وزارت دفاع
azadi ka amrit mahotsav

قومی سلامتی ،محض  سرحدوں کی حفاظت تک محدود نہیں، حکومت نے تیزی سے بدلتے  اور وقوع پذیر خطرات سے نمٹنے کی خاطر دفاعی تیاریوں کو مضبوط بنانے کے لئے جامع نقطہ نظر اپنایا ہے:وزیر دفاع


’’بھارت کے پاس ’دلیل کی طاقت‘ اور ’طاقت کی دلیل‘ دونوں موجود ہیں، دوسرے فریق کو وہی زبان سمجھ آئے گی جس میں جواب دینا بہتر ہو‘‘

دہشت گردی کے خلاف ہمارا نقطہ نظر’اسٹریٹجک کنٹینمنٹ‘ اور’انکار کے ذریعے روک تھام‘ سے آگے بڑھ کر ’سزا کے ذریعے روک تھام‘ کی طرف بڑھ گیا ہے: جناب راج ناتھ سنگھ

’’پاکستانی سرزمین سے ہونے والے کسی بھی قسم کے دہشت گردانہ حملے کو بھارت کے خلاف ’جنگی اقدام‘ تصور کیا جائے گا اور اس کا مناسب جواب دیا جائے گا۔‘‘

’’بھارت امن پسند ملک ہے، تاہم اسے اپنی سالمیت اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہمیشہ تیار رہنا چاہیے۔‘‘

’’خود انحصاری مضبوط قومی سلامتی کی کلید ہے، حکومت ’بھارت میں ڈیزائن‘، ’بھارت میں ترقی‘ اور ’بھارت میں تیاری‘ کے وژن کے ساتھ کام کر رہی ہے۔‘‘

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 24 SEP 2026 8:54PM by PIB Delhi

وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ قومی سلامتی کو صرف جغرافیائی سرحدوں کے تحفظ تک محدود سمجھنا ’اشکال پر مبنی نظریے‘کے مترادف ہے۔ وزیر موصوف  نے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت والی حکومت کے ملک کی دفاعی تیاریوں کو مزید مضبوط بنانے اور ابھرتے ہوئے اور مستقبل کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے فوج کو تیار کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔24 ستمبر 2026 کو نئی دہلی میں ایک دفاعی کانکلیو سے خطاب کرتے ہوئے جناب سنگھ  نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ دور کے چیلنجوں میں دشمنوں کی جانب سے ہتھیاروں اور توپ خانے کے استعمال کے علاوہ ڈرونز اور بغیر پائلٹ کے فضائی طیاروں کا استعمال، سائبر حملے، حملہ آوروں کے اکیلے حملے اور گمراہ کن معلومات پر مبنی مہمات بھی شامل ہیں۔ وزیر موصوف  نے مزید کہا کہ قومی سلامتی کا تعلق اقتصادی اور توانائی کی سلامتی سے بھی ہے اور مخالف عناصر معیشت کو نقصان پہنچانے یا توانائی کی سپلائی چین میں خلل ڈالنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’ہم نے تیزی سے بدلتے ہوئے ان خطرات سے نمٹنے کے لیے جامع نقطہ نظر اپنایا ہے۔‘‘

وزیر دفاع نے اس بات پر زور دیا کہ طاقت اور امن کے تصورات، جنہیں بھارتی روایت میں کبھی ایک دوسرے کی برخلاف نہیں سمجھا گیا، آزادی کے بعد بعض رہنماؤں نے انہیں ایک دوسرے سے متضاد متبادل کے طور پر دیکھا۔ وزیر موصوف  نے کہا کہ بھارت پر مسلط کی گئی کئی جنگیں اس بات کا سبق ہے کہ سلامتی کی پالیسی خوش فہمیوں کی بنیاد پر نہیں بنائی جا سکتی، بلکہ اس کے لیے زمینی حقائق اور قومی مفادات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ جناب سنگھ  نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ بعض رہنما اس مفروضے کے تحت کام کرتے رہے کہ جس طرح بھارت امن کا خواہاں ہے، اسی طرح باقی سب بھی امن کے حامی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں یہ طرزفکر  تبدیل ہوئی ہے۔

جناب راج ناتھ سنگھ نے کہاکہ ’’ہم نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ملک کے پاس ’دلیل کی طاقت‘ بھی ہے اور ’طاقت کی دلیل‘ بھی، اور ہم دوسرے فریق کو اُسی زبان میں جواب دیں گے جسے وہ بہتر طور پر سمجھتا ہے۔ آج ہم سفارت کاری کے ذریعے عالمی امن کے قیام کے لیے کام کر رہے ہیں، ساتھ ہی کسی بھی ممکنہ خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی دفاعی اور اہمیت کی حامل  صلاحیتوں کو بھی مضبوط بنا رہے ہیں۔ سرجیکل اسٹرائیکس، بالاکوٹ فضائی حملے اور آپریشن سندور جیسی کارروائیوں نے یہ ثابت کردیا ہے کہ ہمارے پاس اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری صلاحیت اور عزم موجود ہے... بھارت ایک امن پسند ملک ہے جس نے کبھی جنگ کی وکالت نہیں کی۔ تاہم، ہمیں اپنی سالمیت اور خودمختاری کے تحفظ اور اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے ہمیشہ تیار رہنا چاہیے۔‘‘

وزیر دفاع نے کہا کہ سفارت کاری کے بغیر فوجی تیاری محاذ آرائی اور سلامتی کے مخمصے کا باعث بن سکتی ہے، جبکہ ضروری دفاعی صلاحیت کے بغیر صرف سفارت کاری کی بنیاد پر آگے بڑھنا کمزوری کی علامت سمجھا جاتا ہے اور قومی سلامتی کے لیے یہ نقصان دہ ہے۔ جناب سنگھ  نے کہا کہ ان دونوں پہلوؤں کے درمیان توازن قائم کرنا انتہائی ضروری ہے۔

جناب راج ناتھ سنگھ نے دفاعی شعبے میں خود انحصاری کے ہدف کی جانب پیش قدمی کے ساتھ اسٹریٹجک خود مختاری اور قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہاکہ ’’کواڈ کے ذریعے ہم آزاد، کھلے اور ضابطوں پر مبنی ہند-بحرالکاہل خطے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ آئی ٹو یو ٹو،یعنی بھارت، اسرائیل، متحدہ عرب امارات اور امریکہ کے ذریعے ہم نے نئے شعبوں میں تعاون کو آگے بڑھایا ہے۔ بیمسٹیک(بی آئی ایم ایس ٹی ای سی)، برکس  اور شنگھائی تعاون تنظیم(ایس سی او) جیسی کثیر ملکی تنظیموں میں ہماری سرگرم شرکت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ہم نے اہمیت کی حامل  شراکت داری کو مضبوط کیا ہے، تعاون کے لیے نئے پلیٹ فارم قائم کیے ہیں اور عالمی سطح پر اپنی سفارتی رسائی کو وسعت دی ہے۔‘‘

وزیر دفاع نے’آپریشن سندور‘ جیسی کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے یہ واضح کر دیا ہے کہ بھارت اب نیوکلیائی بلیک میلنگ برداشت نہیں کرے گا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ دہشت گردی اور بات چیت ایک ساتھ نہیں چل سکتے، نہ ہی دہشت گردی اور تجارت ساتھ ساتھ ہو سکتی ہے۔ وزیر موصوف نے مزید کہا کہ ’’ہم نے یہ پیغام بھی دیا ہے کہ کوئی بھی سرحد ہمیں دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے سے نہیں روک سکتی۔ دہشت گردوں اور ان کے آقاؤں کے درمیان کوئی امتیاز نہیں کیا جائے گا۔ سندھ طاس معاہدے کو معطل کرکے ہم نے واضح کر دیا ہے کہ خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے۔ ہمارا نقطہ نظر اب ’اسٹریٹجک کنٹینمنٹ‘ اور ’ڈیٹرنس بائی ڈینائل‘ سے آگے بڑھ کر ’ڈیٹرنس بائی پنشمنٹ‘ کی جانب گامزن ہے۔‘‘

جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ بھارت نے ’آپریشن سندور‘ کے ذریعے دہشت گردی کے خلاف اپنی نئی پالیسی کو واضح کر دیا ہے۔ وزیر موصوف نے کہا، ’’پاکستانی سرزمین سے ہونے والے کسی بھی دہشت گردانہ حملے کو بھارت کے خلاف ’جنگی اقدام‘ تصور کیا جائے گا۔ جو لوگ کسی بھی قسم کی مہم جوئی کے بارے میں سوچ رہے ہیں، انہیں ان کے کیے کا مناسب جواب دیا جائے گا۔‘‘

وزیر دفاع جناب راجناتھ سنگھ نے زور دے کر کہا کہ ’’کسی بھی ملک کی عسکری طاقت دو ستونوں ، مضبوط معیشت اور طاقتور فوج پر قائم ہوتی ہے۔ جناب سنگھ نے کہا، ’’جب معیشت مضبوط ہوتی ہے تو قومی سلامتی اور دفاعی تیاریوں کے لیے مزید وسائل دستیاب ہوتے ہیں۔ جب کوئی ملک محفوظ ہو، ترقیاتی اقدامات کو آگے بڑھانے کے لیے صرف اسی وقت سازگار حالات پیدا ہوتے ہیں۔ قومی سلامتی اور قومی ترقی ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔‘‘

جناب راج ناتھ سنگھ نے اس بات کو بھی اجاگر کیا  کہ بھارت کی معیشت 7.8 فیصد کی شرح سے ترقی کر رہی ہے اور ملک اب دنیا کی پانچ بڑی معیشتوں میں شامل ہے۔ معیشت کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ انہوں نے دفاعی شعبے کو فروغ دینے کے لیے کیے گئے اقدامات کا بھی ذکر کیا، جن میں مالی سال 2013-14 میں تقریباً 2.50 لاکھ کروڑ روپے کے دفاعی بجٹ سے بڑھ کر مالی سال 2026-27 میں ریکارڈ 7.85 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچنا شامل ہے، جو تقریباً تین گنا اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دفاعی پیداوار بڑھ کر تقریباً 1.80 لاکھ کروڑ روپے کی اب تک کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، جبکہ مسلح افواج کی مسلسل جدید کاری جاری ہے، آرڈیننس فیکٹریوں میں مکمل تبدیلی عمل میں لائی جا رہی ہے اور دفاعی سرکاری شعبے کی کمپنیوں(ڈی پی ایس یوز) نے منافع درج کیا ہے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ’خطہ‘، ’ٹیکنالوجی‘اور ’سوچ‘کو کسی بھی جنگ کے لیے اہم تین ’ٹی‘ قرار دیتے ہوئے جدید جنگی حالات میں نئے شعبے سامنے آنے کے ساتھ حکومت جنگ کی بدلتی ہوئی نوعیت سے پیدا ہونے والے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے تکنیکی ترقی پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ڈرونز، مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، الیکٹرانک جنگ، خلائی شعبے اور کوانٹم ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں صلاحیتیں تیار کی جا رہی ہیں۔ وزیر موصوف نے کہاکہ ’’ہم نے ’رستم‘، ’گھاتک‘ اور ’ناگاسترا‘ جیسے مقامی طور پر تیار کیے گئے بغیر پائلٹ فضائی طیارے(یو اے ویز) تیار کیے ہیں۔ ’آپریشن سندور‘ کے دوران ہماری ڈرون جنگی صلاحیتوں کا مظاہرہ  کیا گیا۔ مقامی طور پر تیار کیے گئے برہموس میزائلوں نے پاکستان میں زبردست تباہی مچائی، جس سے دنیا کے سامنے بھارت کی دفاعی صلاحیتوں کا مظاہرہ ہوا۔ مستقبل کے جنگی چیلنجوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ’سدرشن چکر‘ تیار کیا جا رہا ہے۔‘‘

اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ جب کوئی ملک خود انحصار ہو تو قومی سلامتی مضبوط ہوتی ہے، جناب راج ناتھ سنگھ نے مزیدکہا کہ اس وقت ’بھارت میں ڈیزائن‘، ’بھارت میں ترقی‘ اور ’بھارت میں تیاری‘ کے وژن کے ساتھ کام جاری ہے۔ وزیر موصوف نے بتایا کہ گزشتہ 12 برسوں کے دوران دفاعی تحقیق اور ترقی کے لیے مختص رقم میں 112 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے، جو مالی سال 2014-15 میں تقریباً 13,700 کروڑ روپے سے بڑھ کر آج 29,000 کروڑ روپے سے زیادہ ہو گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دفاعی تحقیق و ترقی کے بجٹ کا 25 فیصد حصہ صنعت، اسٹارٹ اپس اور تعلیمی اداروں کے لیے مختص کیا گیا ہے، جس سے انہیں دفاعی اختراع میں سرگرم طور پر حصہ لینے کا موقع حاصل ہو رہا ہے۔

وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے اس بات کو بھی اجاگر کیا کہ دفاعی پیداوار کے شعبے میں لائسنس کے ضوابط کو آسان بنایا گیا ہے اور دفاعی حصول کے طریقہ کار  کے ذریعے مقامی طور پر تیار کیے گئے نظام کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ وزیر موصوف نے کہا کہ اب تک 10 سے زیادہ مثبت مقامی فہرستوں  میں 5,500 سے زیادہ اشیا شامل کی جا چکی ہیں، جو ان دفاعی سازوسامان اور پرزہ جات کی مقامی سطح پر تیاری پر زور دیے جانےکو ظاہر کرتا ہے، جنہیں پہلے درآمد کیا جاتا تھا۔ انہوں نے ڈی آر ڈی او کی جانب سے تیار کیے گئے روایتی میزائل نظاموں کی ٹیکنالوجی بھارتی صنعتوں کو منتقل کرنے کے ساتھ ساتھ تحقیق کو فروغ دینے کے لیے 15 صنعت و تعلیمی ادارہ جاتی مراکزِ امتیاز کے قیام کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ دنیا میں بہت کم ممالک کے پاس ملٹی پل انڈیپنڈنٹلی ٹارگٹ ایبل ری انٹری وہیکل(ایم آئی آر وی) ٹیکنالوجی موجود ہے، جس کا بھارت نے اگنی-5 میزائل کے ذریعے کامیاب تجربہ کیا ہے۔

ملک میں مقامی سپلائی چین کو مضبوط بنانے کے لیے جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ دفاعی پیداوار کو فروغ دینے کے مقصد سے ملک کے مختلف حصوں میں دفاعی صنعتی راہداریوں کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ وزیر موصوف  نے اس بات پر زور دیا کہ صرف بڑی دفاعی کمپنیوں پر انحصار کرنے کے بجائے اسٹارٹ اپس اور چھوٹی، بہت چھوٹی اور درمیانہ درجے کی صنعتوں (ایم ایس ایم ایز) کو بھی دفاعی اختراع کے عمل میں شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’سریجن ڈیفنس ایکوئپمنٹ ایمپاورمنٹ پلیٹ فارم‘‘ کے ذریعے بھارتی دفاعی سازوسامان تیار کرنے والوں، ایم ایس ایم ایز اور سپلائرز کو ایک ساتھ لایا جا رہا ہے۔ اب تک اس پلیٹ فارم پر 41,000 سے زیادہ سپلائرز اور 2.7 لاکھ سے زائد مصنوعات درج کی جا چکی ہیں۔

وزیر دفاع نے زور دے کر کہا کہ حکومت نہ صرف فوجیوں کی عملی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کے لیے کام کر رہی ہے بلکہ ان کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے پر بھی توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ وزیر موصوف نے کہا، ’’سابق فوجیوں اور ان کے اہل خانہ کی فلاح و بہبود پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ ای سی ایچ ایس کی سہولیات میں توسیع کی گئی ہے۔ ’درست پنشن، درست پنشنر، درست وقت‘ کو یقینی بنانے کے مقصد سے ’اسپرش‘ (ایس پی اے آر ایس ایچ)پلیٹ فارم شروع کیا گیا۔ ’ون رینک ون پنشن‘ پالیسی، جو کئی برسوں سے زیر التوا تھی، اسے بھی نافذ کر دیا گیا ہے۔ ہمارے بہادر فوجیوں کی ہمت، قربانی اور خدمات کو صرف الفاظ کے ذریعے نہیں بلکہ ان کی فلاح و بہبود اور آرام کو یقینی بنا کر خراج تحسین پیش کیا جانا چاہیے۔ اسی جذبے کے تحت رواں ماہ کے اوائل میں ’سینا میڈل‘ سے سرفراز تمام فوجیوں اور ان کے اہل خانہ کے منتخب افراد کو تاحیات مفت ٹرین سفر کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 (ش ح –ش  م-ع ن)

U. No. 4070


(ریلیز آئی ڈی: 2314762) وزیٹر کاؤنٹر : 14