بندرگاہوں، جہازرانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت
ساگرمنتھن 2026 کا آغاز، ہندوستان نے قابلِ اعتماد، ضابطوں پر مبنی عالمی بحری نظام کی سمت متعین کی
سمندر ہمیں جدا نہیں کرتے بلکہ ایک دوسرے سے جوڑتے ہیں:وزیر اعظم نریندر مودی کے پیغام سےعظیم بحری مکالمے کو نئی سمت ملی
وزیر اعظم نریندر مودی نے ایسے آزاد، کھلے، محفوظ اور ضابطوں پر مبنی بحری نظام پر زور دیا جو سب کے لیے امن، خوشحالی اور ترقی کا ذریعہ بنے
مرکزی وزیر سربانند سونووال نے ’بحری امرت کال وژن 2047‘ کو دنیا کے سامنے ہندوستان کی شراکت داری کی پیشکش کے طور پر پیش کیا
شراکت داری کے سمندر:ساگرمنتھن 2026 کے پہلے ہی روز ہندوستان نے کوریا، یورپی یونین، آسٹریلیا، ناروے، متحدہ عرب امارات، بھوٹان اور افریقہ کو باہم مربوط کیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
07 OCT 2026 9:06PM by PIB Delhi
وزارتِ بندرگاہ، جہاز رانی اور آبی راستے (ایم او پی ایس ڈبلیو)نے آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن (او آر ایف) کے اشتراک سے منعقد ہونے والے ’ساگرمنتھن: عظیم بحری مکالمے‘ کے تیسرے ایڈیشن کا آج یہاں افتتاح کیا۔ مکالمے کا آغاز وزیر اعظم نریندر مودی کے اس پیغام سے ہوا، جس میں انہوں نے ایک آزاد، کھلے، محفوظ اور ضابطوں پر مبنی بحری نظام پر زور دیا۔ وزیر اعظم کے وژن کو آگے بڑھاتے ہوئےبندرگاہ، جہاز رانی اور آبی گزر گاہوں کے مرکزی وزیر سربانند سونووال نے اعتماد، مشترکہ خوشحالی اور شراکت داری پر مبنی عالمی بحری نظام کا خاکہ پیش کیا، جس میں ہندوستان گہری تبدیلیوں کے دور سے گزرنے والی قوموں کے لیے رہنما اور مضبوط سہارا بن کر سامنے آتا ہے۔
مکالمے کے نام اپنے پیغام میں وزیر اعظم نریندر مودی نے یاد دلایا کہ ہندوستانی روایت میں سمندر منتھن کو نئی امکانات کی دریافت سے جوڑا جاتا ہے۔ انہوں نے لوتھل سے چولا حکمرانوں اور چھترپتی شیواجی مہاراج کی بحری بصیرت تک ہندوستان کے شاندار بحری ورثے کا ذکر کیا اور ایک آزاد، کھلے، محفوظ اور ضابطوں پر مبنی بحری نظام کے ہندوستانی وژن کا اعادہ کیا۔ وزیر اعظم نے کہاکہ’’سمندر ہمیں ایک دوسرے سے جدا نہیں کرتے بلکہ جوڑتے ہیں، کیونکہ دنیا کے ایک حصے میں ہونے والے واقعات کا اثر اس کی سرحدوں سے بہت دور تک پڑ سکتا ہے۔‘‘ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسی لیے مکالمے اور عالمی تعاون کی اہمیت آج پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔
ساگرمنتھن کے پہلے روز پانچ براعظموں سے مختلف ممالک کے وزراء، بحری افواج کی قیادت، بندرگاہی حکام، جہاز ساز اداروں، مالیاتی شعبے کے نمائندوں اور کثیر ملکی اداروں نے شرکت کی۔ آسٹریلیا، بلجیم، بھوٹان، یورپی یونین، فرانس، ناروے، جمہوریہ کوریا، متحدہ عرب امارات، نائجیریا، ایتھوپیا، گھانا، مصر، سیشلز، ایکواڈور اور دیگر ممالک کے وفود اور ماہرین نے اقتصادی تعاون و ترقی کی تنظیم، اقوام متحدہ کی تجارت و ترقی کی کانفرنس، ایشیائی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک اور افریقی یونین کے نمائندوں کے ساتھ مل کر سمندروں کے مستقبل سے متعلق ایک جامع مکالمے میں حصہ لیا۔
پہلےدن کی کارروائی کا اختتام ’’بحری امرت کال 2047 ہندوستان کا بحری وژن اور عالمی بحری تعاون کا نیا دور‘‘ کے عنوان سے منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی گفتگو کے ساتھ ہوا۔ اس موقع پر سربانند سونووال نے ’بحری امرت کال وژن 2047‘، پی ایم گتی شکتی اور ساگرمالا پروگرام کے تحت ہندوستان میں ہونے والی بحری تبدیلیوں کو صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک تعاون قرار دیا۔ آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کے صدر ڈاکٹر سمیر سرن کے ساتھ گفتگو میں انہوں نے ہندوستان کو سمندروں کے حوالے سے ’وشو گرو‘ کے طور پر پیش کیا، یعنی ایک ایسا ملک جو اپنے علم، صلاحیت اور ہنر کو دوسروں کے ساتھ بانٹتے ہوئے زیادہ باہمی تعاون پر مبنی عالمی بحری ایجنڈے کی تشکیل میں مدد کرتا ہے۔
سربانند سونووال نے کہا’’سمندر کے ساتھ ہندوستان کا رشتہ تہذیبی نوعیت کا ہے۔ ہزاروں برسوں سے ہندوستانی ملاح فاتح بن کر نہیں بلکہ شراکت دار کی حیثیت سے سمندروں کے پار سامان، خیالات اور ثقافت پہنچاتے رہے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی بصیرت افروز قیادت میں ہندوستان ایک بار پھر دنیا کے سامنے اعتماد، صلاحیت اور باہمی مفاد پر مبنی بحری ماڈل پیش کر رہا ہے۔ یہی ہندوستان کے وشو گرو ہونے کی روح ہے: ہم مثال قائم کرکے قیادت کرتے ہیں اور اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر ترقی کرتے ہیں۔‘‘
سونووال نے مزید کہا، ’’عالمی بحری نظام خلل، انتشار اور تکنیکی تبدیلی کے ایک بڑے منتھن کے دور سے گزر رہا ہے۔ اس منتھن سے ہندوستان دنیا کے لیے امرت نکالنے کے لیے پُرعزم ہے: مضبوط اور لچک دار سپلائی چین، ماحول دوست بحری راستے، عالمی معیار کا جہاز سازی کا نظام اور تربیت یافتہ بحری افرادی قوت، جس پر ہر ملک بھروسہ کر سکے۔ ’بحری امرت کال وژن وِکسِت بھارت 2047‘کے لیے ہمارا لائحۂ عمل ہے اور یہ ہر سمندر میں موجود ہمارے شراکت داروں کے لیے ایک کھلی دعوت ہے۔‘‘
کانفرنس کے باضابطہ افتتاح کے موقع پر منظرنامہ واضح کرنے والی وزارتی تقریر کرتے ہوئےبندرگاہ، جہاز رانی اور آبی گزر گاہوں کے مرکزی وزیر مملکت شانتنو ٹھاکر نے اس بات کو اجاگر کیا کہ ہندوستان میں بندرگاہوں کی قیادت میں ہونے والی ترقی اور نئی نسل کے بحری قوانین پورے خطے کے لیے صلاحیتوں میں اضافہ کر رہے ہیں۔ بندرگاہ، جہاز رانی اور آبی راستوں کی وزارت کے سکریٹری وجے کمار نے افتتاحی خطاب کیا۔جبکہ آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کے صدر ڈاکٹر سمیر سرن نے خیرمقدمی کلمات پیش کیے۔
