کامرس اور صنعت کی وزارتہ
تجارت اور سرمایہ کاری قانون سے متعلق مرکز نے ڈبلیو ٹی او کے ماہی گیری سے متعلق سبسڈی معاہدے پر ایک ویبینار منعقد کیا
ماہرین نے ڈبلیو ٹی او کے ماہی گیری سے متعلق سبسڈی معاہدے، اس پر عمل درآمد کے چیلنجز اور جاری مذاکرات پر غور و خوض کیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
23 SEP 2026 11:58AM by PIB Delhi
تجارت اور سرمایہ کاری قانون سے متعلق مرکز (سی ٹی آئی ایل) اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف فارن ٹریڈ نے 21 ستمبر 2026 کو ’’ڈبلیو ٹی او کا ماہی گیری سے متعلق سبسڈی معاہدہ: قانونی ڈھانچہ اور پالیسی کے امکانات‘‘ کے موضوع پر ایک ویبینارکا انعقاد کیا۔ یہ ویبینار ڈبلیو ٹی او فش ویک کے آغاز کے ساتھ منعقد ہوا اور 20 جولائی 2026 کو بھارت کی جانب سے ڈبلیو ٹی او کے ماہی گیری سے متعلق سبسڈی معاہدے (اے ایف ایس) کی توثیق کے بعد منعقد کیا گیاہے۔ بین الاقوامی تجارتی قانون کے ماہرین، ماہی گیری کے شعبے کے ماہرین اور پالیسی سازوں نے معاہدے کے نفاذ، اس کے نافذ العمل ہونے کے ایک سال بعد کی صورت حال اور گنجائش سے زیادہ ماہی گیری کے بیڑے اور حد سے زیادہ ماہی گیری سے متعلق اضافی ضوابط کے لیے جاری مذاکرات پر تبادلہ خیال کیا۔
ویبینار میں اے ایف ایس کے مؤثر نفاذ کے لیے قابل اعتماد ماہی گیری سے متعلق اعداد و شمار، نگرانی اور رپورٹنگ کے مضبوط نظام، ادارہ جاتی تال میل اور مناسب تکنیکی صلاحیت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ ترقی پذیر اور کم ترقی یافتہ رکن ممالک کے لیے مسلسل صلاحیت سازی اور تکنیکی معاونت کی ضرورت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جس میں ڈبلیو ٹی او کے دستیاب طریقہ کار کے ذریعے فراہم کی جانے والی معاونت بھی شامل ہے۔
اے ایف ایس کو 2022 میں ڈبلیو ٹی او کی بارہویں وزارتی کانفرنس میں منظور کیا گیا تھا۔ یہ معاہدہ بعض نقصان دہ ماہی گیری سے متعلق سبسڈی پر ضوابط مقرر کرتا ہے، جن میں غیر قانونی، غیر رپورٹ شدہ اور غیر منظم (آئی یو یو) ماہی گیری سے منسلک سبسڈی، حد سے زیادہ شکار کیے گئے مچھلی کے ذخائر کے لیے دی جانے والی سبسڈی، مخصوص بحالی کی شرائط کے تابع، اور ایسے کھلے سمندری علاقوں میں ماہی گیری سے متعلق سبسڈی شامل ہیں جہاں کوئی ضابطہ نافذ نہیں ہے۔ معاہدے میں اطلاع دینے اور شفافیت سے متعلق ذمہ داریاں بھی مقرر کی گئی ہیں اور اس معاہدے کو قبول کرنے والے رکن ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس کے نفاذ اور انتظام کے لیے اقدامات کریں، جن میں معاہدے کے بنیادی ضوابط کو مؤثر بنانے اور اطلاع دینے سے متعلق تقاضوں کی تعمیل کے اقدامات بھی شامل ہیں۔
تبادلہ خیال میں معاہدے کے نفاذ سے متعلق چیلنجز، اطلاع اور شفافیت کے تقاضے، خصوصی اور امتیازی سلوک (ایس اینڈ ڈی ٹی)، ملکی سطح پر ادارہ جاتی تیاری، چھوٹے پیمانے کی ماہی گیری اور گنجائش سے زیادہ ماہی گیری اور حد سے زیادہ ماہی گیری سے متعلق اضافی ضوابط کے لیے جاری مذاکرات جیسے امور کا احاطہ کیا گیا۔
ماہرین کے پینل میں جنیوا میں انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ- پائیدار ترقی کابین الاقوامی ادارہ (آئی آئی ایس ڈی) کی ڈائریکٹر برائے تجارت اور پائیدار ترقی محترمہ ایلس ٹپنگ، آئی آئی ایس ڈی جنیوا کے سینئر پالیسی مشیر جناب ٹرسٹن ارشلنگر، مرکز برائے ڈبلیو ٹی او اسٹڈیز (سی ڈبلیو ٹی او ایس) کے سابق پروفیسر ڈاکٹر مکیش بھٹناگر اور چھوٹے پیمانے کی ماہی گیری کے مشیر جناب سیباسٹین میتھیو شامل تھے۔ اجلاس کی نظامت سی ٹی آئی ایل کے پروفیسر اور سربراہ اور سی ڈبلیو ٹی او ایس کے قائم مقام سربراہ پروفیسر جیمز جے نیڈومپرا نے کی۔ سی ٹی آئی ایل کی قانونی مشیر محترمہ پریانشا ہجیلا نے افتتاحی کلمات پیش کیے۔
ماہرین نے اے ایف ایس کے بنیادی ضوابط اور اس کے نفاذ سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا، جن میں اطلاع اور شفافیت کے تقاضے، ملکی سطح پر اعداد و شمار کے نظام، مختلف اداروں کے درمیان تال میل اور بھارت کے قانونی و پالیسی فریم ورک کی اہمیت شامل تھی۔ غور و خوض میں حد سے زیادہ ماہی گیری کی گنجائش اور حد سے زیادہ شکار سے متعلق مذاکرات کی تاریخ اور جاری مذاکرات، نفاذ اور صلاحیت سازی کی ضروریات کی نشاندہی میں آئی آئی ایس ڈی کے خود تشخیصی ٹول کٹ کے کردار اور چھوٹے پیمانے کی روایتی ماہی گیری سے وابستہ افراد کے روزگار، غذائی تحفظ اور ترقیاتی مسائل کا بھی احاطہ کیا گیا۔ ماہی گیری کے جہازوں کی رجسٹریشن، نگرانی اور غیر قانونی، غیر رپورٹ شدہ اور غیر منظم (آئی یو یو) ماہی گیری سے متعلق تعین جیسے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
پروگرام کا اختتام سوال و جواب کے ایک باہمی اجلاس کے ساتھ ہوا، جس میں شرکاء نے اے ایف ایس کے نفاذ کے عملی اور قانونی پہلوؤں پر ماہرین سے سوالات کیے۔ ان میں اطلاع اور شفافیت، آئی یو یو ماہی گیری، حد سے زیادہ شکار کیے گئے مچھلی کے ذخائر کی بحالی، خصوصی اور امتیازی سلوک (ایس اینڈ ڈی ٹی) اور چھوٹے پیمانے کی ماہی گیری جیسے موضوعات شامل تھے۔ ویبینار میں ملکی سطح پر تیاریوں کو مضبوط بنانے اور ڈبلیو ٹی او کے ماہی گیری سے متعلق سبسڈی معاہدے کے مؤثر نفاذ میں مدد کے لیے بین الاقوامی تنظیموں اور ماہی گیری کے شعبے سے وابستہ متعلقہ فریقوں کے درمیان مسلسل مکالمے اور تال میل کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ش ح ۔م م ع ۔ع ن)
U. No. 3956
(ریلیز آئی ڈی: 2313800)
وزیٹر کاؤنٹر : 7