حکومت ہند کے سائنٹفک امور کے مشیر خاص کا دفتر
azadi ka amrit mahotsav

ایک صحت سے متعلق سائنسی رہنمائی کمیٹی نے بھارت میں ایک صحت کے نظام کو مضبوط بنانے کی سمت میں پیش رفت کا جائزہ لیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 30 SEP 2026 7:19PM by PIB Delhi

ایک صحت سے متعلق سائنسی رہنمائی کمیٹی کا چھٹا اجلاس 30 ستمبر 2026 کو نئی دہلی کے کرتویہ بھون 3 میں حکومتِ ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر پروفیسر اجے کے. سود کی صدارت میں منعقد ہوا۔

اجلاس کے آغاز میں اس امر کو اجاگر کیا گیا کہ ابتدائی باہمی اشتراک کے ڈھانچے سے آگے بڑھتے ہوئے ’’ایک صحت‘‘ کے طریقۂ کار کو عملی شکل دینے کی سمت میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ پروفیسر سود نے واضح ادارہ جاتی ذمہ داری، نتائج پر مبنی اہداف اور مسلسل پیروی کی اہمیت پر زور دیا، تاکہ کمیٹی کی سفارشات عملی سطح پر مؤثر اقدامات میں تبدیل ہو سکیں۔ انہوں نے یہ بھی اجاگر کیا کہ متوازی ڈھانچے قائم کرنے کے بجائے جاری پروگراموں، پہلے سے قائم پلیٹ فارموں اور موجودہ ادارہ جاتی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا زیادہ مفید ہوگا۔ پروفیسر سود نے کہا کہ اس طرح کی ہم آہنگی سے معلومات کے بہاؤ میں بہتری آئے گی، مربوط فیصلہ سازی میں مدد ملے گی اور انسانی، حیوانی اور ماحولیاتی صحت کے شعبوں میں بروقت اقدامات ممکن ہوں گے۔

بی ایس ایل-3/4 تجربہ گاہوں کے بارے میں مشاورتی و جائزہ کمیٹی کی جانب سے تیار کردہ بی ایس ایل-3/4 تجربہ گاہوں کے لیے کم از کم معیاری تقاضوں (ایم ایس آر) کی دستاویز اجلاس کے دوران جاری کی گئی۔ یہ دستاویز جلد ہی وسیع تر تشہیر اور حوالہ جاتی استعمال کے لیے عوامی سطح پر دستیاب کرائی جائے گی۔

کمیٹی نے باہم مربوط ’’ایک صحت‘‘ ڈیش بورڈ کی تیاری کی سمت میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا اور ان شعبوں پر غور کیا جہاں مختلف شعبوں کے درمیان مسلسل باہمی تعاون اور ہم آہنگی درکار ہے۔ کمیٹی نے وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کی جانب سے مربوط صحت معلوماتی پلیٹ فارم (آئی ایچ آئی پی) کے اگلے مرحلے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو بھی سراہا اور اس امر کی نشاندہی کی کہ آئی ایچ آئی پی اور مجوزہ ’’ایک صحت‘‘ ڈیش بورڈ کے درمیان باہمی تکمیلیت کے امکانات موجود ہیں۔ ارکان نے موجودہ نظاموں اور طریقۂ کار کو مزید مضبوط بنانے اور قومی و ذیلی قومی سطحوں پر ’’ایک صحت‘‘ کی ترجیحات کے نفاذ کو آگے بڑھانے کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا۔

اپنے اختتامی کلمات میں پروفیسر سود نے باہم مربوط ’’ایک صحت‘‘ ڈیش بورڈ کی تیاری میں ہونے والی پیش رفت کو سراہا۔ انہوں نے وزارتوں اور محکموں پر زور دیا کہ وہ باہمی تعاون کو برقرار رکھیں، پیروی کے طریقۂ کار کو مزید مضبوط بنائیں اور ان شعبوں کی نشاندہی کریں جہاں زیادہ ہم آہنگی اور تعاون سے نفاذ کے عمل کو تیز کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ باہم مربوط ’’ایک صحت‘‘ ڈیش بورڈ نہ صرف حکومت کے تمام شعبوں کی مشترکہ کوشش کی عکاسی کرتا ہے بلکہ پورے ملک کے اجتماعی نقطۂ نظر کی بھی نمائندگی کرتا ہے، جو مختلف شعبوں میں صحت سے متعلق صورتِ حال کی مربوط تصویر پیش کرتا ہے اور اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ صحت کے خطرات سے الگ الگ نہیں بلکہ جامع انداز میں نمٹا جائے۔

اجلاس میں حکومتِ ہند کے اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ’’ایک صحت‘‘ کے مربوط طریقۂ کار کو آگے بڑھایا جائے گا اور مختلف شعبوں کے درمیان مربوط کارروائی کے ذریعے قومی سطح پر صحت کے خطرات سے نمٹنے کی تیاری کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔

اجلاس میں حکومتِ ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر کے دفتر کے سائنسی سکریٹری ڈاکٹر پرویندر مَینی اور متعلقہ وزارتوں و محکموں کے سکریٹریوں نے شرکت کی۔ ان میں محکمۂ صحت کے سکریٹری اور بھارتی طبی تحقیقاتی کونسل (آئی سی ایم آر) کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر راجیو بہل؛ محکمۂ سائنس و ٹیکنالوجی (ڈی ایس ٹی) کے سکریٹری پروفیسر امیش واگھمارے؛ محکمۂ زرعی تحقیق و تعلیم (ڈی اے آر ای) کے سکریٹری اور بھارتی زرعی تحقیقاتی کونسل (آئی سی اے آر) کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر منگی لال جات؛ وزارتِ آیوش کے سکریٹری ویدیہ راجیش کوٹیچا؛ بھارتی خلائی تحقیقی تنظیم (اسرو) کے چیئرمین ڈاکٹر وی. نارایَن؛ اور وزارتِ ارضی علوم (ایم او ای ایس) کے سکریٹری ڈاکٹر سرینواسا کمار تمّلا شامل تھے۔

اجلاس میں وزارتِ صحت و خاندانی بہبود (ایم او ایچ اینڈ ایف ڈبلیو) کے ایڈیشنل سکریٹری ڈاکٹر راکیش گپتا؛ محکمۂ حیوانات کی پرورش و دودھ دہی کے کمشنر ڈاکٹر نوینا بی. مہیشورپا؛ اور بھارتی طبی تحقیقاتی کونسل (آئی سی ایم آر)، سائنسی و صنعتی تحقیقاتی کونسل (سی ایس آئی آر)، وزارتِ ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی (ایم او ای ایف اینڈ سی سی)، دفاعی تحقیق و ترقی کی تنظیم (ڈی آر ڈی او) اور سلامتی خدمات، محکمۂ حیوانات کی پرورش و دودھ دہی، بھارتی زرعی تحقیقاتی کونسل (آئی سی اے آر)، محکمۂ ادویہ، وزارتِ آیوش، قومی مرکز برائے امراض پر قابو (این سی ڈی سی)، محکمۂ ماہی گیری، قومی قدرتی آفات انتظامی اتھارٹی (این ڈی ایم اے)، قومی ادارہ برائے ایک صحت (این آئی او ایچ)، پرنسپل سائنسی مشیر کے دفتر اور ریاستِ گجرات کے دیگر اعلیٰ نمائندے بھی شریک ہوئے۔

اس کے علاوہ مشاورتی و جائزہ کمیٹیوں کے سربراہان، یعنی لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) ڈاکٹر مادھوری کنیٹکر (بی ایس ایل-3/4 تجربہ گاہوں کے نیٹ ورک سے متعلق)، ڈاکٹر این. کے. اروڑہ (ٹیکنالوجی پر مبنی نگرانی سے متعلق) اور ڈاکٹر وجے چندرو (اعداد و شمار کے انضمام اور اشتراک سے متعلق)، نیز ’’ایک صحت‘‘ ڈیش بورڈ کے تکنیکی ورکنگ گروپ کے ارکان نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔

******

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno-4392


(ریلیز آئی ڈی: 2317342) وزیٹر کاؤنٹر : 7
یہ ریلیز پڑھیں: English , Gujarati