سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

بلیک ہول سے نکلنے والے جیٹس کا طاقتور دھکا کہکشاؤں کے مستقبل کا رخ متعین کرتا ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 25 SEP 2026 2:39PM by PIB Delhi

ماہرینِ فلکیات نے ایک ممکنہ طریقۂ کار دریافت کیا ہے جس کے ذریعے کہکشاؤں کے مرکز میں موجود بلیک ہولز اپنی میزبان کہکشاؤں کے گرد موجود گیس کے ایک بہت بڑے اور مدھم ذخیرے کو متاثر کر سکتے ہیں اور یوں بالآخر کہکشاؤں کے مستقبل کا تعین کرنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔

جب ہم کسی کہکشاں کا تصور کرتے ہیں تو عموماً خوبصورت پیچ دار(اسپائرل) شکل میں چمکتے ہوئے ستارے اور گرد و غبار ذہن میں آتے ہیں۔ لیکن کہکشاں کی ڈسک کے کنارے سے آگے ایک مدھم، دھندلا سا گیس کا غلاف پھیلا ہوا ہوتا ہے، جو کہکشاں کے حجم سے 10 سے 20 گنا تک وسیع ہو سکتا ہے۔ گیس کے اس ذخیرے کو گردِکہکشانی وسط (سرکم گلیٹک میڈیم )یا سی جی ایم کہا جاتا ہے۔ یہی سی جی ایم ستاروں کی تشکیل کے لیے درکار ایندھن فراہم کرتا ہے۔

لیکن اگر سی جی ایم کی حدود میں موجود تمام گیس اکٹھی ہو کر ستاروں میں تبدیل ہو جائے تو بے شمار ستاروں والی انتہائی روشن کہکشائیں وجود میں آنی چاہییں۔ حقیقت میں ایسی کہکشائیں عام طور پر موجود نہیں ہیں۔ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے ماہرینِ فلکیات یہ نظریہ پیش کرتے رہے ہیں کہ کہکشاؤں کے مرکز میں موجود سپر میسیو بلیک ہولز یا ایس ایم بی ایچ سے خارج ہونے والی توانائی گیس کو ٹھنڈا ہونے اور سکڑ کر ستارے بننے سے روک سکتی ہے۔ تاہم، اس عمل کے اصل طریقۂ کار پر ابھی تک سائنس دانوں میں اتفاقِ رائے نہیں ہے۔

یہ سمجھنے سے پہلے کہ ایسا کیسے ہوتا ہے،ایس ایم بی ایچ اور اس کی کہکشاں کے نسبتی حجم کو ذہن میں رکھنا مفید ہے، تاکہ اس اثر و رسوخ کے پیمانے کا اندازہ ہو سکے۔

اگرچہ ایک اوسط سپر میسیو بلیک ہولکا حجم ہمارے نظامِ شمسی جتنا ہو سکتا ہے، لیکن پھر بھی یہ اپنی کہکشاں کے مقابلے میں انتہائی چھوٹا ہوتا ہے۔ ایک کہکشاں میں تقریباً 100 ارب ایسے ستاروی نظام موجود ہو سکتے ہیں۔

رمن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ(آرآر آئی) جو محکمۂ سائنس و ٹیکنالوجی(ڈی ایس ٹی ) کا ایک خودمختار ادارہ ہے، اور ایریزونا اسٹیٹ یونیورسٹی سمیت مختلف اداروں کے محققین کی ایک ٹیم نے ایسا طریقہ دریافت کیا ہے جس سے مرکز میں موجود یہ نہایت چھوٹا بلیک ہول اپنی میزبان کہکشاں کے بے حد وسیع سی جی ایم پر توانائی کے ذریعے اثر انداز ہو سکتا ہے۔

اگرچہ بلیک ہول کا تصور ذہن میں ایسے خوفناک خلائی خلا کی تصویر لاتا ہے جو اپنے گرد موجود گیس اور گرد و غبار کو نگل رہا ہو، لیکن بلیک ہول اکثر انتہائی گرم پلازما کے جیٹس بھی خارج کرتے ہیں۔ پلازما دراصل برقی بار رکھنے والے ذرات کا ایک گرم آمیزہ ہوتا ہے۔ بھارت اور امریکا کے سائنس دانوں پر مشتمل اس ٹیم نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ آیا یہ جیٹس گیس کو کہکشاں کے سی جی ایم تک متاثر کرتے ہیں۔

تحقیق سے معلوم ہوا کہ جب بلیک ہول سے نکلنے والا جیٹ پہلی مرتبہ سی جی ایم سے ٹکراتا ہے تو وہ وہاں موجود گیس سے ٹکرا کر ایک اچانک جھٹکا پیدا کرتا ہے، جس سے گیس میں توانائی پیدا ہوتی ہے۔ سی جی ایم میں موجود یہ روشن اور توانائی سے بھرپور گیس کہکشاں میں نئے ستاروں کی تشکیل کو روک سکتی ہے۔

توانائی حاصل کرنے والی اور آئنائزڈ گیسیعنی ایسی گیس جس کے ایٹموں میں الیکٹران شامل ہو گئے ہوں یا نکل گئے ہوں، جس کے نتیجے میں ایٹم برقی بار حاصل کر لیتے ہیں،ایک مخصوص قسم کی روشنی خارج کرتی ہے۔ محققین نے سی جی ایم میں اسی روشنی کو تلاش کیا۔

جب انہوں نے کہکشاؤں کے گرد تمام سمتوں سے حاصل کی گئی پیمائشوں کا اوسط نکالا تو انہیں کوئی واضح سگنل نہیں ملا۔ تاہم، جب انہوں نے جیٹ کی سمت میں مشاہدہ کیا تو ایک مضبوط سگنل سامنے آیا۔

تحقیق کی مرکزی مصنفہ اور آر آر آئی کے شعبۂ فلکیات و فلکی طبیعیات کی اسسٹنٹ پروفیسر نمرتا رائے کے مطابق، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جیٹ گیس کو ہر سمت یکساں طور پر متاثر کرنے کے بجائے صرف اپنے راستے میں موجود گیس کو روشن کر رہا تھا۔

مزید یہ کہ محققین نے دریافت کیا کہ یہ سگنل دو مقامات پر سب سے زیادہ مضبوط تھا۔ پہلا مقام ستاروں سے بنی کہکشانی ڈسک کا کنارہ تھا، جہاں جیٹ پہلی مرتبہ سی جی ایم سے ٹکراتا ہے۔ دوسرا سی جی ایم کی بیرونی حد پر تھا، جہاں پہلے ہی سست ہو چکا جیٹ سی جی ایم کی گیس سے دوبارہ ٹکراتا ہے۔

یہ صورتِ حال کسی سخت چیز پر زور سے مکے مارنے اور اس کے نتیجے میں ہاتھ کو اچانک جھٹکا لگنے جیسی ہے۔ اس ٹکراؤ کے دوران توانائی گیس میں منتقل ہوتی ہے اور یہی توانائی گیس کو گرم اور پرجوش رکھ کر ستاروں کی تشکیل کو روکنے میں مدد دیتی ہے۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image001_20260925144042_0a8354.jpg

شکل: ایک فنکارانہ خاکہ، جس میں دکھایا گیا ہے کہ کہکشاں کے مرکز میں موجود، سپر میسیو بلیک ہولز، جنہیں فعال کہکشانی مرکز (ایکٹیو گلیٹک نیوکلئی)یا اے جی این بھی کہا جاتا ہے، وہاں سے خارج ہونے والے نسبتاً قریب بہ رفتارِ نور (ریلیٹیوسٹک)جیٹوں کے ذریعے اپنے اردگرد موجود گیس کے ذخیرے کو کس طرح متاثر کرتے ہیں۔

تصویر بشکریہ: ہیلی نیلسن، ایریزونا اسٹیٹ یونیورسٹی (اے ایس یو)

ٹھنڈی گیس جب اکٹھی ہو کر گنجان ہوتی ہے تو اس سے ستارے تشکیل پاتے ہیں۔ لیکن بلیک ہول سے خارج ہونے والا طاقتور جیٹ اپنے راستے میں موجود گیس کو گرم اور منتشر کر دیتا ہے، جس کے باعث گیس کے لیے ایک جگہ جمع ہو کر ستارے بنانا مشکل ہو جاتا ہے۔ یوں ستاروں کی پیدائش کا عمل دب جاتا ہے۔

اس طرح کہکشاں کے مرکز میں موجود بلیک ہول پوری کہکشاں کے ارتقا اور مستقبل پر اثر انداز ہو سکتا ہے اور اسے ایک پُرسکون اور غیر فعال کہکشاں میں تبدیل کرنے میں کردار ادا کر سکتا ہے۔

ایریزونا اسٹیٹ یونیورسٹی کی ایسوسی ایٹ پروفیسر اور اس تحقیق کی شریک مصنفہ سنچیتابورٹھاکر کہتی ہیں:

’’اس دریافت کا وسیع تر مفہوم یہ ہے کہ بلیک ہول کہکشاؤں کی زندگی کو اس چھوٹے سے مرکزی خطے سے کہیں زیادہ بڑے پیمانے پر متاثر کر سکتے ہیں جہاں وہ خود موجود ہوتے ہیں۔ یہ بالکل ایسا ہے جیسے بھارت میں بیٹھا ہوا ایک چیونٹا امریکہ میں کہیں بہت بڑا نشان چھوڑ رہا ہو۔‘‘

فی الحال، رائے، بورٹھاکر اور ان کے ساتھی محققین اس بات پر اطمینان کا اظہار کر سکتے ہیں کہ انہوں نے اس دیوہیکل کہکشاں میں موجود اس نسبتاً چھوٹے مگر انتہائی طاقتور بلیک ہول کے چھوڑے ہوئے توانائی کے اس روشن اور نمایاں نشان کو نظر انداز نہیں کیا۔

اشاعتی لنک: DOI 10.3847/2041-8213/ae9cbd

*********

) ش ح ۔م م۔م ذ)

U.No. 4083


(ریلیز آئی ڈی: 2314873) وزیٹر کاؤنٹر : 10
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी