وزارت دفاع
وزیر دفاع نے نئی دہلی میں محکمہ دفاعی اکاؤنٹس کے 279ویں یوم تاسیس کی تقریب میں اہم ڈیجیٹل اور مالیاتی انتظامی اقدامات کا آغاز کیا
’’زیادہ سے زیادہ ڈیجیٹل کاری، زیادہ سے زیادہ خود کاری اور زیادہ سے زیادہ شفافیت، یہی ہمارا مقصد ہونا چاہیے’’: وزیر دفاع
’’ہمیں بجٹ کے سالانہ جائزے سے آگے بڑھ کر کسی بھی وقت جائزے کی طرف جانا ہوگا، جس میں حقیقی وقت کے اعداد و شمار بروقت اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد فراہم کریں۔‘‘
’’ہماری روش مضبوط، منصفانہ، حساس اور ذمہ دار ہونی چاہیے، خاص طور پر ان لوگوں کے جائز مالی واجبات اور ملازمت سے متعلق حقوق کے معاملات میں، جنہوں نے ملک کے دفاع کے لیے اپنی زندگیاں وقف کردیں
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
01 OCT 2026 3:07PM by PIB Delhi
وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ نے یکم اکتوبر 2026 کو نئی دہلی کے ڈی آر ڈی او بھون میں محکمہ دفاعی اکاؤنٹس (ڈی اے ڈی) کے 279ویں یوم تاسیس کی تقریب کے دوران اس کی مختلف مطبوعات اور ڈیجیٹل اقدامات کا آغاز کیا۔ انہوں نے ڈی اے ڈی کو ملک کے لیے تقریباً تین صدیوں کی خدمات پر مبارک باد دی اور دفاعی مالیاتی آڈٹ اور انتظام میں اس کے تعاون کو سراہتے ہوئے اسے ملک کی دفاعی تیاری کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا۔
اپنے خطاب کے دوران جناب راج ناتھ سنگھ نے بری فوج، بحریہ اور فضائیہ کے مالیاتی نظاموں کو مزید مربوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے زیادہ سے زیادہ ڈیجیٹلائزیشن، خود کاری اور شفافیت پر زور دیتے ہوئے مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے اعداد و شمار کو حقیقی وقت میں اپ ڈیٹ کرنے کی بات کہی۔ وزیر دفاع نے ڈی اے ڈی پر زور دیا کہ وہ بیلنس کے سالانہ جائزےسے بیلنس کے کسی بھی وقت جائزے کی جانب منتقل ہو۔
جناب راج ناتھ سنگھ نے ڈی اے ڈی کے منصوبے ’سکشَم‘ کو بھی سراہا، جو دفاعی اکاؤنٹنگ اور ادائیگی کے نظام کو ڈیجیٹل اور مربوط کرنے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ ایک محفوظ مخصوص ڈیٹا سینٹر پر مبنی ہے اور ڈی اے ڈی کے وسیع دائرے والے نیٹ ورک کے ذریعے کام کرتا ہے۔ اس میں کردار پر مبنی رسائی ، بہتر جانچ پڑتال اور وسعت پذیری کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے، جس سے محکمہ ’’ایک ملک، ایک کام، ایک ایپلی کیشن‘‘ کی جانب آگے بڑھ رہا ہے۔ وزیر دفاع نے بجٹ، منظوری اور بل سے متعلق اعداد و شمار کے لیے اس کے انڈین آرمی فنانشل انفارمیشن سسٹم کے ساتھ انضمام کو بھی سراہا۔

مالی سال 2025-26 کے دوران تقریباً 100 فیصد اخراجات ہونے کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر دفاع نے اس اہم کامیابی کے لیے ڈی اے ڈی اور تینوں مسلح افواج کی مشترکہ کوششوں کو سراہا۔ ‘اسپرش ’کے اعداد و شمار کی صفائی کے کامیاب عمل کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر دفاع نے چیٹ، ایس ایم ایس، واٹس ایپ، ای میل اور فون کالز کو شامل کرتے ہوئے مکالمہ جاتی مصنوعی ذہانت کے نظام کے ذریعے شکایات کے ازالے کو خودکار بنانے کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے معیاری آڈٹ، ڈیجیٹل ڈیٹا کی صفائی اور شکایات اور عدالتی مقدمات کے فوری حل پر بھی زور دیا۔ وزیر دفاع نے کہا، ’’ہماری روش مضبوط، منصفانہ، حساس اور ذمہ دار ہونی چاہیے، خاص طور پر ان لوگوں کے جائز مالی واجبات اور ملازمت سے متعلق حقوق کے معاملات میں، جنہوں نے ملک کے دفاع کے لیے اپنی زندگیاں وقف کردیں۔‘‘
انہوں نے ’سمپورن‘ کے جلد نفاذ پر زور دیا۔ یہ مکمل طور پر خودکار اور ابتدا سے آخر تک آمدنی اور خریداری کا نظام ہے، جس میں اعداد و شمار کے تجزیے، مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مؤثر فیصلہ سازی میں معاون نظام تیار کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔
اس موقع پر وزیر دفاع نے تین اہم اقدامات کا بھی آغاز کیا، جن کا مقصد دفاعی افواج کے مالیاتی معلوماتی نظاموں کے انضمام کو مضبوط بنانا، دفاعی اخراجات کی اکاؤنٹنگ اور نگرانی کو بہتر بنانا اور وزارت دفاع میں ٹریژری سنگل اکاؤنٹ (ٹی ایس اے) نظام کو عملی شکل دینا ہے۔
’سکشَم‘ کا انڈین آرمی فنانشل انفارمیشن سسٹم کے ساتھ انضمام
محکمہ دفاعی اکاؤنٹس کے ’سکشَم‘ بل آڈٹ اور ادائیگی کے نظام کو انڈین آرمی فنانشل انفارمیشن سسٹم (آئی اے ایف آئی ایس) کے ساتھ کامیابی سے مربوط کردیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے دونوں اداروں کے درمیان بجٹ، منظوری اور بل سے متعلق معلومات کی ڈیجیٹل منتقلی ممکن ہوگئی ہے۔ یہ انضمام دفاعی ادائیگیوں کے نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانے کی سمت ایک اہم قدم ہے، جس سے بل کی صورت حال اور بجٹ کے بیلنس سے متعلق معلومات حقیقی وقت میں شیئر کی جاسکیں گی اور بلوں کی کارروائی مکمل طور پر کاغذ کے بغیر ہوجائے گی۔
وزارت دفاع میں ٹریژری سنگل اکاؤنٹ نظام
وزارت دفاع میں ٹریژری سنگل اکاؤنٹ (ٹی ایس اے) نظام کا وزیر دفاع نے افتتاح کیا۔ اس کا مقصد حکومت ہند کے تحت خود مختار اداروں کو ضرورت کے مطابق بروقت فنڈ جاری کرنا ہے۔ یہ نظام پیمنٹ روٹنگ اینڈ انٹیگریٹڈ سسٹم مینجمنٹ (پریزم) پلیٹ فارم کے ذریعے چلایا جاتا ہے اور اسے ریزرو بینک آف انڈیا کے ای-کیوبر نظام کے ساتھ مکمل طور پر مربوط کیا گیا ہے۔ اس سے وزارت دفاع کے تحت خود مختار اداروں کے لیے گرانٹ کے بہتر انتظام میں مدد ملے گی اور اکاؤنٹنگ اور اخراجات کی زیادہ واضح نگرانی ممکن ہوگی۔
نئے سرے سے تیار کیا گیا قومی ترتیبی نظام
وزیر دفاع نے دفاعی شعبے کے لیے نئے سرے سے تیار کیے گئے ترتیبی نظام نیشنل کمپائلیشن سسٹم (این سی ایس) کا آغاز کیا۔ این سی ایس ہندوستان میں دفاعی شعبے کے تمام اخراجات کی اکاؤنٹنگ اور کمپائلیشن کے لیے واحد ذریعہ ہے۔ وزارت دفاع مالی اختیارات کی منتقلی کے ایک منفرد نظام کے تحت کام کرتی ہے، جس کے لیے ملک بھر میں محکمہ دفاعی اکاؤنٹس کے مختلف کنٹرولرز کے درمیان بجٹ کی تقسیم اور اخراجات کی نگرانی ضروری ہوتی ہے۔ نئے سرے سے تیار کیے گئے این سی ایس کو نئے تکنیکی ڈھانچے پر جامع طور پر ازسرنو ترتیب دیا گیا ہے، تاکہ بجٹ کی درست رپورٹنگ اور اخراجات کی نگرانی کی جاسکے۔ یہ نظام وزارت خزانہ، وزارت دفاع، سروس ہیڈکوارٹرز اور فیلڈ کنٹرولرز کے لیے تفصیلی رپورٹنگ میں سہولت فراہم کرے گا، جس سے پالیسی سازی اور بجٹ کے بہتر انتظام میں مدد ملے گی۔
’وزیر دفاع ایوارڈز فار ایکسی لینس 2026‘
تقریب کے دوران ‘رکشا منتری ایوارڈز فار ایکسی لینس 2026’ پیش کیے گئے۔ یہ ایوارڈ اہم اصلاحات اور منصوبوں کے نفاذ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی ٹیموں اور افراد کو اعزاز دینے کے لیے دیے گئے۔ ان ایوارڈز کے ذریعے دفاعی مالیاتی انتظام میں اختراع، پیشہ ورانہ مہارت اور کارکردگی کے ساتھ ساتھ ادارہ جاتی صلاحیت کو مضبوط بنانے اور مسلح افواج کے لیے محکمہ کی خدمات میں شفافیت بڑھانے میں نمایاں تعاون کو تسلیم کیا گیا۔

ایوارڈز کے ذریعے ملک بھر میں محکمہ دفاعی اکاؤنٹس کے افسران کی جانب سے بیلنس کے سالانہ جائزے (اے آر او بی) کی کامیاب ڈیجیٹلائزیشن اور ’سکشَم‘ اور ’سمَر-سیتو‘ سمیت مختلف اقدامات کے نفاذ میں ادا کیے گئے اہم رول کو تسلیم کیا گیا۔
’سمَر-سیتو‘ انڈین آرمی کے اگنی ویروں کی تنخواہ اور بھتوں کے انتظام کے لیے ایک مرکزی ایپلی کیشن ہے۔ مرکزی اگنی ویر پے اینڈ اکاؤنٹس آفس (سی اے پی اے او) سے چلنے والا یہ نظام مکمل طور پر نظام کے ذریعے خودکار طریقہ کار کے تحت 2.3 لاکھ سے زائد اگنی ویروں کے تنخواہ اکاؤنٹس کا انتظام کرتا ہے۔

وزیر دفاع نے ڈی اے ڈی ڈے 2026 کے دوران تین اشاعتوں کا اجرا کیا، جن میں دفاعی اخراجات سے متعلق جامع شماریاتی کتابچہ (کوشے) 2026، ’رکشا لیکھا بھارتی‘ اور ’مارکیٹ انٹیلی جنس رپورٹ 2025-2026‘ شامل ہیں۔ اس موقع پر ’سسٹم فار پنشن ایڈمنسٹریشن (رکشا)‘، اسپرش کی کامیابیوں پر مبنی ایک فلم بھی دکھائی گئی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کنٹرولر جنرل آف ڈیفنس اکاؤنٹس (سی جی ڈی اے) محترمہ الکا نانگیا اروڑا نے حالیہ برسوں میں محکمہ دفاعی اکاؤنٹس کی جانب سے کیے گئے اہم اقدامات کو اجاگر کیا۔ ان میں داخلی آڈٹ، ادائیگی اور اکاؤنٹنگ، مالیاتی مشاورت اور دفاعی پنشن کے انتظام جیسے بنیادی کاموں کی مرکزیت اور ڈیجیٹلائزیشن کے شعبے میں حاصل کی گئی نمایاں پیش رفت شامل ہے۔
چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل این ایس راجا سبرامنی، چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل کرشنا سوامی ناتھن، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل دھیرج سیٹھ، دفاعی سکریٹری جناب راجیش کمار سنگھ، سکریٹری (دفاعی مالیات) جناب وشواجیت سہائے اور وائس چیف آف ایئر اسٹاف ایئر مارشل آشوتوش دکشت بھی وزارت دفاع کے سینئر افسران کے ہمراہ تقریب میں موجود تھے۔
***
ش ح ۔ ش ب۔ ج
uno 4441
(ریلیز آئی ڈی: 2317647)
وزیٹر کاؤنٹر : 7