جل شکتی وزارت
پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کے محکمے (ڈی ڈی ڈبلیو ایس) نے سوجل گرام سمواد کے گیارہویں ایڈیشن کا انعقاد کیا
کثیر لسانی بات چیت میں کمیونٹی کی شرکت ، مقامی ملکیت اور گاؤں میں پانی کی فراہمی کے اثاثوں کے کام کاج اور بندوبست پر زور دیا گیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
29 SEP 2026 2:43PM by PIB Delhi
جل شکتی کی وزارت کے تحت پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کے محکمے (ڈی ڈی ڈبلیو ایس) نے آج کثیر لسانی 'سوجل گرام سمواد' کے 11 ویں ایڈیشن کا انعقاد کیا ، جو گاؤں میں پینے کے پانی کے نظام کے کام کاج اور بندو بست پر گرام پنچایت کے نمائندوں اور مقامی برادریوں کے ساتھ براہ راست بات چیت کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے ۔ اس سے جل جیون مشن 2.0 کے تحت کمیونٹی کی قیادت والی واٹر گورننس کے لیے حکومت کے عزم کو تقویت ملتی ہے ۔
سمواد کی صدارت جناب کمل کشور سون ، اے ایس اینڈ ایم ڈی ، این جے جے ایم کی موجودگی میں محکمہ کے سینئر افسران کے ہمراہ ڈی ڈی ڈبلیو ایس کے سکریٹری جناب اشوک کے کے مینا نے کی۔

اپنے افتتاحی خطاب میں ، ڈی ڈی ڈبلیو ایس کے سکریٹری جناب اشوک کے کے مینا نے گاؤں میں پینے کے پانی کے نظام کی پائیداری اور طویل مدتی فعالیت کو یقینی بنانے میں گرام پنچایتوں کے اہم رول پر زور دیا ۔ سوجل گرام سمواد کو زمینی سطح سے اختراعات اور اچھے طور طریقوں کو مشترک کرنے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم قرار دیتے ہوئے ، انہوں نے گرام پنچایتوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھیں اور مقامی آبی گورننس کو مضبوط کریں ۔ انہوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ منتخب نمائندوں ، گاؤں میں پانی ور صفائی ستھرائی کی کمیٹیوں (وی ڈبلیو ایس سی) اور مقامی برادریوں کی فعال شرکت ہر گھر تک پینے کے پانی کی باقاعدہ ، محفوظ اور قابل اعتماد خدمات کی فراہمی کے لیے ضروری ہے ۔
پینے کے پانی کے شعبے میں پنچایتی راج اداروں کے آئینی اختیارات پر زور دیتے ہوئے جناب مینا نے گرام پنچایتوں کے ذریعے کام کاج اور دیکھ بھال (او اینڈ ایم) کی زیادہ سے زیادہ ملکیت کی ضرورت پر زور دیا ۔ انہوں نے صارف چارج جمع کرنے کے طریقہ کار کو مضبوط کرنے ، پانی کی فراہمی کی اسکیموں کے مالی استحکام کو بہتر بنانے اور زیر زمین پانی کی ری چارج اور بارش کے پانی کو اکٹھا کرنے جیسے وسائل کو پائیدار بنانے کے اقدامات پر زور دیا ۔ انہوں نے پائیدار خدمات کی فراہمی اور پینے کے پانی کے بنیادی ڈھانچے کی کمیونٹی ملکیت کو یقینی بنانے کے لیے ریاستی او اینڈ ایم پالیسیوں اور دستیاب وسائل سے مؤثر طریقے سے فائدہ اٹھانے پر بھی زور دیا ۔
سمواد کے 11 ویں ایڈیشن میں 4 گرام پنچایت (جی پی) کے صدر دفاتر والے گاؤوں میں زمینی سطح پر بات چیت کی گئی ۔ ورچوئل سمواد میں گرام پنچایت (جی پی) کے نمائندوں ، وی ڈبلیو ایس سی کے ممبران ، کمیونٹی کے شرکاء ، جل سہیوں ، آنگن واڑی کارکنوں ، طلباء ، اساتذہ ، اور گرام پنچایت کے صف اول کے عہدیداروں کے ساتھ ساتھ جے جے ایم ریاستی مشن کے ڈائریکٹرز ، ڈسٹرکٹ کلکٹرز/ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ/ ڈپٹی کمشنر ، ڈی ڈبلیو ایس ایم حکام ، اور ریاستوں کے سینئر افسران سمیت متعدد شرکاء نے شرکت کی ۔ کثیر لسانی سمواد نے گاؤں میں پانی کی خدمات کی پائیدار فراہمی کے کلیدی پہلوؤں پر توجہ مرکوز کی ، جن میں پانی کی فراہمی کی اسکیموں کا بلاتعطل آپریشن ، مقامی آپریٹرز کی مہارت ، پانی کے معیار اور جراثیم کے خاتمے ، کام کاج اور بندو بست میں کمیونٹی کی شرکت ، صارف چارجز اور ہم آہنگی کے ذریعے مالی استحکام ، پینے کے پانی کے ذرائع کا تحفظ ، جل ارپن اور صحت ، تعلیم ، خواتین کو بااختیار بنانے اور مقامی ذریعہ معاش پر پینے کے پانی کی قابل اعتماد خدمات کے وسیع اثرات شامل ہیں ۔
گرام پنچایتوں کی آوازیں
گرام پنچایت: ساکریا ، ضلع: اجین ، مدھیہ پردیش
بات چیت کے دوران ، گرام پنچایت ساکریا کے نمائندوں نے ہندی زبان میں بتایا کہ مشن سے پہلے ، گاؤں والے پینے کے پانی کے لیے بڑے پیمانے پر کنوؤں اور ٹیوب ویلوں پر انحصار کرتے تھے ۔ آج گاؤں کے ہر گھر کو پائپ کے ذریعے پینے کے پانی تک رسائی حاصل ہے اور گاؤں نے ہر گھر جل کا درجہ حاصل کر لیا ہے ۔ کمیونٹی نے بتایا کہ جل ارپن کا انعقاد 16 مارچ 2026 کو کیا گیا تھا اور پینے کے پانی کی خدمات کو ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے ادائیگیوں اور بلنگ کے ساتھ صارف چارجز کے طور پر 150 روپے ماہانہ کی باقاعدہ وصولی کے ذریعے مدد فراہم کی جا رہی ہے ۔ پانی کے معیار کی ہفتہ وار جانچ کے ذریعے پانی کے معیار کی باقاعدگی سے نگرانی کی جا رہی ہے ، اور تربیت یافتہ مقامی آپریٹرز اسکیم کے ہموار کام کاج میں مدد کر رہے ہیں ۔

ضلع اور ریاستی عہدیداروں نے مضبوط آپریشن اور دیکھ بھال کے نظام ، پائیدار ذرائع کے اقدامات اور دستیاب وسائل کے موثر استعمال کے ذریعے گاؤوں میں ہر گھر جل خدمات کی فراہمی کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا ۔ کام کاج اور بندوبست کے ریاستی فریم ورک کا حوالہ دیتے ہوئے ، ایڈیشنل سکریٹری اور مینجنگ ڈائریکٹر ،قومی جل جیون مشن نے کہا کہ وہ گرام پنچایتوں کی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ اخراجات کی منصوبہ بندی اور نگرانی کے لیے ای -گرام سوراج پورٹل سے فائدہ اٹھائیں اور پینے کے پانی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے 16 ویں مالیاتی کمیشن سے منسلک گرانٹس کا موثر استعمال کریں ۔
گرام پنچایت: داشن پارہ ، ضلع: علی پوردوار ، مغربی بنگال
بات چیت کے دوران گرام پنچایت کے نمائندوں اور کمیونٹی نے نیپالی زبان میں بات چیت کی اور کہا کہ جل جیون مشن سے پہلے ، گاؤں کو پینے کے صاف پانی تک رسائی میں کافی چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا تھا اور اس کا زیادہ تر انحصارپانی کے عوامی نلکے اور قریبی کنوؤں پر تھا ۔ گاؤں کے پردھان نے بتایا کہ آج نل کا پانی ہر گھر ، اسکول اور آنگن واڑی مرکز تک پہنچتا ہے ، جس کے نتیجے میں سہولت ، صحت اور مجموعی معیار زندگی میں نمایاں بہتری آئی ہے ۔ آنگن واڑی ووکروں نے اجاگرکیا کہ پینے کے صاف پانی کی دستیابی نے پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں میں کمی اور پانی لانے کے بوجھ کو کم کرنے میں اہم رول ادا کیا ہے ۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پینے کا محفوظ پانی نوعمر لڑکیوں ، حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی ماؤں میں غذائیت ، کھانا پکانے اور آگاہی کی سرگرمیوں میں مدد کر رہا ہے ۔ گاؤں کے پردھان نے خواتین کی فعال شرکت کے ساتھ پانی کے معیار کی نگرانی ، کمیونٹی کو متحرک کرنے اور بیداری پیدا کرنے میں پانی سمیتی کے رول کواجاگر کیا ۔

ضلع اور ریاستی عہدیداروں نے گرام پنچایت کی طرف سے دکھائی گئی کمیونٹی کی مضبوط ملکیت کی تعریف کی اور کہا کہ جل ارپن کے لیے تیاریاں جاری ہیں ، جس سے مقامی ملکیت اور گاؤں میں پینے کے پانی کے وسائل کی طویل مدتی پائیداری کو مزید تقویت ملے گی ۔
گرام پنچایت: گورابالی جنوب ، ضلع: بوکارو ، جھارکھنڈ
گاؤں کے نمائندوں کے ساتھ ہندی زبان میں بات چیت کے دوران ، انہوں نے پینے کے پانی کی رسائی اور معیار زندگی پر جل جیون مشن کے انقلابی اثرات کواجاگر کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ گھریلو نل کنکشن نے دیہی کنبوں کی مشکلات کو نمایاں طور پر کم کیا ہے اور پینے کے صاف پانی تک رسائی کو بہتر بنایا ہے ۔ جل سہیہ ماڈل کی کامیابی پر خاص زور دیا گیا ، جس کے ذریعے خواتین کمیونٹی کو متحرک کرنے ، صارف چارج جمع کرنے ، شکایات کے ازالے اور بیداری پیدا کرنے میں اہم رول ادا کر رہی ہیں ۔ پنچایت نے بتایا کہ باقاعدہ صارف چارجز اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور پینے کے پانی کے کام کاج اور بندوبست کے لیے مقامی طور پر استعمال کیے جا رہے ہیں ۔ کمیونٹی کے نمائندوں نے ایف ٹی کے کے ذریعے پانی کے معیار کی جانچ ، فعال گرام سبھا مباحثے اور ذرائع کی پائیداری کو مستحکم کرنے کی کوششوں پر بھی روشنی ڈالی ۔

ضلع کے عہدیداروں نے بتایا کہ جل سہیہ ماڈل سمیت تقریبا 15 کامیاب کمیونٹی کی قیادت والے ماڈل اس وقت پورے ضلع میں کام کر رہے ہیں ۔ انہوں نے جل سمواد جیسے اختراعی آؤٹ ریچ اقدامات پر بھی روشنی ڈالی ، جس کے تحت افسران براہ راست گرام پنچایتوں کا دورہ کرتے ہیں اور مقامی برادریوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہیں ، اور "ہمارے گاؤں ہمارے لوگ" ، جو ہر سنیچر کو گاؤں والوں کے ساتھ پانی کی فراہمی کی خدمات ، کمیونٹی کی شرکت اور 16 ویں مالیاتی کمیشن سے منسلک گرانٹس کے استعمال کے لیے منصوبہ بندی کے لیے منعقد کیا جاتا ہے ۔
بات چیت کے دوران قومی جل جیون مشن کے ایڈیشنل سکریٹری اور ڈائریکٹر نے مشورہ دیا کہ ریاستیں مقامی زبانوں میں آسان کام کاج اور بندوبست کا مینول تیار کریں، تاکہ گرام پنچایت کے نمائندے اور وی ڈبلیو ایس سی ممبران گاؤں میں پانی کی فراہمی کے نظام کے بندوبست میں اپنی ذمہ داریوں کو بہتر طور پر سمجھ سکیں ۔
گرام پنچایت: پرتاپور ، ضلع: نوبرا ، لداخ
بات چیت کے دوران ، گاؤں کے نمائندوں نے ہندی زبان میں بتایا کہ جل جیون مشن سے پہلے ، سخت سردی کے مہینوں میں پینے کے پانی تک رسائی انتہائی مشکل تھی اور اکثر گاؤوں کو دور دراز کے پانی کے ذرائع تک جانے یا پگھلی ہوئی برف کا استعمال کرنے کی ضرورت ہوتی تھی ۔ گھریلو نل کنکشن کی فراہمی کے بعد ، پینے کا پانی اب سال بھر گھروں میں دستیاب رہتا ہے ۔ کمیونٹی ممبران نے اس بات کو اجاگر کیا کہ پانی کی فراہمی کے بنیادی ڈھانچے میں اپنائے گئے مناسب انجینئرنگ اقدامات کی وجہ سے سردیوں کے دوران بھی پانی کی فراہمی جاری رہتی ہے، جب درجہ حرارت تقریبا منفی 30 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر جاتا ہے ۔ طلباء ، اساتذہ اور دیہی باشندوں نے بھی اسکولوں اور سرکاری اداروں میں پینے کے صاف پانی کی سہولیات کی دستیابی کی تصدیق کی اور پانی کی بچت ، حفاظت اور پانی کے معیار کی نگرانی کے بارے میں بڑھتی ہوئی بیداری کو اجاگر کیا ۔

ریاستی عہدیداروں نے بتایا کہ ہیڈ ورکس کی بہتری ، ذرائع کی پائیداری کے اقدامات اور حال ہی میں مطلع کردہ کام کاج اور بندو بست سے متعلق پالیسی کے نفاذ کے ذریعے پینے کے پانی کے بنیادی ڈھانچے کو مزید مستحکم کرنے کی کوششیں جاری ہیں ۔ انہوں نے اضافی گھریلو نل کنکشن کے لیے جاری منصوبہ بندی ، ذرائع کی پائیداری اور بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے سے متعلق ڈی پی آر کی تیاری اور لداخ کے مشکل خطوں اور موسمی حالات میں قابل اعتماد آبی خدمات کو یقینی بنانے پر مسلسل توجہ مرکوز کرنے پر بھی روشنی ڈالی ۔
قومی جل جیون مشن کے ایڈیشنل سکریٹری اور مینجنگ ڈائریکٹر جناب کمل کشور سون نے اس بات پر زور دیا کہ جے جے ایم 2.0 کی طویل مدتی کامیابی مضبوط کام کاج اور بندوبست کے نظام ، باقاعدہ صارف چارج جمع کرنے ، پائیدار ذرائع کے اقدامات اور پینے کے پانی کے وسائل کے انتظام میں پنچایتوں اور برادریوں کی فعال شمولیت پر منحصر ہوگی ۔

جناب سون نے 2 اکتوبر کی گرام سبھا کو پانی کی بچت ، پینے کے پانی کی حفاظت ، صفائی ستھرائی اور کمیونٹی بیداری کو فروغ دینے کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا ۔ انہوں نے جل ارپن پروگراموں کو منظم کرنے کے لیے ہر گھر جل سرٹی فیکیشن کا عمل مکمل کرنے والی گرام پنچایتوں کی حوصلہ افزائی کی اور مشورہ دیا کہ ریاستیں مقامی زبانوں میں کام کاج اور بندوبست سے متعلق مینول تیار کریں اور اس کی تشہیر کریں، تاکہ پنچایت کے نمائندے اور وی ڈبلیو ایس سی ممبران گاؤں میں پانی کی فراہمی کے نظام کو زیادہ مؤثر طریقے سے منظم اور برقرار رکھ سکیں ۔
........................................................................................................
) ش ح –م ع-ق ر)
U.No. 4290
(ریلیز آئی ڈی: 2316516)
وزیٹر کاؤنٹر : 13