ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ہندوستان نے آئندہ یو این ایف سی سی سی کوپ-31 میں پُرعزم اور متوازن نتائج یقینی بنانے کے لیے لچک، حقیقت پسندی اور باہمی احترام پر زور دیا


جناب بھوپیندریادو نے موسمیاتی مالیات میں خاطر خواہ اضافہ، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور صلاحیت سازی پر زور دیا

قومی سطح پر متعین راستوں کا احترام کرتے ہوئے بیان بازی سے آگے بڑھ کر عملی نفاذ اور باہمی اتفاقِ رائے کی جانب پیش قدمی ضروری ہے:مرکزی وزیر ماحولیات

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 08 OCT 2026 11:55AM by PIB Delhi

ہندوستان نے یو این ایف سی سی سی کوپ-31 میں پُرعزم اور متوازن نتائج یقینی بنانے کے لیے فریقین کے درمیان باقی ماندہ اختلافات کو دور کرنے کی غرض سے زیادہ لچک، حقیقت پسندی اور باہمی احترام پر زور دیا ہے۔ فجی میں منعقدہ پری کوپ-31 اجلاس کے دوران ’’سیاسی اتفاقِ رائے اور نتائج‘‘ کے موضوع پر منعقدہ مکمل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کے مرکزی وزیر جناب بھوپیندریادو نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ محض بیان بازی سے آگے بڑھ کر عملی نفاذ اور باہمی اتفاقِ رائے کی جانب پیش رفت کی جائے۔

 فجی کے نادی میں پری کوپ-31 کے دوران ’’سیاسی اتفاقِ رائے‘‘ کے موضوع پر مکمل اجلاس سے خطاب کیا۔ کوپ-31 میں پُرعزم اور متوازن نتیجے کی ضرورت پر زور دیا، جہاں زیادہ بلند اہداف کے ساتھ موسمیاتی مالیات، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور صلاحیت سازی بھی یقینی بنائی جائے اور عملی نفاذ میں قومی سطح پر متعین راستوں کا احترام کیا جائے۔

پری کوپ کے دوران ہونے والی بات چیت کا ذکر کرتے ہوئے جناب یادو نے کہا کہ فریقین کے درمیان مشترکہ بنیاد ’’اختلافات سے کہیں زیادہ وسیع ہے‘‘۔ انہوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ عالمی حدت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سیلسیس تک محدود رکھنے کے بلند حوصلہ ہدف پر اجتماعی طور پر قائم رہنے؛ اس حقیقت کو تسلیم کرنے؛ کہ بلند تر اہداف کے لیے متناسب طور پر زیادہ عہد درکار ہیں، خصوصاً موسمیاتی مالیات میں خاطر خواہ اضافہ، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور صلاحیت سازی کے ذریعے؛ اور اجتماعی توجہ کو فیصلہ کن طور پر عملی نفاذ کی جانب منتقل کرنے پر وسیع اتفاقِ رائے پایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا پختہ یقین ہے کہ عملی نفاذ میں قومی سطح پر متعین راستوں کا احترام ہونا چاہیے، تاکہ ہر ملک اپنے مخصوص قومی حالات اور ترقیاتی تقاضوں کے مطابق منتقلی کا عمل مکمل کر سکے۔

وزیر موصوف نے موسمیاتی کارروائی میں تیزی لانے کے لیے اختراعی حل اور مسلسل اصلاحات کی فوری ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ عالمی اہداف مشترک ہیں، تاہم ان کے حصول کے طریقۂ کار پر مزید اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے  مزیدکہاکہ’’اب وقت آ گیا ہے کہ تمام فریق لچک کا مظاہرہ کریں‘‘ اور کنونشن اور پیرس معاہدے کے تحت پہلے سے دستیاب ذرائع کو بہتر انداز میں بروئے کار لانے پر زور دیا۔ انہوں نے عبوری ایجنڈے میں دفعہ 9.1 کو شامل کیے جانے کو اس بات پر غور کے لیے ایک اہم باضابطہ موقع قرار دیا کہ مالی وسائل کو ممالک کی ضروریات کے مطابق کس طرح ہم آہنگ کیا جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے مالیات اور عملی نفاذ کے دیگر ذرائع میں اہم خلا کو پُر کرنے اور پائیدار ترقی کے لیے بازار پر مبنی وسائل کو متحرک کرنے کی خاطر دفعہ 6 کے تحت باہمی تعاون پر مبنی طریقۂ کار کے تزویراتی استعمال پر بھی زور دیا۔

جناب یادو نے کہا کہ ہندوستان کو توقع ہے کہ کوپ-31 صلاحیتوں کی تعمیر کے لیے تعاون، تکنیکی اشتراک اور ہدف پر مبنی معاونت کو بڑھانے کی سمت میں ایک واضح راستہ متعین کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کوپ-31 سے قبل ان مسائل کے حل کے لیے کھلے اور شفاف مکالمے کے لیے تیار ہے، تاکہ عالمی برادری، خصوصاً سب سے زیادہ متاثر ہونے والے اور کمزور طبقات کے لیے ’’متوازن، منصفانہ اور تاریخی نتیجہ‘‘ یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے مزید زور دیا کہ کوپ-31 میں جامع، مشاورتی اور اتفاقِ رائے پر مبنی طریقۂ کار کے ذریعے موسمیاتی کثیر ملکی تعاون کو مزید مضبوط کیا جا سکتا ہے۔

ہندوستان کی جانب سے اپنی گفتگو کا اختتام کرتے ہوئے جناب یادو نے کہا، ’’فجی سے روانہ ہوتے وقت ہمارا مقصد واضح ہونا چاہیے: ان مذاکرات کے تعمیری پہلوؤں کو انطالیہ تک لے کر جانا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اتفاقِ رائے کی بنیاد ایسا نتیجہ ہونا چاہیے جو پُرعزم اور متوازن ہو، تخفیفِ اثرات اور موافقت کے اقدامات کو آگے بڑھائے اور ساتھ ہی ترقی پذیر ممالک کو درکار عملی نفاذ کے ذرائع بھی فراہم کرے۔ انہوں نے اس مقصد کے حصول کے لیے صدارت، چیئرز اور تمام فریقین کے ساتھ مل کر کام کرنے کے ہندوستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

آخر میں مرکزی وزیر نے پری کوپ-31 کے دوران کھلے اور بامقصد مذاکرات کو یقینی بنانے کی کوششوں پر مذاکرات کے صدر جناب کرس بوون کا شکریہ ادا کیا اور کوپ-31 کی کامیابی کے لیے کوپ-31 کے صدر کو نیک خواہشات پیش کیں۔ پری کوپ ایک تیاری اجلاس ہوتا ہے جو سالانہ اقوام متحدہ کی موسمیاتی تبدیلی کانفرنس سے چند ہفتے قبل منعقد کیا جاتا ہے۔ اس سال یہ کانفرنس نومبر میں انطالیہ، ترکیہ میں منعقد ہوگی۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image001_20261008115611_8bbc03.jpg

******

 

ش ح۔ م  ح۔رض

4826U-No.

 


(ریلیز آئی ڈی: 2320618) وزیٹر کاؤنٹر : 5
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Gujarati