سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

تعلیمی اداروں اور صنعت کے تعاون سے اس طریقہ کار کا سراغ ملا جس کے ذریعے محفوظ رکھنے والے مادے بیکٹیریا کو ختم کرتے ہیں، بہتر تحفظ کی راہ ہموار

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 23 SEP 2026 3:17PM by PIB Delhi

سائنس دانوں نے پہلی بار اس لمحے کو ریکارڈ کیا ہے جب بیکٹیریا محفوظ رکھنے والے مادوں کے حملے کے سامنے بے بس ہوجاتے ہیں۔ جدید امیجنگ اور کیمیائی تجزیے کی مدد سے تحقیقی ٹیم نے یہ معلوم کیا کہ محفوظ رکھنے والے مادے بیکٹیریا کے خلیوں کو اندر سے کس طرح متاثر کرتے ہیں۔ اس اہم پیش رفت سے گھریلو اور ذاتی استعمال کی اشیا میں زیادہ مؤثر اور محفوظ تحفظ کی ٹیکنالوجی تیار کرنے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔

سوڈیم بینزویٹ (ایس بی) اور فینوکسیتھانول (پی او ای) دونوں مؤثر محفوظ رکھنے والے مادے ہیں۔ سوڈیم بینزویٹ (ایس بی) بیسویں صدی کے اوائل سے اچار، کیچپ اور گیس والے مشروبات جیسی غذاؤں کو محفوظ رکھنے کے لیے استعمال ہورہا ہے۔ یہ 1908 میں امریکی ادارہ برائے خوراک و ادویات (یو ایس ایف ڈی اے) سے منظوری حاصل کرنے والا پہلا غذائی محفوظ کنندہ تھا۔ فینوکسیتھانول (پی او ای) نسبتاً نیا محفوظ کنندہ ہے، جو کئی دہائیوں سے شیمپو، موئسچرائزر، سن اسکرین اور بعض ویکسین میں بھی استعمال ہورہا ہے۔ ایک صدی سے زیادہ عرصے تک بڑے پیمانے پر استعمال کے باوجود، ان دونوں اہم محفوظ کنندگان، ایس بی اور پی او ای، کی بیکٹیریا کے خلاف اثراندازی کے بنیادی سالماتی طریقہ کار کو اب تک پوری طرح سمجھا نہیں جاسکا ہے۔

محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی کے ایک خودمختار ادارے، انسٹی ٹیوٹ آف نینو سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (آئی این ایس ٹی)، موہالی کے محققین نے یونی لیور آر اینڈ ڈی بنگلورو کے تعاون سے ٹرانسمیشن الیکٹران مائیکروسکوپی (ٹی ای ایم) کو تکمیلی حیاتی کیمیائی تجزیوں کے ساتھ یکجا کرکے اس معلوماتی خلا کو دور کیا۔ اس کے ذریعے محفوظ رکھنے والے مادوں کے جراثیم کش اثر کے طریقہ کار کو سمجھنے کی کوشش کی گئی۔ اس مطالعے میں دو نمائندہ بیماری پیدا کرنے والے بیکٹیریا، گرام مثبت اسٹیفیلوکوکس اوریئس اور گرام منفی سیوڈوموناس ایروگینوسا میں محفوظ رکھنے والے مادوں کے باعث خلیاتی اور حیاتی کیمیائی ردعمل کا جائزہ لیا گیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image001_20260923151819_be6f38.jpg

شکل 1: مطالعے سے اثراندازی کے دوہرے طریقہ کار کا انکشاف ہوا: محفوظ رکھنے والے مادے بیکٹیریا کی بیرونی خلیاتی جھلی کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ اندرونی حیاتی کیمیائی نقصان کا باعث بنتے ہیں، جس کے نتیجے میں خلیے کے متعدد حصوں کو بیک وقت نشانہ بنایا جاتا ہے۔

محققین نے پایا کہ محفوظ رکھنے والے مادے بیکٹیریا پر کئی سطحوں سے حملہ کرتے ہیں۔ بیکٹیریا کی خلیاتی جھلی جسمانی طور پر متاثر ہوجاتی ہے، جبکہ ردعمل پیدا کرنے والے ایلڈیہائیڈز اور آکسیجن سے پیدا ہونے والی کیمیائی انواع خلیے کے اندر جمع ہوکر اہم پروٹین، جینیاتی مواد اور خلیے کے دیگر اہم افعال کو متاثر کرتی ہیں۔ محفوظ رکھنے والے مادے صرف ایک طریقے سے اثر انداز ہونے کے بجائے بیکٹیریا کے خلیے کے متعدد حصوں کو بیک وقت نشانہ بناتے ہیں۔ اس طرح یہ تحقیق اب تک کی واضح ترین معلومات میں سے ایک فراہم کرتی ہے کہ بیکٹیریا کے خلیے کس طرح غیر فعال ہوجاتے ہیں۔

جدید امیجنگ سے انکشاف ہوا کہ سوڈیم بینزویٹ اور فینوکسیتھانول بیکٹیریا کو غیر فعال کرنے کے لیے مختلف طریقہ کار اختیار کرتے ہیں۔ سوڈیم بینزویٹ کے باعث خلیے سکڑ کر منہدم ہونے لگے، جبکہ فینوکسیتھانول نے خلیاتی جھلی کو پھیلایا اور بالآخر اس کے پھٹنے کا سبب بنا۔ محققین نے مزید ثابت کیا کہ تیزابی ماحول میں سوڈیم بینزویٹ کی تاثیر نمایاں طور پر بڑھ جاتی ہے اور اس کی سرگرمی میں تقریباً 16 گنا اضافہ ہوجاتا ہے، جبکہ فینوکسیتھانول نے پی ایچ کی ایک وسیع حد میں یکساں مؤثریت کا مظاہرہ کیا۔ یہ نتائج مختلف مرکبات کی تیاری کے حالات کے مطابق محفوظ رکھنے والے مادوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے طریقہ کار کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرتے ہیں۔

ایشانی شرما، ایس ایم روز، مدھو لتا، سومناتھ داس، ناگراجا آئی ایس آچاریہ، مہیشورا نائک، سمیرن مہاپاترا اور شرمسٹھا سنہا پر مشتمل تحقیقی ٹیم نے بیکٹیریا پر مختلف تجربات کیے۔ ان میں روک تھام کے زون اور کم از کم مؤثر ارتکاز (ایم آئی سی) کے تجربات شامل تھے، جن کے ذریعے یہ معلوم کیا گیا کہ بیکٹیریا کی افزائش روکنے کے لیے محفوظ رکھنے والے مادے کی کتنی مقدار درکار ہوتی ہے۔ الیکٹران مائیکروسکوپی کے ذریعے خلیے کی ساخت میں ہونے والی تبدیلیوں کا براہ راست مشاہدہ کیا گیا، جبکہ رنگ دار مادے کے اخراج کے تجربے سے خلیاتی جھلی میں پڑنے والے شگافوں کا پتا لگایا گیا۔ اس کے علاوہ دو حیاتی کیمیائی تجربات (ایم بی ٹی ایچ اور ڈی  سی ایف ڈی اے) کے ذریعے خلیے کے اندر ہونے والی کیمیائی تبدیلیوں کی پیمائش کی گئی۔ یہ تمام تجربات دو مختلف اقسام کے بیکٹیریا اور معمولی و تیزابی دونوں حالات میں کیے گئے۔

ان تمام طریقوں کو یکجا کرنے سے محققین کو یہ سمجھنے میں مدد ملی کہ بیکٹیریا کی بیرونی ساخت میں نظر آنے والی تبدیلیاں عین اسی وقت خلیے کے اندر ہونے والی خرابیوں سے کس طرح جڑی ہوئی ہیں۔ یہ تحقیقی مطالعہ جرنل ‘‘لیٹرز اِن اپلائیڈ مائیکرو بایولوجی’’ میں شائع ہوا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image002_20260923151826_a5b9f3.jpg

شکل 2: ٹی ای ایم تصاویر: بغیر کسی علاج کے خلیے (اوپر: پی. ایروگینوسا اورنیچے: ایس. اوریئس) بمقابلہ ایس بی یا پی او ای سے متاثرہ خلیے، جن میں خلیاتی جھلی کا پھٹنا اور خلیے کے اندرونی مادے کا اخراج دکھائی دے رہا ہے (سرخ تیر سے ظاہر کیا گیا ہے)۔

یہ جاننا کہ یہ محفوظ رکھنے والے مادے بالکل کس طرح کام کرتے ہیں، صنعت کو کسی خاص مصنوعات کی ساخت کے لیے موزوں محفوظ کنندہ منتخب کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ مثال کے طور پر سوڈیم بینزویٹ تیزابی مصنوعات کے لیے موزوں ہے، جبکہ فینوکسیتھانول ان صورتوں میں موزوں ہے جہاں پی ایچ میں ہونے والی تبدیلیاں زیادہ اہم نہ ہوں۔ اس سے اندازے کے بجائے محفوظ کنندہ کی درست مقدار استعمال کرنے، مصنوعات کے خراب ہونے اور ضیاع کو کم کرنے اور ایسے بیکٹیریا سے ایک قدم آگے رہنے میں مدد مل سکتی ہے جو بصورت دیگر مزاحمت پیدا کرسکتے ہیں۔

پبلکیشن لنک:https://doi.org/10.1093/lambio/ovag022

***

ش ح۔۔ ا ک۔ ر ب

U-3966


(ریلیز آئی ڈی: 2313920) وزیٹر کاؤنٹر : 5
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी