سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
دھات سے پاک نیا مسام دار مواد سستی اور صاف توانائی کی پیداوار میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
07 OCT 2026 3:39PM by PIB Delhi
سائنس دانوں کی جانب سے تیار کردہ دھات سے پاک جدید کیٹا لسٹ سے اگلی نسل کی صاف توانائی کی ٹیکنالوجی کی لاگت میں نمایاں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔
زنک–ایئر (زیڈ این –ایئر) بیٹریوں جیسے توانائی ذخیرہ کرنے والے آلات میں ہوا سے حاصل ہونے والی آکسیجن ایسے عمل کے ذریعے الیکٹروڈ کے ساتھ تعامل کرتی ہے جسے آکسیجن کی تخفیفی رد عمل(او آر آر) کہا جاتا ہے۔ بیٹری کی کارکردگی کا تعین بڑی حد تک اسی رد عمل کی مؤثریت سے ہوتا ہے۔ زنک–ایئر بیٹریاں اگلی نسل کے توانائی ذخیرہ کرنے کے لیے امید افزا متبادل ہیں، کیونکہ ان میں وافر مقدار میں دستیاب، کفایتی اور نسبتاً محفوظ عنصر زنک استعمال ہوتا ہے، جبکہ آکسیجن براہِ راست ہوا سے حاصل کی جاتی ہے، جس سے فعال کیتھوڈ مادے کو ذخیرہ کرنے کی ضرورت ختم ہو جاتی ہے۔ روایتی لیتھیم–آئن ( ایل آئی- آئی او این) بیٹریوں کے مقابلے میں زنک–ایئر بیٹریاں اصولی لحاظ سے زیادہ نظریاتی توانائی کثافت، کم مادی لاگت، بہتر تحفظ اور زیادہ پائیداری کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ تاہم، انہیں دوبارہ چارج کرنے کی صلاحیت، کارکردگی کادورانیۂ اور آکسیجن کے تخفیفی رد عمل کی رفتار سے متعلق چیلنج اب بھی درپیش ہیں۔
ہائیڈروجن ایندھن کی بیٹریوں کے مقابلے میں زنک–ایئر بیٹریاں توانائی ذخیرہ کرنے کا زیادہ سادہ اور کم حجم والا حل فراہم کر سکتی ہیں، جس کے لیے زیادہ دباؤ پر ہائیڈروجن ذخیرہ کرنے یا وسیع ہائیڈروجن بنیادی ڈھانچے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ تاہم، زنک–ایئر بیٹریاں اور ہائیڈروجن ایندھن کی بیٹریاں دونوں ہی مؤثر آکسیجن برقی کیمیائی عمل پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہیں۔ فی الحال صاف توانائی کی بہت ساری ٹیکنالوجیاں، خصوصاً ہائیڈروجن ایندھن کی بیٹری، مؤثر آکسیجن کے تخفیفی رد عمل(او آر آر) کے لیے پلاٹینم پر انحصار کرتی ہیں، جو دنیا کی نایاب ترین اور مہنگی دھاتوں میں سے ایک ہے۔ اگرچہ پلاٹینم بہترین رد عمل کی کارکردگی فراہم کرتا ہے، لیکن اس کی زیادہ قیمت، نایابی اور محدود دستیابی بڑے پیمانے پر استعمال کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔ اس لیے مؤثر اور پلاٹینم سے پاک آکسیجن کے تخفیفی رد عمل کے کیٹا لسٹ تیار کرنا زنک–ایئر بیٹریوں کی کم لاگت، پائیداری اور بڑے پیمانے پر استعمال کے فوائد کو حقیقت میں تبدیل کرنے اور سستی صاف توانائی کی ٹیکنالوجیوں کو فروغ دینے کے لیے نہایت اہم ہے۔
کولکاتہ کے ایس این بوس نیشنل سینٹر فار بیسک سائنسز (ایس این بی این سی بی ایس)، موہالی کے انسٹی ٹیوٹ آف نینو سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (آئی این ایس ٹی) - یہ دونوں محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی (ڈی ایس ٹی) کے تحت کام کرنے والے ادارے ہیں اور ایس آر ایم یونیورسٹی، امراوتی کے محققین کی ایک ٹیم نے اہم پیش رفت کی ہے،جس میں محققین نے 2,4,6-ٹی آرآئی ایس (4-ایمینوفینل) -1,3,5-ٹرائیزین(ٹی ٹی ٹی) اور 4,8-ڈائی آکسو-ڈیہائیڈور بینزو [1,2-b:4,5-b’]ڈیتھیوفین-2,6-دی کاربالڈیہائیڈ(ڈی ایچ ٹی ڈی) لنکرز سے ایک خصوصی ڈیزائن کا دھات سے پاک نامیاتی مسام دار مادہ تیار کیا ہے، جسے ٹی ٹی ٹی- ڈی ایچ ٹی ڈی کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ زنک-ایئر بیٹریوں میں ہوا کے الیکٹروڈ کے لیے کیٹا لسٹ کے طور پر استعمال کیے جانے پر ٹی ٹی ٹی- ڈی ایچ ٹی ڈی کسی بھی قیمتی دھات کے استعمال کے بغیر تقریباً پلاٹینم جیسی کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتا ہے۔ اس تحقیق کے نتائج جریدے ‘سائنس ایڈوانسز’ میں شائع ہوئے ہیں۔
یہ مادہ مکمل طور پر کاربن، سلفر، نائٹروجن اور ہائیڈروجن جیسے وافر مقدار میں دستیاب عناصر سے تیار کیا گیا ہے۔ اس کی ساخت شہد کے چھتے جیسا انتہائی مسام دار جال نما ہوتی ہے، جو آکسیجن کو مؤثر طریقے سے بجلی میں تبدیل کرتی ہے۔ یہ ایندھن کے خلیے میں بجلی پیدا کرنے کے عمل کا ایک اہم مرحلہ ہے۔ لیبارٹری میں کیے جانے والے تجربات سے پتہ چلا ہے کہ اس نئے کیٹا لسٹ نے تجارتی پلاٹینم کیٹا لسٹ کی کارکردگی کا تقریباً 96 فیصد حاصل کیا، جبکہ یہ غیر معمولی طور پر مستحکم بھی ہے۔ مسلسل 120 گھنٹے تک کام کرنے کے بعد بھی اس مادے کی کارکردگی برقرار رہتی ہے اور اس میں وہ خرابی یا آلودگی پیدا نہیں ہوئی جو اکثر روایتی دھات پر مبنی کیٹا لسٹ کو متاثر کرتی ہے۔
ایس این بی این سی بی ایس کے ڈاکٹر پردیپ پچپھولے، آئی این ایس ٹی کے پروفیسر رامندر سندر دے اور ایس آر ایم یونیورسٹی، امراوتی کے پروفیسر رنجیت تھاپا کی قیادت میں محققین کی ٹیم نے جدید کمپیوٹر تحریک کی مدد سے یہ سمجھنے کی بھی کوشش کی کہ یہ مادہ اتنی بہتر کارکردگی کیوں پیش کرتاہے۔ انہوں نے پایا کہ اس کی احتیاط سے تیار کردہ سالماتی ساخت میں ایسے موزوں مقامات موجود ہیں جہاں آکسیجن کے سالمے آسانی سے جڑ کر کیمیائی تعامل کر سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں تیزی سے اور مؤثر طریقے سے بجلی پیدا ہوتی ہے۔
پلاٹینم کی جگہ سستے نامیاتی مادوں کا استعمال زنک-ایئر بیٹریوں کی لاگت میں نمایاں کمی لا سکتا ہے، جس سے صاف ستھری نقل و حمل، قابلِ حمل بجلی کے نظام اور قابلِ تجدید توانائی کے ذخیرے کو زیادہ سستا اور عام لوگوں کے لیے قابلِ رسائی بنانا ممکن ہوگا۔ یہ پیش رفت پائیدار مادّی تحقیق کے میدان میں ہندوستان کی بڑھتی ہوئی قیادت کو بھی اجاگر کرتی ہے۔

نقشہ1۔ آکسیجن کےمؤثر تخفیفی تعامل اور اعلیٰ کارکردگی والی زنک-ایئر بیٹریوں کے لیے دھات سے پاک کوویلنٹ نامیاتی فریم ورک الیکٹرو کیٹا لسٹ(بشکریہ: چیٹ جی پی ٹی)۔
اختراعی سالماتی ساخت سازی کو جدید کمپیوٹیشنل اسٹڈی کے ساتھ یکجا کرکےمحققین نے ثابت کیا ہے کہ زمین پر وافر مقدار میں دستیاب مادے صاف توانائی کی ٹیکنالوجی کے لیے اہم ترین تعاملات میں سے ایک کے دوران قیمتی دھاتوں جیسی کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔
جب دنیا زیادہ صاف ستھرے اور توانائی کے کفایتی حل تلاش کر رہی ہے، ایسے تحقیقی اکتشافات جیسے ٹی ٹی ٹی- ڈی ایچ ٹی ڈی ہمیں ایسے مستقبل کے مزید قریب لے جا رہے ہیں، جہاں مؤثر، پائیدار اور سستی ایندھن کی بیٹریاں روزمرہ زندگی کا حصہ بن جائیں گی۔
اشاعت کا لنک:
www.science.org/doi/epdf/10.1126/sciadv.aee3092
********
) ش ح ۔ م ش ع۔اش ق)
U.No. 4774
(ریلیز آئی ڈی: 2320199)
وزیٹر کاؤنٹر : 6