شانتنو ٹھاکر نے کہا کہ’’آج بندرگاہیں صرف مال برداری کے راستے نہیں ہیں بلکہ یہ ایسی تزویراتی اثاثے ہیں جو ممالک کے درمیان مسابقتی صلاحیت، توانائی کے تحفظ اور اعتماد کو تشکیل دیتے ہیں۔ ہماری بڑی بندرگاہوں کی گنجائش تقریباً دوگنی ہو چکی ہے اور جدید قانونی نظام بھی نافذ ہو چکا ہے، ایسے میں ہندوستان نہ صرف اپنی ترقی بلکہ پورے ہند-بحرالکاہل خطے اور اس سے آگے کی تجارت کی ضروریات پوری کرنے کے لیے تیار ہے۔‘‘
افتتاحی وزارتی اجلاس ’’اعتماد کی لہریں; بندرگاہیں شراکت داریاں اور ایک نئے بحری صدی کی تشکیل‘‘ میں، جس کی نظامت ڈاکٹر سمیر سرن نے کی۔ اس دوران اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ بندرگاہوں اور جہاز رانی کے نیٹ ورکس کو کس طرح اسٹریٹیجک اثاثوں کے طور پر نئے سرے سے دیکھا جا رہا ہے۔ اجلاس میں آسٹریلیا کے سابق وزیر اعظم اور ایشیا سوسائٹی کے عالمی صدر و چیف ایگزیکٹو افسر کیون رڈ؛ بلجیم کی وزیر برائے نقل و حرکت، عوامی تعمیرات، بندرگاہوں اور کھیل اینک ڈی رِڈر؛ بھوٹان کے وزیر برائے بنیادی ڈھانچہ اور ٹرانسپورٹ چندر بہادر گرونگ؛ ہندوستانی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل کرشنا سوامی ناتھن؛ اور ڈی پی ورلڈ کے چیف ایگزیکٹو افسر و منیجنگ ڈائریکٹر رضوان سومار نے شرکت کی۔ اس سے قبل رضوان سومار اور ڈاکٹر سمیر سرن نے ’’عظیم منتھن: تجارت، طاقت اور مواقع‘‘ کے عنوان سے ہونے والی گفتگو میں بحری رابطوں کے ذریعے اقتصادی طاقت کے نئے انداز میں تشکیل پانے پر تبادلۂ خیال کرتے ہوئے اس مکالمے کے لیے بنیادی فضا تیار کی۔
ہندوستان-یورپی یونین ماحول دوست بحری راستہ: ہندوستان-یورپی یونین ماحول دوست بحری راستہ، ماحول دوست ایندھن کی پیداوار میں ہندوستان کی صلاحیت کو یورپ میں ابھرتی ہوئی طلب سے جوڑتا ہے، جس سے ماحول دوست امونیا اور میتھانول کی تجارت اور بحری شعبے سے کاربن اخراج میں کمی کے لیے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ 2025 میں اس بحری راستے کے ابتدائی امکان کے مطالعے کے آغاز اور 2026 میں صنعتی اتحاد کے قیام کے بعد یہ پہل اب عملی نفاذ کی جانب بڑھ رہی ہے۔ آر ایم آئی کے اشتراک سے منعقدہ تقریب ’’ہندوستان-یورپی یونین ماحول دوست بحری راستہ: جدت، اقدام اور توسیع‘‘ میں باضابطہ طور پر اس اتحاد کا آغاز کیا گیا۔ اس موقع پر حکومت اور صنعت کو ایک پلیٹ فارم پر لاتے ہوئے امکان کے جائزے سے عملی نفاذ تک کا راستہ متعین کرنے، سرمایہ کاری اور شراکت داریوں کو متحرک کرنے اور تجارتی اعتبار سے قابلِ عمل اور بڑے پیمانے پر وسعت پانے والے ماحول دوست بحری راستے کی تعمیر کے لیے لائحۂ عمل پیش کیا گیا۔ یورپی کمیشن میں پائیدار نقل و حمل اور سیاحت کے کمشنر اپوسٹولوس تزیتزیکوستاس اور شانتا نو ٹھاکر نے وزارتی خطابات کیے، جبکہ افتتاحی کلمات وجے کمار نے پیش کیے۔
ہند-بحرالکاہل خطے میں ہندوستان-کوریا: گول میز مباحثے ’’ہند-بحرالکاہل میں ہندوستان-کوریا: بحری تعاون اور اقتصادی لچک‘‘ میں، جو کوریا انسٹی ٹیوٹ فار انٹرنیشنل اکنامک پالیسی (کے آئی ای پی) کے اشتراک سے منعقد ہوا، اپریل 2026 میں منعقدہ ہندوستان-جمہوریہ کوریا سربراہ اجلاس کے بعد ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اس میں جہاز سازی، جہاز رانی اور بحری رسد کے شعبوں میں شراکت داری کے لیے ہندوستان-کوریا جامع فریم ورک پر عمل درآمد اور خصوصی اسٹریٹیجک شراکت داری کے ساتھ اس کی ہم آہنگی پر خصوصی توجہ دی گئی۔ اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ ہندوستان اور کوریا جہاز سازی کے ماحولیاتی نظام، بحری رسد، بندرگاہوں کی قیادت میں ترقی اور رسد کی زنجیروں کے انضمام سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو کس طرح آگے بڑھا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ حکومت سے متعلق فریقوں اور صنعت سے وابستہ اداروں، جن میں جہاز ساز ادارے، جہاز رانی کمپنیاں، بندرگاہوں کے منتظمین اور بحری ٹیکنالوجی کی کمپنیاں شامل ہیں، کے درمیان منظم تعاون پر بھی زور دیا گیا۔مباحثے میں ان پیش رفتوں کو ہند-بحرالکاہل کے بدلتے ہوئے بحری اور اقتصادی ڈھانچے کے وسیع تناظر میں رکھا گیا، جو رسد کی زنجیروں میں خلل، جغرافیائی سیاسی انتشار اور تجارت و صنعت کے بدلتے ہوئے رجحانات سے تشکیل پا رہا ہے۔ اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ ہندوستان-کوریا شراکت داری کس طرح ہند-بحرالکاہل میں بحری رابطوں کو مضبوط، تجارتی روابط کو متنوع اور صنعتی تعاون کو مزید گہرا کر کے زیادہ مضبوط اور لچک دار نظام تشکیل دینے میں مدد کر سکتی ہے۔ اجلاس کے دوران ’’سمندروں کی ہم آہنگی: ہند-جنوبی کوریا تعاون اور ہند-بحرالکاہل‘‘ کے عنوان سے مرتب شدہ کتاب کی رسم اجراء بھی عمل میں آئی۔
راہداریاں، پیمائش اور افریقہ: اقتصادی راہداریاں تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی انضمام کی نئی تشکیل کے لیے اہم پلیٹ فارم کے طور پر ابھر رہی ہیں۔ تاہم، ان کی کامیابی کا انحصار صرف بنیادی ڈھانچے پر نہیں ہے۔ ’’مستقبل کی راہداریوں کی حکمرانی: آئی ایم ای سی کے لیے اسباق‘‘ کے عنوان سے منعقدہ ابتدائی اجلاس میں اس حکمرانی کے ڈھانچے کا جائزہ لیا گیا جو آئی ایم ای سی کے تزویراتی وژن کو ایک فعال اقتصادی راہداری میں تبدیل کرنے کے لیے ضروری ہے۔ اس میں غور کیا گیا کہ ہندوستان، یورپ اور شراکت دار ممالک کس طرح سرمایہ کاری، باہمی مطابقت اور طویل مدتی پیش رفت کو فروغ دینے کے لیے ضروری ضوابط، شراکت داریاں اور ادارہ جاتی طریقۂ کار تشکیل دے سکتے ہیں، جبکہ یہ یقینی بنایا جائے کہ بدلتے ہوئے جغرافیائی سیاسی اور اقتصادی منظرنامے کے مطابق آئی ایم ای سی میں ضروری لچک برقرار رہے۔
