عملے، عوامی شکایات اور پنشن کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ہندی کومسلط کرنے کے بجائے مواقع اور شراکت داری پیدا کرکےاس کا فروغ ہونا چاہیے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ


رسمی ہندی آسان، قابل فہم اور روزمرہ استعمال کی زبان سے قریب ہونی چاہیے: مرکزی وزیر

ٹیکنالوجی اور اے آئی سے سرکاری کام کاج میں ہندی ترجمے کا معیارنمایاں طور پر بہتر ہوا ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

وزیر اعظم نریندر مودی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد گزشتہ 10 سے 12 برسوں میں ہندی  زبان کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہوا؛ جنوبی ریاستوں کے افسران بھی وسیع پیمانے پر ہندی  زبان کا استعمال کر رہے ہیں: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

ڈی او پی ٹی ہندی مشاورتی کمیٹی کی تجاویز پر سنجیدگی سے غور کرے گا اور اپنے دائرۂ کار سے باہر کے معاملات متعلقہ وزارتوں کو بھیجے جائیں گے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 07 OCT 2026 3:18PM by PIB Delhi

سائنس و ٹیکنالوجی، ارضیاتی علوم اور وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) نیز عملہ، عوامی شکایات، پنشن، جوہری توانائی اور خلائی امور کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج اس بات پر زور دیا کہ ہندی  زبان کا فروغ اس زبان کے لیے زیادہ سے زیادہ مواقع اور وابستگی پیدا کرنے پر مبنی ہونا چاہیے، نہ کہ اس کے استعمال کو مسلط کیا جائے۔عملہ، عوامی شکایات اور پنشن کی وزارت کی ہندی مشاورتی کمیٹی کے تیسرے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب ہندی زبان کا علم روزگار اور پیشہ ورانہ ترقی کے مواقع پیدا کرے گا تو اس زبان کا زیادہ سے زیادہ استعمال خود بخود فروغ پائے گا۔اس موقع پر عملہ اور تربیت کے محکمہ (ڈی او پی ٹی) کی میگزین‘‘کوشَل پتریکا’’ کا بھی اجرا کیا گیا۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ہندی مشاورتی کمیٹی کے ارکان کی جانب سے موصول ہونے والی تجاویز کو نوٹ کر لیا گیا ہے اور محکمہ ان پر عمل درآمد کے لیے سنجیدہ کوششیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ کے دائرۂ اختیار سے باہر آنے والی تجاویز کو متعلقہ وزارتوں اور محکموں کو بھیجا جائے گا تاکہ ان کا مناسب سطح پر جائزہ لیا جا سکے۔

ہنرسازی کی وزارتِ کی جانب سے منعقد کیے جانے والے مقابلوں میں زبان کے اختیارات سے متعلق ایک تجویز کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ ایسے اختیارات سے چھوٹے قصبوں، شہروں اور دیہی علاقوں کے استفادہ کنندگان کے لیے ان اقدامات تک رسائی آسان بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ زبان کے مختلف اختیارات، جن میں جہاں مناسب ہو، لسانی عناصر بھی شامل ہوں، ایسے اقدامات کو زیادہ قابلِ رسائی بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس تجویز کو متعلقہ وزارت تک پہنچایا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اسکولوں میں ہندی کی تعلیم سے متعلق پروگراموں میں ہندی مشاورتی کمیٹی کے ارکان کو شامل کرنے کی تجویز کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسی تجاویز کو وزارتِ تعلیم کے سامنے اٹھایا جا سکتا ہے، خاص طور پر ان معاملات میں جہاں پروگراموں میں اساتذہ اور تعلیمی ادارے شامل ہوں، کیونکہ محکمہ عملہ خود ایسے پروگراموں کو انجام دینے کی پوزیشن میں نہیں ہو سکتاہے۔

وزیر موصوف نے اس  بات پرزور دے کر کہا کہ اگرچہ محکمہ میں پہلے ہی کافی کام ہندی میں انجام دیا جا رہا ہے، تاہم خاص طور پر غیر ہندی ریاستوں کے ساتھ سرکاری خط و کتابت میں 100 فیصد ہندی کے استعمال پر اصرار کرنا ہمیشہ قابل عمل نہیں ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف لسانی خطوں کے لوگوں اور افسران کی حساسیت اور سہولت کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

سادہ اور قابلِ فہم رسمی ہندی زبان کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ سرکاری مواصلات میں غیر ضروری طور پر مشکل یا حد سے زیادہ رسمی ہندی کا استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری کام کاج میں استعمال ہونے والی زبان ایسی ہونی چاہیے جو روزمرہ کی گفتگو میں آسانی سے سمجھی جا سکے، نہ کہ ایسی محسوس ہو جیسے انگریزی سے لفظ بہ لفظ ترجمہ کیا گیا ہے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد گزشتہ 10 سے 12 برسوں کے دوران ہندی کے استعمال میں نمایاں تبدیلی آئی ہے، جس میں ملک کے جنوبی حصوں سے تعلق رکھنے والے افسران کے ذریعہ ہندی کے بڑھتے ہوئے استعمال بھی شامل ہے۔ انہوں نے سائنسی اور تکنیکی اداروں میں کام کرنے والے افسران اور اہلکاروں کی مثالیں پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایسے علاقوں میں تعینات ہونے کے باوجود جہاں ہندی عام طور پر نہیں بولی جاتی، اپنے سرکاری کام کاج میں ہندی  زبان کا وسیع پیمانے پر استعمال کیا ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے سرکاری کام کاج میں ترجمے کے معیار میں ہونے والی بہتری کو بھی اجاگر کیا۔ ماضی میں غلط اور بعض اوقات گمراہ کن ترجمے کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس طرح کے مسائل میں نمایاں طور پر کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام، نیز بڑے ڈیٹا سیٹس کی دستیابی، اب ترجمے کے معیار کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہو رہی ہے، جس میں تکنیکی اعتبار سے حساس شعبے بھی شامل ہیں۔

تاہم، وزیر موصوف نے خبردار کیا کہ ہندی کے استعمال کو علم اور پیشہ ورانہ مہارت کے وسیع تر تقاضے سے الگ کرکے نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ خصوصاً ایسے خصوصی شعبوں میں جہاں مناسب لٹریچر اور اصطلاحات آسانی سے دستیاب نہ ہوں، صرف ہندی کے استعمال پر اصرار علم کے حصول میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ انہوں نے طبی تعلیم میں ہندی  زبان کومتعارف کرانے کے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جہاں ضروری ہو، اصل تکنیکی اصطلاحات کو برقرار رکھا جا سکتا ہے، جبکہ وضاحت اور تفہیم ہندی میں کی جا سکتی ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ کسی زبان کے استعمال کو محض مسلط کرنے کے بجائے اس زبان سے وابستگی اور اس میں مواقع پیدا کرنا اس کے فروغ کا زیادہ مؤثر ذریعہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیسے جیسے ہندی زبان روزگار اور پیشہ ورانہ مواقع کے لیے زیادہ مفید ہوتی جائے گی، لوگوں کو اسے سیکھنے اور استعمال کرنے کی فطری ترغیب ملے گی۔ انہوں نے ان علاقوں میں بھی ہندی سیکھنے کی بڑھتی ہوئی مانگ کا حوالہ دیا جہاں روایتی طور پر اس کا استعمال کم رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس دلچسپی کا تعلق روزگار کے ابھرتے ہوئے مواقع سے ہے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ ہندی مشاورتی کمیٹی کا محکمہ کو باخبر تجاویز اور رہنمائی فراہم کرنے میں اہم کردار ہے۔ انہوں نے کمیٹی کے ارکان سے اپیل کی کہ وہ تحریری طور پر یا دیگر مناسب ذرائع سے اپنے خیالات اور تجاویز کا سلسلہ جاری رکھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ ان کی رہنمائی کی بنیاد پر بہتری لانے کے لیے مسلسل کام کرتا رہے گا۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ وسیع تر مقصد ہندی زبان کو اس انداز میں فروغ دینا ہونا چاہیے جو سادہ، فطری اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والا ہو، تاکہ اس کے استعمال سے کسی پر اسے مسلط کیے جانے کا احساس پیدا نہ ہو۔ انہوں نے زور دیا کہ حتمی مقصد ہندی کے استعمال اور اس کی رسائی کو وسعت دینا ہے، ساتھ ہی اس بات کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے کہ ہندی ملک کے لسانی تنوع اور روزمرہ مواصلات کی ضروریات سے ہم آہنگ رہے۔

اجلاس میں ہندی مشاورتی کمیٹی کے ارکان کو سرکاری کام کاج میں ہندی کے فروغ اور اس کے وسیع تر استعمال سے متعلق امور پر محکمہ کے سامنے اپنی تجاویز پیش کرنے کا موقع بھی ملا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image001_20261007151932_5ffa64.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image002_20261007151939_4178fa.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image003_20261007151946_e964b7.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image004_20261007151952_f10ed5.jpg

********

) ش ح ۔ م ش ع۔ش ت)

U.No. 4767


(ریلیز آئی ڈی: 2320140) وزیٹر کاؤنٹر : 12
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Gujarati