PIB Backgrounder
بارش کے پہلے قطرے سے لے کر صاف ستھری سڑکوں تک
مانسون سے پہلے صاف ستھرے اور صحت مند شہروں کی تیاری
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
01 OCT 2026 4:18PM by PIB Delhi
بارش سے پہلے، شہروں کی تیاری
مانسون کی آمد اور بارش کی پہلی بوند کے ساتھ ہی ہندوستان بھر کے شہر پانی جمع ہونے، کوڑے کے انبار اور صفائی ستھرائی سے متعلق موسمی خطرات سے نمٹنے کے لیے تیاریاں شروع کر دیتے ہیں۔ نالیوں کی صفائی کی جاتی ہے، حساس مقامات کی نشاندہی کی جاتی ہے اور صفائی ستھرائی اور صحت عامہ کو برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔ مکانات اور شہری امور کی وزاررت کی قیادت میں چلائی گئی ’’صفائی اپناؤ، بیماری بھگاؤ 2025 (ایس اے بی بی)‘‘ مہم کے تحت شہری بلدیاتی اداروں نے مانسون سے قبل کی تیاریوں کو صفائی ستھرائی اور صحت عامہ کی ایک مربوط کوشش میں تبدیل کیا۔ یکم جولائی سے 31 جولائی 2025 تک شہروں میں نالیوں کی صفائی، فضلے کو ہٹانے اور حفظان صحت کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ اسکولوں، آس پڑوس اور دیگر عوامی مقامات کے ذریعے لوگوں کو بھی اس مہم میں شامل کیا گیا۔
اس مہم کے مرکز میں ’’ 6سوچھتامنتر‘‘ ہیں:جو صاف ہاتھ، صاف گھر، صاف محلہ، صاف بیت الخلا، صاف نالیاں اور صاف عوامی مقامات مبنی ہیں۔ ایک ساتھ یہ عام عادات و اطوار مل کر شہر بھر کی ایک وسیع تر کوشش کا حصہ بن رہے ہیں، جس کا مقصد مانسون کے موسم کو زیادہ محفوظ اور صحت مند بنانا ہے۔ اور ملک بھر میں یہ کوشش مختلف شکلوں میں سامنے آ رہی ہے۔
دہلی میں اس مہم کا پیغام سڑکوں اور اسکولوں تک پہنچایا گیا۔ این سی سی کی 400 طالبات کی کیڈٹس نے 3 کلومیٹر طویل پنکاتھون میں حصہ لیا، جو مانسون کے دوران حفظان صحت اور صفائی ستھرائی کو فروغ دینے کے لیے منعقد کی گئی واکا تھون تھی۔ مہم کے تحت زمینی سطح پر بھی بڑے پیمانے پر اقدامات کیے گئے، جن میں 255 اسکولوں میں ہاتھ دھونے کی مہم شامل تھی، جبکہ 206 صفائی مہمات کے ذریعے گلیوں اور فضلےکے لحاظ سے حساس مقامات (جی وی پی) کا احاطہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ سماجی سطح پراور عوامی بیت الخلاؤں (سی ٹی اور پی ٹی) میں 469 صفائی ستھرائی کی مہمات چلائی گئیں۔
پٹنہ میونسپل کارپوریشن (پی ایم سی) نے شہریوں کی حفاظت اور صفائی ستھرائی کو بہتر بنانے کے لیے فوری طور پر موقع پر ہی مین ہول کی مرمت کی غرض سے ’مین ہول ایمبولینس‘ متعارف کرائی۔ ہر ایمبولینس میں پہلے سے تیار شدہ مین ہول کے ڈھکن، مرمت کے اوزار اور ایک مخصوص ٹیم موجود ہے، جو خاص طور پر بارش کے دوران فوری کارروائی کرتی ہے۔ پی ایم سی نے پرانی اور غیر استعمال شدہ بلدیاتی گاڑیوں کو کارآمد یونٹس میں تبدیل کیا ہے۔ چھ ایمبولینسیں، ہر میونسپل زون کے لیے ایک، کام کر رہی ہیں اور انہیں پی ایم سی کے مرکزی کنٹرول روم سے منسلک کیا گیا ہے تاکہ شکایات کا بر وقت میں ازالہ کیا جا سکے۔اس پہل سے شہریوں کی شکایات پر مرکوز معاملات کا ازالہ ممکن ہوا ہے اور مین ہول سے متعلق شکایات پر تیز تر کارروائی یقینی بنائی گئی ہے۔
نوی ممبئی میں سوچھتا کی ایک ریلی کا انعقاد کیا گیا، جس میں 600 سے زائد طلبہ، والدین، اساتذہ اور شہریوں نے شرکت کی۔ اسی دوران 26 شہری پرائمری صحت مراکز میں صحت سے متعلق بیداری کیمپ منعقد کیے گئے، جن میں ملیریا اور ڈینگی سے بچاؤ پر توجہ مرکوز کی گئی۔ دو دنوں کے دوران 52 صحت کیمپ لگائے گئے، جن سے 22,690 سے زائد شہری مستفید ہوئے۔ تلنگانہ میں یہ مہم تقریباً 13 لاکھ کنبوں تک پہنچی۔ تقریباً 14,210 کلومیٹر نالیوں سے گاد نکالی گئی، جبکہ 4,343 کلومیٹر سڑکوں کے کنارے موجود جھاڑیوں کو صاف کیا گیا۔ تقریباً 2.5 لاکھ گھروں تک ڈینگی اور ملیریا سے بچاؤ کے لیے بیداری مہم پہنچائی گئی۔ صحت کیمپوں سے 8,500 سے زائد فرنٹ لائن کارکنان بھی مستفید ہوئے۔ اسی دوران اسکولوں میں 140 کھاد کے گڑھے بنائے گئے، جس سے نوجوان شہریوں کو کچرے کو کھاد میں تبدیل کرنے کی ترغیب ملی۔
چھتیس گڑھ میں یہ کہانی خود لوگوں سے شروع ہوتی ہے۔ پنڈریا میں اپنی مدد آپ گروپ کے ارکان کو صفائی ستھرائی سے متعلق تربیت دی گئی اور انہیں سوچھتا ایپ سے متعارف کرایا گیا۔ اس کے بعد انہوں نے صفائی مہم میں حصہ لیا۔ رائے پور میں گھر گھر جا کر لوگوں کو ہاتھوں کی صفائی اور فضلے کی علیحدگی کے بارے میں بیدار کیا گیا، جبکہ کوڑےکے حوالے سے حساس مقامات (جی وی پی) کی صفائی اور خوبصورتی بھی کی گئی۔
صاف ستھرے اور محفوظ مانسون کے لیے شمال مشرق متحدہوا
مانسون کی آمد کے ساتھ ہی شمال مشرقی خطہ بارش کا انتظار کرنے کے بجائے اس کے لیے پہلے ہی تیاری کر رہا ہے۔ اروناچل پردیش، ناگالینڈ، آسام، سکم اور تریپورہ میں مکانات اور شہری امور کی وزارت(ایم او ایچ یو اے) کی قیادت میں چلائی جانے والی ایس اے بی بی مہم اجتماعی صفائی ستھرائی اور بیماریوں سے بچاؤ کے ذریعے مانسون سے نمٹنے کی تیاریوں کو مضبوط بنا رہی ہے۔
ناگالینڈ میں چھ قصبوں کے شہری بلدیاتی اداروں (یو ایل بی) نے اسکولوں میں بیداری کی سرگرمیوں، نالیوں کی صفائی، صحت کیمپوں اور صفائی مہمات کی قیادت کی۔ ان کوششوں کے ذریعے صفائی کی 60 مہمات، بارش کے پانی کو جمع کرنے کی 30 مہمات اور مانسون کے بعد بیداری کی 40 مہمات کے ذریعے تقریباً 5,000 افراد کو شامل کیا گیا۔ سکم کے پہاڑی علاقوں میں مہم کے تحت کوڑےکے حوالے سے حساس مقامات اور پانی اور ویکٹر سے پھیلنے والی بیماریوں کے خطرات پر توجہ دی گئی۔ طلبہ، افسران اور اپنی مدد آپ گروپوں (ایس ایچ جی) نے فضلے کے نکلنے کی جگہ پرہی انہیں الگ کرنے اور فضلے کوبہتر طریقے سے ٹھکانے لگانے کے لیے مل کر کام کیا۔ تقریباً 4,000 افراد نے 100 صفائی مہمات اور 100 مانسون کے بعد کی مہمات میں حصہ لیا، جبکہ بیداری ریلیوں اور پی ای ٹی بوتلوں کو ٹکڑے کرنے کی سرگرمیاں بھی منعقد کی گئیں۔ آسام میں قصبوں نے نالیوں کی صفائی، فضلے کوٹھکانے لگانے، صفائی متر کے صحت معائنے اور فضلے کی علیحدگی پر توجہ مرکوز کی۔ تقریباً 5,500 افراد نے 200 صفائی مہمات اور 40 بارش کے پانی کو جمع کرنے کی سرگرمیوں میں حصہ لیا، جنہیں 160 تنظیموں اور غیر سرکاری تنظیموں (این جی او) کی حمایت حاصل رہی۔
تریپورہ میں شہری بلدیاتی اداروں (یو ایل بی)نے کچرے کو جمع کرنے، اسے الگ کرنے اور عوامی بیت الخلاؤں کی دیکھ بھال کو مزید مضبوط کیا۔ تقریباً 5,000 افراد نے 150 صفائی مہمات اور 30 بارش کے پانی کو جمع کرنے کی مہمات میں حصہ لیا، جبکہ صحت کیمپ، اسکول ریلیاں اور صفائی ستھرائی سے متعلق اقدامات بھی کیے گئے۔ اروناچل پردیش کے 47 شہری نشانزد قصبوں میں فضلہ کو ٹھکانے لگانے، پانی کے معیار اور عوامی بیت الخلاؤں کی دیکھ بھال سے متعلق اقدامات کیے گئے۔ پانی صاف کرنے والے پلانٹس کا معائنہ کیا گیا، جبکہ بڑے پیمانے پر صفائی مہمات کے ذریعے فضلے کے حوالے سے حساس مقامات کو صاف کیا گیا۔ یہ کوششیں ظاہر کرتی ہیں کہ صفائی ستھرائی اور بیماریوں سے بچاؤ کو روزمرہ کی اجتماعی سرگرمیوں کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔
پچھلی گلیوں سے صاف ستھرے اور پررونق محلے کی جانب
پچھلی گلی سے مراد محلے میں گھروں کے پیچھے موجود وہ جگہ ہے جہاں عام طور پر پیدل آمدورفت کم ہوتی ہے۔ ایسے مقامات پر فضلہ جمع ہونے اور غیر رسمی طور پر فضلہ پھینکے جانے کا خطرہ رہتا ہے۔ اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے مدھیہ پردیش کے مختلف شہروں میں عوام کی فعال شرکت کے ساتھ پچھلی گلیوں کی صفائی کی مہمات چلائی گئیں۔ ان اقدامات میں تجاوزات ہٹانے کے ساتھ ساتھ نالیوں کی صفائی بھی شامل تھی، تاکہ مانسون کے دوران بارش کے پانی کی روانی میں رکاوٹ نہ آئے۔
ریوا میں میونسپل کارپوریشن نے پچھلی گلیوں سے آگے بڑھتے ہوئے تمام وارڈوں میں سامنے کی گلیوں کی صفائی اور خوب صورتی بہتر بنانے کی کوشش کی۔ دیواروں پر مصوری اور نقش و نگار بنائے گئے، جبکہ 3آر یعنی ریڈیوس (کم استعمال)، ری یوز (دوبارہ استعمال) اورری سائیکل( دوبارہ قابل استعمال بنانے ) کے اصولوں کو اپناتے ہوئے کھیلنے کے سامان اور موسیقی کے آلات تیار کیے گئے۔ دیواروں پر انگریزی اور ہندی کے حروف تہجی، اعداد اور پہاڑے بھی بنائے گئے ہیں۔ صفائی ستھرائی کو تعلیم اور تفریحی عناصر کے ساتھ جوڑ کر اس اقدام سے زیادہ محفوظ، دل چسپ اور بچوں کے لیے موزوں محلے کی جگہیں بنانے میں مدد ملی ہے۔
آگرہ میں آگرہ میونسپل کارپوریشن نے شہر بھر میں نو پچھلی گلیوں کی کامیابی کے ساتھ صفائی اور دیکھ بھال کی۔ اربن لرننگ انٹرن شپ پروگرام (ٹی یو ایل آئی پی) کے زیر تربیت افراد نے اس مہم میں فعال طور پر حصہ لیا، جبکہ مقامی باشندوں نے محلوں کی گلیوں کی صفائی اور خوب صورتی میں اپنا تعاون پیش کیا۔ ان کی شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اجتماعی شمولیت صفائی ستھرائی کے حوالے سے مقامی ملکیت کے احساس کو مضبوط بنانے اور مشترکہ عوامی مقامات کی مستقل دیکھ بھال میں مدد دے سکتی ہے۔
حفاظت سے مواقع تک
بھوپال کی جیوتسنا ڈھابڑے کے لیے ادارہ جاتی قرض تک رسائی نے کاروبار شروع کرنے کا موقع فراہم کیا۔ بھوپال میونسپل کارپوریشن کے قرض میلے میں انہیں سوچھتا ادیمی یوجنا کے تحت قرض ملا، جس سے وہ صفائی ستھرائی کے لیے ایک گاڑی خریدنے کے قابل ہوئیں۔ نئی دہلی میں راجا، جو نئی دہلی میونسپل کونسل کے سپروائزر ہیں، نے مشینی طریقے سے سیور کی صفائی کے اپنے تجربے کا اشتراک کیا۔
راجا کہتے ہیں، ’’پہلے سیور کی صفائی کے لیے ہمیں سیور کے اندر اترنا پڑتا تھا۔ لیکن جدید مشینوں کے متعارف ہونے کے بعد اب یہ کام مشینوں کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ گم بوٹس، ماسک، حفاظتی چشمے، ہیلمٹ اور دیگر حفاظتی آلات فراہم کیے جانے سے ہمیں زیادہ محفوظ محسوس ہوتا ہے۔‘‘
یہ تمام تجربات مل کر صفائی ستھرائی کے کام کو زیادہ محفوظ، ہنرمندانہ اور باوقار بنانے کی کوششوں کی عکاسی کرتے ہیں۔
صفائی مترسرکشا چیلنج 2021 میں صحت سے متعلق آگاہی، حفاظتی آلات کی فراہمی اور استعمال، کارکنوں کی فلاح و بہبود اور کام کے دوران خطرات میں کمی پر توجہ مرکوز کی گئی۔ سوچھ بھارت مشن-اربن 2.0 کے تحت مکانات اور شہری امورکی وزارت (ایم او ایچ یو اے) نے شہری بلدیاتی اداروں (یو ایل بی)کے ذریعے حفاظتی آلات، تربیت اور حفاظتی بیداری فراہم کرنے پر زور دیا ہے، تاکہ صفائی ستھرائی کے کام کے دوران اموات کو صفر تک لانے کی سمت کام کیا جا سکے۔
اس شعبے میں پیش قدمی کرنے والے چنڈی گڑھ نے 2018 سے ہاتھ سے سیور کی صفائی کرنے کے خطرناک طریقے پرپابندی عائد کر رکھی ہے۔ ایمرجنسی رسپانس سینی ٹیشن یونٹ (ای آر ایس یو)، جو ذمہ دار صفائی ستھرائی اتھارٹی (آر ایس اے) کے تحت کام کرتا ہے، ذاتی حفاظتی آلات(پی پی ای)، حفاظتی سامان اور باقاعدگی سے طبی معائنے فراہم کرکے زیادہ محفوظ صفائی ستھرائی کے طریقوں کو فروغ دیتا ہے۔
آسام میں 96 میں سے 83 شہری بلدیاتی اداروں (یو ایل بی )نے 2023 میں خود کو صفائی مترا سرکشت شہر قرار دیا۔ ریاست میں 5,230 صفائی کارکنوں کا ڈیٹا مرتب کیا گیا اور 92 صحت کیمپ منعقد کیے گئے۔ مہاراشٹر میں پہلے مرحلے کے دوران 246 ماسٹر ٹرینرز تیار کیے گئے، جس کے بعد 1,917 صفائی کارکنوں کو تربیت دی گئی۔ اتر پردیش نے صفائی متروں کو قرض اور روزگار کے مواقع تک رسائی فراہم کرکے ان کی مدد کی۔ ان تمام اقدامات کا مقصد صفائی متروں کی حفاظت، سماجی و معاشی تحفظ، وقار اور کاروباری مواقع کو مضبوط بنانا ہے، تاکہ صفائی ستھرائی کے کام سے صفائی ستھرائی سے متعلق کاروبار (سینی-انٹرپرینیورشپ) کی جانب آگے بڑھنے کے مواقع پیدا ہوں۔
تیاری سے اجتماعی عمل تک
جیسے ہی بارش شروع ہوتی ہیں، مانسون سے قبل کی تیاریوں کی حقیقی اہمیت زمینی سطح پر نمایاں ہونے لگتی ہے۔ صاف کی گئی نالی سےبارش کا پانی بلا رکاوٹ بہہ جاتا ہے، صاف ستھری گلی فضلے کو جمع ہونے سے روکتی ہے اور بروقت لگایا جانے والا صحت کیمپ لوگوں کو بیماریوں کے خطرات کے پھیلنے سے پہلے ہی ان کی نشاندہی اور روک تھام میں مدد دیتا ہے۔ ہر کوشش کے مرکز میں شہریوں کی فعال شرکت ہے، جو صحت عامہ کو ایک مشترکہ ذمہ داری بناتی ہے۔
شمال مشرق کی پہاڑیوں سے دہلی کی سڑکوں تک، اور تلنگانہ، چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش اور اتر پردیش کے لوگوں تک، اس مہم نے مختلف مقامی شکلیں اختیار کی ہیں۔ تاہم ان سب کے پیچھے ایک ہی مشترکہ حقیقت ہے:مانسون کی حقیقی تیاری محض بارش پر ردعمل ظاہر کرنے کا نام نہیں، بلکہ ایک ساتھ مل کر ہر گلی ،ہر محلےاور ہر معاشرے کی سطح پر تیاری کرنے کا عمل ہے۔
حوالہ جات
مکانات اور شہری امور کی وزارت
https://sbmurban.org/SABB-in-Northeast
https://sbmurban.org/safai-Apnao-Bimaari-Bhagao-2025
https://sbmurban.org/Back-Lanes-Cleaning
https://sbmurban.org/Sani-Entrepreneur
پی ڈی ایف ملاحظہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں:
****
ش ح۔م ش ۔ ش ا
اُردو ریلیزنمبر:-4624
(ریلیز آئی ڈی: 2319053)
وزیٹر کاؤنٹر : 4