سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
روبوٹکس طب کے ہر شعبے میں تیز رفتار ترقی کا ذریعہ بنے گی: مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ
روبوٹکس، اے آئی اور نینو سائنس سے درست طبی خدمات اور پریسیژن میڈیسن کے لیے وسیع تر ماحولیاتی نظام تشکیل پائے گا: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
روبوٹک سرجری سے روبوٹک میڈیسن تک، طب کے تمام شعبوں میں ٹیکنالوجی کا استعمال ہوگا: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
ٹیلی روبوٹکس جغرافیائی حدود سے پرے پیشہ ور ماہرین کی طبی مہارت مریضوں تک پہنچا سکتی ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
اے آئی اور روبوٹکس ہندوستان کو صحت کے شعبے میں درپیش منفرد اور متنوع چیلنجوں سے نمٹنے میں مدد گار ثابت ہوسکتی ہیں: مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
02 OCT 2026 5:28PM by PIB Delhi
سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) اور وزیر اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات، پنشن، جوہری توانائی اور خلائی امور کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ، جو معروف معالج اور ذیابیطس کے ماہر بھی ہیں، انہوں نے آج کہا کہ روبوٹکس طب کے ہر شعبے میں تیز رفتار ترقی کا ذریعہ بننے جا رہی ہے، جس میں تشخیص کے ساتھ ہی علاج اور تھراپی بھی شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ روبوٹکس کے ساتھ مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور نینو سائنس درست صحت خدمات اور پریسیژن میڈیسن کے لیے وسیع تر ماحولیاتی نظام تشکیل دینے میں معاون ہوں گی، جس میں ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کسی فرد کے جینیاتی پروفائل، ماحولیاتی حالات، طرز زندگی اور خوردن و نوش کی عادات کی بنیاد پر تیزی سے زیادہ شخصی نوعیت کی صحت خدمات فراہم کرنے میں مدد دیں گی۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ یہاں ’سوسائٹی آف روبوٹک سرجری‘ کی بین الاقوامی کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ روبوٹکس کو صرف سرجری تک محدود ٹیکنالوجی کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ اسے ایسے آلے کے طور پر دیکھنا چاہیے جو بتدریج طب کی مختلف شاخوں کا حصہ بنے گا۔ انہوں نے کہا، ’’یہ ایک ایسا آلہ ہے، جس کا استعمال ہر جگہ ہوگا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ کانفرنس روبوٹک سرجری پر مرکوز ہے، لیکن مستقبل میں روبوٹک میڈیسن، روبوٹک اینڈوکرائنولوجی اور روبوٹک کارڈیالوجی کا ظہور ہوسکتا ہے، جس طرح اے آئی کا استعمال طب کے مختلف شعبوں میں ہو رہا ہے۔
وزیر موصوف نے کہا کہ طب جدید اور پیش رفت پر مبنی طریقہ کار کے ایک دلچسپ دور میں داخل ہو رہی ہے، جہاں 21ویں صدی میں اے آئی، بایوٹیکنالوجی، نیوکلیئر میڈیسن اور ٹیکنالوجی پر مبنی دیگر حل سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگلے مرحلے میں جینیاتی بنیاد پر تشخیصی حل کے استعمال میں اضافہ ہوگا اور اس کے ساتھ کوانٹم ٹیکنالوجی، نینو میڈیسن اور روبوٹکس میں بھی پیش رفت ہوگی۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ پریسیژن میڈیسن میں علاج کے طریقے تیزی سے مریض کی انفرادی ضروریات کے مطابق تیار کرنے کی ضرورت ہوگی، یہاں تک کہ ایک ہی بیماری کی تشخیص ہونے کے باوجود مختلف مریضوں کے لیے علاج کا طریقہ مختلف ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جینیاتی پروفائل، ماحولیاتی حالات، طرز زندگی اور خوردنی عادات طبی فیصلوں کی تشکیل میں تیزی سے اہم کردار ادا کریں گے، جس سے ٹیکنالوجی پر مبنی اور شخصی نوعیت کی صحت خدمات طب کے مستقبل کا ایک اہم حصہ بن جائیں گی۔
جینوم انڈیا پروگرام کا تذکرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ اب تک 10,000 افراد کی جینیاتی ترتیب (جین سیکوئنسنگ) مکمل کی جاچکی ہے اور امید ظاہر کی کہ ہندوستان بالآخر ہر نوزائیدہ بچے کی جین سیکوئنسنگ کی سمت میں آگے بڑھ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1.4 ارب کی آبادی کے لیے اتنی بڑے پیمانے پر تفصیلی جینیاتی سیکوئنسنگ کے لیے اے آئی اور روبوٹکس کا بہترین استعمال ضروری ہوگا۔
وزیر موصوف نے صحت کے دائمی چیلنجوں سے نمٹنے میں نینو میڈیسن کے امکانات پر بھی بات کی۔ اورل انسولین تیار کرنے کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نینو سطح پر ہونے والی پیش رفت روایتی دوا کی ڈیلیوری سے وابستہ حدود کو دور کرنے میں مدد دے سکتی ہے اور علاج کے لیے نئے امکانات پیدا کرسکتی ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ہندوستان کے حجم، تنوع اور جغرافیائی وسعت کے پیش نظر اے آئی، روبوٹکس اور ٹیلی روبوٹکس جیسی ٹیکنالوجیز صحت خدمات کی فراہمی کے لیے خاص طور پر اہم ہیں۔ روبوٹک الٹرا سونوگرافی کے اپنے تجربے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ انہوں نے انٹارکٹیکا میں 10,000 کلومیٹر دور موجود ایک شخص کا الٹراساؤنڈ کیا تھا، جس سے دور بیٹھ کر طبی خدمات فراہم کرنے والی ٹیکنالوجیز کے امکانات کا مظاہرہ ہوتا ہے۔
ماہرین کی طبی خدمات کے روایتی ماڈل میں ممکنہ تبدیلی کو بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا، ’’مریض کو ڈاکٹر کے پاس بھیجنے کے بجائے ڈاکٹر کو مریض کے پاس بھیجا جائے گا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ٹیلی روبوٹکس جغرافیائی حدود سے بالاتر ہوکر ماہرین کی طبی مہارت مریضوں تک پہنچانے میں مدد دے سکتی ہے، جس سے جدید طبی سہولیات مریض کو لازماً ماہر ڈاکٹر کے پاس پہنچے بغیر فراہم کی جاسکیں گی۔
وزیر موصوف نے ہندوستان میں بیماریوں کی بدلتی ہوئی نوعیت پر بھی روشنی ڈالی، جہاں متعدی بیماریاں اب بھی میٹابولک اور طرز زندگی سے متعلق بیماریوں کے ساتھ موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روایتی طور پر عمر کے آخری مراحل سے وابستہ بیماریاں اب کم عمر افراد میں بھی تیزی سے دیکھی جا رہی ہیں، جس سے صحت کا ایک پیچیدہ منظرنامہ سامنے آیا ہے اور اس کے لیے جدید تکنیکی آلات کے ساتھ زیادہ مربوط اور جامع طریقہ کار کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ہندوستان میں صحت کی ضروریات کے حجم اور تنوع کے پیش نظر نئی ٹیکنالوجیز کو اپنانا خاص طور پر اہم ہے۔ اے آئی اور روبوٹکس ملک بھر میں صحت خدمات کی فراہمی کے لیے مؤثر و معاون ذرائع ثابت ہوسکتے ہیں اور ساتھ ہی پریسیژن اور شخصی نوعیت کی طب کی جانب منتقلی میں بھی مدد کرسکتے ہیں۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ایس آر ایس انڈیا 2026 کے منتظمین کو روبوٹک سرجری کو ادارہ جاتی تعلیم، تعلیمی سرگرمیوں اور پیشہ ورانہ کانفرنسوں کے پلیٹ فارم تک لانے کے لیے مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ روبوٹکس جیسی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کو اپنانا طبی سائنس کے تیزی سے بدلتے ہوئے منظرنامے کے ساتھ قدم سے قدم ملانے کے لیے ضروری ہوگا۔




***
ش ح ۔ م ش ع ۔ م ص
U :4540
(ریلیز آئی ڈی: 2318290)
وزیٹر کاؤنٹر : 11