قومی انسانی حقوق کمیشن
این ایچ آر سی انڈیا نے تلنگانہ کے ضلع میڈچل-مالکاجگیری میں تعمیراتی مقام پر تقریباً ایک سال تک مبینہ طور پر جبری مزدوروں کے طور پر رکھے گئے اتر پردیش کے 12 افراد سے متعلق رپورٹ کا ازخود نوٹس لیا
اطلاعات کے مطابق، بازیاب کرائے گئے جبری مزدور خطرناک اور غیر صحت بخش حالات میں رہ رہے تھے، انہیں مناسب اجرت نہیں دی جا رہی تھی اور وہ بدسلوکی اور نقل و حرکت پر پابندیوں کا شکار تھے
کمیشن نے تلنگانہ کے چیف سیکریٹری، ڈائریکٹر جنرل آف پولیس، میڈچل-مالکاجگیری کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور سائبر آباد کے کمشنر آف پولیس کو نوٹس جاری کیے ہیں
بازیاب ہونے والے 12 متاثرین کی موجودہ صورتحال، تفتیش، رہائی کے سرٹیفکیٹس، مالی امداد اور طویل مدتی بحالی کے منصوبے کے بارے میں تفصیلات طلب کی گئی ہیں
کمیشن نے میڈچل-مالکاجگیری کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو ہدایت کی ہے کہ وہ متاثرین پر مرکوز اور مقررہ مدت کے اندر کارروائی کریں
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
01 OCT 2026 7:32PM by PIB Delhi
نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن انڈیا نے میڈیا کی ایک رپورٹ کا ازخود نوٹس لیا ہے جس میں اتر پردیش کے ایک 12 رکنی خاندان کا ذکر ہے؛ انہیں مبینہ طور پر حیدرآباد (تلنگانہ) کے ضلع میڈچل-مالکاجگیری کے علاقے باچوپلی میں واقع ایک تعمیراتی مقام پر تقریباً ایک سال تک جبری مزدوروں کے طور پر رکھا گیا تھا۔ بازیابی کے وقت، اطلاعات کے مطابق، انہیں انتہائی کم اجرت دی جا رہی تھی اور ہفتے کے ساتوں دن کام کرنے پر مجبور کیا جا رہا تھا، جبکہ وہ خطرناک اور غیر صحت بخش حالات میں رہتے ہوئے جسمانی اور زبانی بدسلوکی کا شکار تھے۔
کمیشن نے مشاہدہ کیا ہے کہ اگر خبر کی رپورٹ کے مندرجات درست ہیں، تو یہ مزدوروں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا ایک سنگین معاملہ ہے۔ لہٰذا، اس نے تلنگانہ کے چیف سیکریٹری، ڈائریکٹر جنرل آف پولیس، میڈچل-مالکاجگیری کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور سائبر آباد کے کمشنر آف پولیس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے چار ہفتوں کے اندر اس معاملے پر تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔
توقع ہے کہ اس رپورٹ میں بازیاب ہونے والے تمام 12 متاثرین کی موجودہ صورتحال اور ٹھکانے، نیز ان کی فوری حفاظت، رہائش، خوراک اور طبی دیکھ بھال کے لیے اٹھائے گئے اقدامات شامل ہوں گے۔ اس میں آجر (مالک) اور دیگر ذمہ دار افراد کے خلاف درج ایف آئی آر کی تفصیلات اور تفتیش کی موجودہ صورتحال بھی شامل ہونی چاہیے۔ کمیشن نے میڈچل-مالکاجگیری کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو یہ ہدایت بھی کی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ رہائی اور بحالی کا پورا عمل مقررہ مدت کے اندر اور متاثرین کی فلاح و بہبود کو مرکز میں رکھ کر انجام دیا جائے۔
حکام سے طلب کردہ رپورٹ میں تمام اہل متاثرین کو ’جبری مشقت سے رہائی کے سرٹیفکیٹ‘جاری کیے جانے کی تصدیق اور ’جبری مشقت کرنے والوں کی بحالی کے لیے مرکزی شعبہ جاتی اسکیم 2021‘ کے تحت ہر متاثرہ فرد کو دی جانے والی 30,000 روپے تک کی فوری مالی امداد کی تفصیلات بھی شامل متوقع ہیں۔ اس رپورٹ میں متاثرین کی طویل مدتی بحالی کا ایک جامع منصوبہ بھی شامل ہونا چاہیے، جس میں متعلقہ ریاست کے حکام کے ساتھ باہمی تعاون سے، اگر وہ چاہیں تو، انہیں اتر پردیش واپس بھیجنے کا انتظام بھی شامل ہو۔
مورخہ 30ستمبر 2026 کو شائع ہونے والی ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق، جبری مشقت پر مجبور کیے گئے ان افراد کی نقل و حرکت محدود کر دی گئی تھی اور ایک سپروائزر نے ان کا سامان تالے میں بند کر کے رکھ دیا تھا۔ سماجی کارکنوں کی جانب سے شکایت موصول ہونے کے بعد ریونیو اور لیبر (محکمہ محنت) کے عہدیداروں نے انہیں بازیاب کرایا۔
****
ش ح ۔ ال ۔ ع ر
UR-4492
(ریلیز آئی ڈی: 2318008)
وزیٹر کاؤنٹر : 6