شماریات اور پروگرام کے نفاذ کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

قومی گھریلو سفری سروے: جولائی 2025 تا جون 2026

گھریلو رات بھر کے سفروں میں سب سے زیادہ حصہ بسوں (55.8فیصد) اور ریلوے (17.7فیصد) کا ہے

کام کرنے والے افراد کی آمد و رفت میں دو پہیہ گاڑیاں (ٹو ویلرز) سب سے آگے ہیں

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 05 OCT 2026 4:00PM by PIB Delhi

اہم جھلکیاں

 

  • این ایس او نے گھریلو سفری امور سے متعلق پہلی بار ملک گیر سروے کرایا، جس کے تحت 14,274 گاؤں اور 10,377 شہری بلاکس کا احاطہ کیا گیا۔ سروے کے دوران 4,92,023 گھرانوں سے معلومات حاصل کی گئیں، جن میں 20,34,371 افراد شامل تھے۔

 

  • مقررہ کام کی جگہ تک آمدورفت کے لیے دو پہیہ گاڑیاں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی سواری ہیں، جنہیں 42.6 فیصد کارکن استعمال کرتے ہیں۔

 

  • گھرانوں کے رات بھر کے سفر کی بنیادی وجوہات سماجی اور مذہبی سرگرمیاں ہیں، جبکہ ایسے سفروں کے لیے بسیں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی سواری ہیں۔

 

  • تقریباً 87.6 فیصد طلبہ اپنے تعلیمی اداروں تک 30 منٹ کے اندر پہنچ جاتے ہیں، جبکہ 83.4 فیصد کارکن اپنی مقررہ کام کی جگہ تک 30 منٹ سے بھی کم وقت میں پہنچتے ہیں۔

 

  • مقررہ کام کی جگہ تک آمدورفت پر فی کارکن اوسط ماہانہ خرچ 785 روپے ہے۔ شہری کارکنوں کا اوسط ماہانہ خرچ 1,044 روپے ہے، جو دیہی کارکنوں کے 612 روپے کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔

شماریات اور پروگرام کے نفاذ کی وزارت (ایم او ایس پی آئی) کے تحت قومی شماریاتی دفتر (این ایس او) نے پہلی بار کرائے گئے قومی گھریلو سفری سروے (این ایچ ٹی ایس) کے اہم اشاریوں اور نتائج پر مشتمل فیکٹ شیٹ جاری کی ہے۔ یہ سروے جولائی 2025 سے جون 2026 کے دوران کرایا گیا۔ سروے کے مقصد کے لیے ایک سفر سے مراد ایک کلومیٹر سے زیادہ فاصلے کا طے کیا جانا ہے۔

 

سروے کے بنیادی مقاصد

 

اس سروے کا بنیادی مقصد ملک کے اندر سفر کے رجحانات اور طریقۂ کار سے متعلق مستند اور اعداد و شمار پر مبنی معلومات فراہم کرنا ہے، تاکہ علاقائی ٹرانسپورٹ کی منصوبہ بندی، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی میں مدد مل سکے۔ سروے میں ملکی سفری امور کے اہم پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے، جن میں شامل ہیں:

سفر کا مقصد: روزگار، تعلیم، سماجی مصروفیات، ثقافتی اور تفریحی سرگرمیاں، سیاحت، گھریلو کام کاج، دیکھ بھال اور دیگر مقاصد۔

 آمدورفت کا ذریعہ: مختلف آبادیاتی گروہوں کی جانب سے سفر کے لیے استعمال کیے جانے والے ذرائعٔ نقل و حمل۔

سفر کا دورانیہ اور فاصلہ: سفر کے دوران صرف ہونے والا اوسط وقت اور طے کیا جانے والا فاصلہ۔

ریلوے کی وزارت کی مخصوص اعداد و شمار سے متعلق ضروریات پوری کرنے کے علاوہ، اس سروے سے یہ جاننے میں بھی مدد ملے گی کہ لوگ کس طرح، کب اور کیوں سفر کرتے ہیں۔ سفری رجحانات اور عوامی نقل و حمل کے استعمال سے متعلق جمع کی گئی معلومات موجودہ نقل و حمل کے نظام میں موجود خامیوں کی نشاندہی کرنے، رسائی کا جائزہ لینے، سفری راستوں کو بہتر بنانے اور خدمات کے دورانیے اور نظام الاوقات کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوں گی۔ سروے کے نتائج علاقائی نقل و حمل کی منصوبہ بندی، بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری اور باخبر ٹرانسپورٹ پالیسیوں کی تشکیل کے لیے ایک اہم شواہد کی بنیاد بھی فراہم کریں گے۔

 

اہم نتائج

این ایچ ٹی ایس میں روزمرہ آمدورفت سے متعلق چار اہم پہلوؤں، یعنی (i) نقل و حرکت، (ii) سفر کا دورانیہ۰مدت ) اور مصروف اوقات، (iii) آمدورفت پر ہونے والے اخراجات، اور (iv) رات بھر کے اور غیر کام سے متعلق سفروں کے بارے میں حاصل ہونے والے اہم نتائج کا خلاصہ ذیل میں پیش کیا گیا ہے:

طلبہ کی نقل و حرکت

 

  • 66.4 فیصد طلبہ روزانہ ایک کلومیٹر سے زیادہ سفر کرتے ہیں: 6 سال اور اس سے زیادہ عمر کے تقریباً دو تہائی طلبہ اپنے بنیادی تعلیمی ادارے تک پہنچنے کے لیے روزانہ کم از کم ایک کلومیٹر کا سفر کرتے ہیں (دیہی علاقوں میں 65.6 فیصد اور شہری علاقوں میں 68.1 فیصد)۔ ایک کلومیٹر سے کم فاصلے کے سفر کو ریکارڈ نہیں کیا گیا۔ شمال مشرقی ریاستوں، بشمول آسام اور اس سے ملحقہ ریاستوں میں سفر کا وقت کافی کم، یعنی 15 سے 19 منٹ ہے۔

 

  • 15 سے 29 سال کی عمر کے نوجوانوں میں 77.0 فیصد کی سب سے زیادہ نقل و حرکت: 15 سے 29 سال کی عمر کے طلبہ میں تعلیمی اداروں تک روزانہ آمدورفت کے لیے باقاعدگی سے سفر کرنے والوں کی شرح سب سے زیادہ رہی، جو دیہی بھارت میں 79.1 فیصد اور شہری بھارت میں 73.3 فیصد ہے۔

 

  • اسکول جانے کے لیے سرفہرست تین ذرائع: پیدل (37.0 فیصد)، بسیں (29.5 فیصد) اور سائیکلیں (15.8 فیصد) ملک بھر میں طلبہ کی آمدورفت کے بیشتر حصے کا احاطہ کرتی ہیں۔

 

  • طلبہ کی آمدورفت میں آٹو رکشا اور دو پہیہ گاڑیوں کا استعمال: مجموعی طور پر 10.5 فیصد طلبہ آمدورفت کے لیے آٹو رکشا استعمال کرتے ہیں، جو شہری علاقوں میں بڑھ کر 14.4 فیصد ہو جاتا ہے، جبکہ دو پہیہ گاڑیوں کا استعمال 6.7 فیصد طلبہ کرتے ہیں، جس کی شرح شہری علاقوں میں 11.5 فیصد ہے۔

 

کام کرنے والے افراد کی آمد ورفت(ورک فورس موبلٹی)

 

  • 57.6 فیصد کارکن کام کی جگہ تک ایک کلومیٹر سے زیادہ سفر کرتے ہیں: 15 سال اور اس سے زیادہ عمر کے نصف سے زائد کارکن مقررہ یا غیر مقررہ کام کی جگہوں تک روزانہ ایک کلومیٹر سے زیادہ کا سفر کرتے ہیں (دیہی علاقوں میں 54.5 فیصد اور شہری علاقوں میں 64.1 فیصد)۔

 

  • راجستھان، گجرات اور مدھیہ پردیش جیسی ریاستوں میں سفر کا اوسط وقت تقریباً 20 سے 23 منٹ ہے، جبکہ جنوبی بھارت کے بعض حصوں میں سفر کا وقت اس سے زیادہ ہے۔

 

  • کام کرنے والے افراد کی آمدورفت میں صنفی فرق: ملک بھر میں 61.9 فیصد مرد کارکن روزانہ کام کے لیے ایک کلومیٹر سے زیادہ کا سفر کرتے ہیں، جبکہ خواتین کارکنوں میں یہ شرح 41.9 فیصد ہے۔

 

  • 42.6 فیصد کارکن دو پہیہ گاڑیوں سے سفر کرتے ہیں: دو پہیہ گاڑیاں ملک بھر میں کارکنوں کی آمدورفت کا سب سے زیادہ استعمال ہونے والا ذریعہ ہیں (دیہی علاقوں میں 37.1 فیصد اور شہری علاقوں میں 52.3 فیصد)۔

 

  • شہری عوامی نقل و حمل کے نمایاں مراکز: ملک بھر میں شہری کارکنوں کی آمدورفت میں مونو ریل، میٹرو، مضافاتی ریلوے اور ٹرام کا مجموعی حصہ 5.0 فیصد ہے، تاہم مہاراشٹر (20.7 فیصد)، مغربی بنگال (16.5 فیصد) اور دہلی (14.4 فیصد) میں ان ذرائع کا استعمال نمایاں طور پر زیادہ ہے۔

 

آمدورفت کا دورانیہ اور مصروف اوقات

 

  • اسکول پہنچنے میں 23 منٹ، کام کی جگہ تک پہنچنے میں 25 منٹ: سفر کے آغاز کی جگہ سے تعلیمی ادارے تک طلبہ کے سفر کا اوسط وقت 23 منٹ ہے (دیہی علاقوں میں 23 منٹ اور شہری علاقوں میں 22 منٹ)، جبکہ مقررہ کام کی جگہ تک سفر کرنے والے کارکنوں کے لیے یہ اوسط وقت 25 منٹ ہے (دیہی علاقوں میں 23 منٹ اور شہری علاقوں میں 27 منٹ)۔

 

  • 87.6 فیصد طلبہ 30 منٹ کے اندر پہنچ جاتے ہیں: تقریباً 10 میں سے 9 طلبہ 30 منٹ یا اس سے کم وقت میں اپنے تعلیمی اداروں تک پہنچ جاتے ہیں (دیہی علاقوں میں 86.6 فیصد اور شہری علاقوں میں 89.6 فیصد)۔

 

image001_20261005163003_7524c2.png

  • 83.4 فیصد کارکن 30 منٹ سے کم وقت میں کام کی جگہ پہنچ جاتے ہیں: پانچ میں سے چار سے زیادہ کارکن آدھے گھنٹے کے اندر اپنی مقررہ کام کی جگہ تک پہنچ جاتے ہیں (دیہی علاقوں میں 86.1 فیصد اور شہری علاقوں میں 79.3 فیصد)، جبکہ 13.7 فیصد کارکنوں کو 30 سے 60 منٹ لگتے ہیں۔

image002_20261005163013_2e22ea.png

 

  • 82.0 فیصد طلبہ صبح 7 بجے سے 10 بجے کے درمیان روانہ ہوتے ہیں: اسکول جانے کے لیے طلبہ کی روانگی کا سب سے زیادہ رجحان صبح 8 بجے سے 9 بجے کے درمیان رہا (35.7 فیصد)، اس کے بعد صبح 7 بجے سے 8 بجے (26.6 فیصد) اور صبح 9 بجے سے 10 بجے (19.7 فیصد) کے درمیان رہا۔

 

image003_20261005163022_05e725.png

  • 94.9 فیصد کارکن صبح 10 بجے سے پہلے روانہ ہوتے ہیں: مقررہ کام کی جگہوں کے لیے صبح کے مصروف اوقات میں سب سے زیادہ کارکن (کام کرنے والے)صبح 8 بجے سے 10 بجے کے درمیان روانہ ہوتے ہیں (56.5 فیصد)، جبکہ 33.7 فیصد کارکن صبح 6 بجے سے 8 بجے کے درمیان روانہ ہوتے ہیں اور 4.7 فیصد صبح 6 بجے سے پہلے روانہ ہو جاتے ہیں۔

image004_20261005163032_c56495.png

 

ماہانہ آمدورفت کے اخراجات

 

  • طلبہ کی آمدورفت پر اوسط خرچ 443 روپے ماہانہ: شہری طلبہ تعلیمی اداروں تک آنے جانے کے لیے اوسطاً 617 روپے ماہانہ خرچ کرتے ہیں، جبکہ دیہی بھارت میں یہ خرچ 361 روپے ماہانہ ہے۔

 

  • کام کرنے والوں کی آمدورفت پر اوسط خرچ 785 روپے ماہانہ: مقررہ کام کی جگہ تک آمدورفت کرنے والے کارکن شہری علاقوں میں 1,044 روپے ماہانہ اور دیہی علاقوں میں 612 روپے ماہانہ خرچ کرتے ہیں۔

 

  • کام کرنے والوں کے سفری اخراجات میں صنفی فرق: مقررہ کام کی جگہ تک آمدورفت پر مرد کارکن اوسطاً 835 روپے ماہانہ خرچ کرتے ہیں، جبکہ خواتین کارکنوں کا اوسط ماہانہ خرچ 533 روپے ہے۔

 

image005_20261005163045_cbb0ee.png

رات بھر کے سفر اور غیر ملازمتی سفر

 

  • 73.5 فیصد رات بھر کے سفر بس اور ریل پر منحصر: گھریلو سطح پر رات بھر کے سفر کے لیے بسیں (55.8 فیصد) اور بین شہروں کی ریل گاڑیاں (17.7 فیصد) نقل و حمل کے بنیادی ذرائع ہیں، اس کے بعد کاریں (15.1 فیصد) اور دو پہیہ گاڑیاں (8.8 فیصد) ہیں۔

 

  • 22.7 فیصد شہری گھرانے رات بھر کے سفر کے لیے ریل کو ترجیح دیتے ہیں: رات بھر کے سفر میں ریلوے کا استعمال دیہی گھرانوں میں تقریباً 14.0 فیصد، جبکہ شہری گھرانوں میں تقریباً 22.7 فیصد ہے۔

 

  • رات بھر کے 70.2 فیصد سفر سماجی اور مذہبی مقاصد کے لیے: میل جول، رابطے اور مذہبی سرگرمیاں رات بھر کیے جانے والے گھریلو سفروں کی ایک بڑی اکثریت کا سبب بنتی ہیں (دیہی علاقوں میں 69.7 فیصد اور شہری علاقوں میں 70.9 فیصد)۔

 

  • رات بھر کے سفر میں سیاحت اور صحت: ثقافت، تفریح، کھیل اور سیاحت سے متعلق سفر رات بھر کے گھریلو سفروں کا 7.4 فیصد ہیں (شہری علاقوں میں 9.3 فیصد)، جبکہ ذاتی نگہداشت اور دیکھ بھال سے متعلق سفر کا حصہ 6.5 فیصد ہے (دیہی علاقوں میں 7.6 فیصد)۔

 

  • دیگر روزمرہ کے سفر میں دو پہیہ گاڑیاں، پیدل چلنا اور آٹو رکشا سب سے آگے: تعلیم اور روزگار کے علاوہ دن کے دوران کیے جانے والے دیگر سفروں کے لیے شہری بنیادی طور پر دو پہیہ گاڑیوں (32.2 فیصد)، پیدل چلنے (24.9 فیصد)، آٹو رکشا (18.9 فیصد)، سائیکلوں (12.6 فیصد) اور بسوں (8.5 فیصد) کا استعمال کرتے ہیں۔

 

دیہی اور شہری دونوں شعبوں کے لیے ملک گیر سطح پر متعلقہ اشاریوں کے تخمینے منسلک ضمیمے میں دیے گئے ہیں۔

 

ضمیمہ

سروے کی اہم خصوصیات اور تصوراتی خاکہ

اس سروے کے تحت بھارتی شہریوں کی جانب سے ایک کلومیٹر یا اس سے زیادہ فاصلے کے باقاعدہ طور پر کیے جانے والے سفروں سے متعلق اعداد و شمار جمع کیے گئے۔ اس کا مقصد ان کے زیرِ استعمال ذرائعٔ نقل و حمل، سفر کے مقاصد، سفر کی تعدد، باقاعدہ سفروں پر ہونے والے اوسط اخراجات اور دیگر متعلقہ امور سے متعلق معلومات جمع کرنا تھا۔ بھارت کی تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے دیہی اور شہری دونوں علاقوں کا احاطہ کرنے والا یہ ملک گیر سروے، ملک میں گھرانوں کے سفری رویوں کی خصوصیات کو سمجھنے کے لیے ایک جامع بنیادی حوالہ فراہم کرے گا۔

اس پہلی ملک گیر سروے میں درج ذیل نئے تصورات متعارف کرائے گئے ہیں۔

 

1. ‘سفر’: این  ایچ ٹی  ایس  میں سفر سے مراد صرف ایسے سفر ہیں جن میں ایک کلومیٹر یا اس سے زیادہ فاصلہ طے کیا گیا ہو۔ ایک کلومیٹر سے کم فاصلے کے کسی بھی سفر کو این  ایچ ٹی  ایس  میں سفر نہیں سمجھا گیا۔

 

2. ‘سفر کا بنیادی ذریعہ’: اس سے مراد سفر کے دوران سب سے زیادہ فاصلہ طے کرنے کے لیے استعمال کیا جانے والا کوئی بھی ذریعۂ نقل و حمل ہے۔ اگر کوئی سفر نقل و حمل کے صرف ایک ذریعے سے کیا گیا ہو تو وہی بلا شبہ سفر کا بنیادی ذریعہ تصور کیا جائے گا۔

 

3. ‘سفری دن’: گھرانوں کے سفری سروے کے تمام مقاصد کے لیے سفری دن سے مراد ایک کیلنڈر دن کی صبح 3:00 بجے سے اگلے کیلنڈر دن کی صبح 2:59 بجے تک کا دورانیہ ہے۔

 

4. سفری دن کے اندر کے سفر: ایسے سفر جو کسی سفری دن کے دوران کسی بھی وقت اختتام پذیر ہوں اور جن کے باعث گھرانے کا کوئی رکن یا ارکان 24 گھنٹے سے زیادہ عرصے تک اپنی رہائش گاہ سے دور نہ رہیں، انہیں ’سفری دن کے اندر کے سفر‘ تصور کیا گیا ہے۔ ایسے سفر زیادہ سے زیادہ مسلسل دو سفری دنوں پر محیط ہو سکتے ہیں۔

 

5. رات بھر کا سفر: ایسا سفر جس کے باعث گھرانے کا کوئی رکن اپنی رہائش گاہ سے 24 گھنٹے سے زیادہ عرصے تک دور رہے، ‘رات بھر کا سفر’ تصور کیا جائے گا۔ اس میں سفر کا وقت اور سفر کے دوران قیام کا دورانیہ، اگر کوئی ہو، دونوں شامل ہوں گے۔ تاہم، 50 کلومیٹر سے کم فاصلے والے ایسے سفروں کو، خواہ ان کے باعث گھرانے کا کوئی رکن 24 گھنٹے سے زیادہ عرصے تک اپنی رہائش گاہ سے دور رہا ہو، رات بھر کا سفر نہیں سمجھا گیا۔

سفری خصوصیات سے متعلق اشاریوں کے تخمینے

جدول (1): 6 سال اور اس سے زیادہ عمر کے طلبہ(سی ڈبلیو ایس کے مطابق) کا فیصد، جو بنیادی کورس سے متعلق تعلیمی ادارے میں حاضری کے لیے سفری دن کے اندر سفر کرتے ہیں

شعبہ

عمر کے گروپ کے لحاظ سے سفری دن کے اندر سفر کرنے والے طلبہ کا فیصد

مرد

عورت

شخص

6-14 years

15-29 years

6 years & above

6-14 years

15-29 years

6 years & above

6-14 years

15-29 years

6 years & above

دیہی

60.4

79.3

66.8

57.4

78.8

64.2

59.0

79.1

65.6

شہری

65.3

73.2

68.6

63.4

73.5

67.5

64.4

73.3

68.1

دیہی و شہری

61.8

77.2

67.3

59.1

76.8

65.2

60.6

77.0

66.4

جدول (2): 6 سال اور اس سے زیادہ عمر کے ان طلبہ کا فیصد، جو بنیادی کورس سے متعلق تعلیمی ادارے میں حاضری کے لیے سفری دن کے اندر سفر کرتے ہیں، اور ان کے ذریعہ استعمال کیے جانے والے مختلف بنیادی ذرائعٔ نقل و حمل

سفر کا بنیادی ذریعہ

تعلیمی ادارے تک سفری دن کے اندر سفر کی اطلاع دینے والے طلبہ کا عمر کے گروپ کے لحاظ سے فیصد

6-14 years

15-29 years

6 years and above

Walk

47.3

22.2

37.0

Bicycle

11.9

21.4

15.8

Cycle rickshaw/pull rickshaw

0.2

0.2

0.2

Two-wheeler

5.1

9.0

6.7

car

0.5

0.9

0.7

Auto-rickshaw

7.7

14.6

10.5

Bus

28.4

31.0

29.5

Train/Monorail/tram

0.1

1.7

0.8

Rail

0.0

0.3

0.1

Water

0.0

0.0

0.0

Others

0.1

0.0

0.1

 

جدول (3): مختلف ریاستوں/مرکز کے زیرانتظام علاقوں میں 15 سال اور اس سے زیادہ عمر کے کارکنوں(کام کرنےوالے افراد)(سی ڈبلیو ایس کے مطابق) کا فیصد، جو مقررہ یا غیر مقررہ کام کی جگہ تک سفری دن کے اندر سفر کرتے ہیں

شعبہ

جنس

مقررہ/غیر مقررہ کام کی جگہ تک سفری دن کے اندر سفر کرنے والے کارکنوں کا عمر کے گروپ کے لحاظ سے فیصد

15-29 years

15 – 59 years

15 years & above

Rural

Male

57.7

61.0

59.6

Rural

Female

34.3

38.0

37.7

Rural

Person

53.4

55.6

54.5

Urban

Male

66.7

67.7

66.6

Urban

Female

60.3

53.9

52.9

Urban

Person

65.5

65.1

64.1

Rural+Urban

Male

60.7

63.3

61.9

Rural+Urban

Female

43.5

42.5

41.9

Rural+Urban

Person

57.5

58.7

57.6

 

جدول (4): 15 سال اور اس سے زیادہ عمر کے ان کارکنوں کا فیصد، جو مقررہ/غیر مقررہ کام کی جگہ تک سفری دن کے اندر سفر کرتے ہیں اور مختلف بنیادی ذرائعٔ نقل و حمل استعمال کرتے ہیں

نقل و حمل کا بنیادی ذریعہ

مقررہ/غیر مقررہ کام کی جگہ تک سفری دن کے اندر سفر کی اطلاع دینے والے کارکنوں کا فیصد

Rural

Urban

Rural+Urban

Walk

36.6

13.5

28.3

Bicycle

13.4

5.8

10.7

Cycle rickshaw/ pull rickshaw

0.2

0.2

0.2

Two-wheeler

37.1

52.3

42.6

Car

1.5

5.7

3.0

Auto-rickshaw

5.0

8.8

6.4

Bus

5.3

9.2

6.7

Train/Monorail/tram

0.4

5.0

2.1

Rail

0.2

0.3

0.2

Water

0.0

0.0

0.0

Others

1.4

0.3

1.0

 

جدول (5): 6 سال اور اس سے زیادہ عمر کے ان افراد کا فیصد، جنہوں نے بنیادی کورس سے متعلق تعلیمی ادارے میں حاضری اور روزگار کے علاوہ مختلف مقاصد کے لیے سفری دن کے اندر سفر کیا، ان افراد میں سے جنہوں نے ایسے سفر کی اطلاع دی

سفر کا مقصد

سفر کے مقصد کے لحاظ سے سفری دن کے اندر سفر کرنے والے افراد کا فیصد

rural

urban

rural+urban

seeking employment/ setting up business

0.5

0.4

0.5

Own use production of goods

2.0

1.5

1.8

Unpaid domestic services for household members

51.5

60.1

54.1

Unpaid caregiving services for household members

2.2

2.2

2.2

unpaid volunteering, training, work

0.2

0.2

0.2

Learning

1.0

1.3

1.1

Socializing, communication and religious activities

6.4

7.5

6.8

Culture, leisure, sports practice, tourism

0.7

1.4

0.9

Self-care and maintenance

4.4

5.0

4.6

return home from out of home activity

99.3

99.6

99.4

نوٹ: مذکورہ بالا جدولوں میں ایک یا ایک سے زیادہ اشاریوں کے بعض تخمینوں کو نہایت کم اقدار کو قریب ترین عدد تک راؤنڈ آف کیے جانے کے باعث ‘صفر’ کے طور پر درج کیا گیا ہے۔

ایم او ایس پی آئی  کی اشاعتوں/رپورٹس تک رسائی کے لیے کیو آر کوڈ اسکین کریں۔

image006_20261005162946_911640.png

پی ڈی ایف فائل کے لیے یہاں کلک کریں ۔

 

********

) ش ح ۔ ش آ۔ش ہ ب)

U.No.4681

 

 


(ریلیز آئی ڈی: 2319480) وزیٹر کاؤنٹر : 4
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Tamil