وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
azadi ka amrit mahotsav

نیلی انقلاب کو تحفظ: پی ایم-ایم کے ایس ایس وائی   ہندوستان کے آبی زراعت کسانوں کے لیے خطرات کے انتظام کو کس طرح تبدیل کر رہا ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 28 SEP 2026 12:17PM by PIB Delhi

 ہندوستان  میں آبی زراعت کی کہانی مسلسل ترقی کی عکاسی کرتی ہے، جس میں پیداوار میں اضافہ، زیادہ لوگوں کی شمولیت اور منڈیوں سے  مستحکم  روابط شامل ہیں۔ تاہم، توسیع کو فروغ دینے والے یہی عوامل خطرات میں بھی اضافہ کرتے ہیں۔ بیماریاں، سیلاب اور آب و ہوا میں تغیرات آبی زراعت کے پورے پیداواری دور کو متاثر کر سکتے ہیں اور کسانوں پر شدید مالی دباؤ ڈال سکتے ہیں۔ پی ایم-ایم کے ایس ایس وائی کا آبی زراعت بیمہ اقدام خطرات کی کوریج کے ایک منظم طریق کار کے ذریعے اس حقیقت کا جواب دیتا ہے۔ بڑے پیمانے پر اس کے مؤثر نفاذ کے لیے کسانوں اور بیمہ کمپنیوں کے درمیان شفافیت، فوری ردعمل اور بروقت معاوضہ کے ذریعے اعتماد قائم کرنا ضروری ہے۔

عالمی سطح پر ماہی گیری اور آبی زراعت کی پیداوار 2024 میں ریکارڈ 235 ملین ٹن تک پہنچ گئی، جس میں 195 ملین ٹن آبی حیوانات شامل تھے۔ اس شعبے سے پہلی فروخت کی سطح پر تقریباً 565 ارب امریکی ڈالر کی مالیت حاصل ہوئی، جبکہ آبی مصنوعات کی بین الاقوامی تجارت 186 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی۔ عالمی آبی غذائی نظام میں آبی زراعت نے ترقی کا عمل جاری رکھا، جبکہ قدرتی آبی وسائل سے ماہی گیری کی پیداوار تقریباً 92 ملین ٹن کی سطح پر مستحکم رہی۔ اندرون ملک ماہی گیری نے بھی 12.3 ملین ٹن کی ریکارڈ پیداوار حاصل کی، جو دنیا بھر میں غذائی تحفظ اور روزگار کے لیے اس کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔

اس عالمی منظرنامہ میں ہندوستان  کا حصہ نمایاں بھی ہے اور مسلسل وسعت بھی اختیار کر رہا ہے۔ 2024-25 میں  ہندوستان کی سالانہ مچھلی کی پیداوار ریکارڈ 19.8 ملین ٹن تک پہنچ گئی، جس کے ساتھ  ہندوستان دنیا میں مچھلی پیدا کرنے والا دوسرا سب سے بڑا ملک بن گیا ہے، جہاں عالمی پیداوار میں اس کا حصہ تقریباً 8 فیصد ہے۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ آبی زراعت، جس میں میٹھے پانی کی کارپ مچھلیوں کی تالاب میں پرورش، کھارے پانی میں جھینگے اور پرون کی پرورش، کیج کلچر اور ٹھنڈے پانی اور سمندری انواع کی بڑھتی ہوئی تعداد شامل ہے، اب  ہندوستان کی مجموعی مچھلی کی پیداوار کا تقریباً 74 فیصد سے زیادہ حصہ ہے۔

 ہندوستان  کی مجموعی مچھلی کی پیداوار 2013-14 میں 9.6 ملین ٹن سے بڑھ کر 2024-25 میں 19.8 ملین ٹن ہوگئی، جبکہ اندرون ملک مچھلی کی پیداوار 2013-14 کے 6.1 ملین ٹن سے بڑھ کر 2024-25 میں 14.74 ملین ٹن تک پہنچ گئی۔ یہ ایک ایسی تبدیلی ہے جس کا مقابلہ بہت کم شعبے کر سکتے ہیں۔ برآمدات کے حوالہ سے بھی صورتحال اتنی ہی متاثر کن ہے۔  ہندوستان  دنیا کے معروف سمندری غذا برآمد کرنے والے ممالک میں شامل ہے، جہاں صرف منجمد جھینگے سے حاصل ہونے والی آمدنی مجموعی سمندری غذا کی برآمداتی آمدنی کا تقریباً 66 فیصد ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران  ہندوستان  کی سمندری مصنوعات کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور یہ 2013-14 میں 5.08 ارب امریکی ڈالر سے بڑھ کر 2025-26 میں 8.46 ارب امریکی ڈالر ہوگئی ہیں، جو عالمی منڈیوں میں اس شعبے کی بڑھتی ہوئی مسابقتی صلاحیت کی عکاسی کرتی ہے۔ 2025-26 میں  ہندوستان نے دنیا بھر کی منڈیوں میں 8.46 ارب امریکی ڈالر مالیت کی سمندری غذا برآمد کی۔

ماہی گیری کا شعبہ 30 ملین سے زیادہ لوگوں کو روزگار اور ذریعہ معاش فراہم کرتا ہے، جن میں ماہی گیر، مچھلی پالنے والے کسان، تاجر، پروسیسنگ سے وابستہ افراد اور نقل و حمل کے شعبے سے وابستہ لوگ شامل ہیں۔ ان میں زیادہ تر افراد  ہندوستان  کی ساحلی، قبائلی اور معاشی طور پر پسماندہ برادریوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایسے ملک میں جہاں زرعی مشکلات ایک مستقل چیلنج بنی ہوئی ہیں، ماہی گیری کا شعبہ، جس کی قیادت آبی زراعت کی پیداوار کر رہی ہے، دیہی معیشت میں خاموشی سے معاشی نقل و حرکت کا ایک اہم ذریعہ بن کر ابھرا ہے۔

 ہندوستان کے آبی زراعت کے شعبے میں نمایاں ترقی ہوئی ہے، جو حالیہ برسوں میں مسلسل پیش رفت کی عکاسی کرتی ہے، جبکہ اس میں مزید توسیع کے بھی وسیع امکانات موجود ہیں۔ ملک میں 1.95 لاکھ کلومیٹر طویل ندیاں اور نہریں، 31.5 لاکھ ہیکٹر رقبہ پر آبی ذخائر، 22.1 لاکھ ہیکٹر رقبہ پر تالاب اور جھیلیں اور 14.1 لاکھ ہیکٹر کھارے پانی کا علاقہ موجود ہے، جن میں سے صرف تقریباً 17 فیصد رقبہ کو آبی زراعت کے لیے ترقی دی گئی ہے۔ مچھلی کی پیداوار 2013-14 کے 9.6 ملین ٹن سے بڑھ کر 2024-25 میں 19.8 ملین ٹن ہوگئی، جو 106 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہے۔ اس دوران آبی زراعت کی اوسط پیداواری صلاحیت بڑھ کر 4.77 ٹن فی ہیکٹر ہوگئی ہے، جبکہ پی ایم ایم ایس وائی کے تحت حکومت نے 5 ٹن فی ہیکٹر کا ہدف مقرر کیا ہے۔ یہ ایک ایسی منڈی ہے جس میں ایک طرف غیر استعمال شدہ وسائل کے وسیع امکانات موجود ہیں اور دوسری طرف موجودہ ترقی کی رفتار بھی تیز ہے۔ اتنے بڑے پیمانے کی منڈی میں مالی خطرات بھی موجود ہیں جنہیں کوئی بھی انفرادی کسان اکیلے برداشت نہیں کر سکتا۔

جیسے جیسے آبی زراعت کی پیداوار میں افقی طور پر نئے فارموں کے پھیلاؤ اور عمودی طور پر موجودہ فارموں میں پیداوار بڑھانے کے عمل کے ذریعے اضافہ ہو رہا ہے، یہ شعبہ متعدد خطرات سے دوچار ہے۔ بیماریوں کا پھیلنا، موسم گرما میں مچھلیوں کے بڑے پیمانے پر مرنے جیسے ناقابل تدارک خطرات، آلودگی، زلزلے، سمندری طوفان، سیلاب اور دیگر قدرتی آفات ایسے بار بار پیش آنے والے خطرات ہیں جو کئی ماہ کی سرمایہ کاری کو ایک ہی جھٹکے میں تباہ کر سکتے ہیں۔

ان خطرات کے مجموعی مالی اثرات چھوٹے اور معمولی درجے کے کسانوں کے لیے شدید ہوتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر کسان کم منافع پر کام کرتے ہیں اور بلند شرح سود پر غیر رسمی قرضوں سے اپنی مالی ضروریات پوری کرتے ہیں۔ فصل کا ایک ہی دور ناکام ہونا محض کسان کی مالی حالت کو چند قدم پیچھے نہیں لے جاتا بلکہ اسے قرض کے ایسے چکر میں دھکیل سکتا ہے جس سے نکلنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں، اور بعض صورتوں میں اس سے نکلنا ممکن بھی نہیں ہوتا۔ انفرادی نقصانات کا مجموعی اثر شعبے کی ترقی کی صلاحیت کو محدود کرتا ہے، سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کرتا ہے اور ان کسانوں کے عزائم کو بھی محدود کر دیتا ہے جو بصورت دیگر اپنے کاروبار کو وسعت دے سکتے ہیں۔ اس لیے خطرات کو کم کرنے کی معاشی ضرورت محض کسانوں کی فلاح و بہبود کا معاملہ نہیں بلکہ شعبے کی پیداواری صلاحیت اور قومی غذائی تحفظ کا بھی معاملہ ہے۔

دستیاب خطرات کے انتظام کے ذرائع میں بیمہ ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ یہ نقصانات کو روکتا نہیں، لیکن کسانوں کو مالی مشکلات سے تحفظ فراہم کرتا ہے، جس سے ان کی مشکلات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت اور پیداوار جاری رکھنے کی استعداد مضبوط ہوتی ہے۔ اسی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت ہند نے 8 فروری 2024 کو پردھان منتری  متسیہ کسان سمردھی سہ یوجنا (پی ایم- ایم کے ایس ایس وائی) کو منظوری دی۔ اس ذیلی اسکیم کے جزوبی-1کے تحت آبی زراعت کے بیمہ کو اپنانے کی حوصلہ افزائی کا انتظام کیا گیا ہے۔ اس کے فوائد نیشنل فشریز ڈجیٹل پلیٹ فارم (این ایف ڈی پی)کے ذریعے فراہم کیے جاتے ہیں، جس سے یہ یقینی بنایا جاتا ہے کہ فوائد براہ راست ڈی بی ٹی کے ذریعے کسانوں تک پہنچیں۔

پی ایم-ایم کے ایس ایس وائی کے تحت آبی زراعت کا بیمہ استطاعت سے متعلق بنیادی رکاوٹ کو دور کرتا ہے۔ اس کے تحت آبی زراعت کے کسانوں کو ایک فصل کے دور کے لیے آبی زراعت کی بیمہ پالیسی خریدنے پر ڈی بی ٹی کے ذریعے یکمشت مالی مراعات دی جاتی ہیں۔ اسکیم کے تحت اہل مستفیدین کو بیمہ پریمیم کی لاگت کا 40 فیصد تک مالی تعاون فراہم کیا جاتا ہے۔ تالاب پر مبنی آبی زراعت کے لیے یہ مراعات پانی کے پھیلے ہوئے رقبہ کے حساب سے زیادہ سے زیادہ 25,000 روپے فی ہیکٹر تک محدود ہیں، جبکہ 4 ہیکٹر تک کے لیے زیادہ سے زیادہ مراعات 1,00,000 روپے ہیں۔ ایک ہیکٹر سے کم رقبہ والے فارموں کو متناسب بنیاد پر مراعات دی جاتی ہیں۔ جدید آبی زراعت کے نظام، جیسے کیج کلچر، ریسِرکیولیٹری ایکوا کلچر سسٹمز (آر اے ایس) ، بایو فلوک، ریس ویز اور اسی نوعیت کی دیگر ٹیکنالوجیز کے لیے بیمہ پریمیم کا 40 فیصد مالی تعاون فراہم کیا جاتا ہے، جس کی زیادہ سے زیادہ حد ایک 1,00,000 روپے اور اہل یونٹ کے حجم کی زیادہ سے زیادہ حد 1,800 مکعب میٹر ہے۔ اس کے علاوہ درج فہرست ذات(ایس سی)  درج فہرست قبائل (ایس ٹی) اور خواتین مستفیدین کو عام زمرے کے لیے قابل ادائیگی مراعات کے علاوہ 10 فیصد اضافی مراعات بھی دی جاتی ہیں۔

دعوے (کلیم)کے تصفیہ کے سلسلہ میں، بیمہ شدہ خطرے کے پیش آنے کی صورت میں مستفید فرد کو دعویٰ کا عمل شروع کرنے کے لیے فوری طور پر بیمہ کمپنی کو اطلاع دینا ضروری ہے۔ بیمہ شدہ فرد کو پالیسی کی شرائط کے مطابق دستاویزی ثبوت پیش کرنا ہوتا ہے، جس کے بعد بیمہ کمپنی نقصان کے جائزے کے لیے ایک نقصان کا تخمینہ لگانے والا مقرر کرتی ہے۔ جائزہ رپورٹ کی بنیاد پر دعویٰ پر کارروائی کی جاتی ہے اور بیمہ شدہ فرد کو ادائیگی کی جاتی ہے، جبکہ بیمہ کمپنی کے پورٹل کے ذریعے دعوے کی صورتحال سے متعلق وقتاً فوقتاً معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔ دعوے کے تصفیے کا پورا عمل جھینگا پروری کے لیے 30 دن اور دیگر آبی زراعت کی سرگرمیوں کے لیے 45 دن کے اندر مکمل کیا جانا ضروری ہے۔

فی الحال چار بیمہ کمپنیاں فعال ہیں، جن میں او آئی سی ایل، اے آئی سی ایل ، این آئی اے ایل اوریو آئی آئی سی شامل ہیں۔ یہ کمپنیاں جھینگا/پرون، میٹھے پانی کی مچھلی اور ٹھنڈے پانی کی انواع کے لیے بیمہ کوریج فراہم کر رہی ہیں۔ بیمہ کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے نجی بیمہ کمپنیوں کو بھی اس نظام میں شامل کرنے کا عمل جاری ہے۔

اسکیم کے تحت یکمشت مراعات (او ٹی آئی)کے جزو پر عمل درآمد میں بھی حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی ہے۔ اب تک مجموعی طور پر 316 او ٹی آئی درخواستیں موصول ہوئی ہیں، جو 730.61 ہیکٹر رقبہ پر محیط ہیں۔ ان میں سے 127 درخواستوں کو منظوری دے کر مراعات کی رقم جاری کی جاچکی ہے، جس سے 321.74 ہیکٹر رقبہ پر کام کرنے والے کسان مستفید ہوئے ہیں اور مجموعی طور پر 40.03 لاکھ روپے کی رقم جاری کی گئی ہے۔ آبی زراعت کے بیمہ کے مکمل فوائد اسی وقت حاصل ہوں گے جب کسانوں اور بیمہ کمپنیوں کے درمیان تعلق اس اعتماد پر قائم ہو کہ دعووں کا منصفانہ جائزہ لیا جائے گا اور غیر ضروری تاخیر کے بغیر ان کا تصفیہ کیا جائے گا۔ اب ضروری ہے کہ دعووں سے نمٹنے کے عمل میں مسلسل بہتری لائی جائے، تصدیق کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے اور معاملات کو بروقت حل کیا جائے، تاکہ کسانوں کے لیے بیمہ محض کاغذی کارروائی نہیں بلکہ نقصان کے وقت قابل اعتماد تحفظ بن کر سامنے آئے۔

حکومت کا مقصد صرف بیمہ پریمیم پر مالی تعاون فراہم کرنے تک محدود نہیں ہے بلکہ آبی زراعت کے بیمہ کے لیے ایک پائیدار اور خود کفیل منڈی تشکیل دینا بھی ہے۔ اس کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کے درمیان مربوط اور باہمی تعاون پر مبنی طریق کار ضروری ہوگا: مرکز کی جانب سے پالیسی سمت اور ڈجیٹل نظام فراہم کرنا، ریاستوں کی جانب سے عوام تک رسائی اور زمینی سطح پر معاونت کو یقینی بنانا، بیمہ کمپنیوں کی جانب سے قابل اعتماد بیمہ مصنوعات تیار کرنا اور ان کی خدمات فراہم کرنا، کسانوں کی جانب سے فارم کے انتظام کے حصے کے طور پر خطرات سے تحفظ اختیار کرنا اور تکنیکی اداروں کی جانب سے خطرات کے جائزے، نگرانی اور نقصانات کی تصدیق کے نظام کو مضبوط بنانا۔ پی ایم-ایم کے ایس ایس وائی میں بھی یہ تصور کیا گیا ہے کہ یہ اقدامات وقت کے ساتھ آبی زراعت کے بیمہ سے متعلق مصنوعات کے لیے ایک مضبوط منڈی تشکیل دینے میں مدد کریں گے۔ ایسی منڈی اسی وقت پائیدار بن سکتی ہے جب تمام متعلقہ فریق عملی، فوری اور مربوط انداز میں آبی زراعت سے وابستہ خطرات سے نمٹنے کے لیے باہمی ہم آہنگی کے ساتھ کام کریں۔ ایسا ہونے پر بیمہ محض حکومت کی معاونت سے چلنے والی ایک مداخلت کے بجائے ایک مضبوط اور مستحکم آبی زراعت کی معیشت کا لازمی حصہ بن جائے گا۔

*****

 ش ح – ظ الف –ش ب ن

UR No. 4208


(ریلیز آئی ڈی: 2315898) وزیٹر کاؤنٹر : 11
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी