زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے رانچی میں آئی سی اے آر۔آئی آئی اے بی کی مختلف نئی سہولتوں کا افتتاح کیا


شیوراج سنگھ چوہان نے سائنسی ٹیکنالوجی کو تجربہ گاہ سے کھیتوں تک پہنچانے میں سائنس دانوں کی کوششوں کو سراہا

شیوراج سنگھ چوہان نے جھارکھنڈ کے لیے سائنسی زراعت، بہتر بیجوں، مربوط کاشت کاری، غذائی اجزا کے متوازن انتظام اور مقامی حالات کے مطابق زرعی ٹیکنالوجی کی اہمیت پر زور دیا

آئی سی اے آر۔آئی آئی اے بی نے 1500 کسانوں کے لیے ربیع سے قبل کسان گوسٹھی کا انعقاد کیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 08 OCT 2026 8:37PM by PIB Delhi

آئی سی اے آر–انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ایگریکلچرل بایوٹیکنالوجی (آئی سی اے آر-آئی آئی اے بی)، گڑھ کھٹانگا، رانچی نے 8 اکتوبر 2026 کو درج فہرست ذاتوں کے ذیلی منصوبے (ایس سی ایس پی) اور قبائلی ذیلی منصوبے (ٹی ایس پی) کے تحت ربیع سے قبل کسان گوسٹھی اور زرعی اِن پٹ کی تقسیم کے پروگرام کا انعقاد کیا۔ اس پروگرام میں رانچی، کھونٹی، گملا اور رام گڑھ اضلاع کے تقریباً 1,500 کسانوں نے شرکت کی۔ اس کا مقصد کسانوں، سائنس دانوں اور پالیسی سازوں کے درمیان براہِ راست تبادلے کو آسان بنانا اور سائنسی و پائیدار زرعی طریقوں کو اپنانے کے رجحان کو فروغ دینا تھا۔

اس موقع پر زراعت اور کسانوں کی فلاح و بہبود کے مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے آئی سی اے آر-آئی آئی اے بی کی مختلف نئی سہولتوں کا افتتاح کیا۔ افتتاح کی جانے والی سہولتوں میں انتظامی و اسکولی عمارت، برسا منڈا کثیر المقاصد ہال، جے پال سنگھ منڈا اسپورٹس کمپلیکس اور نیکسٹ جن بریڈنگ سہولت شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، انہوں نے آئی سی اے آر-آئی آئی اے بی میں 119 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیے جانے والے نئے گیسٹ ہاؤس کی بنیاد بھی رکھی۔

اپنے خطاب میں جناب چوہان نے جھارکھنڈ کے لیے سائنسی زراعت، بہتر بیجوں، مربوط کاشت کاری، غذائی اجزا کے متوازن انتظام اور مقامی حالات کے مطابق زرعی ٹیکنالوجی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے تحقیق اور ٹیکنالوجی کو کسانوں تک پہنچانے کے لیے ادارے کی کوششوں کو بھی سراہا اور کسانوں میں مسلسل بیداری پیدا کرنے اور کھیتوں کی سطح پر زرعی توسیعی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر زور دیا۔

جناب شیوراج سنگھ چوہان نے جھارکھنڈ کے مالا مال قدرتی ورثے اور روایتی اثاثوں کو اجاگر کرتے ہوئے آئی سی اے آر۔آئی آئی اے بی کو زرعی تحقیق، اختراع اور خود کفالت کا ایک اہم مرکز قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ روایتی علم اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے، لیکن موجودہ دور کے زرعی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے کسانوں کو مقامی وسائل اور زرعی و آب و ہوا کے حالات کے مطابق سائنسی اور ٹیکنالوجی پر مبنی کاشت کاری کے طریقے تیزی سے اپنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بہتر بیجوں کی بروقت دستیابی یقینی بنانے اور تحقیقی اداروں میں تیار ہونے والی موزوں زرعی ٹیکنالوجی کو کسانوں کے کھیتوں تک پہنچانے کی اہمیت پر زور دیا۔

مرکزی وزیر نے سبزیوں، اناج اور مویشی پروری سمیت مربوط کاشت کاری اور کھادوں کے متوازن استعمال کے بارے میں مناسب معلومات کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے خاص طور پر کسانوں کو جعلی بیجوں، نقلی کھادوں اور غیر معیاری کیڑے مار ادویات سے محفوظ رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کسانوں کی فلاح و بہبود کی اسکیموں پر مؤثر عمل درآمد اور ان کے فوائد ہر گاؤں تک پہنچانے کی اپیل بھی کی۔ آنے والے ربیع کے موسم کے لیے کسانوں کو تیار کرنے کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے سائنسی ٹیکنالوجی کو ’’تجربہ گاہ سے کھیت تک‘‘ پہنچانے میں سائنس دانوں کی کوششوں کو سراہا اور ان سے آنے والے دنوں میں ملک گیر ’’کھیت بچاؤ مہم‘‘ شروع کرنے کی اپیل کی۔

زراعت اور کسانوں کی فلاح و بہبود کے مرکزی وزیر مملکت جناب بھاگیرتھ چودھری نے ملک کی غذائی سلامتی اور ترقی میں کسانوں کے مرکزی کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے جدید زرعی ٹیکنالوجیز اپنانے، قدر میں اضافے، کسانوں کی مضبوط پیداواری تنظیموں اور کرشی وگیان کیندروں کو مستحکم بنانے، مٹی کی جانچ اور کھادوں کے متوازن استعمال پر زور دیا۔

انہوں نے کسانوں کو اپنی زیرکاشت زمین کے ایک حصے میں قدرتی کاشت کاری آزمانے کی ترغیب بھی دی اور کسانوں کو جعلی بیجوں، نقلی کھادوں اور غیر معیاری کیڑے مار ادویات سے محفوظ رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کسانوں کی فلاح و بہبود کی اسکیموں پر مؤثر عمل درآمد اور زرعی ٹیکنالوجیز کو تجربہ گاہوں سے کھیتوں تک پہنچانے کی کوششیں تیز کرنے کی اپیل کی۔

محکمہ زرعی تحقیق و تعلیم (ڈی اے آر ای) کے سکریٹری اور ہندوستانی زرعی تحقیقاتی کونسل (آئی سی اے آر) کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ایم ایل جٹ نے مشرقی ہندوستان میں زرعی شعبے میں نئی تبدیلی لانے کے امکانات کو اجاگر کیا اور جھارکھنڈ میں زرعی تحقیق اور علمی اداروں کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے دھان کی کٹائی کے بعد خالی رہ جانے والی زمینوں پر فصلوں کی کاشت میں اضافے، مقامی حالات کے مطابق فصلوں اور اقسام کے انتخاب، مویشیوں کی پیداواری صلاحیت بہتر بنانے اور تیزابی مٹی و فاسفورس کی کمی جیسے مسائل کے حل کے لیے تحقیق کو فروغ دینے کی اپیل کی۔ انہوں نے قدرتی اور نامیاتی کاشت کاری کی اہمیت اور آنے والے ربیع کے موسم کے لیے مناسب منصوبہ بندی پر بھی زور دیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہندوستانی زرعی تحقیقاتی کونسل (آئی سی اے آر) کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل (فصل سائنس) ڈاکٹر ڈی کے یادو نے زرعی تحقیق کو کسانوں کی ضروریات کے مطابق ڈھالنے اور اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا کہ ٹیکنالوجی آخری سرے تک پہنچے۔ انہوں نے طلبہ کی ترقی، مناسب رہنمائی اور زرعی تحقیق کے شعبے میں مواقع کو وسعت دینے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔

اس سے قبل، زراعت اور کسانوں کی فلاح و بہبود کے مرکزی وزیر مملکت جناب بھاگیرتھ چودھری نے محکمہ زرعی تحقیق و تعلیم (ڈی اے آر ای) کے سکریٹری اور ہندوستانی زرعی تحقیقاتی کونسل (آئی سی اے آر) کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ایم ایل جٹ، آئی سی اے آر کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل (فصل سائنس) ڈاکٹر ڈی کے یادو، آئی سی اے آر۔آئی آئی اے بی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سجئے رکشت ور آئی سی اے آر۔آئی آئی اے بی کے جوائنٹ ڈائریکٹر (تحقیق) ڈاکٹر وجے پال بھڈانا کے ہمراہ ادارے کی مختلف سہولتوں کا دورہ کیا۔ اس دورے میں ڈیری فارم، فصل تحقیق و تربیتی مرکز، نیکسٹ جن بریڈنگ سہولت اور مربوط زرعی نظام (آئی ایف ایس) یونٹ شامل تھے۔ڈیری فارم میں وزیر موصوف کو مویشیوں کی جینیاتی بہتری کے لیے جنین کی منتقلی کی ٹیکنالوجی کے بارے میں معلومات فراہم کی گئیں۔ آئی ایف ایس کے یونٹ میں معززین نے کسانوں سے بات چیت کی اور انہیں مربوط کاشت کاری، زرعی فضلے کی دوبارہ کارآمد بنانے اور وسائل کے مؤثر استعمال سے متعلق طریقوں کے بارے میں بتایا گیا۔ وزیر موصوف نے شجرکاری مہم میں بھی حصہ لیا اور ترقی پسند کسانوں سے تبادلۂ خیال کیا۔اس موقع پر ایک نمائش کا بھی اہتمام کیا گیا، جس میں آئی سی اے آر کے اداروں اور جھارکھنڈ کی سرکاری ایجنسیوں کی جانب سے فصلوں کی اقسام، مویشی پروری اور ڈیری ٹیکنالوجی، تحقیقی کامیابیوں، زرعی اسکیموں اور کسانوں کے لیے مفید اختراعات کو پیش کیا گیا۔

کسان گوسٹھی میں کسانوں کی پیداواری تنظیموں اور جھارکھنڈ میں ان کے لیے دستیاب مواقع، نسلی و روایتی طریقۂ علاج پر مبنی ادویات اور ڈیری فارمنگ، پھلوں کی فصلوں کی پیداوار کی ٹیکنالوجیز، ربیع کی فصلوں میں مربوط انسدادِ کیڑوں کا انتظام، فصلوں میں تنوع اور مربوط زرعی نظام، نامیاتی اور قدرتی کاشت کاری، مویشیوں کو خوراک دینے کے انتظام اور لاکھ کی کاشت پر توجہ مرکوز کی گئی۔ کسانوں نے سائنس دانوں اور تکنیکی ماہرین سے تبادلۂ خیال کیا اور بہتر زرعی طریقوں اور مویشی پروری کے بارے میں عملی رہنمائی حاصل کی۔شرکت کرنے والے کسانوں میں نینو یوریا، نینو ڈی اے پی، معدنی آمیزہ، گیہوں، مٹر، سرسوں اور سبزیوں کے بہتر بیجوں کی اقسام پر مشتمل کِٹس، دودھ ٹھنڈا کرنے والا ڈبہ، نیز ٹماٹر اور بینگن کے زیادہ پیداوار دینے والے بیجوں سمیت مختلف زرعی اور مویشی پروری سے متعلق اِن پٹ تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر آئی سی اے آر کے اداروں کی تیار کردہ مطبوعات اور ٹیکنالوجیز بھی جاری کی گئیں۔

اس موقع پر اسپیشل ڈیوٹی کے سابق افسر ڈاکٹر آر رمانی ، سابق ڈائریکٹر (انچارج) ڈاکٹر کے کے شرما ، سابق قائم مقام ڈائریکٹر اور جوائنٹ ڈائریکٹر (ریسرچ) ڈاکٹر تلک راج شرما اور آئی سی اے آر-آئی آئی اے بی کے پہلے باقاعدہ ڈائریکٹر ڈاکٹر اروناو پٹنائک کو انسٹی ٹیوٹ میں ان کی خدمات کے لیے اعزاز سے نوازا گیا ۔

پروگرام کا اختتام آئی سی اے آر۔آئی آئی اے بی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سجئے رکشت کے اظہار تشکر کے ساتھ ہوا۔ انہوں نے معززین، کسانوں، سائنس دانوں، افسران، عملے، طلبہ اور تمام متعلقہ فریقوں کی شرکت اور تعاون کے لیے ان کا شکریہ ادا کیا۔ اس تقریب نے کسانوں، سائنس دانوں اور پالیسی سازوں کے درمیان روابط مضبوط بنانے اور زرعی تحقیق و اختراع کو جھارکھنڈ کے کسانوں کے لیے قابل عمل ٹیکنالوجی میں تبدیل کرنے کے آئی سی اے آر۔آئی آئی اے بی کے عزم کی توثیق کی۔

 

***

ش ح۔ ش آ۔رض

4885U-No.


(ریلیز آئی ڈی: 2321215) وزیٹر کاؤنٹر : 6
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Gujarati