قومی انسانی حقوق کمیشن
azadi ka amrit mahotsav

این ایچ آر سی کے ستمبر 2026 کے آن لائن قلیل مدتی انٹرن شپ پروگرام کا اختتام، 1008 درخواست گزاروں میں سے منتخب 95 یونیورسٹی طلبہ نے پروگرام مکمل کیا


اختتامی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے این ایچ آر سی کے رکن جسٹس (ڈاکٹر) بدیوت رنجن سارنگی نے انٹرنز کو روزمرہ زندگی میں انسانی حقوق کی اقدار اپنانے اور انہیں دوسروں تک پہنچانے کی ترغیب دی

رکن محترمہ وجیا بھارتی سایانی نے انٹرنز سے انسانی حقوق کو طرزِ زندگی بنانے کی اپیل کی

سکریٹری جنرل جناب پیوش گوئل نے انٹرنز پر زور دیا کہ وہ انسانی حقوق کے علمبردار بنیں

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 25 SEP 2026 6:22PM by PIB Delhi

قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی) کے دو ہفتے پر مشتمل آن لائن قلیل مدتی انٹرن شپ پروگرام (او ایس ٹی آئی) کا آج اختتام ہوگیا۔ اس پروگرام میں یونیورسٹی سطح کے 95 طلبہ نے انٹرن شپ مکمل کی۔ انٹرن شپ کا آغاز 14 ستمبر 2026 کو ہوا تھا۔ان انٹرنز کو ملک کی 19 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے موصول ہونے والی 1008 درخواستوں میں سے منتخب کیا گیا تھا۔

alt

 

اختتامی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے این ایچ آر سی کے رکن جسٹس (ڈاکٹر) بدیوت رنجن سارنگی نے پروگرام کامیابی سے مکمل کرنے پر انٹرنز کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ دو ہفتے کا یہ تربیتی پروگرام محض ایک سفر نہیں بلکہ سیکھنے کا ایک قیمتی تجربہ تھا۔ انہوں نے انٹرنز پر زور دیا کہ ان کی یہ کوشش بے سود نہ جائے اور ’’سکھائیں، عمل کریں اور کردار ادا کریں‘‘ کے اصول کو اپنائیں۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کے بارے میں سیکھنے کا عمل زندگی بھر جاری رہنا چاہیے اور حاصل شدہ علم کو عملی زندگی میں اپنانے کے ساتھ دوسروں تک بھی پہنچانا چاہیے۔

جسٹس سارنگی نے انٹرنز سے روزمرہ زندگی میں انسانی حقوق کی اقدار کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بزرگ شہریوں اور معذور افراد سمیت دیگر لوگوں کے تئیں ہمدردی کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور ان کی ضروریات کا مناسب خیال رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان ہونے کے ناطے انٹرنز سے ملک اور معاشرے کی ترقی کے لیے بڑی توقعات وابستہ ہیں۔

alt

 

انٹرنز سے خطاب کرتے ہوئے این ایچ آر سی کی رکن محترمہ وجیا بھارتی سایانی نے کہا کہ انٹرن شپ کا اختتام کسی خاتمے کی علامت نہیں بلکہ ایک نئی ذمہ داری کا آغاز ہے۔ انہوں نے انٹرنز سے انسانی حقوق، آئین اور ملک کے تئیں عزم کو آگے بڑھانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کا تعلق وقار، انصاف، ہمدردی اور ایک دوسرے کے تئیں ذمہ داری سے ہے اور اسے زندگی کا حصہ بنانا چاہیے۔

محترمہ سایانی نے کہا کہ انسانی حقوق اور حب الوطنی ایک دوسرے کے معاون ہیں۔ انہوں نے انٹرنز پر زور دیا کہ وہ آئین کا احترام کریں، انسانی وقار کا تحفظ کریں، کمزور طبقات کی خدمت کریں اور انصاف کے لیے آواز اٹھائیں۔ ’وسودھیو کٹم بکم‘ اور ’سروے بھونتو سکھنہ‘ کے نظریات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے انٹرنز سے اپنے اپنے معاشروں میں انسانی حقوق کے سفیر بننے کی اپیل کی۔ انہوں نے ایک مضبوط، منصفانہ اور انسان دوست ہندوستان کی تعمیر میں تعاون کے لیے علم، ہمدردی اور خدمت کو رہنما اصول قرار دیا۔

این ایچ آر سی کے سکریٹری جنرل جناب پیوش گوئل نے اپنے خطاب میں انٹرنز کو مبارکباد دی اور روزمرہ زندگی میں انسانی وقار کے تئیں حساسیت پیدا کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی علم اسی وقت بامعنی ہوتا ہے جب اسے عملی زندگی میں اپنایا جائے۔ ٹیم ورک اور ابلاغی صلاحیتوں کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹیم کی سرگرمیوں سے باہمی تعاون اور ٹیم اسپرٹ کے جذبے کو فروغ ملا۔ انہوں نے انٹرنز پر زور دیا کہ وہ معاشرے میں انسانی حقوق کے عملی پہلوؤں کے بارے میں زیادہ سے زیادہ بیداری پیدا کرکے انسانی حقوق کے علمبردار بنیں۔

alt

 

اس سے قبل این ایچ آر سی کے جوائنٹ سکریٹری جناب سمیر کمار نے انٹرن شپ پروگرام کا جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ انٹرنز کو این ایچ آر سی کے ارکان، سینئر افسران، ممتاز ماہرین، ماہرین تعلیم، کور گروپ کے ارکان اور سول سوسائٹی تنظیموں کے نمائندوں سے بات چیت کا موقع فراہم کیا گیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس پروگرام سے انٹرنز کی انسانی حقوق سے متعلق سمجھ میں مزید اضافہ ہوا ہوگا۔انہوں نے کتاب کے جائزے، گروپ ریسرچ پروجیکٹ کی پیش کش اور تقریری مقابلے سمیت مختلف مقابلوں کے فاتحین کے ناموں کا بھی اعلان کیا۔ محترمہ مونیکا جون نے اظہار تشکر پیش کیا۔

************

ش ح۔   ف ا  ۔  م  ص

(U :4119  )


(ریلیز آئی ڈی: 2315155) وزیٹر کاؤنٹر : 7
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Telugu