قبائیلی امور کی وزارت
کرناٹک میں درج فہرست قبائل کے لیے آئینی تحفظات اور ترقیاتی پروجیکٹوں کے نفاذ کا جائزہ
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
24 SEP 2026 5:08PM by PIB Delhi
درج فہرست قبائل کے قومی کمیشن نے آج بنگلورو کے ریڈیسن بلو کے کانفرنس ہال میں منعقدہ ایک جائزہ میٹنگ میں کرناٹک میں درج فہرست قبائل کے لیے آئینی تحفظات، فلاحی اقدامات اور ترقیاتی پروگراموں کے نفاذ کا جامع جائزہ لیا۔

جائزہ میٹنگ کی صدارت درج فہرست قبائل کے قومی کمیشن کے معزز چیئرمین جناب انتر سنگھ آریہ نے کی۔ میٹنگ میں کمیشن کے معزز رکن جناب جاتوتھو حسین، جوائنٹ سکریٹری جناب امیت نرمل اور کمیشن کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔
ریاستی حکومت کی جانب سے چیف سکریٹری، پولیس کے ڈائریکٹر جنرل، ایڈیشنل چیف سکریٹریز، مختلف محکموں کے پرنسپل سکریٹریز اور سکریٹریز سمیت دیگر اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ جائزہ کمیشن کی جانب سے پہلے سے جاری کیے گئے ایک منظم اور تفصیلی سوال نامے، کرناٹک حکومت کی جانب سے فراہم کردہ معلومات اور اعداد و شمار، درج فہرست قبائلی برادریوں کے ارکان کی جانب سے موصولہ شکایات اور درخواستوں، جائزہ میٹنگ سے قبل موصول ہونے والی آراء اور کرناٹک میں کمیشن کی جانب سے پہلے کیے گئے دوروں کے دوران سامنے آنے والے مشاہدات کی بنیاد پر لیا گیا۔
جائزے کے دوران کمیشن نے ریاست کے درج فہرست قبائل سے متعلق مختلف اہم امور کا جائزہ لیا۔ ان میں آئینی تحفظات کا نفاذ، ریزرویشن اور زیر التوا خالی آسامیوں، درج فہرست قبائل کے جزو کے تحت مختص فنڈز کا استعمال، قبائلی زمین اور جنگلات کے حقوق، جنگلاتی حقوق قانون کا نفاذ، تعلیمی اور فلاحی اقدامات اور قبائلی مفادات کے تحفظ کے لیے ادارہ جاتی طریقۂ کار شامل ہیں۔
کمیشن نے خاص طور پر 2006 کے جنگلاتی حقوق قانون کے تحت بڑی تعداد میں دعووں کو مسترد کیے جانے سے متعلق معاملات کا جائزہ لیا اور اس بات پر زور دیا کہ قانون اور ضابطوں کی دفعات کے مطابق مسترد اور زیر التوا دعووں کا جامع طور پر جائزہ لیا جائے۔
کمیشن نے آئینی تحفظات کی مسلسل نگرانی کے لیے کرناٹک ریاستی کمیشن برائے درج فہرست قبائل کے قیام کی تجویز پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اس کے ساتھ زیر التوا خالی آسامیوں کو پُر کرنے اور تعلیم و سرکاری ملازمتوں میں درج فہرست قبائل کی مؤثر نمائندگی یقینی بنانے کے اقدامات پر بھی گفتگو ہوئی۔
انتہائی پسماندہ قبائلی گروہوں، خاص طور پر کورگا اور جینو کُروبہ برادریوں کی سماجی و اقتصادی اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر خصوصی توجہ دی گئی۔ اس میں صحت، غذائیت، رہائش، تعلیم، روزگار، زمین اور جنگلات کے حقوق اور بنیادی سہولیات تک رسائی پر توجہ مرکوز کی گئی۔
اس اجلاس نے مختلف تحفظات اور ترقیاتی اقدامات کے نفاذ کی صورت حال پر کمیشن اور ریاستی حکومت کے درمیان تفصیلی تبادلے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کیا۔ بات چیت تعمیری اور نتیجہ خیز رہی اور کمیشن نے متعلقہ محکموں پر زور دیا کہ جائزے کے دوران اٹھائے گئے مسائل پر مناسب اور مقررہ مدت کے اندر کارروائی کی جائے۔
درج فہرست قبائل کے قومی کمیشن نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ درج فہرست قبائل کے لیے مقرر آئینی تحفظات اور فلاحی اقدامات کو زمینی سطح پر ٹھوس اور مساوی نتائج میں تبدیل کیا جائے۔
ش ح۔ م ع۔ ج
uno -4032
(ریلیز آئی ڈی: 2314520)
وزیٹر کاؤنٹر : 9