تعاون کی وزارت
اتر پردیش میں ’بھارت ٹیکسی‘ سروس کا اِفتتاح؛ لکھنؤ کے ساتھ گورکھپور، وارانسی، کانپور اور پریاگ راج میں بھی سروس شروع کی گئی
’وزیر اعلیٰ کسان سمردھی یوجنا‘ پورٹل، اُرورک سیتو موبائل ایپ اور اتر پردیش کوآپریٹو ڈیٹا بیس سینٹر کی یو پی سی ڈی سی موبائل ایپ کا بھی اِفتتاح کیا گیا
ایئرپورٹ اتھارٹی، لکھنؤ میٹرو ریل اور لکھنؤ پولیس نے بھارت ٹیکسی کے ساتھ مفاہمت ناموں پر دستخط کیے
وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے ’سہکار سے سمردھی‘ کے وژن اور مرکزی وزیر داخلہ و امداد باہمی جناب امت شاہ کی قیادت میں امداد باہمی کا شعبہ مسلسل پھیل رہا ہے: جناب مرلیدھر موہول
”ڈرائیور ہی مالک ہے“ کے اصول پر مبنی، بھارت ٹیکسی کوآپریٹو ماڈل کے ذریعے سارتھیوں کو اپنی سروس کے حقیقی اسٹیک ہولڈر بنائے گی: مرکزی وزیر مملکت برائے امداد باہمی جناب مرلیدھر موہول
چھ ماہ میں 10 لاکھ سے زیادہ سارتھی بھارت ٹیکسی میں شامل ہوئے ہیں؛ روزانہ تقریباً 20,000 سواریاں مکمل کی جا رہی ہیں اور 100 کروڑ روپے سے زیادہ سارتھیوں کے کھاتوں میں جمع کیے گئے ہیں: جناب موہول
وزارتِ امداد باہمی نے گذشتہ پانچ برسوں کے دوران 160 سے زیادہ نئے اقدامات کیے ہیں: جناب موہول
ملک بھر میں تقریباً 3,000 کروڑ روپے کی لاگت سے تقریباً 80,000 پی اے سی ایس کی کمپیوٹرائزیشن جاری ہے
اتر پردیش میں تقریباً 54 لاکھ نئے کوآپریٹو ممبران شامل کیے گئے؛ پی اے سی ایس رکنیت مہم کو ملک بھر میں نقل کرنے کے قابل ایک ماڈل قرار دیا گیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
23 SEP 2026 6:31PM by PIB Delhi
وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے ’سہکار سے سمردھی‘ کے وژن کی رہ نمائی میں اور مرکزی وزیر داخلہ و امداد باہمی جناب امت شاہ کی قیادت اور رہ نمائی میں، بھارت کے امداد باہمی کے شعبے کو جدید، شفاف، ٹکنالوجی سے لیس اور کثیر جہتی بنانے کے لیے گذشتہ چند برسوں کے دوران اہم اقدامات کا ایک سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ امداد باہمی اپنے روایتی دائروں سے آگے بڑھ کر زراعت، دیہی معیشت، نامیاتی مصنوعات، بیج، برآمدات، ذخیرہ اندوزی، صحت کی دیکھ بھال کی خدمات اور اب نقل و حرکت جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں مسلسل پھیل رہی ہے۔ اس وژن کو آگے بڑھاتے ہوئے، مرکزی وزیر مملکت برائے امداد باہمی جناب مرلیدھر موہول نے آج لکھنؤ میں بھارت ٹیکسی کے باضابطہ اِفتتاحی پروگرام سے خطاب کیا۔ لکھنؤ کے ساتھ، یہ سروس آج گورکھپور، وارانسی، کانپور اور پریاگ راج میں بھی شروع کی گئی۔ اس موقع پر اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ جناب یوگی آدتیہ ناتھ، نائب وزیر اعلیٰ جناب برجیش پاٹھک، وزیر زراعت جناب سوریا پرتاپ شاہی، وزیر امداد باہمی جناب جے پی ایس راٹھور، وزیر نقل و حمل جناب دیاشنکر سنگھ، اتر پردیش کوآپریٹو گرام وکاس بینک کے چیئرمین جناب وویک سنگھ تومر، ایڈیشنل سکریٹری، وزارتِ امداد باہمی، جناب پنکج بنسل، وزیر اعلیٰ کے مشیران، اتر پردیش سرکار کے سینئر اہلکاران، عوامی نمائندے اور بڑی تعداد میں بھارت ٹیکسی کے سارتھی موجود تھے۔ اتر پردیش کے مختلف اضلاع سے 50,000 سے زیادہ افراد بھی آن لائن موڈ کے ذریعے پروگرام میں شامل ہوئے۔
پروگرام کے دوران، وزیر اعلیٰ جناب یوگی آدتیہ ناتھ نے ’وزیر اعلیٰ کسان سمردھی یوجنا‘ پورٹل کا اِفتتاح کیا۔ اس کے ساتھ ہی، اتر پردیش کے محکمہ امداد باہمی کے ذریعے تیار کردہ اُرورک سیتو موبائل ایپ اور اتر پردیش کوآپریٹو ڈیٹا بیس سینٹر کی یو پی سی ڈی سی موبائل ایپ کا بھی اِفتتاح کیا گیا۔ اس موقع پر، ایئرپورٹ اتھارٹی، لکھنؤ میٹرو ریل اور لکھنؤ پولیس نے بھارت ٹیکسی کے ساتھ مفاہمت ناموں کا تبادلہ کیا۔
جولائی 2021 میں وزارتِ امداد باہمی کے قیام کو یاد کرتے ہوئے، جناب موہول نے زور دے کر کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے تاریخی فیصلے نے ملک میں امداد باہمی کی تحریک کو ایک نئی سمت اور نئی رفتار دی۔ مرکزی وزیر داخلہ و امداد باہمی جناب امت شاہ کی قیادت میں، وزارتِ امداد باہمی نے گذشتہ پانچ برسوں کے دوران 160 سے زیادہ نئے اقدامات کیے ہیں، جن کا مقصد امداد باہمی کے اداروں کو مضبوط، شفاف، جدید اور اقتصادی طور پر باصلاحیت بنانا ہے۔ تحریک کے پیمانے اور رسائی کو اجاگر کرتے ہوئے، انھوں نے زور دے کر کہا کہ آج بھارت میں تقریباً 8.5 لاکھ امداد باہمی کی سوسائٹیاں ہیں، جن سے تقریباً 32 کروڑ ممبران وابستہ ہیں، جب کہ امداد باہمی کا شعبہ اس وقت تقریباً 30 مختلف شعبوں میں سرگرم ہے۔
زمینی سطح پر امداد باہمی کی ٹکنالوجی پر مبنی تبدیلی کو اجاگر کرتے ہوئے، جناب موہول نے بیان کیا کہ ملک بھر میں تقریباً 3,000 کروڑ روپے کی لاگت سے تقریباً 80,000 پرائمری ایگریکلچرل کریڈٹ سوسائٹیز (پی اے سی ایس) کی کمپیوٹرائزیشن جاری ہے۔ انھوں نے زور دیا کہ پی اے سی ایس کا کردار اب صرف زرعی قرض، زرعی اِن پٹ، چینی اور ڈیری کے کاروبار تک محدود نہیں ہے۔ پی اے سی ایس کو اب کئی نئے شعبوں سے جوڑا جا رہا ہے، جن میں اناج کا ذخیرہ، بیمہ، نامیاتی مصنوعات، دیسی بیج، کامن سروس سینٹرز، پردھان منتری کسان سمردھی کیندر، جن اوشدھی کیندر اور پیٹرول-ڈیزل کی تقسیم شامل ہیں۔ پی اے سی ایس کے ماڈل بائی لاز کی اصلاح کے ساتھ، وہ اب 25 سے زیادہ مختلف اقتصادی سرگرمیاں انجام دے سکتے ہیں، جس سے گاؤں کی سطح پر روزگار اور آمدنی پیدا کرنے کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔
امدادی ڈھانچے کے اندر ’بیج سے بازار تک‘ کی پوری ویلیو چین کو لانے کے لیے بھارت سرکار کی کوششوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے، مرکزی وزیر مملکت برائے امداد باہمی نے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے ’سہکار سے سمردھی‘ کے عزم کے مطابق نئی قومی سطح کی کثیر ریاستی امداد باہمی کی سوسائٹیوں کے قیام کا حوالہ دیا۔ ان میں معیاری بیجوں کے لیے بھارتیہ بیج سہکاری سمیتی لمیٹڈ (بی بی ایس ایس ایل)، نامیاتی مصنوعات کے لیے نیشنل کوآپریٹو آرگینکس لمیٹڈ (این سی او ایل) اور امداد باہمی کی مصنوعات کی برآمد کو فروغ دینے کے لیے نیشنل کوآپریٹو ایکسپورٹس لمیٹڈ (این سی ای ایل) شامل ہیں۔ ملک بھر میں تقریباً 70,000 امداد باہمی کی سوسائٹیاں پہلے ہی ان تینوں تنظیموں سے وابستہ ہو چکی ہیں، جس سے کسانوں اور امداد باہمی کے اداروں کو براہ راست فائدہ پہنچ رہا ہے۔
ڈیری اور انسانی وسائل کے شعبوں میں کیے جا رہے اقدامات کو اجاگر کرتے ہوئے، جناب موہول نے بیان کیا کہ وائٹ ریولوشن 2.0 کے تحت، ملک کی موجودہ دودھ کی پیداواری صلاحیت کو تقریباً 40 فیصد بڑھانے کی کوششیں جاری ہیں۔ اسی وقت، امداد باہمی کے اداروں کو تربیت یافتہ اور باصلاحیت انسانی وسائل فراہم کرنے کے لیے ملک کی پہلی امداد باہمی کی یونیورسٹی قائم کی گئی ہے۔ انھوں نے زور دیا کہ ایک مضبوط اور شفاف امداد باہمی کی تحریک کے لیے پیشہ ورانہ طور پر تربیت یافتہ نوجوانوں کی ضرورت ہے، انھوں نے کہا کہ تری بھون سہکاری یونیورسٹی آنے والے برسوں میں امداد باہمی کے شعبے کے لیے تقریباً 17 لاکھ تربیت یافتہ انسانی وسائل تیار کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
امدادی تحریک کے لیے مرکزی سرکار کی بڑھتی ہوئی مالی امداد کی مثال دیتے ہوئے، جناب موہول نے نیشنل کوآپریٹو ڈیولپمنٹ کارپوریشن (این سی ڈی سی) کے کردار کو اجاگر کیا۔ 1963 میں اس کے قیام سے لے کر 2014 تک، تقریباً پانچ دہائیوں کے عرصے میں، این سی ڈی سی نے امداد باہمی کے شعبے کو تقریباً 45,000 کروڑ روپے کی امداد فراہم کی، جب کہ گذشتہ تقریباً 12 برسوں کے دوران، یہ امداد تقریباً 4.5 لاکھ کروڑ روپے تک بڑھ گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ امداد باہمی کے شعبے کو مالی طور پر مضبوط بنانے کے لیے مرکزی سرکار کے مضبوط عزم کا غماز ہے۔
بھارت ٹیکسی کا حوالہ دیتے ہوئے، جناب موہول نے اسے نقل و حرکت کے شعبے میں ایک اہم نئی امداد باہمی کی پہل قرار دیا، جو بنیادی اصول ”ڈرائیور ہی مالک ہے“ کے گرد بنی ہے۔ ماڈل کی اہمیت کی وضاحت کرتے ہوئے، انھوں نے کہا کہ ڈرائیور صرف ایک سروس فراہم کرنے والا نہیں ہے بلکہ امداد باہمی کے ایکو سسٹم میں ایک اسٹیک ہولڈر اور مالک بھی ہے۔ روایتی ایگریگیٹر ماڈلز کے برعکس، جہاں ڈرائیوروں کو اپنی آمدنی کا ایک حصہ کمیشن کے طور پر ادا کرنا پڑتا ہے، بھارت ٹیکسی یہ یقینی بنانا چاہتی ہے کہ آمدنی کا زیادہ سے زیادہ فائدہ براہ راست سارتھیوں کو حاصل ہو۔ سروس سے ہونے والی آمدنی براہ راست ان کے کھاتوں میں جمع کی جاتی ہے، جب کہ امداد باہمی کا ڈھانچہ انھیں ملکیت میں حصہ اور فیصلہ سازی کے عمل میں شرکت بھی فراہم کرتا ہے۔ فروری 2026 میں اس کے آغاز کے بعد سے اس پہل کی تیزی سے ترقی کو اجاگر کرتے ہوئے، انھوں نے بیان کیا کہ صرف چھ ماہ کے اندر 10 لاکھ سے زیادہ سارتھی بھارت ٹیکسی میں شامل ہو چکے ہیں اور روزانہ تقریباً 20,000 سواریاں کی جا رہی ہیں۔ تقریباً 40 لاکھ مسافر بھی اس سروس میں شامل ہو چکے ہیں، جب کہ گذشتہ چھ ماہ کے دوران سارتھیوں کے کھاتوں میں 100 کروڑ روپے سے زیادہ جمع کیے گئے ہیں۔ بھارت ٹیکسی اس وقت ملک کے مختلف حصوں میں کام کر رہی ہے، جن میں دہلی، گجرات، ممبئی، جے پور اور چنڈی گڑھ شامل ہیں، اور لکھنؤ، گورکھپور، وارانسی، کانپور اور پریاگ راج کے اضافے کے ساتھ، اتر پردیش میں اس کی موجودگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان پانچ شہروں میں تقریباً 40,000 سارتھی بھائی اور بہنیں پہلے ہی رجسٹر ہو چکے ہیں اور جلد ہی مسافروں کو خدمات فراہم کرنا شروع کر دیں گے۔
وزیر اعلیٰ جناب یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت میں اتر پردیش کی ترقی کی رفتار کی تعریف کرتے ہوئے، جناب موہول نے ریاست کی قانون و انتظام، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، عوامی بہبود اور امداد باہمی سمیت مختلف شعبوں میں تیزی سے ترقی کو نوٹ کیا۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ اتر پردیش میں ہمیشہ امداد باہمی کے لیے ایک مضبوط سماجی اور اقتصادی بنیاد رہی ہے۔ گاؤں کی چوپالوں سے لے کر کھیتوں اور کھلیانوں تک، اجتماعی طور پر آگے بڑھنے کی روایت ریاست کے سماجی تانے بانے کا ایک لازمی حصہ رہی ہے، جس میں امداد باہمی اس جذبے کو ایک جدید ادارہ جاتی اظہار فراہم کرتی ہے۔ اتر پردیش کے وزیر امداد باہمی جناب جے پی ایس راٹھور کی قیادت میں کیے جا رہے کام کی تعریف کرتے ہوئے، انھوں نے اجاگر کیا کہ اس وقت ریاست بھر میں تقریباً 42,000 امداد باہمی کی سوسائٹیاں کام کر رہی ہیں۔ انھوں نے اتر پردیش سرکار کے 2025 کو ’سہکاریتا مہاکمبھ‘ کے طور پر منانے کے فیصلے کی بھی ستائش کی، جس کے تحت ریاست بھر کے گاؤں میں امداد باہمی کی تحریک کو وسعت دینے کے لیے ایک جامع مہم چلائی گئی۔
ایم-پی اے سی ایس رکنیت مہم کی کام یابی کو اجاگر کرتے ہوئے، جناب موہول نے بیان کیا کہ اتر پردیش میں 54 لاکھ سے زیادہ نئے ممبران شامل کیے گئے ہیں، جن میں تقریباً 17.5 لاکھ کسان شامل ہیں۔ اس پہل کو ملک بھر میں امداد باہمی کے شعبے کے لیے ایک قابل ذکر مثال قرار دیتے ہوئے، انھوں نے یاد دلایا کہ مرکزی وزیر داخلہ و امداد باہمی جناب امت شاہ نے بھی اتر پردیش کی رکنیت مہم کی ستائش کی تھی اور اسے ایک ایسے ماڈل کے طور پر تسلیم کیا تھا جسے دیگر ریاستوں میں نقل کرنے پر غور کیا جا سکتا ہے۔ رکنیت مہم نے امداد باہمی کے شعبے کے لیے تقریباً 75 کروڑ روپے کا تعاون بھی پیدا کیا ہے۔
پی اے سی ایس کمپیوٹرائزیشن میں اتر پردیش کی ترقی کو اجاگر کرتے ہوئے، جناب موہول نے بیان کیا کہ ریاست بھر میں تین مراحل میں تقریباً 6,300 پی اے سی ایس کو کمپیوٹرائز کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، تقریباً 750 زرعی اور دیہی امداد باہمی کے بینک یونٹوں کی کمپیوٹرائزیشن کا کام جاری ہے۔ اپریل 2026 سے، اتر پردیش میں 1,200 سے زیادہ نئے ایم-پی اے سی ایس، ڈیری، ماہی پروری اور دیگر امداد باہمی کی سوسائٹیاں قائم کی گئی ہیں، جس سے تقریباً ایک لاکھ نئے ممبران شامل ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ، پہلے سے فعال امداد باہمی کی سوسائٹیوں میں تقریباً 22 لاکھ نئے ممبران شامل کیے گئے ہیں۔
کثیر المقاصد دیہی خدمات کے اداروں کے طور پر پی اے سی ایس کے بڑھتے ہوئے کردار کی طرف توجہ مبذول کراتے ہوئے، وزیر موصوف نے زور دے کر کہا کہ اتر پردیش میں پی اے سی ایس کے ذریعے تقریباً 5,200 کامن سروس سینٹرز فی الحال چلائے جا رہے ہیں۔ تقریباً 7,000 ایم-پی اے سی ایس پردھان منتری کسان سمردھی کیندروں کے طور پر کام کر رہے ہیں، جب کہ 161 ایم-پی اے سی ایس پردھان منتری بھارتیہ جن اوشدھی کیندروں کے طور پر خدمات فراہم کر رہے ہیں۔
ریاست میں کوآپریٹو بینکنگ ایکو سسٹم کو مضبوط کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے، جناب موہول نے اِس بات کو اجاگر کیا کہ گذشتہ چند برسوں کے دوران تقریباً 307 کروڑ روپے کی امداد سے 16 ڈسٹرکٹ کوآپریٹو بینکوں کو دوبارہ فعال کیا گیا ہے، جسے اتر پردیش کے کوآپریٹو سیکٹر کے لیے ایک اہم کام یابی قرار دیا ہے۔ اتر پردیش اسٹیٹ کوآپریٹو بینک نے ایک اور اہم سنگ میل حاصل کیا ہے، جو آدھار کارڈ جاری کرنے اور اپ ڈیٹ کرنے کے لیے مجاز ملک کا پہلا کوآپریٹو بینک بن گیا ہے۔ اس کے متوازی، کوآپریٹو سیکٹر میں مطالعہ، تربیت اور تعلیم کو فروغ دینے کے لیے اتر پردیش میں ایک کوآپریٹو کالج کے قیام کی کوششیں بھی جاری ہیں۔
اِن اقدامات کے پیچھے وسیع تر فلسفے کو اجاگر کرتے ہوئے، جناب مرلیدھر موہول نے تعاون کو عام شہری کو خود کفیل بنانے اور اُس کی محنت کے لیے وقار کو یقینی بنانے کا ایک طاقتور ذریعہ قرار دیا۔ انھوں نے زور دیا کہ نقل و حرکت جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں کوآپریٹو ماڈل کی توسیع، تحریک کے وسیع ہوتے افق کی عکاسی کرتی ہے، جس میں بھارت ٹیکسی اس سمت میں ایک اہم اقدام کی نمائندگی کرتی ہے۔
آگے کے لائحہ عمل پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے، جناب موہول نے کہا کہ مرکز میں وزیر اعظم جناب نریندر مودی اور اتر پردیش میں وزیر اعلیٰ جناب یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت میں، ’سہکار سے سمردھی‘ کے وژن کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے کوآپریٹو تحریک مزید تیزی سے پھیلتی رہے گی۔ انھوں نے مزید زور دیا کہ کوآپریٹو سیکٹر وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے ’وِکست بھارت @2047‘ کے عزم کو حقیقت کا روپ دینے میں انتہائی اہم کردار ادا کرے گا، جس میں تعاون کی طاقت کے ذریعے کروڑوں کسانوں، مزدوروں، نوجوانوں، خواتین اور چھوٹے کاروباریوں کو ترقی کے مرکزی دھارے میں لانے کی مسلسل کوششیں شامل ہیں۔
***
(ش ح - ع ا)
U.No. 3989
(ریلیز آئی ڈی: 2314119)
وزیٹر کاؤنٹر : 7