ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
مرکزی وزیر ماحولیات نے وزیر اعلیٰ محترمہ ریکھا گپتا کے ساتھ دہلی میں فضائی آلودگی میں کمی کے منصوبے کا جائزہ لیا؛ مقررہ مدت میں مربوط کارروائی اور عوامی شمولیت پر زور
فضائی معیار بہتر بنانے کے لیے ہاٹ اسپاٹ کے لحاظ سے واضح اہداف، مربوط نفاذ، شہریوں کی شمولیت اور مسلسل جائزہ کلیدی اہمیت رکھتے ہیں: بھوپیندر یادو
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
28 SEP 2026 2:54PM by PIB Delhi
مرکزی وزیر ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی (ای ایف سی سی) جناب بھوپیندر یادو نے آج قومی راجدھانی میں فضائی آلودگی کی روک تھام اور اس پر قابو پانے کے لیے کیے گئے اقدامات کی پیش رفت کا جائزہ لینے اور دہلی حکومت کے فضائی آلودگی میں کمی کے عملی منصوبے کا جائزہ لینے کے لیے دہلی کی وزیر اعلیٰ محترمہ ریکھا گپتا کے ساتھ اعلی سطحی اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں پہلے سے کیے گئے اقدامات، زمینی سطح پر حاصل ہونے والی پیش رفت اور موسم سرما سے قبل اور اس کے دوران مزید کیے جانے والے ضروری اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں دہلی کے ماحولیات، جنگلات اور جنگلی حیات کے وزیر سردار منجندر سنگھ سرسا اور دہلی کے تعمیرات عامہ کے وزیر جناب پرویش صاحب سنگھ کے علاوہ وزارت ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی (ایم او ای ایف سی سی) اور قومی راجدھانی خطہ دہلی حکومت کے اعلیٰ عہدیداران بھی موجود تھے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر جناب بھوپیندر یادو نے ہدایت دی کہ دہلی میں نشان زد کیے گئے 37 ہاٹ اسپاٹ مقامات پر 10 اکتوبر تک متعلقہ فریقوں کو شامل کرتے ہوئے جن بھاگیداری پروگرام منعقد کیے جائیں۔ جناب یادو نے ہدایت دی کہ ہر ہاٹ اسپاٹ کے لیے قابل عمل نکات کی نشاندہی کی جائے اور ان پر عمل درآمد کی قریبی نگرانی کی جائے۔ عوامی نمائندے ان ہاٹ اسپاٹ مقامات کا دورہ کریں گے اور زمینی سطح پر فضائی آلودگی میں کمی کے اقدامات پر عمل درآمد کا جائزہ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان علاقوں کے لیے مخصوص اقدامات آلودگی کے مختلف ذرائع سے نمٹنے میں مجموعی طور پر مؤثر نتائج دینے میں معاون ثابت ہوں گے۔
وزیر نے زرعی سرگرمیوں سے ہونے والی آلودگی سے نمٹنے کے لیے مربوط کارروائی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ اس سلسلے میں مرکزی وزیر زراعت اور قومی راجدھانی خطے (این سی آر) کی ریاستوں کے وزرائے زراعت کے ساتھ اجلاس منعقد کرنے کی تجویز بھی دی گئی۔ جناب یادو نے کہا کہ دہلی اور این سی آر کے دیگر حکام کے ساتھ ہونے والی بات چیت کو ٹھوس عملی نکات میں تبدیل کیا جائے اور این سی آر کے علاقوں کے لیے عملی منصوبوں کو 10 اکتوبر سے پہلے حتمی شکل دی جائے۔ انہوں نے فضائی آلودگی کے مختلف شعبوں اور ذرائع کے خلاف مربوط نفاذ اور کارروائی کی ضرورت پر زور دیا۔ جناب یادو نے عوام میں زیادہ سے زیادہ بیداری پیدا کرنے اور شہریوں کی شمولیت یقینی بنانے پر زور دیا، تاکہ لوگ کیے جانے والے اقدامات کو سمجھ سکیں اور فضائی معیار بہتر بنانے میں فعال کردار ادا کریں۔ مرکزی وزیر نے زور دیا کہ توجہ مسلسل بہتری لانے اور لوگوں کو حقیقی راحت اور مثبت تبدیلی کا واضح احساس دلانے پر مرکوز رہنی چاہیے۔

دہلی کی وزیر اعلیٰ محترمہ ریکھا گپتا نے کہا کہ دہلی حکومت نے فضائی معیار بہتر بنانے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں اور اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا کہ لیے گئے فیصلوں اور نشان زد کیے گئے عملی نکات کو زمینی سطح پر مؤثر طریقے سے نافذ کیا جائے۔ وزیر اعلیٰ نے مختلف اداروں کے درمیان، بالخصوص نفاذ اور ٹریفک انتظام کے شعبوں میں، بہتر تال میل اور تعمیراتی مقامات پر کیمروں سمیت ٹیکنالوجی کے زیادہ سے زیادہ استعمال پر زور دیا تاکہ ضابطوں کی پابندی کی نگرانی کی جا سکے۔ انہوں نے شمشان گھاٹوں سے ہونے والے اخراج کو کم کرنے کے لیے تکنیکی حل تلاش کرنے اور برقی شمشان سہولیات کے بارے میں عوامی بیداری بڑھانے کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی، جن میں معاشی طور پر کمزور طبقات کے لیے ان سہولیات کی دستیابی بھی شامل ہے۔

مرکزی وزیر کی زیر صدارت اعلی سطحی اجلاس میں تفصیلی غور و خوض کے بعد آنے والے موسم سرما کے دوران فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے ایک جامع اور نتائج پر مبنی حکمت عملی کو حتمی شکل دی گئی۔ ہدف پر مبنی عملی نکات کے ساتھ تیار کی گئی اس حکمت عملی کے تحت گاڑیوں سے ہونے والے اخراج، سڑکوں اور تعمیراتی مقامات سے اٹھنے والی گرد و غبار، کچرے اور بایوماس کو جلانے، صنعتی اخراج، عوامی نقل و حمل، شجرکاری اور آلودگی و ٹریفک کے ہاٹ اسپاٹ مقامات کے خلاف کارروائی تیز کی جائے گی۔ شہریوں، رہائشی فلاحی انجمنوں(آر ڈبلیو اے) ، مارکیٹ انجمنوں، صنعتوں اور عوامی نمائندوں کو اس مہم میں فعال شراکت دار کے طور پر شامل کیا جائے گا۔
اجلاس کے دوران درج ذیل ہدف پر مبنی عملی نکات کی نشاندہی کی گئی:
- ’پی یو سی سی نہیں تو ایندھن نہیں‘ مشن موڈ میں نافذ کیا جائے گا
یہ فیصلہ کیا گیا کہ شہر بھر میں بیداری اور نفاذی مہم کے ذریعے تمام 500 اے این پی آر سے لیس پٹرول پمپوں پر ’پی یو سی سی نہیں تو ایندھن نہیں‘ کے اصول کو مشن موڈ میں نافذ کیا جائے گا اور خلاف ورزی کرنے والے پٹرول پمپوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
- عوامی نقل و حمل کو ترجیح — آخری مرحلے تک رابطہ
عوامی نقل و حمل کو فروغ دینے کے لیے یکم سے 10 اکتوبر کے دوران شہر گیر مہم چلائی جائے گی، جس کے تحت دہلی میٹرو سارتھی ایپ کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ اس سلسلے میں رہائشی فلاحی انجمنوں (آر ڈبلیو اے) اور عوامی نمائندوں کے تعاون سے ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے کیمپ بھی لگائے جائیں گے۔ بتایا گیا کہ تمام 228 میٹرو اسٹیشنوں پر آخری مرحلے تک رابطے کی سہولت دستیاب ہے، جبکہ دہلی میں بسوں کا بیڑا بڑھ کر 6,840 ہو گیا ہے، جس میں 5,088 ای بسیں شامل ہیں۔
- ہاٹ اسپاٹ کے لیے عملی منصوبہ
فضائی معیار اور ٹریفک کے ہاٹ اسپاٹ مقامات کے لیے عوامی نمائندے عہدیداروں، رہائشی فلاحی انجمنوں (آر ڈبلیو اے) ، تاجروں اور ٹریفک پولیس کے ساتھ باقاعدگی سے فیلڈ دورے کریں گے۔ اب تک 42 ہاٹ اسپاٹ مقامات کے مسائل دور کیے جا چکے ہیں، جبکہ مزید 8 مقامات کو اکتوبر تک بہتر بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ دہلی ٹریفک پولیس سے مشاورت کے بعد ہاٹ اسپاٹ مقامات پر یک طرفہ ٹریفک اور ٹریفک کی بھیڑ کم کرنے کے لیے آزمائشی اقدامات کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ شہریوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی کہ وہ تجاوزات، غیر قانونی پارکنگ اور کچرا پھینکنے کے مقامات کی نشاندہی کریں۔ دہلی حکومت نے بتایا کہ 8 نشان زدہ سڑکوں کو سگنل فری بنا دیا گیا ہے، جبکہ باقی 7 سڑکوں کو اکتوبر 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف ہے۔
- سڑکوں کی ازسرنو تعمیر اور گرد و غبار میں کمی
سڑکوں کی ازسرنو تعمیر کے کام میں تیزی لانے کی مزید ہدایات دی گئیں۔ اب تک 1,193 کلومیٹر سڑکوں کا کام مکمل کیا جا چکا ہے، جبکہ باقی کام 15 نومبر تک مکمل کرنے کا ہدف ہے۔ فٹ پاتھوں کی مکمل اور مربوط پختہ کاری یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا، جس میں پیدل چلنے کی سہولت اور گرد و غبار میں کمی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ معیاری عملی طریقہ کار (ایس او پی) کے مطابق شکایات کا 72 گھنٹے کے اندر ازالہ کیا جائے گا۔
- کھلے میں کچرا جلانے کی روک تھام
اجلاس میں گہری صفائی، مؤثر کچرا انتظام اور کچرا جلانے کے مکمل خاتمے کے اقدامات تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس میں وارڈ سطح پر نگرانی، بازاروں سے کچرا جمع کرنے کے نظام کو مضبوط بنانا اور ٹھوس کچرا انتظام کے قواعد 2026 کا مؤثر نفاذ شامل ہے۔ دہلی حکومت نے بتایا کہ ایم آر ایس ایم کی تعداد گزشتہ سال کے 76 کے مقابلے میں بڑھ کر 98 ہو گئی ہے۔ شہر بھر میں ’زیرو برننگ‘ عہد مہم چلائی جائے گی اور کچرا جلانے کی روک تھام کے لیے 15 اکتوبر تک وارڈ اور ضلع/سب ڈویژن سطح پر خصوصی نگرانی ٹیمیں تعینات کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ موسم سرما کے عملی منصوبے کے تحت آزمائشی بنیاد پر ہیٹنگ بوتھ قائم کیے جائیں گے۔ غیر مجاز مگر باقاعدہ قرار دی گئی کالونیوں اور جے جے کلسٹرز پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
- سبزہ کاری پر خصوصی توجہ
اجلاس میں بنجر علاقوں میں پودوں کے تحفظ اور سبزہ کاری پر زور دیا گیا۔ دہلی حکومت نے بتایا کہ اب تک 71 لاکھ پودے لگائے جا چکے ہیں اور نشان زدہ 434 ایکڑ بنجر علاقوں میں سے 433 ایکڑ کو سرسبز بنایا جا چکا ہے۔
- کچرے سے دولت
اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ تعمیراتی منصوبے کی منظوری کے لیے ’ملبہ ایپ‘ پر رجسٹریشن کو لازمی شرط بنایا جائے۔ دہلی حکومت نے بتایا کہ تعمیرات اور انہدام سے پیدا ہونے والی گرد و غبار پر قابو پانے کے لیے یکم نومبر سے 31 جنوری تک گرد و غبار پیدا کرنے والی انہدامی سرگرمیوں اور بیرونی تعمیراتی کاموں پر پابندی عائد رہے گی، جبکہ 10 دسمبر سے 20 جنوری تک تعمیرات اور انہدام کی تمام سرگرمیوں پر مکمل پابندی ہوگی۔
- موسم سرما کا پروٹوکول
اجلاس میں موسم سرما کے لیے پیشگی اقدامات طے کیے گئے، جن میں آلودگی پھیلانے والی گاڑیوں پر پابندیاں، پارکنگ فیس کو دوگنا کرنا، دفتری اوقات میں مرحلہ وار تبدیلی اور 50 فیصد عملے کے لیے گھر سے کام کرنے کا انتظام شامل ہے۔ یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ یکم نومبر 2026 سے دہلی سے باہر رجسٹرڈ اور بی ایس-6 سے کم اخراجی معیار والی تمام گاڑیوں کے دہلی میں داخلے پر پابندی ہوگی، البتہ سی این جی اور برقی گاڑیوں کو اس سے مستثنی رکھا جائے گا۔
- پریورتن یوجنا اور ای وی بیداری مہم
اجلاس میں ای وی پالیسی 2026 کو فروغ دینے، پرانی گاڑیوں کو اسکریپ کرنے پر مراعات میں اضافہ کرنے اور پریورتن اسکیم کے تحت مشن موڈ میں رجسٹریشن مہم چلانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس مہم کو تیز کرنے کے لیے اکتوبر-نومبر میں جن بھاگیداری کیمپ منعقد کرنے کی بھی ہدایت دی گئی۔
- صنعتی آلودگی میں کمی
صنعتی شعبے میں نفاذی کارروائی کو مضبوط بنانے، مصنوعی ذہانت سے لیس کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کو فعال کرنے، نگرانی کے اسٹیشنوں کی تعداد 47 سے بڑھا کر 60 کرنے اور ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والی آلودگی پھیلانے والی صنعتوں کے خلاف سخت کارروائی کے لیے 334 نفاذی ٹیمیں تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ شہریوں کی شمولیت، شکایات کے ازالے، روزانہ فضائی معیار اشاریہ(اے کیو آئی ) بلیٹن اور این سی آر کی سطح پر مربوط ایئرشیڈ کارروائی کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔
اجلاس میں وزارت ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی(ایم او ای ایف سی سی) کے سکریٹری جناب تنمے کمار، کمیشن فار ایئر کوالٹی مینجمنٹ (سی اے کیو ایم)کے چیئرمین جناب راجیش ورما، وزارت ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی اور قومی راجدھانی خطہ دہلی حکومت کے اعلیٰ عہدیداران نے شرکت کی۔ اجلاس میں مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ(سی پی سی بی) ، دہلی آلودگی کنٹرول کمیٹی (ڈی پی سی سی ) ، میونسپل کارپوریشن آف دہلی (ایم سی ڈی)، نئی دہلی میونسپل کونسل (این دی ای سی) ، دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ڈی ڈی اے)دہلی ٹرانسپورٹ محکمہ، دہلی میٹرو، دہلی پولیس اور تعمیرات عامہ کے محکمے (پی ڈبلیو ڈی) کے اعلیٰ عہدیدار بھی موجود تھے۔
************
ش ح۔ا ک۔ ج ا
(U: 4218)
(ریلیز آئی ڈی: 2316018)
وزیٹر کاؤنٹر : 9