مواصلات اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

محکمۂ ٹیلی مواصلات نے ڈیجیٹل رابطے اور بنیادی ڈھانچے کی تیز رفتار توسیع کے لیے آئی ٹی سے متعلق ریاستی وزراء اور سکریٹریوں کے ساتھ اعلیٰ سطحی گول میز اجلاس منعقد کیا


مرکزی وزیر جناب جیوتی رادتیہ سندھیا اور وزیر مملکت ڈاکٹر چندر شیکھر پیمّاسانی کی مشترکہ صدارت میں گول میز اجلاس کا انعقاد

’’وکسِت بھارت @2047 کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے ہمیں ’ٹیم انڈیا‘ کے طور پر کام کرتے ہوئے رائٹ آف وے کی منظوری میں تیزی لانا ہوگی اور بھارت نیٹ اور 4جی کنیکٹویٹی کو آخری سرے تک پہنچانا ہوگا‘‘: ریاستی وزرا سے جناب سندھیاکا خطاب

مرکز، ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کا ٹیلی مواصلاتی بنیادی ڈھانچے کی تیز رفتار تنصیب اور شہری مرکوز ڈیجیٹل خدمات کے تئیں عہد کا اعادہ

آئی ایم سی 2026 کے گول میز اجلاس میں ریاستی حکومتوں کے آئی ٹی وزرا اور سکریٹریوں نے رائٹ آف وے اصلاحات، بھارت نیٹ، 4جی کنیکٹیویٹی اور ڈیجیٹل شمولیت پر تبادلہ خیال کیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 08 OCT 2026 5:40PM by PIB Delhi

وزارت مواصلات کےمحکمۂ ٹیلی مواصلات (ڈی او ٹی)نے انڈیا موبائل کانگریس (آئی ایم سی) 2026 کے موقع پر ریاستی حکومتوں کے آئی ٹی وزرا اور سکریٹریوں کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی گول میز کانفرنس کا انعقاد کیا۔ گول میز کانفرنس کی صدارت مواصلات اور شمال مشرقی خطے کی ترقی کے مرکزی وزیر جناب جیوتی رادتیہ ایم سندھیا نے مواصلات اور دیہی ترقی کے مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر چندر شیکھر پیمّاسانی اور محکمہ ٹیلی مواصلات کے سکریٹری جناب امیت اگروال کے ساتھ کی۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image001_20261008174143_73783f.jpg

گول میز اجلاس نے ٹیلی مواصلات، ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے اور شہری مرکوز ڈیجیٹل خدمات سے متعلق اہم امور پر مرکز، ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں (یو ٹی) کے درمیان منظم گفت و شنید اور باہمی تعاون کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کیا۔ آئی ایم سی 2026 کے موضوع ’’حدوں سے آگے توسیع‘‘ کے مطابق، اجلاس میں ڈیجیٹل رابطے کو وسیع کرنے، بنیادی ڈھانچے کی تنصیب میں تیزی لانے اور مرکز و ریاست کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی، تاکہ ہندوستان کی ڈیجیٹل تبدیلی اور 2047 تک وکسِت بھارت کے تصور کو تقویت دی جاسکے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مواصلات اور شمال مشرقی خطے کی ترقی کے مرکزی وزیر جناب جیوتی رادتیہ ایم سندھیا نے کہا، ’’ٹیلی مواصلات اگرچہ مرکز کے دائرۂ اختیار میں ہے، لیکن ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ ریاستی زمین پر تعمیر ہوتا ہے، جس سے ہماری ریاستیں نیشنل براڈ بینڈ مشن 2.0 کو آگے بڑھانے میں حقیقی شراکت دار بن جاتی ہیں۔ وکست بھارت @ 2047 کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کے لیے ہمیں ’ٹیم انڈیا‘ کے طور پر کام کرنا ہوگا۔ اس مقصد کے لیے رائٹ آف وے  کی منظوری کے عمل کو تیز کرنا ہوگا تاکہ ایس اے ایس سی آئی کے تحت سرمایہ جاتی مراعات سے بھرپور استفادہ کیا جا سکے، بھارت نیٹ اور 4جی کی سہولت کو آخری میل تک پہنچانا ہوگا، سنچار ساتھی کے ذریعے نیٹ ورکس کو محفوظ بنانا ہوگا اور سمردھ گرام پروگرام کو وسعت دینا ہوگی، تاکہ رابطے کی سہولت ہر شہری کی زندگی میں بامعنی تبدیلی لائے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image002_20261008174154_c7a1ec.jpg

مذاکرات میں ڈیجیٹل مواصلاتی بنیادی ڈھانچے کی بالخصوص رائٹ آف وے، اراضی کی تخصیص اور سائٹ تک رسائی جیسے زمینی سطح کے تقاضوں کو پورا کرنے کے حوالے سے کامیاب تنصیب میں ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں (یو ٹی) کے اہم کردار کو اجاگر کیا گیا۔

گول میز کانفرنس میں ٹیلی مواصلات ایکٹ، 2023 کے تحت محکمہ ٹیلی مواصلات (ڈی او ٹی) کی جانب سے وضع کردہ ٹیلی مواصلات(رائٹ آف وے) ضوابط، 2024 کے نفاذ پر خصوصی توجہ دی گئی۔ یہ ضوابط یکم جنوری 2025 سے نافذ ہوئے، جن کے ذریعے ٹیلی مواصلاتی بنیادی ڈھانچے کی تنصیب کے لیے یکساں اور شفاف نظام قائم کیا گیا۔ اس میں رائٹ آف وے فیس کو معقول بنانا اور درخواستوں کی مقررہ مدت میں کارروائی شامل ہے۔ ان ضوابط کے تحت عام رائٹ آف وے درخواستوں کی کارروائی کے لیے 67 دن، جبکہ بھارت نیٹ جیسے خصوصی منصوبوں کے لیے 7 دن کی مدت مقرر کی گئی ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image003_20261008174202_cc26f6.jpg

یہ بات سامنے آئی کہ 34 ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں (یو ٹی) نے سرکاری احکامات یا نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے مقامی اداروں اور متعلقہ محکموں کو محکمہ ٹیلی مواصلات (ڈی او ٹی) کے رائٹ آف وے ضوابط، 2024 پر عمل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ تمام 36 ریاستیں/مرکز کے زیر انتظام علاقے (یو ٹی) مرکزی رائٹ آف وے پورٹل پر فعال ہیں۔ سرمایہ کاری کے لیے خصوصی امداد (ایس اے ایس سی آئی) اسکیم 2026-27، جس کے لیے 4,000 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، کو بھی ریاستوں اور ان کی ایجنسیوں، بشمول ریاستی سرکاری اداروں (پی ایس یو)، کارپوریشنوں اور شہری مقامی اداروں کی جانب سے رائٹ آف وے اصلاحات کے نفاذ کو مضبوط بنانے میں ایک اہم معاون کے طور پر اجاگر کیا گیا۔

گول میز کانفرنس میں ترمیم شدہ بھارت نیٹ پروگرام (اے بی پی)اور 4جی سیچوریشن پروجیکٹ کے تحت پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ترمیم شدہ بھارت نیٹ پروگرام کا مقصد موجودہ بھارت نیٹ نیٹ ورک کو اپ گریڈ کرنا، نئی گرام پنچایتوں (جی پیز) کے لیے اضافی نیٹ ورک بنیادی ڈھانچہ تیار کرنا، ضرورت کی بنیاد پر غیر گرام پنچایت (جی پی) دیہات کو جوڑنا اور 1.5 کروڑ فائبر انٹرنیٹ کنکشن فراہم کرنا ہے۔ اگست 2026 تک ترمیم شدہ بھارت نیٹ پروگرام کے تحت 55,780 کلومیٹر آپٹیکل فائبر کیبل بچھائی جا چکی ہے اور 28,700 گرام پنچایتوں کو اپ گریڈ کرکے مربوط کیا جا چکا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image004_20261008174211_5d52f0.jpg

اجلاس میں ڈیجیٹل بھارت ندھی (ڈی بی این) کے ذریعے مالی اعانت فراہم کیے جانے والے منصوبوں کے تحت دور دراز اور ایسے علاقوں تک موبائل کنکٹویٹی پہنچانے کے لیے حکومت کی کوششوں کو بھی اجاگر کیا گیا جہاں اب تک موبائل خدمات دستیاب نہیں تھیں۔ ان اقدامات کا مقصد ڈیجیٹل تقسیم کو کم کرنا اور ان دیہاتوں میں 4جی کنکٹویٹی فراہم کرنا تھا جہاں تجارتی مصلحتوں کے باعث ٹیلی کام سروس فراہم کرنے والوں نے اپنے نیٹ ورک توسیع نہیں کی تھی۔ 31 اگست 2026 تک ملک بھر میں 25,367 موبائل ٹاور نصب کرکے فعال کیے جا چکے تھے، جن سے 35,771 دیہاتوں/مقامات کو کور کیا گیا۔ بی ایس این ایل کی جانب سے نافذ کیے گئے 4جی سیچوریشن پروجیکٹ میں دیسی طور پر تیار کردہ 4جی اسٹیک کا استعمال کیا گیا ہے۔

گول میز کانفرنس میں سنچار ساتھی پہل اور سائبر جرائم اور مالی فراڈ کے خلاف کارروائی کے لیے محکمہ ٹیلی مواصلات، ریاستی/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی حکومتوں، قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں، ٹیلی کام سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے درمیان تال میل مضبوط بنانے کی اہمیت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ سنچار ساتھی شہریوں کو مشتبہ دھوکہ دہی پر مبنی مواصلات کی اطلاع دینے، اپنے نام پر جاری موبائل کنکشنز کی جانچ کرنے، غیر مجاز کنکشنز کی اطلاع دینے اور گم یا چوری شدہ موبائل آلات کو بلاک، رپورٹ اور ٹریس کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ ڈیجیٹل انٹیلی جنس پلیٹ فارم (ڈی آئی پی) کو بھی سائبر فراڈ کے خلاف انٹیلی جنس کے تبادلے اور مربوط کارروائی کے ایک اہم طریقہ کار کے طور پر اجاگر کیا گیا۔

ایک اور اہم پہل جس پر تبادلہ خیال کیا گیا، سمرتھ گرام فجیٹل سروسز انیشی ایٹو تھا۔ یہ خدمات کی فراہمی کا ایک مربوط ماڈل ہے، جس کا مقصد قابل اعتماد براڈ بینڈ کنکٹویٹی کو دیہی برادریوں کے لیے بامعنی اور شہریوں پر مرکوز خدمات اور مواقع میں تبدیل کرنا ہے۔ سمرتھی مراکز کے ذریعے اس پہل کے تحت ٹیلی مشاورت اور تشخیص، ڈیجیٹل کلاس رومز اور ہنرمندی کی تربیت، ای گورننس، بینکنگ، مٹی کی جانچ، ڈرون پر مبنی زرعی خدمات، روزگار کے مواقع اور ای کامرس جیسی خدمات ایک ہی جگہ فراہم کی جاتی ہیں۔ اس ماڈل کو مدھیہ پردیش کے عمری، اتر پردیش کے چوراولہ اور آندھرا پردیش کے ناراکودورو میں آزمائشی بنیاد پر نافذ کیا جا رہا تھا اور اسے ایکشن لائن سی6 سازگار ماحول کے تحت ڈبلیو ایس آئی ایس پرازز 2026 کا عالمی فاتح قرار دیا گیا ہے۔

گول میز کانفرنس کا اختتام مرکز، ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں (یو ٹی) اور ٹیلی کام صنعت کے درمیان تال میل کو مضبوط بنانے، ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کی تنصیب میں تیزی لانے، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو اپنانے میں سہولت فراہم کرنے اور شہریوں پر مرکوز ڈیجیٹل خدمات کو وسعت دینے کے مشترکہ عزم کے ساتھ ہوا۔ مذاکرات میں ڈیجیٹل طور پر بااختیار اور مربوط ہندوستان کی تعمیر اور 2047 تک وکست بھارت کے وژن کو آگے بڑھانے کے لیے اجتماعی عزم کا اعادہ کیا گیا۔

ٹیم انڈیا، ایک مربوط بھارت کی تعمیر۔ مواصلات کے وزیر مملکت ڈاکٹر @PemmasaniOnX جی اور میگھالیہ کے وزیر اعلیٰ @SangmaConrad جی کے ساتھ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے آئی ٹی وزرا، آئی ٹی سکریٹریوں اور سینئر افسران کے اجلاس کی صدارت کی، تاکہ ڈیجیٹل طور پر مربوط بھارت کے ہمارے مشترکہ وژن کو آگے بڑھایا جا سکے۔ رائٹ آف وے کی منظوری میں تیزی اور ترمیم شدہ بھارت نیٹ سے لے کر آخری سرے تک کنکٹویٹی اور سائبر فراڈ کے خلاف مضبوط کارروائی تک، اس بات پر تبادلہ خیال کیا کہ مرکز اور ریاستوں کے درمیان بہتر تال میل کس طرح ٹیلی کام خدمات کو ہندوستان کے ہر شہری تک پہنچانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے!

جیوتیرادتیہ ایم سندھیا-(@JM_Scindia) 8/ اکتوبر، 2026

Follow DoT Handles for more: -

X - https://x.com/DoT_India

Insta- https://www.instagram.com/department_of_telecom?igsh=MXUxbHFjd3llZTU0YQ==

Fb - https://www.facebook.com/DoTIndia

Youtube: https://youtube.com/@departmentoftelecom?si=DALnhYkt89U5jAaa

****

ش ح۔ ک  ح۔ ج

U.No. 4850


(ریلیز آئی ڈی: 2320924) وزیٹر کاؤنٹر : 6
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Kannada