نیتی آیوگ
azadi ka amrit mahotsav

نیتی آیوگ نے ’’وکست پنچایت: عوام، مقامات، وسائل اور مواقع کا باہمی ربط‘‘ کے موضوع پر قومی ورکشاپ کا انعقاد کیا، یہ نیتی آیوگ کے ریاستی امدادی مشن کے تحت ایک پہل ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 29 SEP 2026 5:40PM by PIB Delhi

نیتی آیوگ نے 28 ستمبر 2026 کو حکومت آسام کے گولاپ بوربورا اسٹیٹ انسٹی ٹیوٹ آف پنچایت اینڈ رورل ڈیولپمنٹ کے اشتراک سے ’’وکست پنچایت: عوام، مقامات، وسائل اور مواقع کا باہمی ربط‘‘ کے موضوع پر قومی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ ورکشاپ میں پنچایتوں کو ایسی ادارہ جاتی اکائیوں کے طور پر مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی جو وکست بھارت@2047 کے وژن کے مطابق نچلی سطح پر جامع ترقی، موثر عوامی خدمات کی فراہمی اور پائیدار ترقی کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کر سکیں۔

ایک روزہ قومی ورکشاپ کا افتتاح حکومت آسام کے پنچایت اور دیہی ترقی کے محکمے کے وزیر جناب اتل بورا نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے کیا۔ نیتی آیوگ کے رکن ڈاکٹر آر بالاسبرامنیم مہمان اعزازی تھے۔ اس موقع پر حکومت آسام کے چیف سکریٹری ڈاکٹر روی کوٹا اور وزارت دیہی ترقی کے محکمہ دیہی ترقی کے سکریٹری جناب روہت کنسل بھی موجود تھے۔

افتتاحی اجلاس میں وکست گرام پنچایتوں کو آگے بڑھانے کے لیے غیر مرتکز حکمرانی، مقامی منصوبہ بندی، صلاحیت سازی، ڈیجیٹل کاری اور مختلف اقدامات کے باہمی اشتراک کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ غور و خوض کے دوران 4 اہم شعبوں غیر مرتکز اور مقامی منصوبہ بندی، نچلی سطح پر صلاحیت سازی، ترجیحی شعبوں کے لیے مقامی منصوبہ بندی اور گرام پنچایت ترقیاتی منصوبہ کے عمل میں مقامی منصوبہ بندی کا انضمام پر توجہ مرکوز کی گئی ۔

شرکا نے 73ویں آئینی ترمیم اور آئین کے حصہ 9 کے تحت پنچایتی راج کی آئینی بنیاد پر تبادلہ خیال کیا۔ گفتگو میں سرگرمیوں کی واضح خاکہ بندی، مناسب مالی وسائل، موزوں عملے کی دستیابی، زیادہ فیصلہ سازی کے اختیارات، گرام سبھا کی شرکت اور ادارہ جاتی جواب دہی پر بھی توجہ دی گئی۔ اس ورکشاپ میں مقامی ترقی کے لیے شعبہ جاتی نقطہ نظر سے آگے بڑھ کر مقامی اور مربوط طریقہ کار اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ مقامی وسائل، بنیادی ڈھانچے کی کمی، زمین کے استعمال کے طریقوں اور ترقی کے مواقع کی نشاندہی کے لیے جغرافیائی اطلاعاتی نظام، جغرافیائی معلومات، گاؤں کے ماسٹر پلان اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے استعمال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مقامی معلومات کو گرام پنچایت ترقیاتی منصوبہ، ای گرام سوراج اور پنچایت ایڈوانسمنٹ انڈیکس کے ساتھ مربوط کرنے کو شواہد پر مبنی اور باہمی اشتراک پر مبنی منصوبہ بندی کو مضبوط بنانے کا ایک ذریعہ قرار دیا گیا۔

صلاحیت سازی اور ادارہ جاتی استحکام بھی غور و خوض کے اہم موضوعات میں شامل رہے۔ شرکا نے منتخب نمائندوں اور پنچایت کے عہدیداروں کو اعداد و شمار کی تشریح، سرمایہ کاری کی ترجیحات طے کرنے، وسائل متحرک کرنے، مختلف منصوبوں کے باہمی اشتراک اور نتائج کی نگرانی سے متعلق مہارتوں سے لیس کرنے پر زور دیا۔ اختیارات کی منتقلی، سرگرمیوں کی خاکہ بندی، ضلع منصوبہ بندی کمیٹیوں، ڈیجیٹل اور ہائبرڈ تعلیم، صلاحیتوں کی ترقی اور آخری سطح تک تکنیکی معاونت سے متعلق امور پر بھی گفتگو ہوئی۔ نیتی آیوگ کے رکن ڈاکٹر آر بالاسبرامنیم نے شعبہ جاتی منصوبہ بندی سے مقامی منصوبہ بندی کے طریقہ کار کی جانب منتقلی پر زور دیا اور انسانی و سماجی سرمائے کے ساتھ ساتھ مقامی اقتصادی کلسٹروں کی ترقی پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت کو اجاگر کیا۔

اس ورکشاپ میں جن ترجیحی امور کی نشاندہی کی گئی، ان میں اختیارات کی واضح منتقلی اور سرگرمیوں کی خاکہ  بندی، مالی وسائل اور اپنے ذرائع سے آمدنی پیدا کرنے کی بہتر صلاحیت، مضبوط صلاحیت سازی اور تکنیکی معاونت، ضلع منصوبہ بندی کمیٹیوں کو فعال بنانا اور مختلف محکموں و اسکیموں کے درمیان زیادہ باہمی اشتراک شامل ہیں۔ اس کے علاوہ گرام پنچایت ترقیاتی منصوبوں میں مقامی اور انتظامی اعداد و شمار کے بہتر استعمال، گرام سبھا اور کمیونٹی کی شرکت اور ضلع سطح پر دیہی و شہری منصوبہ بندی کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

***********

ش ح۔ ک ح۔ ا ک م

U No. 4307


(ریلیز آئی ڈی: 2316628) وزیٹر کاؤنٹر : 9
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी