواب دہی کو مضبوط بنا سکتی ہے، لیکن یہ زمینی حقائق کے علم اور انتظامی بصیرت کا متبادل نہیں ہو سکتی۔ کمپنیوں سے اپیل کرتے ہوئے کہ وہ  سی ایس آر  کو  محض ایک قانونی ذمہ داری کے بجائے بھارت کی ترقی کے لیے ایک کلیدی ذریعہ سمجھیں، انہوں نے کہا کہ تمام متعلقہ فریقوں کے درمیان بہتر تال میل اور جامع و پائیدار ترقیاتی نتائج پر مسلسل توجہ، وکست بھارت @2047 کے وسیع تر ویژن کو عملی جامہ پہنانے میں معاون ثابت ہوگی۔

اختتامی خطاب کے بعد، جناب اجیت سیٹھ نے  ’’ کمپینڈیم آف سی ایس آر بیسٹ پریکٹسز 2025 ‘‘   ( کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کے بہترین طریقوں کا مجموعہ 2025 )  جاری کیا۔ اس میں این سی سی ایس آر  2025  کے دوران نمائش میں شریک اداروں کی جانب سے پیش کیے گئے بہترین طریقوں کو یکجا کیا گیا ہے۔ یہ اشاعت آئی آئی سی اے کی اس کوشش کا حصہ ہے، جس کا مقصد عملی نفاذ کے تجربات اور  سی ایس آر  کے ایسے طریقوں کو دستاویزی شکل دینا اور عام کرنا ہے، جنہیں دوسرے ادارے بھی اپنا سکیں اور جن سے وسیع پیمانے پر ادارہ جاتی سطح پر سیکھنے کا موقع ملے۔

آئی آئی سی اے کے ڈائریکٹر جنرل اور چیف ایگزیکٹو آفیسر جناب گیانیشور کمار سنگھ نے کہا کہ این سی سی ایس آر  2026  کے دوران ہونے والے تبادلۂ خیال سے  ، بھارت کے  سی ایس آر  نظام کے بڑھتے ہوئے دائرۂ کار اور پختگی کی عکاسی ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کانفرنس میں کمپنیوں کے بورڈ کے نظم و نسق، مختلف شعبوں کے لیے مخصوص  سی ایس آر  حکمتِ عملیوں، ٹیکنا لوجی اور مصنوعی ذہانت،  سی ایس آر  ایکسچینج کے ذریعے مختلف فریقوں کے درمیان تال میل، خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے،  سی ایس آر  وسائل کی علاقائی تقسیم، ہنرمندی اور روز گار، نیز سماجی نتائج کے جائزے سے متعلق امور پر غور کیا گیا۔

آئی آئی سی اے کے اسکول آف بزنس انوائرنمنٹ کی سربراہ پروفیسر گریما دَدھیچ نے کانفرنس کے دوران  سامنے آنے والے اہم نتائج پیش کیے۔ انہوں نے اس کانفرنس میں حصہ لینے والی وزارتوں، سرکاری اور نجی شعبے کی تنظیموں، بین الاقوامی اداروں، تعلیمی شعبے، سول سوسائٹی، نمائش کنندگان اور مندوبین کے تعاون کی بھی  ستائش کی ۔

دن کے اوائل میں کارروائی کا آغاز  ’’ مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی کے ذریعے  سی ایس آر  میں تبدیلی ‘‘  کے موضوع پر منعقدہ اعلیٰ سطحی پینل مباحثے سے ہوا۔ اس اجلاس میں کارپوریٹ سماجی ذمہ داری  (   سی ایس آر  )  کے پروگراموں کی منصوبہ بندی، نفاذ، نگرانی اور جائزے میں مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ذرائع اور ڈیٹا  نظام کے استعمال کا جائزہ لیا گیا۔ اس میں اس ضرورت پر بھی غور کیا گیا کہ ٹیکنالوجی کو اپنانے کا عمل ترقیاتی مقاصد، جواب دہی اور سماجی نتائج کی قابلِ پیمائش جانچ سے مربوط رہنا چاہیے۔ اس پینل میں ایس بی آئی فاؤنڈیشن، آئی سی آئی سی آئی بینک، ایچ سی ایل فاؤنڈیشن، انڈیگو، جی آئی وی ای   -(  گیو ) اور امرتا وشوا ودیا پیٹھم کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اجلاس کے آغاز میں ’’ کارپوریٹ سماجی ذمہ داری سے متعلق  2024  کی قومی نمائش میں پیش کردہ بہترین طریقوں کا مجموعہ ‘‘  جاری کیا گیا۔ اس مجموعے میں قومی نمائش کے گزشتہ ایڈیشن کے دوران پیش کیے گئے منتخب  سی ایس آر اقدامات کو دستاویزی شکل دی گئی ہے۔ اس کا مقصد مؤثر طریقوں کو وسیع پیمانے پر عام کرنا، ادارہ جاتی سطح پر سیکھنے کے مواقع فراہم کرنا اور کامیاب اقدامات کو دوسرے اداروں میں بھی اپنانے کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

 

 

اس کے بعد حکومتِ ہند کی کارپوریٹ امور  کی وزارت کے سینئر اقتصادی مشیر جناب شانتنو مترا نے کلیدی خطبہ دیا۔ اس خطاب میں ذمہ دارانہ کاروباری طرزِ عمل اور پائیدار ترقی کے وسیع تر فریم ورک میں  سی ایس آر  کے بدلتے ہوئے  رول کا جائزہ لیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی ایسے ادارہ جاتی نظام کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا، جو کارپوریٹ وسائل، سماجی شعبے میں قابلِ اعتماد اقدامات اور قابلِ پیمائش نتائج کے درمیان رابطے کو مضبوط بنا سکیں۔

’’ سی ایس آر ایکسچینج :  تال میل، تعاون اور اجتماعی اثرات کو ممکن بنانے ‘‘  کے موضوع پر منعقدہ اعلیٰ سطحی پینل مباحثے میں کمپنیوں، نفاذ کرنے والی تنظیموں اور ترقیاتی شعبے کے دیگر متعلقہ فریقوں کے درمیان بہتر تال میل قائم کرنے میں  سی ایس آر  ایکسچینج کے کردار کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں منصوبوں کی نمایاں حیثیت، اداروں کی ساکھ، باہمی تعاون اور ترقیاتی ترجیحات کو پورا کرنے کے لیے مختلف فریقوں کے درمیان تال میل کے امکانات سے متعلق امور پر غور کیا گیا۔

اس پینل کی صدارت حکومتِ ہند کی کوئلے کی وزارت اور   اسکولی تعلیم و خواندگی کے محکمے کے سابق سکریٹری جناب انیل سوروپ نے کی، جب کہ پروفیسر گریما دَدھیچ نے مباحثے کی نظامت کی۔

پینل کی صدارت کرتے ہوئے  ، حکومتِ ہند کے سابق سکریٹری جناب انیل سوروپ نے کہا کہ پورٹل کو  سی ایس آر  ایکسچینج سے متعلق کمیٹی کی جانب سے مقرر کردہ توقعات پر پورا اترنا چاہیے۔ پینل میں اس بات پر غور کیا گیا کہ منصوبوں اور ان پر عمل درآمد کرنے والی تنظیموں کے بارے میں قابلِ اعتماد معلومات، شفاف طریقۂ کار اور اداروں کے درمیان بہتر تال میل کس طرح پورٹل کو اس کے مقررہ مقاصد حاصل کرنے اور  سی ایس آر  شراکت داریوں کی افادیت بڑھانے میں مدد دے سکتے ہیں۔

پینل نے ڈیٹا کے انضمام اور خودکار طریقۂ کار کے ذریعے  سی ایس آر  ایکسچینج پورٹل کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ اس میں ایسے نظام بھی شامل ہیں، جو نفاذ کے قابلِ اعتماد اداروں کی شناخت، جانچ اور انتخاب میں سہولت فراہم کر سکیں۔ پینل نے  سی ایس آر  پر ہونے والے اخراجات اور سماجی ترقی کے قابلِ پیمائش نتائج کے درمیان تعلق مضبوط بنانے بالخصوص منصوبوں کی بہتر جانچ، نگرانی اور رپورٹنگ کی ضرورت پر بھی زور دیا  ۔ پینل نے سفارش کی کہ کارپوریٹ امور کی وزارت ( ایم سی اے )  اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف کارپوریٹ افیئرز ( آئی آئی سی اے )  کو تحقیق، صلاحیت سازی، پالیسی سے متعلق تبادلۂ خیال اور حکومت، صنعتوں اور ترقیاتی اداروں کے درمیان تعاون کے ذریعے ان ترجیحات کی حمایت جاری رکھنی چاہیے۔

’’ کیئر میں سرمایہ کاری :  خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کے لیے  سی ایس آر کی ازسرِنو تشکیل ‘‘  کے موضوع پر ماہرین کے مکالمے میں نگہداشت کی ذمہ داریوں اور معیشت میں خواتین کی شرکت کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا۔ اس مباحثے میں بچوں کی دیکھ بھال، بزرگوں کی نگہداشت، کمیونٹی کی سطح پر نگہداشت کے بنیادی ڈھانچے اور نگہداشت کے کام سے وابستہ کارکنوں کی ہنرمندی کو فروغ دینے میں  سی ایس آر  کے ممکنہ کردار پر غور کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی روزگار اور معاشی مواقع تک خواتین کی رسائی بہتر بنانے پر بھی توجہ دی گئی۔ اس مکالمے میں سیوا بھارت ، گرانٹ تھورنٹن اور یو این ویمن کے نمائندوں نے شرکت کی۔

دوپہر کے اجلاس میں  ’’ جامع علاقائی ترقی کے لیے  سی ایس آر  کی غیر مرکزیت ‘‘  کے موضوع پر اعلیٰ سطحی پینل مباحثہ منعقد ہوا۔ اس میں  سی ایس آر  وسائل کی جغرافیائی تقسیم اور علاقائی و مقامی ترقیاتی ترجیحات کے مطابق اقدامات کو زیادہ مؤثر بنانے کی ضرورت پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اس اجلاس میں محکمۂ سرکاری اداروں، این ایس ای فاؤنڈیشن، اسپارک منڈا گروپ، ٹاٹا اسٹیل فاؤنڈیشن، انکلوژن فاؤنڈیشن، ویسٹرن کول فیلڈز لمیٹڈ اور او این جی سی فاؤنڈیشن کے نمائندوں نے شرکت کی۔

پینل نے  سی ایس آر  منصوبوں کی جانچ کے لیے یکساں اور ہمہ گیر اشاریے تیار کرنے کی سفارش کی، تاکہ مختلف خطوں اور شعبوں میں منصوبوں کے نتائج کا زیادہ یکساں انداز میں جائزہ لیا جا سکے اور ان کا باہمی موازنہ ممکن ہو۔ پینل نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان اشاریوں کا اطلاق مقامی حالات کو مناسب اہمیت دیتے ہوئے کیا جانا چاہیے اور ترجیحی اقدامات کی نشاندہی کے لیے ضلعی سطح کے شواہد اور مقامی اداروں کے ساتھ تعاون کو بنیاد بنایا جانا چاہیے۔

 

 

کانفرنس میں ’’  سی ایس آر اور پی ایم آئی ایس ( پی ایم آئی ایس  )  سے فائدہ  حاصل کرنا:  ہنرمندی سے روزگار تک ‘‘  کے موضوع پر ماہرین کا مکالمہ بھی منعقد ہوا۔ اس میں حکومتِ ہند کی کارپوریٹ امور  کی وزارت کے جوائنٹ سکریٹری جناب بالا موروگن ڈی، کوئیس کورپ لمیٹڈ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر جناب لوہت بھاٹیا، او این جی سی اور ڈکسن ٹیکنا لوجیز انڈیا لمیٹڈ کے نمائندوں نے شرکت کی، جب کہ ڈی  گریما دَدھیچ نے  ، اس مکالمے کی نظامت کی۔

کارپوریٹ امور  کی وزارت کے جوائنٹ سکریٹری جناب بالا موروگن ڈی نے کاروباری اداروں سے اپیل کی کہ وہ وزیرِ اعظم انٹرن شپ اسکیم ( پی ایم آئی ایس )  کے تحت دستیاب مواقع سے فائدہ  حاصل کریں۔ انہوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ کام کی جگہ پر منظم عملی تجربہ حاصل کرنے اور صنعتوں کی شرکت سے نوجوانوں کی موجودہ مہارتوں اور روزگار کے لیے درکار صلاحیتوں کے درمیان فرق کو کم کیا جا سکتا ہے۔ اس مباحثے میں ہنرمندی کی تربیت سے روزگار تک رسائی کے عمل کو بہتر بنانے، لیبر مارکیٹ کے ساتھ روابط مضبوط کرنے اور نوجوانوں کی ملازمت کے لیے اہلیت اور روزگار کے حصول میں معاونت کے لیے  سی ایس آر  کے کردار کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔

باضابطہ اختتامی اجلاس سے قبل ثقافت  کی وزارت کے فن کاروں نے ایک ثقافتی پروگرام بھی پیش کیا۔

 

 

دو روزہ کانفرنس میں حکومت، سرکاری شعبے کے اداروں، نجی کمپنیوں، بین الاقوامی تنظیموں، تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی کے 600  سے زائد سینئر نمائندوں نے شرکت کی۔ کانفرنس میں ہونے والے مباحثوں سے اس ضرورت کو تقویت ملی کہ  سی ایس آر  کے تحت اقدامات کو محض اخراجات اور ضابطوں کی پابندی تک محدود رکھنے کے بجائے بہتر حکمرانی، شواہد پر مبنی منصوبہ بندی، ادارہ جاتی تعاون اور ترقی کے قابلِ پیمائش نتائج پر توجہ مرکوز کی جائے۔ یہ اقدامات قومی اور علاقائی ترجیحات اور وکست بھارت   کے ویژن سے ہم آہنگ ہونے چاہئیں۔

 

******

( ش ح ۔ ا ع خ ۔ ر ا )

U.No. 4955

 


(ریلیز آئی ڈی: 2321779) وزیٹر کاؤنٹر : 13
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Tamil