حکومت ہند کے سائنٹفک امور کے مشیر خاص کا دفتر
azadi ka amrit mahotsav

حکومت ہند کے پرنسپل سائنٹفک ایڈوائزر نے آئی آئی ٹی روڑکی میں رو ٹیگ 2.0 منصوبوں کے تیسرے سالانہ جائزہ اجلاس کی صدارت کی


دیہی ضروریات سے حقیقی دنیا کے حل تک: رو ٹیگ 2.0 ٹیکنالوجی کے اثرات کو مزید گہرا کرنے پر مرکوز

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 25 SEP 2026 8:01PM by PIB Delhi

حکومت ہند کے پرنسپل سائنٹفک ایڈوائزر (پی ایس اے) پروفیسر اجے کمار سود نے رورل ٹیکنالوجی ایکشن گروپ (رو ٹیگ) 2.0 کے منصوبوں کے تیسرے سالانہ جائزہ اجلاس کی صدارت کی۔ یہ اجلاس پرنسپل سائنٹفک ایڈوائزر کے دفتر (او پی ایس اے) کی ایک پہل ہے اور 24 اور 25 ستمبر 2026 کو اتراکھنڈ کے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی) روڑکی میں منعقد ہوا۔

رو ٹیگ کا تصور 2003-04 میں پیش کیا گیا تھا اور پرنسپل سائنٹفک ایڈوائزر کے دفتر نے اسے باضابطہ طور پر 2004 میں قائم کیا تھا۔ اس کا مقصد سائنسی اور تکنیکی اداروں کی صلاحیتوں کو دیہی ٹیکنالوجی کی ضروریات سے جوڑنا تھا۔ 2023 میں شروع کیے گئے رو ٹیگ 2.0 میں زمینی سطح پر شمولیت، ٹیکنالوجی کی توثیق، تجارتی سطح پر استعمال، بڑے پیمانے پر توسیع اور وسیع تر اطلاق پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔ دو روزہ جائزہ اجلاس میں تمام سات رو ٹیگ مراکز کے متعلقہ فریقوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں رو ٹیگ 2.0 کے تحت جاری منصوبوں کی مجموعی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور ٹیکنالوجی کی پختگی، زمینی سطح پر توثیق، قابل پیمائش نتائج، وسیع تر اپنائے جانے کے راستوں اور پروگرام کے مستقبل کے لائحۂ عمل پر غور و خوض کیا گیا۔

 

A group of people standing in front of a stageAI-generated content may be incorrect.

 

ڈاکٹر پرویندر مینی، سائنٹفک سکریٹری، او پی ایس اے؛ پروفیسر کمال کشور پنت، ڈائریکٹر، آئی آئی ٹی روڑکی؛ اور ڈاکٹر راکیش کور، ایڈوائزر/سائنٹسٹ ’جی‘، او پی ایس اے نے رو ٹیگ مراکز کے پرنسپل انویسٹی گیٹر، شریک انویسٹی گیٹر اور منصوبہ جاتی ٹیموں کے ساتھ اجلاس میں شرکت کی۔ افتتاحی اجلاس کا آغاز رو ٹیگ آئی آئی ٹی روڑکی کے پرنسپل انویسٹی گیٹر پروفیسر ایس کے سنگل کے استقبالیہ خطاب سے ہوا۔

اپنے خطاب میں پروفیسر اجے کمار سود نے اس بات پر زور دیا کہ رو ٹیگ کو دیہی برادریوں کو درپیش عملی اور حقیقی مسائل کے حل پر اپنی توجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ تکنیکی اقدامات قابل توسیع اور پائیدار ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا، ”مقصد سرگرمیوں کے دائرے کو وسیع کرنے کے بجائے، ان کے اثرات کو مزید گہرا کرنا ہونا چاہیے۔“

 

A group of people sitting at a tableAI-generated content may be incorrect.

 

پروفیسر سود نے مزید اس بات پر زور دیا کہ سستی قیمت کو معیار، قابل اعتماد ہونے، تحفظ یا پائیداری پر سمجھوتے کا باعث نہیں بننا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو ٹیکنالوجیز پختگی کی منزل تک پہنچ چکی ہیں، انہیں بتدریج پروگرام کے تحت حاصل ہونے والی معاونت سے آگے بڑھاتے ہوئے متعلقہ اداروں، کاروباری اداروں یا صنعت کے ذریعے اپنائے جانے کی سمت میں لے جانا چاہیے۔ انہوں نے ٹیکنالوجی کی تلاش، توثیق، تعیناتی اور باہمی تعاون کے سلسلے میں این اے بی اے آر ڈی کی جانب سے پرنسپل سائنٹفک ایڈوائزر کے دفتر کے اشتراک سے تیار کیے گئے آر ایس وی سی-امرت پلیٹ فارم کا بھی حوالہ دیا۔

 

 

او پی ایس اے کی سائنٹفک سکریٹری ڈاکٹر پرویندر مینی نے کہا کہ رو ٹیگ ٹیکنالوجیز اب ایسے مرحلے تک پہنچ چکی ہیں جہاں ان کے تعاون کو محض الگ الگ تکنیکی حل کے طور پر نہیں بلکہ وسیع تر دیہی ویلیو چین اور ذریعۂ معاش کے نظام کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا، ”رو ٹیگ کی طاقت کا انحصار بتدریج اس بات پر ہوگا کہ اس کی ٹیکنالوجیز کو کس مؤثر انداز میں اپنایا اور بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔“

ڈاکٹر مینی نے مزید کہا کہ ٹیکنالوجی کو آگے بڑھانے کے لیے درکار تقاضے اس کی ترقی اور اپنائے جانے کے مرحلے کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں۔ انہوں نے رو ٹیگ ٹیکنالوجیز کو اپنانے اور ان کے استعمال میں معاونت کے لیے ریاستی حکومتوں، پروڈیوسر تنظیموں، مالیاتی اداروں، انکیوبیٹر، مینوفیکچرر اور مقامی سطح پر تیار کرنے والوں کے کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے ساتوں رو ٹیگ مراکز کے درمیان علم اور صلاحیتوں کے مزید تبادلے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

آئی آئی ٹی روڑکی کے ڈائریکٹر پروفیسر کمال کشور پنت نے دیہی برادریوں کو درپیش بدلتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے میں سائنس، ٹیکنالوجی اور انٹرپرینیورشپ کے کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے تحقیق کے نتائج کو ایسے عملی حل اور قابل عمل ماڈلز میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیا جو بالخصوص دور دراز اور دیہی علاقوں میں پائیدار زراعت، مقامی ذرائعٔ معاش، روزگار اور انٹرپرینیورشپ کو فروغ دے سکیں۔ انہوں نے کثیر شعبہ جاتی تعاون، پانی اور دیگر وسائل کے مؤثر استعمال، اور مقامی سطح پر مینوفیکچرنگ اور ٹیکنالوجی کی تعیناتی کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی تاکہ تکنیکی اقدامات پائیدار، قابل توسیع اور علاقائی ضروریات کے مطابق ہوں۔

سیاق و پس منظر واضح کرتے ہوئے او پی ایس اے کی ایڈوائزر/ سائنٹسٹ ’جی‘ اور رُو ٹیگ کوآرڈینیٹر ڈاکٹر راکیش کور نے کہا کہ یہ جائزہ پروگرام کے ایک اہم مرحلے میں ہو رہا ہے اور اس سے پیش رفت کا جائزہ لینے، زمینی آزمائشوں اور صارفین کی شمولیت سے حاصل شواہد کا جائزہ لینے، قابل پیمائش نتائج کا اندازہ لگانے اور اقدامات کے اگلے مرحلے کے بارے میں مزید وضاحت حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے۔

 

A group of people standing in a roomAI-generated content may be incorrect.

 

جائزے کے ایک حصے کے طور پر تمام سات رو ٹیگ مراکز — آئی آئی ٹی بمبئی، آئی آئی ٹی دہلی، آئی آئی ٹی گوہاٹی، آئی آئی ٹی مدراس، آئی آئی ٹی روڑکی، آئی سی اے آر۔ نیشنل اکیڈمی آف ایگریکلچرل ریسرچ مینجمنٹ (این اے اے آر ایم)، حیدرآباد، اور شیرِ کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (ایس کے یو اے ایس ٹی)، کشمیر — نے اپنی مجموعی پیش رفت پیش کی۔ مذاکرات میں ٹیکنالوجی کی تیاری کی سطح، زمینی سطح پر توثیق، صارفین کی رائے، قابل پیمائش نتائج، دستاویز بندی، تیاری اور مینوفیکچرنگ کے راستے، ادارہ جاتی روابط اور مختلف سطح کی پختگی رکھنے والی ٹیکنالوجیز کے لیے روڈ میپس جیسے موضوعات کا احاطہ کیا گیا۔ ایس کے یو اے ایس ٹی۔ کشمیر کے رو ٹیگ مرکز کی جانب سے رو ٹیگ 2.0 (2023-2026) کے تحت تیار کی گئی ٹیکنالوجیز کا ایک مجموعہ بھی جاری کیا گیا، جس میں اس مدت کے دوران مرکز کی جانب سے تیار کی گئی ٹیکنالوجیز اور کیے گئے اقدامات کو دستاویزی شکل دی گئی ہے۔

 

A group of people standing in a lineAI-generated content may be incorrect.

 

تمام سات رو ٹیگ مراکز کی جانب سے نمائشی اسٹال قائم کیے گئے، جہاں رو ٹیگ 2.0 کے تحت تیار کی گئی منتخب ٹیکنالوجیز اور اقدامات کو پیش کیا گیا۔ شرکا نے آئی آئی ٹی روڑکی میں اہم تحقیقی اور تکنیکی سہولتوں کا بھی دورہ کیا، جن میں ہائیڈرو ٹربائن ٹیسٹنگ لیبارٹری، رو ٹیگ لیبارٹری، بایوماس اینڈ بایوچار ریسرچ لیبارٹری (بی بی آر ایل) اور انوائرنمنٹل بایو ریسرچ لیبارٹری (ای بی آر ایل) شامل ہیں۔ اس موقع پر انہیں ان سہولتوں میں جاری تحقیق، ٹیسٹنگ اور ٹیکنالوجی کی ترقی سے متعلق سرگرمیوں کے بارے میں بھی معلومات فراہم کی گئیں۔

 

 

دو روزہ اجلاس کا اختتام اس امر پر غور و خوض کے ساتھ ہوا کہ پختہ ٹیکنالوجیز کو وسیع پیمانے پر اپنائے جانے کی جانب لے جانے کے راستوں کو کس طرح مزید مضبوط بنایا جائے، ادارہ جاتی روابط کو مزید مستحکم کیا جائے، رو ٹیگ نیٹ ورک کے مختلف مراکز کے درمیان تعاون کو فروغ دیا جائے اور شناخت شدہ دیہی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تیار کی گئی ٹیکنالوجیز کے استعمال کو برقرار رکھا جائے۔

********

ش ح۔ ف ش ع

U: 4133


(ریلیز آئی ڈی: 2315208) وزیٹر کاؤنٹر : 8
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Gujarati