عملے، عوامی شکایات اور پنشن کی وزارت
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے نئی دہلی کے سردار پٹیل بھون میں واقع ڈی اے آر پی جی کے دفتر میں خصوصی مہم 6 کی پیش رفت کا جائزہ لیا
خصوصی مہم 6 صفائی ستھرائی سے آگے بڑھ کر کارکردگی، پائیداری اور ’ویسٹ ٹو ویلتھ‘ کے ویژن کو فروغ دے رہی ہے: وزیر
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
05 OCT 2026 4:52PM by PIB Delhi
مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) برائے سائنس و ٹیکنالوجی، ارضیاتی علوم، وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او)، عملہ، عوامی شکایات، پنشن، جوہری توانائی اور خلائی امور، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے 5 اکتوبر 2026 کو نئی دہلی کے سردار پٹیل بھون میں واقع انتظامی اصلاحات اور عوامی شکایات کے محکمے (ڈی اے آر پی جی) کے دفتر کا دورہ کیا اور خصوصی مہم 6 کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ اس مہم کا مقصد سرکاری دفاتر میں سووچھتا کو ادارہ جاتی شکل دینا، زیر التوا معاملات کو کم کرنا اور وسائل کے مؤثر استعمال کو فروغ دینا ہے۔
وزیر موصوف نے ڈی اے آر پی جی کی سکریٹری محترمہ نویدیتا شکلا ورما، ایڈیشنل سکریٹری جناب پنیت یادو، جوائنٹ سکریٹری جناب اویناش کمار مشرا اور دیگر سینئر افسران کے ساتھ مہم کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے صاف ستھرے بھارت (سووچھ بھارت)کے ویژن سے ہم آہنگ یہ مہم سووچھتا اور بہتر حکمرانی کے تئیں حکومت کے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہے۔
خصوصی مہم 6 کے ساتھ اس مہم کے پانچ سال مکمل ہو گئے ہیں۔ جو سلسلہ ایک مہم کے طور پر شروع ہوا تھا، وہ اب گاندھی جینتی سے سردار پٹیل جینتی تک ہر سال جاری رہنے والی ایک مستقل کوشش کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران اس مہم کا دائرہ صرف صفائی ستھرائی تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس میں فائلوں کے تصفیے، ریکارڈ کے انتظام، جگہ کے بہتر استعمال، ای-ویسٹ کو ٹھکانے لگانے اور سرکاری وسائل کے مفید استعمال کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دورے کے دوران ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے افسران کو خصوصی مہم 6 کے تحت کاغذی ریکارڈ سے ای-فائلوں کی جانب منتقلی کے عمل میں تیزی لانے کی ہدایت دی۔ کارکردگی، شفافیت اور آسان رسائی پر زور دیتے ہوئے انہوں نے بہتر حکمرانی اور دفاتر کے زیادہ مؤثر طریقے سے کام کرنے کے لیے ریکارڈ کو تیزی سے ڈیجیٹل شکل دینے اور ریکارڈ کے انتظام کے طریقہ کار کو بہتر بنانے پر زور دیا۔
مہم کا ایک اہم مقصد غیر استعمال شدہ سامان اور ناکارہ اشیا سے گھری ہوئی جگہوں کی نشاندہی کرکے انہیں دوبارہ قابلِ استعمال بنانا ہے۔ ڈی اے آر پی جی میں بھی ایک ایسی جگہ، جو طویل عرصے سے غیر استعمال شدہ تھی اور جہاں بے کار سامان جمع تھا، کو مکمل طور پر صاف کرکے ملازمین کی سہولت اور فلاح و بہبود کے لیے ایک کشادہ مشترکہ کمرے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اس طرح کے اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ یہ مہم کم استعمال ہونے والی جگہوں کو مفید اور ملازمین کے لیے سہولت بخش مقامات میں تبدیل کرنے میں کس طرح مدد کر رہی ہے۔
مہم میں کباڑ، بالخصوص الیکٹرانک کچرے کو سائنسی طریقے سے ٹھکانے لگانے اور ری سائیکل کرنے پر بھی خاص زور دیا جا رہا ہے۔ ایسے کچرے کی بڑی مقدار کی نشاندہی کرکے اسے ری سائیکلنگ کے لیے بھیجا جا رہا ہے، جس سے ری سائیکل کئے جانے کے قابل مواد سے آمدنی بھی حاصل ہو رہی ہے اور اسے ماحول دوست طریقے سے ٹھکانے لگانے کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔
ای-ویسٹ اور دیگر کباڑ کی ری سائیکلنگ حکومت کے ’ویسٹ ٹو ویلتھ‘ کے وسیع تر ویژن میں بھی معاون ہے اور ری سائیکلنگ اور سرکلر اکانومی کے اصولوں کو فروغ دیتی ہے، جس کے تحت وسائل کو ضائع ہونے والے کچرے کے طور پر جمع ہونے دینے کے بجائے دوبارہ حاصل کرکے پیداواری استعمال میں لایا جاتا ہے۔
مہم کے اہم ترجیحی شعبوں کی نگرانی ایک واحد ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے کی جا رہی ہے، جن میں ای-ویسٹ کو سائنسی طریقے سے ٹھکانے لگانا، زیرِ التوا معاملات، مثلاً ارکانِ پارلیمنٹ کے حوالہ جات، پارلیمانی یقین دہانیوں، وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او)اور آئی ایم سی کے حوالہ جات اور ریاستی حکومتوں کے حوالہ جات کا بروقت تصفیہ، ریکارڈ کے بہتر انتظام، فائلوں کے تصفیے اور دفاتر میں صفائی ستھرائی کی مہم کے ساتھ ساتھ جگہ کے بہتر استعمال کے اقدامات شامل ہیں، تاکہ کارکردگی اور پائیداری کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے خصوصی مہم کے انعقاد کے لیے نوڈل محکمہ ڈی اے آر پی جی کی جانب سے 2021 سے اس مہم کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ خصوصی مہم 6 محض صفائی ستھرائی تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ سرکاری دفاتر میں حکمرانی کو مضبوط بنانے، انتظامی کارکردگی بہتر کرنے اور پائیدار طریقۂ کار کو فروغ دینے کے لیے ایک جامع کوشش کے طور پر ابھری ہے۔
2 اکتوبر 2026 سے شروع کی گئی سرگرمیوں کا جائزہ لیتے ہوئے وزیر موصوف نے مہاتما گاندھی کے صفائی ستھرائی کے ویژن کی دیرپا اہمیت اور اسے انتظامی اصلاحات کے ساتھ مربوط کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ صفائی ستھرائی اور کارکردگی کو روزمرہ حکمرانی اور عوامی خدمت کا مستقل معمول بنانا ضروری ہے۔
انہوں نے مزید زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ مہم شہریوں اور اداروں کی اجتماعی ذمہ داری کی عکاس ہے۔ ملک کی تعمیر کے وسیع تر مشن کے تحت صفائی ستھرائی، کارکردگی اور پائیدار طریقۂ کار کو فروغ دینے میں ہر فرد، ہر دفتر اور ہر برادری کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
خصوصی مہم 6 کے ذریعے سرکاری دفاتر نہ صرف زیادہ صاف ستھرے اور منظم ہو رہے ہیں بلکہ کارکردگی بہتر بنانے، قیمتی جگہ کو دوبارہ قابلِ استعمال بنانے، زیرِ التوا معاملات کو کم کرنے، ری سائیکلنگ کو فروغ دینے اور جہاں تک ممکن ہو کچرے کو مفید استعمال میں لانے کے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔ یہ مہم سرکاری اداروں کو بہتر انتظامی کارکردگی، پائیدار طریقۂ کار اور زیادہ صاف ستھرے و جواب دہ حکمرانی کے نظام کی جانب مسلسل آگے بڑھا رہی ہے۔



***
ش ح۔م م ۔ ع د
U-NO- 465
(ریلیز آئی ڈی: 2319255)
وزیٹر کاؤنٹر : 8