سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

بلیزرز سے حاصل ہونے والے نئے ایکس رے شواہد فعال کہکشاؤں کو توانائی فراہم کرنے کے عمل کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 25 SEP 2026 2:38PM by PIB Delhi

ماہرین فلکیات نے سب سے زیادہ توانائی والی شعاعیں خارج کرنے والے بعض بلیزرز کا مشاہدہ کیا، جس سے ان انتہائی توانائی والے اجرام سے ایکس رے کے اخراج کے ذرائع کے بارے میں نئی معلومات حاصل ہوئی ہیں۔

اس سے ان فلکیاتی اجرام کے گرد موجود انتہائی حالات طبیعیات کے مطالعے میں مدد مل سکتی ہے اور یہ سمجھنے میں بھی اہم بصیرت فراہم ہوسکتی ہے کہ فعال کہکشاؤں کو توانائی کس طرح حاصل ہوتی ہے۔

بلیزرز کائنات میں موجود سب سے زیادہ توانائی والے اجرام میں شامل ہیں۔ یہ فعال کہکشائیں ہیں، جن کے مراکز میں موجود انتہائی ضخیم بلیک ہولز (ایس ایم بی ایچ)  انہیں توانائی فراہم کرتے ہیں۔ جب مادہ بلیک ہول کی جانب گرتا ہے تو بہت بڑی مقدار میں توانائی خارج ہوسکتی ہے، جبکہ اضافیتی ذرات کے طاقتور جیٹس تقریباً براہ راست زمین کی سمت خارج ہوتے ہیں۔ اسی سمت بندی کی وجہ سے بلیزرز غیر معمولی طور پر روشن دکھائی دے سکتے ہیں۔ ان اجرام کا ایک خاص طور پر انتہائی نوعیت کا گروپ  ٹی ای وی بلیزرز ہے، جو انتہائی بلند توانائی والی گاما شعاعیں خارج کرتے ہیں، جن کی توانائی ٹیرا الیکٹرون وولٹ تک پہنچتی ہے۔

چونکہ بلیزرز سے خارج ہونے والے طاقتور جیٹس تقریباً زمین کی سمت ہوتے ہیں، اس لیے ان کے ایکس رے اسپیکٹرا میں عموما جیٹ سے ہونے والا اخراج غالب ہوتا ہے۔ اس وجہ سے کہکشاں کے دیگر حصوں، جیسے بلیک ہول کے گرد موجود ایکریشن ڈسک، سے آنے والی شعاعوں کی شناخت کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔

اس مشکل پر قابو پانے کے لیے نینی تال میں واقع محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی (ڈی ایس ٹی) کے ایک خود مختار ادارے آریہ بھٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف آبزرویشنل سائنسز (آریز) کے محققین نے چار کلاسیکی بلیزرز — ایم آر کے 421، ایم آر کے 501، پی جی 1553+113 اور پی کے ایس 2155-304 — کا مطالعہ کیا، جو انتہائی بلند توانائی والی شعاعیں خارج کرتے ہیں۔ ناسا کی این آئی سی ای آر اور نیو اسٹار خلائی دوربینوں سے حاصل شدہ مشاہدات کا استعمال کرتے ہوئے ریا بھومک اور آلوک سی گپتا نے ان اجرام سے خارج ہونے والی ایکس رے شعاعوں کا مطالعہ کیا تاکہ ان توانائی سے بھرپور کہکشاؤں کے طرز عمل کو بہتر طور پر سمجھا جاسکے۔

 

science 1.jpg

 

شکل 1: بلیزر یا فعال کہکشاں کے مرکز کی ایک عکاسی، جو مشاہدہ کرنے والے کی نظر کی سمت ایک طاقتور جیٹ خارج کرتا ہے۔ اس عکاسی میں دکھائے گئے رنگ صرف فنکارانہ مقصد کے لیے ہیں۔

تصویر کا ماخذ: ناسا

محققین نے ناسا کی این آئی سی ای آر اور  نیو اسٹار خلائی دوربینوں کا استعمال کرتے ہوئے چار ٹی ای وی بلیزرز کے ایکس رے مشاہدات کے 13 سیٹوں کا تجزیہ کیا۔ این آئی سی ای آر نے کم توانائی والی ایکس رے شعاعوں کا مشاہدہ کیا، جبکہ  نیو اسٹار نے زیادہ توانائی والی ایکس رے شعاعوں کا احاطہ کیا۔ دونوں دوربینوں سے حاصل شدہ مشاہدات کو یکجا کرنے سے محققین کو ان توانائی سے بھرپور اجرام سے ہونے والے ایکس رے اخراج کی زیادہ وسیع تصویر حاصل ہوئی۔