جیسے جیسے ممالک پائیدار بحری معیشتوں کو فروغ دینے کی کوششیں تیز کر رہے ہیں، پیش رفت کی پیمائش کرنے، خلا کی نشاندہی کرنے اور پالیسیوں کو طویل مدتی اہداف سے ہم آہنگ کرنے کی صلاحیت پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہوتی جا رہی ہے۔ اقتصادی تعاون و ترقی کی تنظیم کے ’’بحری معیشت کے اشاریاتی جدول‘‘ شواہد پر مبنی پالیسی سازی کے لیے ایک جامع خاکہ فراہم کرتے ہیں، جس کے ذریعے ممالک اپنی پیش رفت کا تقابلی جائزہ لے سکتے ہیں، ترجیحات کا تعین کر سکتے ہیں اور مختلف شعبوں کے درمیان ہم آہنگی کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔ اقتصادی تعاون و ترقی کی تنظیم کے اشتراک سے منعقدہ اجلاس ’’پائیدار بحری معیشتوں کی جانب منتقلی کی پیش رفت کا جائزہ‘‘ میں پالیسی سازوں، بین الاقوامی تنظیموں اور ماہرین نے شرکت کی۔ اجلاس میں اس بات پر تبادلۂ خیال کیا گیا کہ بہتر پیمائشی نظام زیادہ مؤثر بحری معیشت کی حکمت عملیوں کی تشکیل، سرمایہ کاری کے فیصلوں کی رہنمائی اور پائیدار و جامع بحری ترقی کے لیے بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے میں کس طرح مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
جغرافیائی سیاسی رکاوٹوں، اہم بحری گزرگاہوں کو لاحق خطرات اور رسد کی زنجیروں میں آنے والی تبدیلیوں کے باعث، افریقہ کی بحری راہداریاں عالمی تجارت کو زیادہ مضبوط اور لچک دار بنانے کے لیے تیزی سے اہم ہوتی جا رہی ہیں۔ لوبیتو راہداری جیسے اقدامات اور علاقائی رابطوں میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری اس بات کو اجاگر کرتی ہے کہ افریقہ تجارتی راستوں میں تنوع پیدا کرنے، رسد کی زنجیروں کی لچک مضبوط کرنے اور بحری معیشت کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی کتنی بڑی صلاحیت رکھتا ہے۔ ’’افریقہ کے بحری دروازے: راہداریوں سے رابطے کے مراکز تک‘‘ کے عنوان سے منعقدہ اجلاس میں اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ افریقہ اپنی بحری راہداریوں کو محض آمدورفت کے راستوں کے بجائے رابطوں، اقتصادی ترقی اور عالمی تجارت کی مضبوطی و لچک کے محرکات میں کس طرح تبدیل کر سکتا ہے۔
ساگرمنتھن 2026 کے پہلے روز منعقد ہونے والے تمام اجلاسوں میں ایک ہی پیغام نمایاں رہا: جب تجارتی راستے، ٹیکنالوجی اور اتحاد نئی شکل اختیار کر رہے ہیں، ہندوستان عالمی بحری برادری کے لیے ایک قابلِ اعتماد تعمیر کنندہ، شراکت دار اور رہنما کے طور پر آگے بڑھ رہا ہے۔ ساگرمنتھن 2026 میں مزید وزارتی اور ماہرین کے اجلاس جاری رہیں گے۔


******
ش ح۔ م ح۔رض
4822U-No.
(ریلیز آئی ڈی: 2320628)
وزیٹر کاؤنٹر : 3