کوئلے کی وزارت
کوئلے کی دستیابی سے توانائی کے تحفظ تک:سی آئی ایل نے بجلی کے شعبے کو کوئلے کی فراہمی اور تقسیم کا نظام مزید مضبوط کیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
05 OCT 2026 2:15PM by PIB Delhi
ہندوستان کے توانائی کے شعبے کے لیے کوئلہ ملک کی توانائی کے تحفظ کے نظام کا ایک بنیادی جزو ہے۔ جو کان کنی، کوئلے کی نکاسی، بجلی کی پیداوار اور بجلی کی دستیابی کو ایک دوسرے سے مربوط کرتا ہے۔ اس پورے نظام میں کول انڈیا لمیٹڈ(سی آئی ایل) کا کردار انتہائی اہم ہے۔ کیونکہ کمپنی اپنے تقریباً 80 فیصد کوئلے کی فراہمی بجلی کے شعبے کو کرتی ہے۔
کول انڈیا لمیٹڈ کی حالیہ کارکردگی سے اس سپلائی چین کے مزید مستحکم ہونے کی واضح عکاسی ہوتی ہے۔ مالی سال27-2026میں گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے کوئلے کی اٹھان اور بجلی کے شعبے کو کوئلے کی فراہمی میں نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس بہتری میں کوئلے کی بہترطریقے سے بر آمدگی، پیداوار اور ترسیل کے درمیان بہتر تال میل اور کان کے دہانے پر پہلے سے جمع کوئلے کے ذخیرے کے مؤثر استعمال نے اہم کردار ادا کیا ہے۔
اعداد و شمار اس پیش رفت کی پوری کہانی بیان کرتے ہیں۔
فراہمی کی رفتار میں مزید تیزی
مالی سال27-2026 کے اولین چھ ماہ کے دوران کول انڈیا لمیٹڈ(سی آئی ایل) کی مجموعی کوئلہ اٹھان 384.2 ملین ٹن (ایم ٹی) تک پہنچ گئی، جبکہ مالی سال26-2025 کی اسی مدت میں یہ 357.0 ملین ٹن تھی۔ اس طرح 27.2 ملین ٹن، یعنی 7.6 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
دوسری سہ ماہی میں یہ رفتار مزید تیز ہوئی۔ سی آئی ایل کی دوسری سہ ماہی میں کوئلے کی اٹھان 186.04 ملین ٹن رہی، جو مالی سال 26-2025کی دوسری سہ ماہی میں 166.04 ملین ٹن تھی۔ اس طرح 12.05 فیصد کی شرح نمو درج کی گئی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ بہتری کسی ایک ماہ تک محدود نہیں رہی بلکہ سہ ماہی کے دوران بتدریج مزید نمایاں ہوتی گئی۔
ستمبر میں یہ رجحان مزید مضبوط انداز میں سامنے آیا۔ اس ماہ سی آئی ایل کی مجموعی کوئلہ فراہمی بڑھ کر 61.20 ملین ٹن ہوگئی، جبکہ ستمبر 2025 میں یہ 54.40 ملین ٹن تھی۔ اس طرح 12.5 فیصد کی شرح نمو ریکارڈ کی گئی۔
مالی سال 27-2026 کی پہلی ششماہی کے دوران سی آئی ایل نے کان کے دہانے پر موجود 63 ملین ٹن کوئلے کے ذخیرے کو بھی بروئے کار لاتے ہوئے سپلائی میں اضافہ کیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کوئلے کی بڑھتی ہوئی فراہمی صرف موجودہ پیداوار میں اضافے کی وجہ سے نہیں ہوئی بلکہ ذخیرے کے بہتر اور مؤثر استعمال نے بھی اس میں اہم کردار ادا کیا۔
بجلی کا شعبہ فراہمی کی حکمت عملی میں مرکزی حیثیت برقرار رکھتا ہے
ان اعداد و شمار کی اہمیت بجلی کے شعبے کے تناظر میں مزید واضح ہوجاتی ہے۔
مالی سال 27-2026 کی پہلی ششماہی کے دوران سی آئی ایل کی جانب سے بجلی کے شعبے کو کوئلے کی ترسیل 302.8 ملین ٹن رہی۔ جبکہ مالی سال26-2025 کی پہلی ششماہی میں یہ 285.4 ملین ٹن تھی۔ اس طرح 17.4 ملین ٹن یعنی6.1 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
دوسرے لفظوں میں، پہلی ششماہی کے دوران سی آئی ایل کی مجموعی کوئلہ اٹھان کا تقریباً 79 فیصد حصہ بجلی کے شعبے کو فراہم کیا گیا، جس سے سی آئی ایل کی تقسیم کی حکمت عملی میں بجلی کی پیداوار کو حاصل اولین ترجیح ایک بار پھر واضح ہوتی ہے۔
دوسری سہ ماہی کی کارکردگی خاص طور پر اہم ہے۔ مالی سال 27-2026 کی دوسری سہ ماہی میں سی آئی ایل نے بجلی کے شعبے کو 148.20 ملین ٹن کوئلہ فراہم کیا۔ جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی سہ ماہی میں یہ مقدار 133.50 ملین ٹن تھی۔ اس طرح 11 فیصد کی شرح نمو ریکارڈ کی گئی۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بہتری اب وسیع تر سطح پر نظر آنے لگی ہے۔ مجموعی کوئلہ اٹھان میں اضافے کے ساتھ بجلی گھروں کو کوئلے کی فراہمی میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔
ستمبر: بجلی کی بڑھتی طلب کے جواب میں کوئلے کی فراہمی میں نمایاں اضافہ
ستمبر 2026 سی آئی ایل کے لیے خاص طور پر مضبوط کارکردگی کا مہینہ ثابت ہوا۔
بجلی کے شعبے کو کوئلے کی فراہمی ستمبر 2025 کے 44.20 ملین ٹن سے بڑھ کر ستمبر 2026 میں 48.90 ملین ٹن ہوگئی۔ جو 4.70 ملین ٹن یعنی 10.63 فیصد کا اضافہ ہے۔ اسی دوران سی آئی ایل کی مجموعی کوئلہ فراہمی میں 6.80 ملین ٹن یعنی 12.5 فیصد کا اضافہ ہوا۔
تقسیم کے اعداد و شمار سے روزانہ کی بنیاد پر کی جانے والی فراہمی کی کوششوں کی شدت بھی واضح ہوتی ہے۔ ستمبر 2026 کے دوران بجلی کے شعبے کو سی آئی ایل کی کوئلہ ترسیل مجموعی طور پر تقریباً 48.99 ملین ٹن رہی، جو یومیہ اوسطاً تقریباً 1.63 ملین ٹن بنتی ہے۔ ماہ کے پہلے سات دنوں میں یومیہ اوسط تقریباً 1.51 ملین ٹن رہی، جبکہ آخری سات دنوں میں یہ بڑھ کر تقریباً 1.59 ملین ٹن ہوگئی۔ اس طرح ماہ کے اختتام پر روزانہ کوئلہ ترسیل کی رفتار میں تقریباً 5 فیصد بہتری دیکھی گئی۔
28 ستمبر کے بعد کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو روزانہ کوئلہ فراہمی کی کوششوں کی شدت مزید واضح ہوتی ہے۔ 28 سے 30 ستمبر کے دوران بجلی کے شعبے کو روزانہ بالترتیب 1.74 ملین ٹن، 1.79 ملین ٹن اور 1.71 ملین ٹن کوئلہ فراہم کیا گیا۔ اکتوبر میں بھی یہ رفتار برقرار رہی اور یکم سے 3 اکتوبر کے دوران روزانہ بالترتیب 1.75 ملین ٹن، 1.87 ملین ٹن اور 1.81 ملین ٹن کوئلہ فراہم کیا گیا۔
اس طرح سی آئی ایل مون سون کے اختتامی مرحلے سے لے کر مون سون کے بعد کے معمول کے عملی دور میں داخل ہونے تک روزانہ بڑے پیمانے پر کوئلے کی فراہمی کی رفتار برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہے۔
کوئلے کی فراہمی میں بہتری کا اثر بجلی کی پیداوار پر بھی نمایاں رہا
کوئلے کی فراہمی کے نظام کی اصل کامیابی کا سب سے اہم پیمانہ بالآخر یہی ہے کہ وہ بجلی کی پیداوار کو کس حد تک مؤثر انداز میں سہارا دے پاتا ہے۔
دستیاب اعداد و شمار سے مالی سال27-2026 کی پہلی ششماہی کے دوران ملکی کوئلے سے بجلی کی پیداوار میں واضح بہتری کا پتہ چلتا ہے۔
مالی سال27-2026 کی پہلی ششماہی میں ملکی کوئلے سے بجلی کی پیداوار بڑھ کر 640.05 بلین یونٹ( بی یو) ہوگئی۔ جبکہ مالی سال26-2025 کی اسی مدت میں یہ 582.5 بلین یونٹ تھی۔ اس طرح تقریباً 57.5 بلین یونٹ یعنی 9.9 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
کان سے بجلی گھر تک: تقسیم کا نظام مزید مؤثر اور جواب دہ بن رہا ہے
سی آئی ایل کا کوئلہ تقسیم کرنے کا نظام وقت کے ساتھ بنیادی طور پر کوئلے کی فراہمی کے مربوط نظام پر مبنی ڈھانچے سے آگے بڑھ کر ایک زیادہ متنوع اور فوری ضروریات کے مطابق ردعمل دینے والے نظام میں تبدیل ہوا ہے۔
بجلی کے شعبے کی ضروریات بنیادی طور پر ایندھن کی فراہمی کے معاہدوں اور کوئلے کی فراہمی کے مربوط نظام کے ذریعے پوری کی جاتی ہیں۔ جبکہ قلیل مدتی ضروریات کو بازار پر مبنی دیگر ذرائع سے بھی پورا کیا جاسکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کوئلے کی فراہمی کے مربوط نظام کی معقولیت، ڈیجیٹل نظام، صارفین کے لیے سہولت فراہم کرنے والے آن لائن پورٹلز اور بہتر رسدی انتظامات نے کوئلے کی فراہمی میں لچک اور کارکردگی بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
اس کا نتیجہ ایک ایسے مربوط سپلائی چین کی صورت میں سامنے آیا ہے جس میں پیداوار، ذخیرہ، نکاسی اور صارفین کی طلب کو الگ الگ سرگرمیوں کے بجائے ایک دوسرے سے مربوط عناصر کے طور پر منظم کیا جارہا ہے۔
موجودہ کارکردگی مناسب مقدار میں کان کے دہانے پر کوئلے کا ذخیرہ برقرار رکھنے کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ مالی سال کے آغاز میں کوئلے کے ذخیرے کی دستیابی نے سی آئی ایل کو یہ صلاحیت فراہم کی کہ وہ مانسون کے بعد پیداوار میں بتدریج اضافہ کیے جانے کے دوران بھی صارفین کو کوئلے کی فراہمی جاری رکھ سکے۔
آگے کا راستہ: زیادہ فراہمی سے یقینی فراہمی تک
مالی سال27-2026 کے دوران حاصل ہونے والی بہتری حوصلہ افزا ہے، لیکن مقصد محض کوئلے کی زیادہ مقدار اٹھانے کے ہدف کو حاصل کرنا نہیں ہے۔
حتمی مقصد یقینی، قابل پیش گوئی اور معیار پر توجہ مرکوز رکھنے والی کوئلے کی فراہمی ہے۔
پہلے میل سے مربوط، تیز رفتار لوڈنگ نظام اور ڈیجیٹل نگرانی کے نظام میں سی آئی ایل کی جاری سرمایہ کاری کا مقصد اسی تبدیلی کو یقینی بنانا ہے۔ 46 سی ایچ پی سائلوز کے ذریعے مشینی اور بند نظام پر مبنی کوئلے کی نکاسی کی 432 ملین ٹن گنجائش حاصل ہے۔ سی آئی ایل اپنی آنے والی گرین فیلڈ کانوں میں مزید سی ایچ پی سائلوز قائم کرنے پر بھی غور کر رہی ہے۔
توانائی کے تحفظ کے ذریعہ کوئلے کی فراہمی
سی آئی ایل کی کامیابی کا پیمانہ اب صرف یہ نہیں رہا کہ کتنا کوئلہ پیدا کیا جاتا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ کوئلہ کتنی قابل اعتماد طریقے سے صارفین تک پہنچتا ہے۔ بجلی کی پیداوار میں کتنے مؤثر انداز میں معاون ثابت ہوتا ہے اور پورا کوئلہ سپلائی چین ملک کی توانائی کی ضروریات کے مطابق کتنی مؤثر طریقے سے ردعمل کا اظہار کرتا ہے۔
برسات کے موسم کے بعد پیداوار میں اضافے، کوئلے کی نکاسی کے بنیادی ڈھانچے میں توسیع اور بجلی کے شعبے کی ضروریات پر مسلسل توجہ کے ساتھ اب مقصد بالکل واضح ہے: ملک کے لیے ایک مضبوط اور قابل اعتماد توانائی کی فراہمی کو یقینی بنانا۔
***
ش ح۔م ح۔ع ا۔
U-4640
(ریلیز آئی ڈی: 2319121)
وزیٹر کاؤنٹر : 15