زیادہ تر ایکس رے اسپیکٹرا کی وضاحت بلیزر سے ہونے والے اخراج کے معمول کے ماڈل کے ذریعے کی جاسکتی تھی۔ تاہم، ایم آر کے  421 اور ایم آر کے  501 کے چند مشاہدات میں کم ایکس رے توانائیوں پر ایک اضافی جزو نظر آیا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان مراحل کے دوران ایم آر کے  421 اور ایم آر کے  501 دونوں کی سرگرمی کی حالت معتدل سے کم درجے کی پائی گئی۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب یہ دونوں بلیزر نسبتاً کم فعال مرحلے میں تھے تو جیٹ سے ہونے والے اخراج کے ساتھ ساتھ ایکریشن ڈسک سے ہونے والے اخراج نے بھی ایکس رے اسپیکٹرا میں اپنا حصہ ڈالا۔ اگرچہ ایم آر کے  421 کے بارے میں اس طرح کے شواہد پہلے بھی سامنے آچکے ہیں، لیکن ایم آر کے  501 سے بھی اسی طرح کے ممکنہ اخراج کی شمولیت کا یہ پہلا اشارہ ہے۔ اس نتیجے کی تصدیق کے لیے مزید مشاہدات کی ضرورت ہے۔ ایم آر کے 421 کے مشاہدات میں ایکس رے اسپیکٹرم میں ایک چھوٹا اضافی گاؤسیئن فیچر یا ایک چھوٹی اضافی چوٹی بھی دکھائی دی، جو کسی خاص توانائی پر ایکس رے شعاعوں کے اخراج میں معمولی اضافے کی نمائندگی کرتی ہے۔ اس کی اصل وجہ ابھی واضح نہیں ہے اور ممکن ہے کہ اس کا تعلق آلے یا پس منظر سے متعلق اثرات سے ہو۔

 

science 2.jpg

 

شکل 2: ایم جے ڈی  60077 کے دوران ایم آر کے 421 کے این آئی سی ای آر (سیاہ) اور نیو اسٹار کے مشترکہ فٹ شدہ اسپیکٹرم (سرخ نقاط ایف پی ایم اے اور سبز نقاط ایف پی ایم بی کی نمائندگی کرتے ہیں)۔ فٹنگ کے ماڈلز پینلز میں دکھائے گئے ہیں۔ (بھومک اور گپتا، 2026 سے ماخوذ)

 

دیگر دو بلیزرز، پی جی  1553+113 اور پی کے ایس  2155-304 کے ایکس رے مشاہدات کی معیاری ماڈل کے ذریعے بخوبی وضاحت کی جاسکتی ہے۔ ان کے ایکس رے اسپیکٹرا کی خم دار شکل اس حقیقت کی وجہ سے ہوسکتی ہے کہ مختلف توانائی والے ذرات مختلف شرح سے توانائی حاصل کرتے ہیں اور شعاعوں کے اخراج کے ذریعے توانائی کھوتے ہیں۔

حال ہی میں دی ایسٹروفیزیکل جرنل میں شائع ہونے والی اس تحقیق سے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ چار طاقتور بلیزرز ایکس رے کس طرح پیدا کرتے ہیں۔ نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ بلیزرز کے ایکس رے اسپیکٹرا میں محض ایک ہی ذریعہ شعاعوں کا غلبہ نہیں ہوتا اور جب ان کے طاقتور جیٹس سے ہونے والا اخراج کمزور پڑ جاتا ہے تو ایکریشن فلو سے ہونے والا اخراج قابل شناخت ہوسکتا ہے۔

ان اجرام کا اس وقت مشاہدہ کرنا جب یہ سرگرم اور نسبتاً پرسکون دونوں حالتوں میں ہوں، ماہرین فلکیات کو یہ سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے کہ شعاعوں کے یہ دونوں ذرائع کس طرح اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔

مختلف اقسام کی دوربینوں کے ذریعے مزید مشاہدات سے معتدل سے کم سرگرمی والی حالتوں کے دوران ایکس رے کے اخراج میں ایکریشن ڈسک کے کردار کی تصدیق میں مدد ملے گی۔

فعال کہکشاؤں کو توانائی فراہم کرنے کے عمل کو سمجھنے کے علاوہ، اس سے بلیک ہولز اور ان کے گرد موجود ماحول کے درمیان باہمی تعامل کو سمجھنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

اشاعت کا لنک: https://doi.org/10.3847/1538-4357/ae875a

********

ش ح ۔ ش ت ۔ م الف

U NO-4089


(ریلیز آئی ڈی: 2314895) وزیٹر کاؤنٹر : 14
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी