PIB Backgrounder
azadi ka amrit mahotsav

نیشنل سنگل ونڈو سسٹم


 ہندوستان  میں کاروباری منظوریوں کے عمل میں تبدیلی لانا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 22 SEP 2026 9:40PM by PIB Delhi

 نیشنل سنگل ونڈو سسٹم (این ایس ڈبلیو ایس) ایک ڈجیٹل پلیٹ فارم ہے جو سرمایہ کاروں کو اپنے کاروبار کے لیے درکار منظوریوں کی شناخت کرنے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ یہ پلیٹ فارم سرمایہ کاروں کو اپنی کاروباری ضروریات کے مطابق ان منظوریوں کے لیے درخواست دینے کی سہولت بھی فراہم کرتا ہے۔ محکمہ صنعت و داخلی تجارت کے فروغ (ڈی پی آئی آئی ٹی) کے ذریعے نافذ کیا گیا یہ نظام سرمایہ کاروں کو ایک ہی پلیٹ فارم سے منظوریوں کی شناخت کرنے، درخواست دینے اور ان کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے قابل بناتا ہے۔اس کی اہم خصوصیات میں ’’اپنی منظوریوں کو جانیں‘‘ ماڈیول، مشترکہ رجسٹریشن فارم، درخواست گزار کا ڈیش بورڈ، دستاویزات کا ذخیرہ اور ای-مواصلاتی ماڈیول شامل ہیں۔ ایک مرتبہ معلومات جمع کرانے، آن لائن کارروائی اور حقیقی وقت میں پیش رفت کا جائزہ لینے کی سہولت فراہم کرکے این ایس ڈبلیو ایس معلومات کی تکراری فراہمی، تعمیل کے بوجھ اور منظوری کے دورانیہ کو کم کرتا ہے، جبکہ شفافیت اور باہمی تال میل کو بہتر بناتا ہے۔ مرکزی وزارتوں، ریاستوں اور نگران اداروں کے ساتھ اس کے بڑھتے ہوئے انضمام کے ذریعے این ایس ڈبلیو ایس  ہندوستان  میں کاروبار کرنے میں آسانی کو مستحکم کر رہا ہے اور سرمایہ کاری کے لیے ایک زیادہ ہموار ماحول کو فروغ دے رہا ہے۔

 نیشنل سنگل ونڈو سسٹم : ایک جائزہ

سرمایہ کاری اور اقتصادی ترقی کو فروغ دینے کے لیے ایک موثر ضابطہ جاتی نظام ضروری ہے۔ حکومت نے شفاف اور سرمایہ کار دوست ضابطہ جاتی نظام تشکیل دینے کے لیے ڈجیٹل حکمرانی کے شعبے میں کئی اصلاحات کی ہیں۔  نیشنل سنگل ونڈو سسٹم (این ایس ڈبلیو ایس) بھی ایسی ہی ایک اصلاح ہے۔ یہ ایک ڈجیٹل پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتا ہے جو سرمایہ کاروں کو اپنے کاروبار کے لیے درکار منظوریوں کی شناخت کرنے اور ان کے لیے درخواست دینے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔22 ستمبر 2021 کو شروع کیا گیا این ایس ڈبلیو ایس، وزارت تجارت و صنعت کے محکمہ صنعت و داخلی تجارت کے فروغ (ڈی پی آئی آئی ٹی) کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے۔ اس سال یہ اپنی کامیابی کے پانچ سال مکمل کر رہا ہے۔ یہ مرکزی وزارتوں، ریاستی حکومتوں اور نگران اداروں کی جانب سے فراہم کی جانے والی منظوریوں کو ایک مشترکہ ڈجیٹل پلیٹ فارم پر مربوط کرتا ہے۔

کاروبار کرنے میں آسانی میں تعاون

این ایس ڈبلیو ایس معلومات اور دستاویزات ایک ہی مرتبہ جمع کرانے کی سہولت فراہم کرکے منظوری کے عمل کو آسان بناتا ہے۔ اس سے ضوابط کی تعمیل اور منظوری کے لیے درکار وقت کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ یہ پلیٹ فارم درخواستوں کی حقیقی وقت میں پیش رفت دیکھنے اور نگراں اداروں کے ساتھ آن لائن رابطے کے ذریعے شفافیت میں بھی اضافہ کرتا ہے۔ یہ خصوصیات منظوری کے عمل کو زیادہ قابل پیش گوئی اور موثر بناتی ہیں۔

این ایس ڈبلیو ایس مختلف محکموں میں معلومات کی تکراری فراہمی کو کم کرتا ہے اور مربوط ڈجیٹل نظام کے ذریعے سرکاری اداروں کے درمیان بہتر تال میل قائم کرتا ہے۔ مجموعی طور پر یہ اصلاحات کاروبار کرنے میں آسانی کو مستحکم کرتی ہیں، سرمایہ کاری کو سہولت فراہم کرتی ہیں اور حکومت کے ’’کم سے کم حکومت، زیادہ سے زیادہ حکمرانی‘‘ کے ویژن کو تقویت دیتی ہیں۔

این ایس ڈبلیو کی کلیدی خصوصیات

این ایس ڈبلیو ایس درخواستیں آن لائن جمع کرانے اور فیس کی ادائیگی کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ این ایس ڈبلیو ایس کی ایک اہم خصوصیت ’’اپنی منظوریوں کو جانیں‘‘ (کے وائی اے) ماڈیول ہے۔ یہ ایک ایسا ذریعہ ہے جو کاروبار کی مجوزہ سرگرمیوں کی بنیاد پر اس کے لیے قابل اطلاق منظوریوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس پورٹل پر 32 مرکزی وزارتوں/محکموں اور 34 ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے متعلق منظوریوں کے لیے درخواستیں دستیاب ہیں۔ اس سے سرمایہ کاروں کو کاروبار کے لیے درکار ضابطہ جاتی تقاضوں کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے میں مدد ملتی ہے۔ کے وائی اے کے ذریعے فراہم کی جانے والی رہنمائی محض مشاورتی نوعیت کی ہے اور اسے قانونی مشورہ نہیں سمجھا جائے گا۔

تعمیل کے عمل کو آسان بنانے کے لیے این ایس ڈبلیو ایس ایک ’’مشترکہ رجسٹریشن فارم‘‘ فراہم کرتا ہے، جس میں ایک ہی پلیٹ فارم کے ذریعے معلومات حاصل کی جاتی ہیں اور مختلف درخواستوں میں ان معلومات کو دوبارہ استعمال کرنے کی سہولت ہوتی ہے۔ یہ پلیٹ فارم ایک مخصوص ’’ریاستی رجسٹریشن فارم‘‘ کے ذریعے ریاستی واحد کھڑکی نظام تک بھی بلارکاوٹ رسائی فراہم کرتا ہے، جس سے ریاستی سطح کے منظوری کے نظام کے ساتھ انضمام یقینی ہوتا ہے۔

اس پلیٹ فارم میں ’’درخواست گزار ڈیش بورڈ‘‘ شامل ہے، جس کے ذریعے درخواستیں جمع کرائی جا سکتی ہیں، ان کی حیثیت کی نگرانی کی جا سکتی ہے اور محکموں کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کے جوابات دئیے جا سکتے ہیں۔ پورٹل سرمایہ کاروں کو قابل اطلاق منظوریوں کی تجدید آسانی سے کرنے اور درخواست کی حیثیت کو حقیقی وقت میں جانچنے کی سہولت بھی فراہم کرتا ہے۔ ’’مرکزی دستاویزاتی ذخیرہ‘‘ کے ذریعے دستاویزات ایک مرتبہ اپ لوڈ کرکے متعدد منظوریوں کے لیے دوبارہ استعمال کی جا سکتی ہیں، جس سے دستاویزات بار بار جمع کرانے کی ضرورت کم ہوتی ہے۔ ’’ای-مواصلاتی ماڈیول‘‘ درخواست گزاروں اور متعلقہ وزارتوں و ریاستی حکومتوں کے درمیان سوالات اور وضاحتوں کے آن لائن تبادلے کو سہولت فراہم کرتا ہے۔

این ایس ڈبلیو ایس کے تحت منظوری کا طریق کار

سرمایہ کار ای میل آئی ڈی اور موبائل نمبر کا استعمال کرتے ہوئے این ایس ڈبلیو ایس پر رجسٹریشن سے آغاز کرتا ہے۔ سرمایہ کار ’’اپنی منظوریوں کو جانیں‘‘ (کے وائی اے) ماڈیول کے ذریعے قابل اطلاق منظوریوں کی شناخت کر سکتا ہے یا منظوریوں کی فہرست میں سے مطلوبہ منظوری تلاش کر سکتا ہے۔ تصدیق کے بعد وہ مختلف مرکزی اور ریاستی منظوریوں کے لیے درخواستیں جمع کرا سکتا ہے۔

