سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

بھارت کی وائرولوجی برادری کی تحقیق، عملی اطلاق اور وبائی تیاری کو آگے بڑھانے کے لیے نویں مالیکیولر وائرولوجی میٹنگ میں شرکت

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 22 SEP 2026 4:45PM by PIB Delhi

نویں مالیکیولر وائرولوجی میٹنگ (ایم وی ایم 2026) 18 ستمبر 2026 کو نئی دہلی  کےبی آر آئی سی-نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف امیونولوجی (بی آر آئی سی-این آئی آئی) میں اختتام پذیر ہوئی۔ اس میٹنگ میں بھارت بھر سے تقریباً 200 طبی ماہرین، محققین اور طلبہ نے شرکت کی۔میٹنگ میں وائرس کی حیاتیات سے متعلق ابھرتے ہوئے سوالات اور وائرولوجی تحقیق کو ویکسین، علاج، تشخیصی طریقوں اور عوامی صحت کی صلاحیتوں میں تبدیل کرنے کے موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

سال2009 میں شروع ہونے والی مالیکیولر وائرولوجی میٹنگ اب بھارتی وائرولوجی برادری کے لیے ایک سالانہ فورم کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ اس میں وائرس کے انفیکشن کے مالیکیولر میکانزم اور میزبان و وائرس کے باہمی تعامل سے لے کر وائرل پیتھوجینیسیس، مدافعت، ارتقا اور مدافعتی نظام سے بچنے کی حکمت عملی، وبائی امراج کے علم، کلینیکل وائرولوجی اور عملی اطلاق پر مبنی تحقیق تک مختلف شعبوں میں کام کرنے والے محققین ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوتے ہیں۔

سال2026 کی میٹنگ کی میزبانی بی آر آئی سی-این آئی آئی نے انٹرنیشنل سینٹر فار جینیٹک انجینئرنگ اینڈ بایوٹیکنالوجی (آئی سی جی ای بی) اور ریجنل سینٹر فار بایوٹیکنالوجی (آر سی بی) کے تعاون سے کی۔ اس میٹنگ نے مختلف اداروں اور شعبوں سے وابستہ محققین کو اپنے تحقیقی نتائج کا تبادلہ کرنے، تحقیق کے ابھرتے ہوئے رخ کی نشاندہی کرنے اور وائرولوجی تحقیق کو عوامی صحت کے لیے ٹیکنالوجیز اور حل میں تبدیل کرنے کے عمل کو مضبوط بنانے کے مواقع پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کیا۔

دو روزہ میٹنگ کا آغاز پونے کے آئی سی ایم آر-نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی کے ڈائرکٹر ڈاکٹر نوین کمار کے کلیدی خطاب سے ہوا، جس کا عنوان تھا ’’سوئچ تبدیل کریں: میزبان عوامل جو وائرس کو روکتے یا بڑھاتے ہیں‘‘۔ سائنسی پروگرام میں انفلوئنزا، ڈینگی، چکن گنیا، ایچ آئی وی، ہیپاٹائٹس ای، ویسٹ نائل وائرس، کورونا وائرس اور ریسپائریٹری سنسیشیئل وائرس سمیت مختلف وائرسوں سے متعلق تحقیق پیش کی گئی۔ اس دوران وائرس کے خلیے میں داخلے اور افزائش، میزبان کے ردعمل، مدافعتی نظام کے ضابطے، وائرس کی موافقت اور بیماری پیدا کرنے کے مالیکیولر میکانزم سمیت مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ایم وی ایم 2026 میں بنیادی وائرولوجی اور تحقیق کے عملی اطلاق کے درمیان تعلق پر خصوصی توجہ دی گئی۔ ’’ترجماتی وائرولوجی: ویکسین اور علاج‘‘ کے سیشن میں اینٹی وائرل علاج، اینٹی باڈی کی دریافت اور تھیرا نوسٹکس سے متعلق کام پیش کیا گیا، جبکہ وائرس کے ارتقا اور وبائی امراض کے علم سے متعلق مطالعات پر بھی گفتگو ہوئی۔

