کامرس اور صنعت کی وزارتہ
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیرجناب پیوش گوئل نے کاروبار کرنے میں آسانی، آزاد تجارتی معاہدوں (ایف ٹی اے) کے مواقع اور تجارتی اصلاحات سے متعلق ورکشاپ میں صنعتی شعبے کے نمائندوں سے تبادلۂ خیال کیا


پیوش گوئل نے زمینی اور ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے برآمدات کو سہل بنانے کے نظام کو مضبوط کرنے پر زور دیا

برآمد کنندگان کی مدد کے لیے ضلع اور ریاستی سطح پر مقامی اہلکار تعینات کرنے کی تجویز: پیوش گوئل

‘ٹریڈ کنیکٹ’ پلیٹ فارم کے ذریعے مصنوعات اور ایچ ایس این کوڈ کے لحاظ سے محصولات، آزاد تجارتی معاہدوں کے مواقع اور طریقہ کار سے متعلق معلومات فراہم کرنے کا منصوبہ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 22 SEP 2026 9:36PM by PIB Delhi

صنعت  کے فروغ و اندرونی تجارت کے محکمہ(ڈی پی آئی آئی ٹی) نے آج نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں کاروبار کرنے میں آسانی، آزاد تجارتی معاہدوں (ایف ٹی اے) کے مواقع اور تجارت سے متعلق جاری اصلاحات کے موضوع پر متعلقہ فریقوں کی ایک ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ اس کے بعد مرکزی وزیر تجارت و صنعت جناب پیوش گوئل اور تجارت و صنعت  کے وزیر مملکت جناب جتن پرساد کے ساتھ ایک ورچوئل اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس کے دوران جناب گوئل نے زمینی اور ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے برآمدات کو سہل بنانے کے نظام کو مضبوط کرنے کے حکومت کے طریقہ کار کی وضاحت کی۔ انہوں نے کہا کہ ہر مقام پر ہر محکمے کے الگ الگ دفاتر قائم کرنے کے بجائے بڑے شہروں میں تجارت و صنعت کے مربوط دفاتر قائم کرنے کا منصوبہ ہے، جہاں کاروباری اداروں کو متعدد محکموں اور ایجنسیوں تک رسائی کے لیے ایک مشترکہ مرکز دستیاب ہوگا۔

انہوں نے صنعت کے نمائندوں کے ساتھ کھل کر تبادلہ خیال کیا اور عہدیداروں کو صنعت کی جانب سے دی گئی بعض تجاویز کا جائزہ لینے کی ہدایت دی۔

یہ کسی علاقائی صنعتی ایسوسی ایشن  کے ساتھ اس نوعیت کا پہلا باہمی بات چیت کا اجلاس تھا۔

رولر چین اور صنعتی پرزہ جات تیار کرنے والے شعبے نے حالیہ پالیسی اقدامات کے نتیجے میں ملکی پیداوار کو مضبوط بنانے پر پڑنے والے مثبت اثرات کو اجاگر کیا۔ صنعت کے نمائندوں نے بتایا کہ کوالٹی کنٹرول آرڈرز(کیو سی او) ، کم از کم درآمدی قیمت(ایم پی) کی دفعات اور درآمدی محصولات میں اضافے جیسے اقدامات سے اس شعبے کو نمایاں فروغ ملا ہے، جس کے نتیجے میں صنعت میں 15 گنا توسیع ہوئی، تقریباً 500 کروڑ روپے کی نئی سرمایہ کاری ہوئی اور لگ بھگ 5,000 نئی ملازمتیں پیدا ہوئیں۔ صنعت نے ملکی پیداواری صلاحیت بڑھانے، سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں ان اقدامات کو مؤثر قرار دیتے ہوئے ان کی ستائش کی۔

وزیر موصوف نے ضلع اور ریاستی سطح پر برآمد کنندگان اور ممکنہ برآمد کنندگان کی مدد کے لیے تقریباً 1,000 تربیت یافتہ مقامی اہلکاروں کا ایک مجوزہ نیٹ ورک قائم کرنے کا بھی اعلان کیا۔ ان اہلکاروں کو علاقائی زبانوں کا علم ہوگا۔ انہیں تربیت دینے کے بعد تعینات کیا جائے گا تاکہ وہ صنعتی چیمبرز اور علاقائی ایسوسی ایشن کے ذریعے کاروباری اداروں کو رہنمائی اور عملی معاونت فراہم کر سکیں۔

جناب گوئل نے شرکا کو ’ٹریڈ کنیکٹ‘ پلیٹ فارم کے بارے میں بھی بتایا، جسے برآمد کنندگان کو مصنوعات اور ایچ ایس این کوڈ کے لحاظ سے مختلف معلومات فراہم کرنے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ ان معلومات میں درآمدی ملک میں عائد محصولات، آزاد تجارتی معاہدوں (ایف ٹی اے) کے مواقع اور ایف ٹی اے کے فوائد حاصل کرنے کے طریقہ کار شامل ہوں گے۔ اس پلیٹ فارم میں ڈیجیٹل اور مصنوعی ذہانت پر مبنی آلات کے استعمال کا بھی منصوبہ ہے، جن کی مدد سے کاروباری ادارے ممکنہ برآمدی مواقع اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق خلا کی نشاندہی کر سکیں گے۔

ورکشاپ میں صنعتی ایسوسی ایشن، تجارتی اداروں اور مختلف شعبوں کی تنظیموں کے نمائندوں کے علاوہ ڈی پی آئی آئی ٹی اور محکمہ تجارت کے اعلی عہدیداروں نے شرکت کی۔ بات چیت میں کاروبار کرنے میں آسانی سے متعلق جاری اصلاحات، تجارت کو سہل بنانے کے اقدامات، بھارت کے آزاد تجارتی معاہدوں کے تحت دستیاب مواقع اور منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے اور ضابطہ جاتی و طریقہ کار سے متعلق تقاضوں کو پورا کرنے میں صنعت کو درپیش چیلنجز پر توجہ مرکوز کی گئی۔

ڈی پی آئی آئی ٹی کے عہدیداروں نے اسٹارٹ اپ انڈیا، دانشورانہ ملکیت کے حقوق (آئی پی آر)، سرمایہ کاری کو سہل بنانے، نیشنل سنگل ونڈو سسٹم، صنعتی بنیادی ڈھانچے اور پٹرولیم اینڈ ایکسپلوزیو سیفٹی آرگنائزیشن (پی ای ایس او) سے متعلق اصلاحات کے اہم اقدامات پر پریزنٹیشنز دیں۔ پریزنٹیشنز میں ضابطہ جاتی عمل کو آسان اور معقول بنانے، ڈیجیٹلائزیشن، تعمیل کے بوجھ میں کمی اور منظوری و خدمات کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنانے سے متعلق اقدامات کو اجاگر کیا گیا۔

حالیہ آزاد تجارتی معاہدوں اور تجارت کو سہل بنانے سے متعلق اصلاحات پر ایک خصوصی اجلاس میں صنعت کو بھارت کے تجارتی معاہدوں سے پیدا ہونے والے مواقع اور ذمہ داریوں سے آگاہ کیا گیا۔ اجلاس میں تجارت سے متعلق عمل اور طریقہ کار کو ڈیجیٹل بنانے، دستاویزات کے عمل کو آسان کرنے اور اسے مزید سہل بنانے سے متعلق جاری اقدامات کا بھی احاطہ کیا گیا۔

دوا سازی، ٹیکسٹائل، مصنوعی ریشوں، تانبے، آٹوموبائل اور انجینئرنگ، ایئر کنڈیشنر اور لاجسٹکس سمیت مختلف شعبوں کے نمائندوں کے علاوہ ایم ایس ایم ایز اور خواتین کاروباریوں نے برآمدی مسابقت، تجارتی دستاویزات، ضابطہ جاتی عمل، آزاد تجارتی معاہدوں (ایف ٹی اے) سے استفادے، لاجسٹکس، ملکی سپلائی چین، معیارات اور جانچ کے بنیادی ڈھانچے اور ضابطہ جاتی یقین دہانی سے متعلق مسائل اٹھائے۔

صنعتی نمائندوں نے حکومت کے مختلف نظاموں اور غیر ملکی تجارت سے متعلق پلیٹ فارموں کے درمیان بہتر باہمی ربط کی ضرورت پر زور دیا، جس میں ایف ٹی اے کے تحت سرٹیفکیٹ آف اوریجن کی ڈیجیٹل ترسیل اور تصدیق بھی شامل ہے۔ دیگر ایف ٹی اے شراکت دار ممالک تک بھی ایسے برقی طریقہ کار کو توسیع دینے کی تجویز کا جائزہ لینے کی بات کہی گئی۔ صنعت نے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فارن ٹریڈ (ڈی جی ایف ٹی)، کسٹمز، بینکوں اور دیگر متعلقہ فریقوں کو شامل کرتے ہوئے برآمدی عمل کو مزید مربوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

اجلاس میں لاجسٹکس اور تجارتی عمل میں حائل رکاوٹوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جن میں دستاویزات کے زیر التوا معاملات اور سمندری مال برداری کے اخراجات سے متعلق تشویش شامل ہے۔ شعبہ وار مسائل بھی اٹھائے گئے، جن میں درآمدات اور اصل ملک کے تعین کے قواعد، برآمدی معیار اور ضابطہ جاتی عمل، درآمدی مسابقت، جانچ اور سرٹیفیکیشن کا بنیادی ڈھانچہ اور ایم ایس ایم ایز کے لیے ضابطہ جاتی یقین دہانی شامل ہیں۔

بھارت کی برآمدات پر عالمی اعتماد کو مضبوط بنانے کے لیے معیار اور بین الاقوامی معیارات کی پابندی کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔ صنعتی ایسوسی ایشنز اور برآمداتی  فروغ کونسلوں کی حوصلہ افزائی کی گئی کہ وہ  مخصوص منڈیوں کے معیارات کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے اور ان پر عمل درآمد میں تعاون کریں، نیز جعلی، غیر معیاری یا ضابطوں کی پابندی نہ کرنے والی مصنوعات تیار کرنے کے واقعات کی نشاندہی میں مدد کریں، تاکہ ان کے خلاف مناسب ضابطہ جاتی کارروائی کی جا سکے۔

اس باہمی بات چیت کے  اجلاس میں تجارت کی راہ میں عملی رکاوٹوں کو دور کرنے، ملکی پیداوار اور سپلائی چین کو مضبوط بنانے اور عالمی منڈیوں میں بھارتی کاروباری اداروں کی زیادہ سے زیادہ شرکت کو سہل بنانے کے لیے حکومت اور صنعت کے درمیان شراکت داری کی اہمیت کا اعادہ کیا گیا۔

یہ ورکشاپ کاروبار کرنے میں آسانی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے، تجارت کو سہل بنانے اور بھارت کے بڑھتے ہوئے آزاد تجارتی معاہدوں کے نیٹ ورک سے پیدا ہونے والے مواقع سے بھارتی صنعت کو مؤثر طور پر فائدہ اٹھانے کے قابل بنانے کے لیے حکومت کی جاری کوششوں کا حصہ تھی۔

********

ش ح۔ ع ح ۔ج ا

U. No.3945


(ریلیز آئی ڈی: 2313749) وزیٹر کاؤنٹر : 6
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी