PIB Backgrounder
azadi ka amrit mahotsav

جب سوچھتا مشترکہ اعتقاد بن جائے

قدیم روایات سے لے کر جدید مذہبی زیارتوں تک، صفائی ستھرائی کے  اجتماعی عادت بننے کا طور

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 29 SEP 2026 5:28PM by PIB Delhi

قدیم ہندوستان میں سوچھتا: روزمرہ کی زندگی میں رچی بسی سرگرمی

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/1111111111_20260929173458_03d428.png

صفائی ستھرائی سے ہندوستان کا تعلق جدید حفظان صحت کی تحریک سے کہیں زیادہ قدیم ہے۔ وادیٔ سندھ کے آثارِ قدیمہ میں اعلیٰ نوعیت کے صفائی ستھرائی کے نظام کے شواہد ملتے ہیں۔ موجودہ گجرات میں واقع لوتھل جیسے شہروں کی منصوبہ بند تعمیر کی گئی تھی، جہاں آبی اخراج کا وسیع اور منظم نظام موجود تھا۔ بہت سے گھروں میں ذاتی بیت الخلا بھی تھے، جو نالیوں سے منسلک تھے۔ اس نظام میں نالیوں کے معائنے کے مقامات اور ٹھوس کوڑے کو ٹھکانے لگانے کے لیے مخصوص ڈھانچے بھی شامل تھے۔ویدک روایت میں جسم اور اردگرد کے ماحول کی صفائی کو انتہائی اہمیت دی گئی ہے۔ صاف پانی، تازہ ہوا اور صحت مند ماحول کو روحانی عمل سے جوڑا گیا تھا۔ قدیم ہدایات میں لوگوں کو دریاؤں اور دیگر آبی ذخائر کے قریب رفع حاجت سے گریز کرنے کی تلقین بھی کی گئی تھی۔یہی تعلق بدھ مت کی روایات میں بھی نظر آتا ہے۔ بدھ بھکشوؤں کو  بہتےپانی میں رفع حاجت یا پیشاب کرنے سے منع کیا گیا تھا۔ ان سے یہ بھی توقع کی جاتی تھی کہ وہ اگلے شخص کے استعمال کے واسطے بیت الخلا کی جگہ کو صاف کریں۔ آثارِ قدیمہ سے بھی منظم صفائی ستھرائی کی اس روایت کی تائید ہوتی ہے۔ بہار میں گپت عہد کی ایک عبادتگاہ میں بیت الخلا کے طور پر ایک مخصوص کمرہ موجود تھا۔

ان  مثالوں سے ایک اہم  خیال اُجاگر ہوتا ہے۔ ہندوستان میں صفائی ستھرائی کا تعلق ہمیشہ سے طرزِ عمل، نظم و ضبط اور اجتماعی زندگی سے رہا ہے۔

 

حفظان صحت کے بنیادی ڈھانچے سے سماجی طرز عمل میں تبدیلی تک

صدیاں گزرنے کے بعد جدید ہندوستان میں صفائی ستھرائی ایک چیلنج کے طور پر سامنے آئی ہے۔ یہ چیلنج صرف مناسب صفائی کے نظام کی دستیابی تک محدود نہیں، بلکہ ان کے استعمال اور مسلسل دیکھ ریکھ کو یقینی بنانے کی عادات کو فروغ دینا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ اسی چیلنج سے نمٹنے کے لیے سوچھ بھارت مشن (ایس بی ایم) کا آغاز 2 اکتوبر 2014 کو کیا گیا۔ یہ مشن حکومت ہند کی جانب سے شروع ہونے والی سب سے بڑی صفائی ستھرائی کی تحریکوں میں سے ایک بن گیا ہے۔ اس مشن کے دو حصے ہیں: سوچھ بھارت مشن-گرامین (ایس بی ایم-جی) اور سوچھ بھارت مشن-اربن (ایس بی ایم-یو)۔ ایس بی ایم-جی کی توجہ دیہی صفائی ستھرائی، بیت الخلا تک رسائی اور ان کے استعمال، نیز ٹھوس اور مائع فضلات کے نظم پر مرکوز ہے۔ ایس بی ایم-یو شہری صفائی ستھرائی، فضلات کے نظم، عوامی مقامات اور صفائی کے بنیادی ڈھانچے پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔

ایک طرف، 2014 کے بعد کی ایک دہائی کے دوران  ملک بھر میں حفظان صحت کے وسیع بنیادی ڈھانچے کی تعمیر ہوئی ہے، جس میں بیت الخلا سے لے کر فضلات کو ٹھکانے لگانے اور اس کے انتظام کے نظام تک شامل ہیں۔ دوسری طرف، اس سفر کے دوران معمول کے طرز عمل کا حصہ بنانے کے لیے عوامی طرز عمل میں تبدیلی لانے اور اسے برقرار رکھنے کے مشکل کام پر بھی توجہ دی گئی ہے۔ یہ ایس بی ایم کے تحت رونما ہونے والی ایک بڑی تبدیلی ہے۔

اگرچہ اب مستقل آباد گاؤں اور شہروں میں فضلات کے نظم کو ادارہ جاتی شکل دی جا چکی ہے، لیکن بڑے پیمانے پر مذہبی اجتماعات کے دوران اس طرز عمل کی تبدیلی کا سب سے بڑا امتحان ہوتا ہے، جہاں قلیل مدت میں لاکھوں افراد ایک جگہ جمع ہوتے ہیں۔

مہا کمبھ:بڑے اجتماع کا سوچھتا تحریک میں تبدیل ہونا

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/222222_20260929173528_d6edca.png

 

چند ہی اجتماعات ایسے ہوتے ہیں جو  اس تبدیلی کو مہا کمبھ 2025 کی طرح واضح طور پر اجاگر کرتے ہیں۔ اس اجتماع کا وسیع پیمانہ ہی صفائی ستھرائی کے لیے بڑا چیلنج تھا۔ اتر پردیش کے پریاگ راج میں لاکھوں عقیدت مند جمع ہوئے۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے مناسب صفائی کے بنیادی ڈھانچے کی فراہمی کے ساتھ ہی عوامی بیداری اور عوامی شمولیت کو بھی یکجا کیا گیا۔ میلے کے پورے علاقے میں 28,000 سے زائد بیت الخلا اور 20,000  عارضی پیشاب گھر قائم کیے گئے۔ فضلات کے نظم کے لیے کوڑے کو پیدا ہونے کی جگہ پر ہی چھانٹنے کی غرض سے 20,000 کوڑے دان بھی رکھے گئے۔لیکن بنیادی ڈھانچہ اس پوری کوشش کا صرف ایک حصہ تھا۔ میلے کے علاقے کو پلاسٹک سے پاک زون قرار دیا گیا۔ عقیدت مندوں کو پلاسٹک کے کوڑے سے گریز کرنے کی ترغیب دینے کے لیے بیداری مہمات چلائی گئیں۔ صفائی ستھرائی کو یقینی بنانے میں عوامی شرکت کی بھی بھرپور حوصلہ افزائی کی گئی۔ سوچھتا رتھ یاترا پریاگ راج کے مختلف علاقوں سے گزری۔ یہ عوامی جلوس تھا، جس کے ذریعے صفائی ستھرائی کو فروغ دینے کے ساتھ ہی  لوگوں میں کوڑا  نہ پھیلانے، کوڑا دان استعمال کرنے اور واحد استعمال کے پلاسٹک سے گریز کرنے کے بارے میں بیداری پیدا کی گئی۔ نکڑ ناٹکوں اور موسیقی کی پیشکشوں کے ذریعے کوڑے کو چھانٹنے اور اسے مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانے کا پیغام دیا گیا۔ عوامی اعلانات کے نظام کے ذریعے گھاٹوں پر صفائی ستھرائی سے متعلق پیغامات پہنچائے گئے۔

اس طریقۂ کار میں برادری کی قیادت میں ہونے والی کوششوں کے لیے بھی گنجائش پیدا کی گئی۔ اتر پردیش کے 28 اضلاع کی خواتین نے پڑوسی ریاستوں کے متعدد کاریگروں کے ساتھ مل کر پائیدار مصنوعات تیار کیں۔ ان مصنوعات میں پتوں سے بنی پلیٹیں، کلّڑ، جوٹ کے تھیلے اور کپڑے کے تھیلے شامل تھے۔ تقریباً 60 کروڑ ماحول کے موافق مصنوعات تیار کی گئیں اور 300 مقامات پر فروخت کی گئیں۔ پیغام صرف کوڑا ہٹانے تک محدود نہیں تھا، بلکہ لوگوں کو کوڑا پیدا کرنے سے روکنے کی کوششوں میں شامل کرنا بھی مقصد تھا۔ یہی طرز عمل میں تبدیلی کی اصل روح ہے۔

مہا کمبھ 2025 سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ مضبوط عوامی صفائی کے نظام عوام کے طرز عمل کو مزید مستحکم کر سکتے ہیں۔ اسنان کے دنوں کے بعد فوری صفائی کرنے والی ٹیموں نے میلے کے علاقوں کو دوبارہ صاف کیا۔ انہوں نے بیت الخلاؤں کی صفائی کی اور عقیدتمندوں کے ذریعے چھوڑے گئے کوڑے کو ہٹایا۔ جراثیم کش ادویات کا چھڑکاؤ اور دھنواں کے ذریعے جراثیم کشی کا عمل بھی انجام دیا گیا۔

کانوڑ یاترا: یاترا کا روٹ ہی سوچھتا کی جگہ بن گیا

اگر پریاگ راج میں ندی کے گھاٹوں پر ہونے والے اجتماع سےبڑے پیمانے پر لوگوں کے انتظام و انصرام کا امتحان لیا گیا، تو کانوڑ یاترا کے طویل راستوں سے بھی ایک مختلف نوعیت کا انتظامی چیلنج درپیش ہوا۔کانوڑ یاترا کے دوران لاکھوں عقیدت مند عوامی راستوں سے سفر کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں سڑکوں، گھاٹوں، قیام گاہوں اور عوامی سہولیات پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ دہلی میں کانور یاترا کے دوران خصوصی صفائی مہم چلائی گئی۔ اہم راستوں اور قیام گاہوں پر اضافی صفائی عملہ تعینات کیے گئے۔ چوبیس گھنٹے صفائی اور کوڑے کو جمع کرنے کا بندوبست کیا گیا۔ عارضی بیت الخلا بھی فراہم کیے گئے۔ گیلے اور خشک کوڑے کو چھانٹنے پر خصوصی توجہ دی گئی۔ واحد استعمال کے پلاسٹک کے استعمال سے بھی گریز کرنے کی ترغیب دی گئی۔

اس مہم میں خواتین یاتریوں کی ضروریات کا بھی خیال رکھا گیا۔ دہلی میں خواتین کے لیے دو خصوصی گلابی کانوڑ کیمپ قائم کیے گئے، جن کا انتظام خواتین رضاکاروں نے سنبھالا۔ ان کیمپوں میں صاف بیت الخلا اور نہانے کی سہولیات فراہم کی گئیں۔ اس طرح صفائی ستھرائی کو عزتِ نفس اور سہولت سے جوڑا گیا۔ پانچ لاکھ سے زائد عقیدت مندوں کو پلاسٹک کی مصنوعات کے ماحولیاتی متبادل کے طور پر اسٹیل کے گنگا جل کے برتن اور جوٹ کے تھیلے بھی فراہم کیے گئے۔

امرناتھ یاترا: عقیدت سے ذمہ دارانہ اقدام تک

گرد آلود شاہراہوں سے کشمیر کے ہمالیائی خطے کے نازک ماحولیاتی نظام کی طرف بڑھتے ہوئے امرناتھ یاترا اس ذمہ داری کو مزید اہم بنا دیتی ہے۔ 2025 میں چار لاکھ سے زائد عقیدت مندوں نے امرناتھ یاترا کی۔ امرناتھ یاترا کو ایس بی ایم-یو 2.0 کے ساتھ ہم آہنگ کیا گیا ہے۔ اس کے تحت سائنسی طریقے سے کوڑے کےنظم اور پلاسٹک سے پاک طریقوں پر توجہ دی گئی ہے۔ اس کا مقصد صفر لینڈفِل اور ماحول کے موافق یاترا کو یقینی بنانا ہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے تعینات سوچھتا ایگزیکٹو اور دیگر رضاکاروں نے اس کوشش میں کردار ادا کیا۔ انہوں نے قیام گاہوں، لنگر کےمقامات اور یاترا کیمپوں میں خدمات انجام دیں۔ انہوں نے کوڑے کو چھانٹنے کی ترغیب دی اور واحد استعمال والے پلاسٹک کے استعمال کی حوصلہ شکنی کی۔ اس کے ساتھ ساتھ صفائی ستھرائی اور حفظانِ صحت سے متعلق پیغامات بھی عام کیے۔اس پورے آپریشن کا پیمانہ خاصا وسیع تھا۔ روزانہ تقریباً 11.67 میٹرک ٹن کوڑا پیدا ہوتا تھا، تاہم اس کوڑے کا 100 فیصد حصہ پروسیس کیا گیا۔ یاترا کے راستے میں گیلے اور خشک کوڑے کے لیے 1,016 جڑواں کوڑا دان رکھے  گئے تھے۔ خواتین کے بیت الخلاؤں کے قریب سینیٹری کوڑے کے لیے الگ کوڑے دان بھی رکھے گئے تھے۔ تقریباً 1,300 صفائی متروں نے اہم مقامات پر خدمات انجام دیں اور یاترا کے راستے میں چوبیس گھنٹے صفائی ستھرائی بحال رکھنے میں تعاون کیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/3333333333_20260929173547_3d0d83.png

 

بیداری کی کوششوں کو زیادہ باہمی اور عملی بنایا گیا۔ ان میں ’پلاسٹک لاؤ، تھیلا لے جاؤ‘ اور ’بن اِٹ، وِن اِٹ‘ جیسی سرگرمیاں شامل تھیں۔ ان سرگرمیوں کے ذریعے بات چیت  کو عوامی شمولیت سے جوڑا گیا۔ آئی ای سی مہم میں سائن بورڈ اور نکڑ ناٹکوں کا بھی استعمال کیا گیا۔ گرین پلیج کی مہم میں 70,000 سے زائد عقیدت مندوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے صفائی ستھرائی اور پائیدار طریقوں کو اپنانے کا عہد کیا۔ سوشل میڈیا نے بھی اس پیغام کو مزید تقویت دی، جہاں یاتریوں نے سیلفیاں اور صفائی ستھرائی کی کامیاب کوششوں سے متعلق اپنی کہانیاں شیئر کیں۔ یہاں یہ تبدیلی خاص طور پر نمایاں نظر آتی ہے۔

اب یاتری صرف صفائی کی سہولیات استعمال کرنے والا فرد نہیں رہتا، بلکہ انہیں صاف رکھنے میں شریک بھی بن جاتا ہے۔ اس طرح عقیدت کا رشتہ ذمہ داری سے وابستہ ہو جاتا ہے۔

جب مذہبی کام خود فضلات کے نظم کا حصہ بن جائے

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/44444444_20260929173610_f941b3.png

 

 

یہ تحریک بڑی مذہبی یاتراؤں سے آگے بڑھ کر دیگر مذہبی مقامات تک بھی پہنچ رہی ہے۔ اس کی ایک نمایاں مثال حیدرآباد سے سامنے آتی ہے۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن نے پروجیکٹ اُدوَاسنا شروع کیا ہے۔ یہ منصوبہ مذہبی اور پوجا پاٹ کے فضلات کے نظم  پر مرکوز ہے۔ اس میں پھول، ہار، مذہبی کتابیں اور ٹوٹی یا خراب مورتیاں شامل ہو سکتی ہیں۔ اس منصوبے کے تحت مذہبی کوڑے کو جمع کرنے اور سائنسی طریقے سے اس کے اتلاف و پروسیسنگ کا خصوصی انتظام کیا گیا ہے۔

اس منصوبے کا آغاز جوبلی ہلز کے اِسکان مندر میں پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر ہوا۔ ابتدائی مرحلے میں سات شرکاء نے 66 کلوگرام مذہبی مواد جمع کرایا۔ دوسرے مرحلے میں 443 کلوگرام مواد جمع کیا گیا۔ تیسرے مرحلے میں اس کا دائرہ بڑھا کر چھ بڑے مندروں تک کر دیا گیا۔ اس مرحلے میں 124 عقیدت مندوں نے حصہ لیا اور جمع کیے گئے مواد کی مقدار 753.59 کلوگرام تک پہنچ گئی۔ اس مواد کو چھانٹ کر الگ کیا گیا، اس کا ریکارڈ تیار کیا گیا اور اسے ری سائیکل کیا گیا۔ مزید پروسیسنگ کے لیے اسے ایک مجاز ادارے کو بھیجا گیا۔

یہ اقدام کوڑے کو اس کے ماخذ پر ہی الگ کرنے اور پائیدار فضلات کے نظم کو فروغ دیتا ہے۔ یہ سوچھتا کے سفر میں اہم توسیع ہے۔ اب توجہ صرف عوامی مقامات کی صفائی تک محدود نہیں رہی، بلکہ مذہبی فضلات کو سنبھالنے کے طریقے میں تبدیلی لانے پر بھی مرکوز ہے۔

جب صفائی ستھرائی سفر کا حصہ بن جائے

ہندوستان میں حفظان صحت کا سفر ایک طویل مسافت طے کر چکا ہے۔ قدیم بستیوں میں پانی اور صفائی ستھرائی کے لیے ترقی یافتہ نظام موجود تھے۔ مذہبی روایات میں صفائی کو ذاتی اور روحانی نظم و ضبط سے جوڑا گیا ہے۔ جدید ہندوستان کو اس کے بعد سب کے لیے صفائی کی سہولیات تک رسائی کا چیلنج درپیش ہوا۔ سوچھ بھارت مشن سے صفائی ستھرائی کا وسیع بنیادی ڈھانچہ تیار کیا گیا۔ لیکن صرف بنیادی ڈھانچہ اس سفر کو مکمل نہیں کر سکتا تھا۔ اگلا قدم صفائی ستھرائی کو عادت بنانا تھا۔ اس کے لیے ابلاغ، عوامی شمولیت اور مسلسل اجتماعی کوششیں درکار تھیں۔آج یہ کوشش صفائی مہم کے دنوں کے بعد بھی نظر آتی ہے۔ یہ یاترا کے راستوں اور مذہبی اجتماعات میں نظر آتی ہے۔ یہ عوامی مقامات، مندروں اور تہواروں کے مقامات پر بھی دکھائی دیتی ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جب سوچھتا محض مہم سے آگے بڑھ جاتی ہے، یہ ایک عادت بن جاتی ہے اور جب کوئی عادت اجتماعی شکل اختیار کر لے تو وہ ثقافت بن جاتی ہے۔

حوالہ جات

 

جل شکتی کی وزارت

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2091806&reg=48&lang=2

https://swachhbharatmission.ddws.gov.in/sites/default/files/Studies-and-surveys/Swachhata-Sanskriti-Draft-G2-Small-Review-Copy.pdf

 

وزارت تعلیم

http://ncert.nic.in/textbook/pdf/fees106.pdf

 

حکومت اترپردیش

https://x.com/MahaKumbh_2025?lang=en

 

حکومت جموں وکشمیر

https://swachh.jk.gov.in/clean-beginnings-strengthening-sanitation-for-shri-amarnath-ji-yatra-2025-at-yatri-niwas-jammu/

 

حکومت تلنگانہ

https://x.com/GHMCOnline/media

 

PIB Backgrounders

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2090918&reg=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?NoteId=160036&ModuleId=3&reg=3&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?NoteId=153694&ModuleId=3&reg=48&lang=2

When Swachhata Becomes Shared Faith

 

 

 

(ش ح ۔م  ش ع۔ع ن)

U.No. 4338

 

 


(ریلیز آئی ڈی: 2316928) وزیٹر کاؤنٹر : 6