دیہی ترقیات کی وزارت
پی ایم جی ایس وائی چنتن شیور نے معیاری، بہتر دیکھ بھال اور ٹیکنالوجی سے تقویت یافتہ دیہی رابطے کے لیے مستقبل کا لائحۂ عمل تیار کیا
جناب شیوراج سنگھ چوہان نے پی ایم جی ایس وائی کو مزید مضبوط بنانے اور آخری میل تک دیہی رابطہ یقینی بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کے زیادہ سے زیادہ استعمال پر زور دیا
پی ایم جی ایس وائی چنتن شیور نے موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے میں لچک دار بنیادی ڈھانچے، پائیدار طریقۂ کار اور دیہی سڑکوں کی تیز رفتار فراہمی پر زور دیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
07 OCT 2026 6:54PM by PIB Delhi
دو روزہ پردھان منتری گرام سڑک یوجنا (پی ایم جی ایس وائی) چنتن شیور کا انعقاد 5-6 اکتوبر 2026 کو بھارت منڈپم، نئی دہلی میں کیا گیا۔ اس میں سینئر افسران اور ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے نمائندوں، پالیسی سازوں، تکنیکی ماہرین، علمی شراکت داروں اور دیگر متعلقہ فریقوں نے شرکت کی، تاکہ پی ایم جی ایس وائی کے ذریعے دیہی سڑک رابطے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مستقبل کی حکمت عملی اور اقدامات پر غور و خوض کیا جا سکے۔
گزشتہ 25 برسوں کے دوران پی ایم جی ایس وائی دیہی رابطے کے لیے ایک تبدیلی لانے والے پروگرام کے طور پر ابھری ہے، جس کے مختلف مراحل کے تحت تقریباً 8 لاکھ کلومیٹر دیہی سڑکیں تعمیر کی گئی ہیں۔ پی ایم جی ایس وائی-IV کے تحت 70,125 کروڑ روپے کی ر قم یا مالی تخصیص کےساتھ25,000 اہل غیر مربوط بستیوں کو رابطہ فراہم کرنے کے لیے تقریباً 62,500 کلومیٹر آل ویدر سڑکیں تعمیر کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
_20261007185556_f0cb26.JPG)
مرکزی وزیر دیہی ترقی اور زراعت و کسانوں کی بہبود، جناب شیوراج سنگھ چوہان نے نئی ٹیکنالوجیز کے استعمال اور ہر اہل بستی تک سڑک رابطہ فراہم کرنے پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے چنتن شیور سے خطاب کیا۔ مرکزی وزیر نے پکی سڑک کی اہمیت پر زور دیا، بلکہ جو نہ صرف رابطہ فراہم کرتی ہے بلکہ بہت سے مواقع کے دروازے بھی کھولتی ہے۔ انہوں نے فیلڈ کی تصدیق، نگرانی اور بروقت فیصلہ سازی کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز، جی پی ایس پر مبنی نگرانی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے زیادہ سے زیادہ استعمال پر بھی زور دیا۔ انہوں نے ڈومین ماہرین اور پالیسی سازوں کی رہنمائی سے عمل درآمد کے دوران درپیش چیلنجوں پر قابو پانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
چنتن شیور سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر دیہی ترقی نے جاری کاموں کی بروقت تکمیل، تفصیلی پروجیکٹ رپورٹس (ڈی پی آر) اور ٹینڈروں کی تیز رفتار تیاری، تعمیراتی معیار میں بہتری، احتیاطی دیکھ بھال اور ہر سطح پر مضبوط جواب دہی کی ضرورت پر زور دیا۔

دیہی ترقی کے وزیر مملکت، جناب کملیش پاسوان نے خاص طور پر مشکل اور شمال مشرقی علاقوں میں زیر التوا اور تاخیر کا شکار کاموں کی کڑی نگرانی کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے مقررہ پانچ سالہ دیکھ بھال کی مدت کے دوران ٹھیکیداروں کی مضبوط جواب دہی، پی ایم جی ایس وائی-IV کے تحت حقیقی رابطے کے خلا کا جائزہ لینے اور عمل درآمد میں حائل رکاوٹوں کو بروقت دور کرنے کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کے درمیان بہتر تال میل پر زور دیا۔ انہوں نے ریاستوں پر زور دیا کہ وہ کاموں کو مقررہ وقت پر مکمل کریں اور پی ایم جی ایس وائی کے تحت سڑکوں کی تعمیر میں ماحول دوست ٹیکنالوجیز کو اپنائیں۔
دیہی ترقی کے سکریٹری، جناب روہت کنسل نے شرکاء کو پی ایم جی ایس وائی کے تحت متعارف کرائے گئے نئے اقدامات سے آگاہ کیا، جن کا مقصد موجودہ نظام کو مزید معاونت فراہم کرنا اور شفاف طریقۂ کار کے ذریعے اسے مضبوط بنانا ہے۔ انہوں نے عمل درآمد کرنے والی ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں پر زور دیا کہ وہ ان ٹولز کو تیزی سے اپنائیں اور نئی ٹیکنالوجیز کے زیادہ سے زیادہ استعمال کو یقینی بنائیں۔ اس سے تعمیراتی معیار کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ وزارت کو مسائل کا تجزیہ کرنے اور ان کے حل میں بھی مدد ملے گی۔

سکریٹری، دیہی ترقی نے تمام موسموں میں قابل استعمال سڑکوں کی فراہمی کے لیے مقررہ اہداف کی بروقت تکمیل پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسکیم کے تحت دیکھ بھال اور معیار غیر گفت و شنید کے قابل پہلو ہیں۔ انہوں نے ریاستوں کے تمام سینئر نمائندوں پر زور دیا کہ وہ بہتر عمل درآمد کے لیے مناسب ایکشن پلان کے ساتھ مشن موڈ میں کام کریں۔ انہوں نے اسکیم کے تحت حاصل کیے گئے سنگ میلوں کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور آئندہ سنگ میلوں کے حصول کے لیے مزید تیزی لانے پر زور دیا۔
دیہی ترقی کے سکریٹری نے ملک بھر سے چنتن شیور میں شرکت کرنے والے تمام شرکاء کو گرمجوشی سے مبارکباد پیش کی اور ان کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے اس اہم فورم میں ان کی موجودگی اور فعال شرکت کو سراہا اور اس اہم اسکیم کے مؤثر نفاذ میں ان کے قیمتی کردار کا اعتراف کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام متعلقہ فریقوں کا اجتماعی تجربہ، عزم اور تعاون اسکیم کو مزید مضبوط بنانے اور اس کے مقاصد کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گا۔
مستقبل کے لیے تیار دیہی سڑکوں پر ماہرین کا اجلاس/غور و خوض
- چنتن شیور میں سی آر آر آئی، این ڈی ایم اے اور سی ڈی آر آئی کے ماہرین کے مباحثے بھی منعقد ہوئے، جن میں آفات اور موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے میں لچک دار دیہی سڑکوں، ابھرتی ہوئی تعمیراتی ٹیکنالوجیز، پائیدار مواد اور اے آئی سے چلنے والے ڈیجیٹل نگرانی کے نظام جیسے موضوعات پر غور و خوض کیا گیا۔ بات چیت میں ایسے ثابت شدہ طریقۂ کار اور اختراعی حل تلاش کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی جنہیں ملک بھر میں فیلڈ سطح پر نفاذ کے لیے وسیع پیمانے پر اپنایا جا سکتا ہے۔
- بارڈر روڈز آرگنائزیشن (بی آر او) کے ایک ماہر افسر کے وسیع فیلڈ تجربے سے بھی استفادہ کیا گیا، جنہوں نے ملک کے بعض انتہائی دشوار گزار اور مشکل علاقوں میں سڑکوں کی تعمیر کے حوالے سے قیمتی بصیرت کا اشتراک کیا۔ بی آر او کے تجربات سے حاصل ہونے والے اختراعی طریقۂ کار، تکنیکی حل اور اسباق پی ایم جی ایس وائی کے تحت، بالخصوص پہاڑی، دور دراز اور سرحدی علاقوں میں سڑکوں کی تعمیر کے لیے اہم رہنمائی فراہم کر سکتے ہیں۔
چنتن شیور سے حاصل ہونے والے اہم نکات اور ماہرین کی بحث کے نتائج
- موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے میں لچک دار، پائیدار اور مقامی حالات کے مطابق ڈیزائن، مواد اور تعمیراتی ٹیکنالوجیز کو فروغ دینا۔
- شفاف اور نتائج پر مبنی نگرانی و دیکھ بھال کے لیے او ایم ایم اے ایس، جی پی ایس-وی ٹی ایس، اے آئی، جیو ٹیگ شدہ شواہد اور ڈیٹا اینالیٹکس سے استفادہ کرنا۔
- دیہی ترقی کی وزارت (ایم او آر ڈی)، نیشنل رورل انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ ایجنسی (این آر آئی ڈی اے) اور ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے درمیان جواب دہی اور تال میل کو مضبوط بنانا۔
- جاری کاموں کی بروقت تکمیل اور پسماندہ ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں پیش رفت کو تیز کرنا۔
- پی ایم جی ایس وائی-IV کے تحت ڈی پی آر کی تیزی سے تیاری اور کارروائی، بشمول متعلقہ پلوں کی ڈی پی آر، اور رابطے کے موجودہ خلا کو دور کرنا۔
- ٹینڈر سے قبل بہتر تیاری اور بروقت منظوری کے ذریعے منظوری سے ٹینڈر اور کام تفویض کیے جانے تک کے عمل کو مضبوط بنانا۔
- معیار کی یقین دہانی، احتیاطی دیکھ بھال اور فیلڈ کی تصدیق کو عمل درآمد کے مرکز میں رکھنا۔
چنتن شیور نے معیاری، پائیدار، موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے میں لچک دار اور ٹیکنالوجی سے چلنے والے دیہی سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے حکومت کے عزم کی توثیق کی، جو دیہی برادریوں کو دیرپا سماجی و اقتصادی فوائد فراہم کرے گا۔
دیہی سڑکیں محض نقل و حمل کا بنیادی ڈھانچہ نہیں ہیں، بلکہ یہ کسانوں کو منڈیوں، بچوں کو تعلیمی اداروں، مریضوں کو صحت کی دیکھ بھال کی خدمات اور دیہی خاندانوں کو نئے مواقع سے جوڑنے والی اہم کڑیاں ہیں۔
اس لیے دیہی رابطے کو مضبوط بنانا وکست بھارت کے وژن کی جانب ایک اہم قدم ہے، جس کی بنیاد ایک مضبوط، خوشحال اور بہتر طور پر مربوط دیہی ہندوستان پر ہے۔
**
(ش ح۔اس ک )
UR-4800
(ریلیز آئی ڈی: 2320418)
وزیٹر کاؤنٹر : 5