سرمایہ کار ای میل آئی ڈی اور موبائل نمبر کا استعمال کرتے ہوئے این ایس ڈبلیو ایس پر رجسٹریشن سے آغاز کرتا ہے۔ سرمایہ کار ’’اپنی منظوریوں کو جانیں‘‘ (کے وائی اے) ماڈیول کے ذریعے قابل اطلاق منظوریوں کی شناخت کر سکتا ہے یا منظوریوں کی فہرست میں سے مطلوبہ منظوری تلاش کر سکتا ہے۔ تصدیق کے بعد وہ مختلف مرکزی اور ریاستی منظوریوں کے لیے درخواستیں جمع کرا سکتا ہے۔

درخواست جمع ہونے کے بعد این ایس ڈبلیو ایس اسے متعلقہ وزارت، محکمے یا ریاستی حکومت کو برقی طور پر بھیج دیتا ہے، جہاں متعلقہ ادارے کے نظام کے ذریعے اس پر کارروائی کی جاتی ہے۔ این ایس ڈبلیو ایس پر رجسٹریشن مفت ہے، تاہم درخواست گزاروں کو متعلقہ اتھارٹی کی جانب سے مقرر کردہ قانونی فیس پورٹل کے ذریعے ادا کرنا ضروری ہے۔

درخواست گزار ’’درخواست گزار ڈیش بورڈ‘‘ کے ذریعے اپنی درخواستوں کی حیثیت کی نگرانی کر سکتے ہیں۔ وہ ’’ای-مواصلاتی ماڈیول‘‘ کے ذریعے محکموں کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے جوابات دے سکتے ہیں اور ’’مرکزی دستاویزاتی ذخیرے‘‘ میں اپ لوڈ کی گئی تمام دستاویزات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

ڈجیٹل انضمام کا دائرہ وسیع ہونا

این ایس ڈبلیو ایس نے مستقل اکاؤنٹ نمبر (پین) کو واحد کاروباری شناختی نمبر کے طور پر نافذ کیا ہے، جبکہ مجاز نمائندوں کی صارف تصدیق ڈجیٹل دستخطی سرٹیفکیٹ (ڈی ایس سی) اور واحد ملکیتی کاروباروں کے لیے ڈیجی لاکر کے ذریعے کی جاتی ہے۔غیر ملکی سرمایہ کاری سہولت کاری پورٹل (ایف آئی ایف پورٹل) کو بھی این ایس ڈبلیو ایس کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے، جس سے حکومت کی منظوری کے لیے درکار براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کی درخواستوں کے لیے واحد کھڑکی کا نظام دستیاب ہوگیا ہے۔ صنعتی کاروباری یادداشت (آئی ای ایم) اور صنعتی لائسنس (آئی ایل) کے عمل کو بالترتیب اکتوبر 2025 اور مارچ 2026 سے مکمل طور پر قومی واحد کھڑکی نظام (این ایس ڈبلیو ایس) پر منتقل کر دیا گیا ہے اور اب یہ مکمل طور پر ڈجیٹل ہیں۔ ڈجیٹل بنائے گئے ان طریق کار میں متعلقہ سرکاری اعداد و شمار کے نظام سے انضمام کے ذریعے معلومات خودکار طور پر درج ہو جاتی ہیں، منظوری کے لیے دستی کارروائی کی ضرورت ختم ہو جاتی ہے اور صنعتوں کو فوری طور پر رسید جاری کرنے کی سہولت ملتی ہے۔ اس طرح کارکردگی میں بہتری آتی ہے اور کارروائی میں لگنے والا وقت کم ہوتا ہے۔

مزید برآں، نومبر 2025 میں این ایس ڈبلیو ایس پر ’’پیداواری سرمایہ کاری کاروباری رجسٹریشن‘‘ ماڈیول شروع کیا گیا، جس کا مقصد  ہندوستانی کمپنیوں کو غیر ملکی ماہرین کو ’’ای-پروڈکشن انویسٹمنٹ بزنس ویزا‘‘ (ای-بی-4 ویزا) کے تحت مدعو کرنے کے لیے کفالت کے خطوط تیار کرنے میں سہولت فراہم کرنا ہے۔ یہ ماڈیول رجسٹریشن اور کفالت سے متعلق دستاویزات کے اجرا کے لیے ایک آسان اور مربوط ڈجیٹل طریق کار فراہم کرتا ہے۔اس کے علاوہ، پٹرولیم اور دھماکہ خیز مواد کی حفاظت کی تنظیم (پی ای ایس او) نے اپنے تمام 74 لائسنسنگ ماڈیولز کو این ایس ڈبلیو ایس کے ساتھ مربوط کر دیا ہے، جس کے ساتھ وہ لین دین کی سطح پر مکمل انضمام حاصل کرنے والا پہلا محکمہ بن گیا ہے۔

دائرہ کار اور کارکردگی

آغاز کے بعد سے این ایس ڈبلیو ایس نے اپنی رسائی اور خدمات کی فراہمی میں نمایاں توسیع کی ہے۔ 21 ستمبر 2026 تک اس پلیٹ فارم پر سالانہ اوسطاً 3.06 لاکھ سے زیادہ درخواستیں موصول ہو رہی ہیں اور ہر سال 2.26 لاکھ سے زیادہ منظوریوں کی کارروائی میں سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ اس پلیٹ فارم پر 5.69 لاکھ سے زیادہ کاروباری ادارے بھی رجسٹر ہو چکے ہیں، جن میں واحد ملکیتی کاروبار، کمپنیاں، محدود ذمہ داری والی شراکت داریاں (ایل ایل پی) اور غیر ملکی ادارے شامل ہیں۔این ایس ڈبلیو ایس اس وقت 34 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 327 سے زیادہ مرکزی منظوریوں اور 3452 ریاستی منظوریوں تک رسائی فراہم کرتا ہے۔ یہ کمپنی کے قیام، صنعتی لائسنس، اسٹارٹ اپ کی منظوری، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کی منظوری اور کنٹریکٹ لیبر ایکٹ کے تحت رجسٹریشن سمیت اہم ضابطہ جاتی منظوریوں میں سہولت فراہم کرتا ہے۔ آسام (335)، کرناٹک (327)، تمل ناڈو (223) اور منی پور (190) مربوط منظوریوں کی سب سے زیادہ تعداد فراہم کرتے ہیں۔

درخواست جمع ہونے کے بعد این ایس ڈبلیو ایس اسے متعلقہ وزارت، محکمے یا ریاستی حکومت کو برقی طور پر بھیج دیتا ہے، جہاں متعلقہ ادارے کے نظام کے ذریعے اس پر کارروائی کی جاتی ہے۔ این ایس ڈبلیو ایس پر رجسٹریشن مفت ہے، تاہم درخواست گزاروں کو متعلقہ اتھارٹی کی جانب سے مقرر کردہ قانونی فیس پورٹل کے ذریعے ادا کرنا ضروری ہے۔

درخواست گزار ’’درخواست گزار ڈیش بورڈ‘‘ کے ذریعے اپنی درخواستوں کی حیثیت کی نگرانی کر سکتے ہیں۔ وہ ’’ای-مواصلاتی ماڈیول‘‘ کے ذریعے محکموں کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے جوابات دے سکتے ہیں اور ’’مرکزی دستاویزاتی ذخیرے‘‘ میں اپ لوڈ کی گئی تمام دستاویزات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

یہ پلیٹ فارم قومی سبز ہائیڈروجن مشن، ایتھنول پالیسی، گاڑیوں کو تلف کرنے کی پالیسی اور  ہندوستانی جوتا و چمڑا ترقیاتی پروگرام سمیت اہم سرکاری اقدامات کے تحت منظوریوں کے لیے ایک مشترکہ ذریعہ بھی فراہم کرتا ہے۔

ایک ہموار کاروباری ماحول کی جانب

این ایس ڈبلیو ایس شفاف اور ٹیکنالوجی پر مبنی ضابطہ جاتی نظام تشکیل دینے کی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔ وزارتوں، ریاستوں اور نگران اداروں کے ساتھ اس کا مسلسل انضمام اس کی موثریت کو مزید مستحکم کرے گا۔ ڈجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال اور طریق کار کو آسان بنانے سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور  ہندوستا ن  میں کاروبار کرنے میں آسانی میں بہتری آئے گی۔ پلیٹ فارم کے مزید ترقی کرنے کے ساتھ این ایس ڈبلیو ایس  ہندوستان  میں متحدہ کاروباری ضابطہ جاتی نظام کی بنیاد بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

 

حوالہ جات

Ministry of Commerce and Industry

https://www.dpiit.gov.in/static/uploads/2026/03/863a5fef349d79a1bba316c4b51eaacb.pdf

https://www.nsws.gov.in/

https://www.dpiit.gov.in/static/uploads/2026/03/863a5fef349d79a1bba316c4b51eaacb.pdf

https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=1880251&reg=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1756966&reg=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1796506&lang=2&reg=3

PIB Archive

https://www.pib.gov.in/FactsheetDetails.aspx?id=150871&NoteId=150871&ModuleId=16&reg=6&lang=1

Click here to see pdf

 

*****

 ش ح – ظ الف – م  ش

UR No. 3941


(ریلیز آئی ڈی: 2313737) وزیٹر کاؤنٹر : 10
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी