قومی انسانی حقوق کمیشن
قومی حقوق انسانی کمیشن ، بھارت 12 اکتوبر 2026 کو اپنا 33واں یوم تاسیس منائے گا
بھارت کے چیف جسٹس، جسٹس سوریہ کانت، اس تقریب کے مہمان خصوصی ہوں گے
اپنے 33 سالہ سفر کے دوران کمیشن نے 24 لاکھ سے زائد مقدمات درج کیے، جن میں 3,100 ازخود نوٹس کے تحت درج کیے گئے مقدمات شامل ہیں۔ کمیشن نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے متاثرین کو امداد فراہم کرنے کے لیے 274 کروڑ روپے کی مالی امداد کی سفارش بھی کی
اس پروگرام میں ’’پانی، زندگی کا آب حیات: پانی کے حق کے ذریعے انسانی وقار کا فروغ‘‘ کے موضوع پر ایک قومی کانفرنس بھی شامل ہے
قومی حقوق انسانی کمیشن ( این ایچ آر سی)، بھارت، 12 اکتوبر 2026 کو وگیان بھون میں اپنے 33ویں یوم تاسیس کے موقع پر ایک تقریب منعقد کر رہا ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
09 OCT 2026 3:17PM by PIB Delhi
چیف جسٹس آف انڈیا، جسٹس سوریہ کانت، اس تقریب میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کریں گے۔ اس موقع پر قومی حقوق انسانی کمیشن، بھارت کے چیئرمین جسٹس وی راما سبرامنیم، اراکین جسٹس (ڈاکٹر) بدیوت رنجن سارنگی، محترمہ وجیا بھارتی سیانی اور جناب پریانک قانون گو، سیکریٹری جنرل جناب پیوش گوئل، دیگر سینئر افسران اور معزز شخصیات بھی موجود ہوں گی۔یوم تاسیس کی یہ تقریب کمیشن کے اب تک کے سفر پر غور کرنے اور انسانی حقوق کے تحفظ و فروغ کے لیے اپنے عزم کی تجدید کا ایک اہم موقع فراہم کرتی ہے۔
اس تقریب کے بعد ’پانی، زندگی کا آبِ حیات: پانی کے حق کے ذریعے انسانی وقار کا فروغ‘ کے موضوع پر ایک قومی کانفرنس منعقد کی جائے گی۔ اس کے دو تکنیکی اجلاس ہوں گے، جن کے موضوعات ’آبی ذخائر کا تحفظ اور بحالی: پانی کے حق کی بنیاد کا تحفظ‘ اور ’پینے کے پانی کے ذرائع کا تحفظ: سبھی کے لیے پانی تک محفوظ اور پائیدار رسائی کو یقینی بنانا‘ ہیں۔ اس کانفرنس میں ماہرین اور متعلقہ فر یق، ماہرین تعلیم، محققین، سول سوسائٹی کے ارکان اور انسانی حقوق کے محافظ شرکت کریں گے اور صاف اور مناسب مقدار میں پانی تک رسائی کے انسانی حقوق سے متعلق پہلوؤں پر تبادلۂ خیال کریں گے، جس میں انسانی وقار کے فروغ اور آبی تحفظ کو مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
مورخہ12 اکتوبر 1993 کو اپنے قیام کے بعد سے 33 سالہ سفر کے دوران، قومی حقوق انسانی کمیشن، بھارت، قانون کے نفاذ، تحقیقات اور فلاحی اسکیموں و پروگراموں میں انصاف، شفافیت اور جواب دہی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری پالیسی اصلاحات، عوام پر مرکوز طرز حکمرانی، مؤثر نفاذ اور زمینی سطح پر باقاعدہ نگرانی کی سفارش کرتا رہا ہے۔ کمیشن تحقیق، پالیسی کی وکالت اور عوامی بیداری کے ذریعے پولیس کی جواب دہی، جیلوں میں اصلاحات اور ملزمان و متاثرین کے حقوق کے تحفظ کو فروغ دیتا ہے۔ یہ معاشرے کے تمام طبقات، بالخصوص سب سے زیادہ کمزور طبقات کے انسانی حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لیے مرکزی اور ریاستی حکومتوں، نیم سرکاری اداروں، تعلیمی اداروں، غیر سرکاری تنظیموں ( این جی او) اور انسانی حقوق کے محافظوں کے ساتھ مسلسل تعاون کرتا ہے۔
کمیشن اب تک 35 ایڈوائزری جاری کر چکا ہے۔ ان میں خواجہ سرا افراد کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانا (2.0)، بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد ( سی ایس اے ایم)، بیواؤں کے حقوق، بھیک مانگنے میں ملوث افراد، حق خوراک، صحت اور ذہنی صحت کا حق، غیر رسمی شعبے کے کارکنوں کے حقوق، مرنے والوں کے وقار کا تحفظ، ٹرک ڈرائیوروں کے حقوق، ماحولیاتی آلودگی اور انحطاط، خواجہ سرا افراد کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے سے متعلق ایڈوائزری، قیدیوں کی جانب سے جان بوجھ کر خود کو نقصان پہنچانے اور خودکشی کی کوششوں کی روک تھام کے لیے ایڈوائزری اور آنکھوں کی چوٹوں کی روک تھام، کمی اور تدارک کے لیے ایڈوائزری شامل ہیں۔ کمیشن کی دیگر اہم اقدامات میں ہینسنز بیماری (جذام) میں مبتلا افراد کے ساتھ امتیازی سلوک کرنے والے 97 قوانین میں ترامیم کی سفارش کرنا بھی شامل ہے۔
گزشتہ 33 برسوں کے دوران کمیشن نے مجموعی طور پر 24,33,716 مقدمات نمٹائے ہیں، جن میں ازخود نوٹس کے تحت کارروائی کے 3,100 مقدمات شامل ہیں۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے متاثرین کو 9,085 مقدمات میں 274 کروڑ روپے سے زائد کی مالی امداد کی سفارش کی گئی ہے۔ ان مقدمات میں گزشتہ سال، یعنی یکم اکتوبر 2025 سے 30 ستمبر 2026 تک، موصول ہونے والی 54,673 شکایات اور ازخود نوٹس کے تحت درج کیے گئے 119 مقدمات بھی شامل ہیں۔اس مدت کے دوران کمیشن نے موقع پر جا کر 80 تحقیقات کیں، 53,733 مقدمات نمٹائے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے متاثرین کو 157 مقدمات میں 9.7 کروڑ روپے سے زائد کی مالی امداد دینے کی سفارش کی۔ کمیشن نے گجرات اور بہار میں بالترتیب دو ’’کھلی سماعتیں اور کیمپ اجلاس‘‘ بھی منعقد کیے۔کیمپ اجلاس مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مقدمات کی سماعت، انصاف کی فراہمی میں تیزی لانے اور متاثرین کی شکایات کا فوری ازالہ یقینی بنانے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں۔ یہ اجلاس ریاستی حکومت کے سینئر افسران کو بھی اس اہمیت سے آگاہ کرنے کا ذریعہ ہیں کہ متاثرین کو فوری راحت فراہم کرنے کے لیے کمیشن کو بروقت رپورٹس ارسال کی جائیں۔ ان اجلاسوں کے ذریعے مقامی غیر سرکاری تنظیموں ( این جی او)، سول سوسائٹی کی تنظیموں اور انسانی حقوق کے محافظوں کے ساتھ تبادلۂ خیال کے مواقع بھی فراہم کیے گئے۔
کمیشن کے 18 خصوصی نمائندوں اور 15 خصوصی نگرانوں کا نظام ملک کے مختلف علاقوں میں انسانی حقوق کی صورت حال کا جائزہ لینے میں مدد کرتا ہے۔ یہ پناہ گاہوں، جیلوں، مشاہداتی گھروں اور اس طرح کے دیگر اداروں کے دورے کرتے ہیں اور اپنی مشاہدات پر مبنی رپورٹیں اور مستقبل میں کیے جانے والے اقدامات کے لیے تجاویز مرتب کرکے کمیشن کو پیش کرتے ہیں۔
ملک میں باہمی تعاون کے ذریعے انسانی حقوق کے نظام کو مضبوط بنانے کی مسلسل کوششوں کے تحت، کمیشن نے قومی حقوق انسانی کمیشن (این ایچ آر سی) کے سات نامزد ارکان کا ایک قانونی مکمل کمیشن اجلاس منعقد کیا، جن میں چھ قومی کمیشن اور معذور افراد کے چیف کمشنر شامل تھے۔ گزشتہ سال اس نے ریاستی حقوق انسانی کمیشنوں، خصوصی نمائندوں اور خصوصی نگرانوں کی ایک کانفرنس بھی منعقد کی۔
متعدد متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورت کمیشن کے کام کا ایک لازمی حصہ ہے۔ گزشتہ سال اس نے دو قومی کانفرنسیں منعقد کیں، جن میں ’روزمرہ کی بنیادی ضروریات کو یقینی بنانا، سب کے لیے عوامی خدمات اور وقار‘ اور ’جیلوں میں قید افراد کے انسانی حقوق‘ شامل تھیں۔ قومی حقوق انسانی کمیشن، بھارت میں انسانی حقوق سے متعلق مختلف موضوعات پر 12 بنیادی گروپ ہیں، جن میں ماہرین، غیر سرکاری تنظیموں (این جی او) اور حکومت کے سینئر عہدیداروں کو شامل کیا گیا ہے، تاکہ حکومتی اسکیموں پر تبادلۂ خیال کیا جا سکے، ان کا جائزہ لیا جا سکے اور ان میں بہتری کے لیے سفارشات پیش کی جا سکیں۔
گزشتہ سال چار بنیادی گروپ اجلاس منعقد کیے گئے۔ یہ اجلاس’معذور سرکاری ملازمین کے سرٹیفکیٹس کی دوبارہ تصدیق اور ازسرنو جائزے سے پیدا ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں‘، ’بھارت میں خوراک میں ملاوٹ کی روک تھام: اس کی وسعت، چیلنجز اور اصلاحات کو سمجھنا‘، ’ نقل مکانی کرنے والے مزدوروں کے حقوق کا تحفظ: حکومت اور نجی شعبے کی مشترکہ ذمہ داری‘ اور ’شہری علاقوں میں لو اور ان کے اثرات کو کم کرنے کے اقدامات‘ کےموضوعات پر تھے۔
اس کے علاوہ، چار ’اوپن ہاؤس مباحثے‘ بھی منعقد کیے گئے، جن کے موضوعات تھے: ’بھیک مانگنے کے مسئلے پر ازسرِنو غور: پالیسی، عملی اقدامات اور انسانی وقار کے درمیان خلیج کو ختم کرنا‘، ’بچوں کی سوشل میڈیا تک رسائی‘، ’بھارت میں جعلی ادویات کی روک تھام کے اقدامات‘ اور ’ڈیجیٹل گرفتاری کے فراڈ سے انسانی حقوق کا تحفظ‘۔
کمیشن انسانی حقوق کے مختلف پہلوؤں پر تحقیق کو سرگرمی کے ساتھ فروغ دے رہا ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران چھ تحقیقی مطالعات مکمل کیے گئے۔ ان مطالعات میں جنگلات سے متعلق حقوق، اولڈ ایج ہومز کی صورتِ حال، گود لینے کا عمل، انسانی اسمگلنگ، معذور افراد کی تعلیم اور جنگلات سے حاصل ہونے والی غیر لکڑی مصنوعات کی تجارتی سرگرمیوں سمیت مختلف موضوعات کا احاطہ کیا گیا۔
گزشتہ سال چھ نئے تحقیقی مطالعات شروع کیے گئے۔ ان کا مرکز قید والدین کے بچوں کے حقوق اور فلاح و بہبود، صفائی ستھرائی، انسانی سلامتی اور انسانی حقوق، جنسی کارکنوں کے انسانی حقوق کے حصول میں قانونی، معاشی اور سماجی رکاوٹیں، معمر خواتین کے خلاف تشدد، شہری کچی آبادیوں میں لو کے خطرات اور بین الاقوامی تحفظ کے ضرورت مند انسانی اسمگلنگ کے غیر ملکی متاثرین کی بحالی کی ضروریات ہیں۔
صلاحیتوں میں اضافے کی کوششوں کے تحت، کمیشن آل انڈیا سروسز ( اے آئی ایس) کی مختلف قومی اکیڈمیوں کے ساتھ مل کر مخصوص ضروریات کے مطابق تربیتی ماڈیول تیار کر رہا ہے۔ ان اقدامات کے ذریعے کمیشن نوجوان افسران کو ابتدائی مرحلے ہی میں انسانی حقوق اور اس کے مختلف پہلوؤں سے آگاہ کرتا ہے۔ اس طرح، قومی حقوق انسانی کمیشن (این ایچ آر سی) ملازمت کے ابتدائی دور میں افسران کے اندر انسانی حقوق سے متعلق شعور اور حساسیت کو فروغ دینے کی کوشش کرتا ہے، تاکہ اس کے دیرپا اثرات مرتب ہوں۔
این ایچ آر سی نے انسانی حقوق سے متعلق بیداری کے پروگرام منعقد کرنے کے لیے مختلف اداروں کے ساتھ تعاون بھی کیا ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران، اس نے مختلف اداروں کے اشتراک سے 66 کانفرنسیں، ورکشاپس اور تربیتی پروگرام منعقد کیے، جبکہ 10 موٹ کورٹ مقابلوں کے لیے 136 لاکھ روپے سے زائد کی مالی معاونت فراہم کی۔ اس کے علاوہ، کمیشن نے اپنے کیمپس میں موسمِ سرما اور موسمِ گرما کی انٹرن شپ اور 6 آن لائن قلیل مدتی انٹرن شپ (او ایس ٹی آئی) بھی منعقد کیں، جن کے ذریعے 687 طلبہ کو انسانی حقوق سے متعلق بنیادی تربیت فراہم کی گئی۔
آن لائن قلیل مدتی انٹرن شپ (او ایس ٹی آئی) پروگراموں کے ذریعے دور دراز علاقوں کی یونیورسٹیوں کے سیکڑوں طلبہ کو آن لائن تربیت دے کر انسانی حقوق کے سفیر بننے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ کمیشن کالجوں کے طلبہ اور اساتذہ کو اپنے احاطے کے مطالعاتی دوروں کی بھی ترغیب دیتا ہے، تاکہ وہ انسانی حقوق کے فروغ اور تحفظ میں کمیشن کے کردار کے بارے میں براہِ راست معلومات حاصل کر سکیں۔ گزشتہ سال 55 اداروں کے 2,263 طلبہ، اساتذہ اور افسران نے ایسے دوروں میں شرکت کی۔ مختلف سروسز کے افسران، بشمول آئی آر پی ایف ایس، ڈینپس ( ڈی اے این آئی پی ایس) اور سری لنکا کے سول سرونٹس کے لیے انسانی حقوق سے متعلق چھ خصوصی تربیتی اجلاس بھی منعقد کیے گئے۔ اس کے علاوہ، سکیورٹی اہلکاروں میں انسانی حقوق کے حوالے سے حساسیت پیدا کرنے کے لیے کمیشن اپنے سالانہ پروگرام کے تحت مرکزی مسلح پولیس فورسز کے لیے سالانہ مباحثے کے مقابلے کا انعقاد بھی کرتا رہا ہے۔
قومی حقوق انسانی کمیشن، بھارت، ایشیا پیسیفک فورم آف نیشنل ہیومن رائٹس انسٹی ٹیوشنز سمیت مختلف بین الاقوامی حقوق انسانی فورمز پر بھی فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ ان فورمز میں کمیشن کے چیئرمین، اراکین اور سینئر افسران شرکت کرتے ہیں۔ کمیشن بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کے شعبے میں صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے مسلسل کام کر رہا ہے۔ وزارت خارجہ کے اشتراک سے گلوبل ساؤتھ کے قومی حقوق انسانی کے اداروں ( این ایچ آر آئی) کو مضبوط بنانے کے لیے اس کے آئی ٹی ای سی صلاحیت سازی اور تجربات کے تبادلے کے پروگراموں کو نمایاں پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔
اب تک کمیشن پانچ صلاحیت سازی پروگرام منعقد کر چکا ہے، جن میں رواں سال ستمبر میں منعقد ہونے والا پروگرام بھی شامل ہے۔ ان پروگراموں میں افریقہ، مشرقی ایشیا، وسطی ایشیا، جنوبی امریکا اور بحرالکاہل کے 46 ممالک کے قومی حقوق انسانی کے اداروں کے 149 سینئر عہدیداروں نے شرکت کی۔ یہ پروگرام انسانی حقوق کے حوالے سے عالمی مکالمے کو مضبوط بنانے، جنوب-جنوب تعاون کو فروغ دینے اور حقوق پر مبنی طرزِ حکمرانی کو آگے بڑھانے کے لیے قومی حقوق انسانی کمیشن، بھارت کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
انسانی حقوق کے فروغ اور تحفظ کے لیے سول سوسائٹی کے ساتھ براہ راست رابطہ قائم کرنے کی غرض سے کمیشن کی جانب سے انسانی حقوق پر فوٹوگرافی، کوئز اور مختصر فلموں کے مقابلوں جیسے پروگراموں کو بھی زبردست پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ گزشتہ سال انسانی حقوق پر منعقد کیے گئے مختصر فلموں کے مقابلے میں ملک بھر سے ریکارڈ 526 فلمیں موصول ہوئیں۔ یہ فلمیں انسانی حقوق کے مختلف پہلوؤں پر مبنی تھیں، جو مختلف بھارتی زبانوں میں تیار کی گئی تھیں اور ان کے ساتھ انگریزی سب ٹائٹلز بھی شامل تھے۔
کمیشن ماہانہ نیوز لیٹرز کے علاوہ اپنی مختلف اشاعتوں کے ذریعے بھی انسانی حقوق سے متعلق بیداری کو فروغ دے رہا ہے۔ گزشتہ سال اس نے دو نئی اشاعتیں جاری کیں، جن میں انگریزی میں اپنے سالانہ ’جرنل‘ کے تحت مختلف موضوعاتی مسائل پر تحقیق پر مبنی مضامین کے مجموعے اور ہندی میں ’مانَو ادھیکار: نئی دِشائیں‘ شامل ہیں۔
کمیشن نے اپنی رسائی کو مزید وسیع کرنے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں، جن میں اپنے ایچ آر سی نیٹ پورٹل کو تمام ریاستی حکام اور زیادہ تر ریاستی حقوق انسانی کمیشنوں سے منسلک کرنا شامل ہے۔ کوئی بھی شخص کمیشن کے پورٹل پر براہ راست آن لائن شکایت درج کرا سکتا ہے اور اپنی شکایت کی تازہ ترین صورت حال سے حقیقی وقت میں آگاہ رہ سکتا ہے۔
گزشتہ سال شروع کی گئی قومی حقوق انسانی کمیشن، بھارت کی موبائل ایپ نے اس سہولت کو مزید بہتر بنایا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ ایپ کمیشن کی سرگرمیوں اور پروگراموں کے بارے میں تازہ ترین معلومات فراہم کرتی ہے اور عوام میں انسانی حقوق سے متعلق بیداری کو فروغ دینے میں بھی مددگار ہے۔
یوم تاسیس کی تقریب اور قومی کانفرنس کی براہ راست نشریات درج ذیل لنکس پر دیکھی جا سکتی ہیں:
یوٹیوب: https://www.youtube.com/watch?v=LUjeVbvilu8
ویب کاسٹ: https://webcast.gov.in/nhrc
***
) ش ح – م م- ش ب ن )
U.No. 4905
(ریلیز آئی ڈی: 2321328)
وزیٹر کاؤنٹر : 8