اقلیتی امور کی وزارتت
azadi ka amrit mahotsav

اقلیتی امور کی وزارت نے 25 ستمبر 2026 کو آئی آئی ایس سی بنگلور میں اہم اداروں کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے بنیادی ڈھانچے، کاروباری سرگرمیوں اور نگرانی کے اقدامات کو مضبوط کیا


سی یو بی ای، آئی آئی ٹی مدراس، آئی آئی ایس سی-ایف ایس آئی ڈی، آئی آئی ایم بنگلور اور آئی آئی ایم بی انوویشنز کے ساتھ اشتراک کا مقصد اقلیتی برادریوں کے لیے معیار کے جائزے، آزادانہ نگرانی، کاروباری سرگرمیوں، اختراع اور اقتصادی مواقع کو فروغ دینا ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 25 SEP 2026 6:26PM by PIB Delhi

حکومت ہند کی اقلیتی امور کی وزارت نے 25 ستمبر 2026 کو آئی آئی ایس سی بنگلورو میں معروف تعلیمی، تحقیقی اور اختراعی اداروں کے ساتھ متعدد مفاہمت ناموں (ایم او یو) پر دستخط کیے۔ اس موقع پر اقلیتی امور کی وزارت کے سکریٹری ڈاکٹر شری وتس کرشنا اور وزارت و متعلقہ اداروں کے دیگر اعلیٰ افسران موجود تھے۔ان مفاہمت ناموں کے ذریعے وزارت نے اپنی اہم اسکیموں کے نفاذ اور ان کے اثرات کو مزید مؤثر بنانے کی سمت میں اہم پیش رفت کی ہے۔ اس کا مقصد بنیادی ڈھانچے کے معیار، آزادانہ نگرانی، کاروباری سرگرمیوں، اختراع، ہنرمندی کی ترقی اور اقلیتی برادریوں کے لیے پائیدار اقتصادی مواقع کو مضبوط بنانا ہے۔

 

یہ اشتراکات سینٹر فار اربنائزیشن، بلڈنگز اینڈ انوائرمنٹ (کیوب)، آئی آئی ٹی مدراس؛ فاؤنڈیشن فار سائنس، انوویشن اینڈ ڈیولپمنٹ (ایف ایس آئی ڈی)، آئی آئی ایس سی بنگلورو؛ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ بنگلورو (آئی آئی ایم بنگلورو)؛ اور آئی آئی ایم بی انوویشنز (این ایس آر سی ای ایل) کی ادارہ جاتی صلاحیتوں کو ایک ساتھ لائیں گے۔

ان شراکت داریوں کے ذریعے وزارت کو خصوصی تکنیکی اور تعلیمی مہارت تک رسائی حاصل ہوگی، شواہد پر مبنی فیصلہ سازی کو مضبوط کیا جائے گا، نگرانی اور جائزے کے نظام کو بہتر بنایا جائے گا، اختراع اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اور صلاحیت سازی و کاروباری ترقی کے لیے مزید مضبوط ادارہ جاتی راستے قائم ہوں گے۔

پی ایم وکاس  ٹریننگ  کی آزادانہ تھرڈ پارٹی نگرانی

پردھان منتری وراثت کا سموردھن (پی ایم وکاس) اسکیم کے تحت شفافیت اور جواب دہی کو مزید مضبوط بنانے کے مقصد سے حکومت ہند کی اقلیتی امور کی وزارت اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ بنگلورو (آئی آئی ایم بی) نے جنوبی زون میں پی ایم وکاس کے تحت ہونے والی تربیت کی آزادانہ تھرڈ پارٹی نگرانی کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

 

اس شراکت داری کے تحت آئی آئی ایم بنگلورو زمینی سطح پر معائنہ اور بیک وقت نگرانی کرے گا۔ اس دوران موقع پر تصدیق اور متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے ذریعے تربیت کی فراہمی، بنیادی ڈھانچے، استفادہ کنندگان اور تربیت کاروں کی شرکت، حاضری، سرٹیفکیشن اور تقرری کے نتائج کا جائزہ لیا جائے گا۔

اس شراکت داری سے حاصل ہونے والی شواہد پر مبنی معلومات وزارت کو پی ایم وکاس کے نفاذ کے معیار کو مضبوط بنانے، خامیوں کی نشاندہی کرکے انہیں دور کرنے، نگرانی کے نظام کو بہتر بنانے اور نتائج کو مزید مؤثر بنانے میں مدد دے گی۔

پی ایم جے وی کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کا آزادانہ تھرڈ پارٹی جائزہ

اقلیتی امور کی وزارت نے پردھان منتری جن وکاس کاریہ کرم (پی ایم جے وی کے) کے تحت بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے آزادانہ تھرڈ پارٹی معیار (تکنیکی اور سماجی) کے جائزے کے لیے آئی آئی ٹی مدراس کے سی یو بی ای کے ساتھ مفاہمت نامے پر دستخط کیے ہیں۔

اس جائزے میں تعلیم، صحت، ہنرمندی کی ترقی اور خواتین و اطفال کی ترقی کے شعبوں میں پی ایم جے وی کے کے تحت مکمل اور زیر تکمیل منتخب منصوبوں کو شامل کیا جائے گا۔ اس میں بنیادی ڈھانچے کے معیار، فعالیت، رسائی، استعمال، دیکھ بھال اور پائیداری سمیت اہم امور کا جائزہ لیا جائے گا۔

 

اس شراکت داری سے وزارت کو آزادانہ اور شواہد پر مبنی جائزے اور قابلِ عمل سفارشات حاصل ہوں گی، جس سے اثاثوں کے بہتر انتظام، منصوبوں کے نفاذ میں خامیوں کی نشاندہی اور مستقبل کے پی ایم جے وی کے منصوبوں کے لیے زیادہ مؤثر منصوبہ بندی میں مدد ملے گی۔ اس کے علاوہ بنیادی ڈھانچے کے اثاثوں کی فعالیت اور ان کے استعمال کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی اور زیادہ پائیدار نتائج حاصل کرنے میں بھی تعاون ہوگا۔

کاروباری سرگرمیوں اور اختراعی نظام کو مضبوط بنانا

نیشنل مائنارٹیز ڈیولپمنٹ اینڈ فنانس کارپوریشن (این ایم ڈی ایف سی) نے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس (آئی آئی ایس سی)، بنگلورو کے زیر سرپرستی فاؤنڈیشن فار سائنس، انوویشن اینڈ ڈیولپمنٹ (ایف ایس آئی ڈی) اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ بنگلورو کے کاروباری سرگرمیوں اور انکیوبیشن مرکز آئی آئی ایم بی انوویشنز (این ایس آر سی ای ایل) کے ساتھ دو سہ فریقی مفاہمت ناموں پر دستخط کیے ہیں۔ ان کا مقصد اسٹارٹ اپ اور اختراعی نظام کو مضبوط بنانا اور اقلیتی برادریوں کی اقتصادی ترقی کو فروغ دینا ہے۔

ایف ایس آئی ڈی، آئی آئی ایس سی بنگلورو کے ساتھ شراکت داری میں اسٹارٹ اپ نظام کی ترقی، اختراع کے فروغ اور ٹیکنالوجی کی تجارتی کاری کے ساتھ ڈیٹا گورننس، ڈیجیٹل تبدیلی اور عوامی مفاد کی ٹیکنالوجی پر توجہ دی جائے گی۔

آئی آئی ایم بی انوویشنز (این ایس آر سی ای ایل) کے ساتھ مفاہمت نامے کا مقصد اسٹارٹ اپ نظام کو مضبوط بنانے کے ساتھ ہنرمندی اور صلاحیت سازی، اختراع و کاروباری سرگرمیوں کے فروغ، تحقیقی مطالعات، پالیسی تعاون اور شواہد پر مبنی فیصلہ سازی کو فروغ دینا ہے۔

پردھان منتری مائنارٹی وینچر فنڈ (پی ایم-ایم وی ایف) کے تحت ان شراکت داریوں میں کاروباری سرگرمیوں سے متعلق بیداری اور صلاحیت سازی کے پروگرام، اختراعی چیلنجز، اسٹارٹ اپ کی شناخت، انکیوبیشن اور رہنمائی، سرمایہ کاروں سے رابطہ، مارکیٹ تک رسائی اور کاروباری ترقی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ علم کے نیٹ ورک، ادارہ جاتی تعاون، صنعت سے روابط اور اختراعی نظام تک رسائی فراہم کی جائے گی، تاکہ قابلِ توسیع، پائیدار اور اختراع پر مبنی کاروباری اداروں کی ترقی کو فروغ دیا جاسکے۔

ان دونوں شراکت داریوں میں آئی آئی ایس سی-ایف ایس آئی ڈی کی ڈیپ سائنس اور ڈیپ ٹیکنالوجی انکیوبیشن، ٹیکنالوجی کی تجارتی کاری اور اختراع کے فروغ کی صلاحیتوں کو آئی آئی ایم بی-این ایس آر سی ای ایل کی کاروباری سرگرمیوں، انکیوبیشن، مارکیٹ پر مبنی مواقع اور فن ٹیک کی مہارت کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ اس کے ذریعے اقلیتی کاروباری افراد کی مدد اور اسٹارٹ اپ و اختراعی نظام تک ان کی رسائی کو مضبوط بنانے کی کوشش کی جائے گی۔

جامع ترقی کے لیے اشتراکی طریقہ کار

ان مفاہمت ناموں پر دستخط وزارت کی مختلف پہلوں کے اثرات کو مضبوط بنانے کے لیے ایک اشتراکی طریقہ کار کی عکاسی کرتے ہیں، جس میں تکنیکی مہارت، تعلیمی علم، تحقیقی صلاحیتوں اور مستحکم کاروباری نظام کو ایک ساتھ لایا گیا ہے۔

اس موقع پر اقلیتی امور کی وزارت کے سکریٹری ڈاکٹر شری وتس کرشنا نے کہا کہ حکومت کی توجہ کاروباری سرگرمیوں کے ذریعے روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے ممتاز ٹیکنالوجی اداروں، یعنی انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس بنگلورو، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ بنگلورو اور آئی آئی ٹی مدراس کے سی یو بی ای کے ساتھ مفاہمت ناموں کا مقصد ان کی مہارت کو یکجا کرکے اس مشن کو آگے بڑھانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حتمی مقصد ایسے اسٹارٹ اپس کا انتخاب، سرپرستی اور مالی معاونت کرنا ہے جو کاروباری سرگرمیوں کے ذریعے روزگار پیدا کرسکیں اور اقلیتی برادری کے لیے تعمیر کیے گئے بنیادی ڈھانچے کے معیار اور اس کے استعمال کو بہترین معیار کے مطابق یقینی بناسکیں۔

آئی آئی ایم بنگلورو کے قائم مقام ڈائریکٹر پروفیسر یو دنیش کمار نے کہا کہ ادارہ ایسے اقدامات کے ذریعے سونپی گئی ذمہ داری کو اہمیت دیتا ہے، خصوصاً وہاں جہاں اس کی مہارت سرکاری پروگراموں اور ان کے نتائج کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادارہ اقلیتی برادریوں کے لیے مواقع کو وسعت دینے اور کاروباری ترقی کے نئے راستے پیدا کرنے والی پہلوں میں اپنی معلومات، تجربے اور صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے تیار ہے۔

سی یو بی ای، آئی آئی ٹی مدراس کے ساتھ شراکت داری پی ایم جے وی کے کے بنیادی ڈھانچے کے آزادانہ جائزے اور شواہد پر مبنی بہتری کو مضبوط بناتی ہے، جبکہ آئی آئی ایم بنگلورو، آئی آئی ایس سی-ایف ایس آئی ڈی اور آئی آئی ایم بی انوویشنز (این ایس آر سی ای ایل) کے ساتھ تعاون کاروباری سرگرمیوں، اختراع، انکیوبیشن، ہنرمندی اور کاروباری اداروں کی ترقی کے لیے ادارہ جاتی راستے فراہم کرتا ہے۔

ان شراکت داریوں کے ذریعے وزارت نے معیار کے جائزے، آزادانہ نگرانی، ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی، اختراع، کاروباری سرگرمیوں اور کاروباری اداروں کی ترقی کے لیے اپنی ادارہ جاتی صلاحیت کو مضبوط بنانے کی سمت میں ایک اور قدم اٹھایا ہے۔ اس کے ساتھ اقلیتی برادریوں کے لیے پائیدار اقتصادی مواقع کی حمایت کرنے والے سازگار نظام کی تشکیل پر بھی توجہ دی گئی ہے۔

************

ش ح ۔   ف ا  ۔  م  ص

(U : 4120 )


(ریلیز آئی ڈی: 2315116) وزیٹر کاؤنٹر : 11
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Kannada