سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت
وزارتِ سماجی انصاف و تفویضِ اختیارات کی جانب سے دیو میں مغربی خطے کے لیے ایک روزہ علاقائی جائزہ اجلاس کا انعقاد
اجلاس میں وزارت کے عہدیداروں کے علاوہ گوا، گجرات، راجستھان، مہاراشٹر اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقے دادرا و نگر حویلی اور دمن و دیو کی حکومتوں کے اعلیٰ نمائندوں نے شرکت کی
وزارتِ سماجی انصاف و تفویضِ اختیارات کے سکریٹری جناب سدھانش پنت نے فلاحی، سماجی بااختیاری اور سماجی تحفظ کی اہم اسکیموں پر عمل درآمد کا جائزہ لیا۔ اس دوران آخری مستفید فرد تک فوائد کی رسائی، تمام مستحقین کو اسکیموں کے دائرے میں لانے اور نتائج پر مبنی عمل درآمد پر خصوصی توجہ دی گئی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
09 OCT 2026 9:35PM by PIB Delhi
حکومتِ ہند کی وزارتِ سماجی انصاف و تفویضِ اختیارات نے آج مرکز کے زیرِ انتظام علاقے دادرا و نگر حویلی اور دمن و دیو میں ایک روزہ علاقائی جائزہ اجلاس منعقد کیا۔ اس اجلاس کا مقصد ملک کے مغربی خطے میں اہم فلاحی، سماجی بااختیاری اور سماجی تحفظ کی اسکیموں پر عمل درآمد کا جامع جائزہ لینا تھا۔
اس اجلاس میں راجستھان، گوا، گجرات اور مہاراشٹر کی ریاستوں کے اعلیٰ نمائندوں کے ساتھ ساتھ مرکز کے زیرِ انتظام علاقے دادرا و نگر حویلی اور دمن و دیو کی انتظامیہ کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔
وزارتِ سماجی انصاف و تفویضِ اختیارات کے سکریٹری جناب سدھانش پنت نے اجلاس کی صدارت کی اور علاقائی جائزہ اجلاس کی اہم ترجیحات اور مقاصد کا خاکہ پیش کیا۔
مرکز کے زیرِ انتظام علاقے دادرا و نگر حویلی اور دمن و دیو کے معزز منتظم جناب پرفل پٹیل کی رہنمائی میں متعدد اعلیٰ افسران نے علاقائی جائزہ اجلاس میں شرکت کی۔
سماجی بہبود کے محکمے کے سکریٹری جناب آشیش موہن، دیو کے کلکٹر جناب راہل دیو بورا اور سماجی بہبود کے محکمے کے ڈائریکٹر و نائب سکریٹری جناب پُنیت کُلشریشٹھ ان دیگر اعلیٰ افسران میں شامل تھے جنہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کی جانب سے جائزہ اجلاس میں شرکت کی۔
اجلاس میں شریک ریاستوں کے اعلیٰ نمائندوں میں راجستھان حکومت کے سماجی بہبود کے محکمے کے ڈائریکٹر جناب للت کمار، گوا حکومت کے سماجی بہبود کے محکمے کے ڈائریکٹر جناب دیپک دیسائی، مہاراشٹر حکومت کے سماجی بہبود کے محکمے کی کمشنر محترمہ دیپا موڈھول منڈھے اور مہاراشٹر حکومت میں ڈائریکٹر محترمہ سونالی مُلے شامل تھیں۔ ان سب نے اجلاس میں ہونے والے تبادلۂ خیال میں حصہ لیا۔
گجرات حکومت کی جانب سے ڈاکٹر جگدیش ودھوانا، جوائنٹ ڈائریکٹر، او بی سی ڈویژن؛ ڈاکٹر پرارتھنا شیرشیہ، ڈپٹی ڈائریکٹر، سماجی تحفظ؛ جناب ہیرین ایل چودھری، ڈپٹی ڈائریکٹر، درج فہرست ذاتوں کی بہبود؛ اور جناب دیپک چاوڑا، سماجی بہبود افسر، او بی سی ڈویژن نے بھی ایک روزہ اجلاس میں شرکت کی۔
وزارت کے اعلیٰ افسران میں ایڈیشنل سکریٹری محترمہ دیبولینا ٹھاکر، جوائنٹ سکریٹریز جناب سجیش کمار این اور جناب پروین کمار تھنڈ، ڈاکٹر سندیپ ریواجی راٹھوڑ، ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل، محترمہ پرتیما گپتا، ڈائریکٹر، اور جناب گورو سنگھ راجاوت نے اجلاس میں شرکت کی۔
اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جناب سدھانش پنت نے کہا کہ علاقائی جائزہ اجلاس کا مقصد وزارت، شریک ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کی انتظامیہ کے درمیان ادارہ جاتی تال میل کو مضبوط بنانا اور سماجی انصاف و تفویضِ اختیارات کے پروگراموں پر مؤثر، شفاف، جواب دہ اور نتائج پر مبنی عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔ اس سلسلے میں آخری مستفید فرد تک فوائد کی رسائی، مستحقین کے احاطے اور تمام اہل افراد کو اسکیموں کے دائرے میں لانے، وسائل کے مؤثر استعمال اور قابلِ پیمائش نتائج کے حصول پر خصوصی زور دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ اجلاس ہر اسکیم کے تحت ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لینے، عمل درآمد میں موجود خامیوں اور درپیش چیلنجوں کی نشاندہی کرنے، بہترین طریقۂ کار کو ایک دوسرے کے ساتھ بانٹنے اور اہل مستفیدین تک فوائد کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے مقررہ مدت کے اندر اصلاحی اقدامات اور ان پر عمل درآمد کی نگرانی کے لائحۂ عمل وضع کرنے کے لیے ایک ادارہ جاتی پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔
جناب پنت نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ علاقائی جائزہ اجلاس کا یہ طریقۂ کار مغربی خطے میں سماجی انصاف، سماجی بااختیاری اور سماجی تحفظ کے پروگراموں پر مؤثر عمل درآمد کے لیے ادارہ جاتی نظام کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔
سکریٹری نے کہا کہ یہ اجلاس حکومت کے اس عزم کو مزید مستحکم کرتا ہے کہ ترقی کے عمل میں سب کو شامل کیا جائے، سماجی تحفظ کو یقینی بنایا جائے، ہر فرد کے وقار کا احترام کیا جائے، مساوی مواقع فراہم کیے جائیں اور معاشرے کے کمزور اور محروم طبقات کو بااختیار بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس بات کو یقینی بنانے پر مسلسل توجہ دی جائے کہ سرکاری اسکیموں کے فوائد آخری مستفید فرد تک پہنچیں۔
اہم پروگراموں کا اسکیم وار جائزہ
علاقائی جائزہ اجلاس میں وزارتِ سماجی انصاف و تفویضِ اختیارات کے اہم پروگراموں کا اسکیم وار تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ان میں پردھان منتری انوسوچت جاتی ابھیودے یوجنا (پی ایم-اے جے اے وائی)، شہری حقوق کے تحفظ کے قانون، 1955 اور درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کے خلاف مظالم کی روک تھام کے قانون، 1989 پر عمل درآمد کے نظام کو مضبوط بنانے کے اقدامات، نیز منشیات کی طلب میں کمی کے لیے قومی لائحۂ عمل (این اے پی ڈی ڈی آر) شامل تھے۔
جائزے کے دوران مادی اور مالی پیش رفت، مستفیدین کی تعداد اور تمام اہل مستفیدین کو اسکیموں کے دائرے میں لانے، فنڈز کے استعمال، ادارہ جاتی نظام، قانونی تحفظات پر عمل درآمد، بیداری پیدا کرنے اور عوام تک رسائی کے اقدامات، بازآبادکاری اور سماجی بحالی کی کوششوں، نیز نشہ مکت بھارت ابھیان (این ایم بی اے) کے ساتھ تال میل کا بھی جائزہ لیا گیا۔
تفصیلی تبادلۂ خیال اور کھلے اجلاس کے دوران عمل درآمد میں درپیش چیلنجوں کا جائزہ لینے اور ان کے عملی حل تلاش کرنے کا موقع ملا۔ اس میں مستفیدین کی شناخت اور تمام اہل افراد کو اسکیموں کے دائرے میں لانے، مختلف محکموں کے درمیان تال میل، نگرانی اور اعداد و شمار کے انتظام، فنڈز کے استعمال، شکایات کے ازالے، بہترین طریقۂ کار اور دیگر مقامات پر قابلِ تقلید نمونوں کو عام کرنے سے متعلق امور پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں جہاں ضرورت ہو، وہاں مقررہ مدت کے اندر اصلاحی اقدامات وضع کرنے پر بھی توجہ مرکوز کی گئی۔
وظائف، بزرگ شہریوں کی بہبود اور نمستے اسکیم کا جائزہ
ایک روزہ اجلاس میں فلاح و بہبود اور سماجی بااختیاری کے اہم اقدامات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ ان میں وظائف کی اسکیمیں، اٹل ویو ابھیودے یوجنا (اے وی وائی اے وائی) اور مشینی صفائی کے نظام کے لیے قومی اقدام (نمستے) شامل تھے۔
وظائف کی اسکیموں کے جائزے میں مستفیدین کے احاطے، درخواست دینے اور ان کی تصدیق کے طریقۂ کار، مالی امداد کی بروقت ادائیگی، براہِ راست فوائد کی منتقلی (ڈی بی ٹی) سے متعلق مسائل اور اہل طلبہ تک رسائی کو مضبوط بنانے کے اقدامات پر توجہ مرکوز کی گئی۔ بالخصوص ایسے طلبہ کو اسکیموں کے فوائد کے دائرے میں لانے پر زور دیا گیا جو اب تک ان سے محروم ہیں۔
اٹل ویو ابھیودے یوجنا (اے وی وائی اے وائی) کے تحت بزرگ شہریوں کی بہبود، تحفظ اور بااختیاری سے متعلق اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ ان میں ادارہ جاتی نگہداشت، فعال اور صحت مند بڑھاپے کو فروغ دینا، سماجی تحفظ، قابلِ رسائی سہولیات، امدادی خدمات اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کی انتظامیہ کے پروگراموں اور اقدامات کے ساتھ تال میل شامل تھا۔
نمستے اسکیم کے جائزے میں صفائی کارکنوں اور کچرا چننے والوں کی شناخت اور ان کی تفصیلی معلومات مرتب کرنے، پیشہ ورانہ تحفظ اور وقار کو یقینی بنانے، صفائی کے کام کے دوران اموات کو مکمل طور پر روکنے، سماجی تحفظ اور صحت سے متعلق فوائد تک رسائی، صفائی کے کاموں میں مشینوں کے استعمال، صلاحیت سازی، روزگار کے ذرائع کے لیے معاونت اور دیگر فلاحی و سماجی تحفظ کی اسکیموں کے ساتھ تال میل پر توجہ مرکوز کی گئی۔
آخری مستفید فرد تک فوائد کی رسائی اور قابلِ پیمائش نتائج پر توجہ
نتائج کے جائزے کے لیے منعقدہ خصوصی اجلاس میں اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ اہل مستفیدین میں سے کتنے افراد کو اسکیموں کے دائرے میں لایا گیا ہے اور کتنے افراد تک تمام فوائد پہنچائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ خدمات کی فراہمی کے معیار اور بروقت فراہمی، عمل درآمد میں حائل رکاوٹوں، بیداری پیدا کرنے اور عوام تک رسائی کے طریقۂ کار، ٹیکنالوجی کی مدد سے نگرانی، شکایات کے ازالے اور رائے حاصل کرنے کے نظام، نیز مرکزی حکومت کی اسکیموں اور ریاستوں و مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کی انتظامیہ کے ذریعے نافذ کیے جانے والے پروگراموں کے درمیان تال میل کا بھی جائزہ لیا گیا۔
خصوصی طور پر اس بات پر زور دیا گیا کہ سرکاری اسکیموں کے فوائد آخری مستفید فرد تک پہنچیں اور ان کے نتائج قابلِ پیمائش ہوں، تاکہ حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات مستحقین کی زندگیوں میں حقیقی اور واضح بہتری لانے کا ذریعہ بن سکیں۔
اجلاس میں شریک ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کے لیے ترجیحی اقدامات، عمل درآمد کے لیے مخصوص نکات اور اہم سفارشات کی نشاندہی کی گئی۔ اس دوران عمل درآمد کے نظام کو مضبوط بنانے، عوام تک رسائی بہتر کرنے، مستفیدین کی شناخت میں موجود خامیوں کو دور کرنے اور فوائد کی بروقت و شفاف فراہمی کو یقینی بنانے پر خصوصی زور دیا گیا۔
آئندہ کا لائحۂ عمل
اختتامی اجلاس میں تبادلۂ خیال کے دوران سامنے آنے والے اہم مشاہدات، ترجیحات اور سفارشات کو یکجا کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ آئندہ کے لائحۂ عمل میں عملی اقدامات اور متعلقہ ذمہ داریوں کو حتمی شکل دینا، وزارت، ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کی انتظامیہ کے درمیان تال میل کو مضبوط بنانا، عمل درآمد سے متعلق مسائل کو مقررہ مدت کے اندر حل کرنا، مادی اور مالی پیش رفت کی نگرانی کو بہتر بنانا اور متعلقہ حکام کی جانب سے عمل درآمد سے متعلق پیش رفت کی رپورٹیں (اے ٹی آر) پیش کرنا شامل تھا۔
منشیات سے پاک بھارت مہم، بزرگ شہریوں کے احترام اور فلاح و بہبود کا عزم
سکریٹری جناب سدھانش پنت نے اجلاس کے دوران شرکاء کو بزرگ شہریوں کے احترام سے متعلق عہد اور نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت منشیات سے پاک بھارت کا عہد دلایا۔ اس موقع پر انہوں نے منشیات سے پاک اور ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر کے لیے حکومت کے تمام شعبوں اور پورے معاشرے کی مشترکہ کوششوں کے طریقۂ کار کو اپنانے اور مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ملک بھر میں بزرگ شہریوں کے احترام، وقار، فلاح و بہبود اور صحت کی دیکھ بھال کو یقینی بنانے کے لیے سماجی اقدار کو برقرار رکھنے اور مزید مستحکم کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
******
ش ح۔ ش ا ر۔ ول
Uno-4943
(ریلیز آئی ڈی: 2321662)
وزیٹر کاؤنٹر : 8