میٹنگ میں انفرادی تحقیقی پروگراموں سے آگے بڑھتے ہوئے اس بات کا بھی جائزہ لیا گیا کہ بھارت کس طرح قومی سطح پر وائرولوجی کے شعبے میں مضبوط اختراعی اور وبائی تیاری کے ایکو سسٹم کو فروغ دے سکتا ہے۔ ’’وائرولوجی تحقیق کا مستقبل اور بایو ای تھری پالیسی میں اس کا کردار: وکست بھارت کی جانب پیش قدمی‘‘ کے عنوان سے ایک پینل مباحثے میں تعلیمی اداروں، تحقیقی اداروں اور صنعت سے وابستہ نمائندوں نے شرکت کی۔ ڈاکٹر نمیش گپتا (بی آر آئی سی-این آئی آئی) کی نظامت میں ہونے والے اس پینل میں ڈاکٹر نوین کمار (آئی سی ایم آر-این آئی وی)، پروفیسر سومیترا داس (آئی آئی ایس سی)، ڈاکٹر سدھانشو وراٹی (آر سی بی)، پروفیسر سنجیو گالانڈے (شیو نادر یونیورسٹی) اور ڈاکٹر سبیر مظومدار (سن فارما سائنس فاؤنڈیشن) شامل تھے۔

مباحثے کا محور ایک بنیادی سوال تھا: بھارتی وائرولوجی برادری اپنی سائنسی قوت اور صلاحیتوں کو بایو ای تھری اور وکست بھارت کے وسیع تر وژن میں کس طرح عملی شکل دے سکتی ہے؟ پینل کے ارکان نے تحقیق اور دریافت سے لے کر اس کی توثیق، بڑے پیمانے پر تیاری اور مصنوعات کی تیاری تک زیادہ مربوط نظام کی ضرورت کا جائزہ لیا۔ اس کے علاوہ ویکسین، علاج اور تشخیصی طریقوں کے لیے پلیٹ فارم ٹیکنالوجیز کی ترقی، انفرادی منصوبوں سے آگے تحقیق کو عملی شکل دینے میں معاون مالیاتی نظام، تعلیمی اداروں، صنعت اور حکومت کے درمیان مضبوط شراکت داری اور وائرل بیماریوں کی نگرانی و صحت کے تحفظ کے لیے درکار صلاحیتوں پر بھی غور کیا گیا۔ پینل مباحثے سے یہ بات واضح ہوئی کہ وکست بھارت کے وژن میں وائرولوجی کا کردار اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔

بنیادی سائنس کے ماہرین، طبی ماہرین، تحقیق کو عملی شکل دینے والے محققین، مالی معاونت فراہم کرنے والے اداروں اور صنعت کے نمائندوں کو ایک ہی فورم پر جمع کرکے ایم وی ایم 2026 نے جدید وائرولوجی کی بڑھتی ہوئی باہمی وابستگی کو اجاگر کیا۔ اس میں یہ بات سامنے آئی کہ وائرس کے میکانزم کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ اس علم کو ابھرتے ہوئے صحت کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے وبائی تیاری، ٹیکنالوجیز اور عملی حل میں تبدیل کرنے کی صلاحیت بھی ضروری ہے۔

پروگرام میں سات سائنسی سیشن، خصوصی گفتگو، پوسٹر پریزنٹیشنز اور پینل مباحثہ شامل تھے، جس کے بعد ایوارڈ تقریب اور اختتامی اجلاس منعقد ہوا۔

’’ایک طالب علم کی حیثیت سے ایم وی ایم 2026 کا حصہ بننا میرے لیے ایک قیمتی تعلیمی تجربہ رہا۔ معروف وائرولوجی ماہرین کو وائرس کی حیاتیات کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کرتے سننا حوصلہ افزا تھا اور اس سے ہمیں ملک بھر کے محققین سے تبادلہ خیال کا موقع بھی ملا۔ اجلاس کے انعقاد میں شامل ہونا اس تجربے کو مزید بامعنی بنا گیا، کیونکہ ہمیں براہ راست یہ دیکھنے کا موقع ملا کہ سائنسی خیالات، مباحثے اور باہمی تعاون کس طرح ایک متحرک تحقیقی برادری کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔‘‘ — بھاویہ آہوجا، پی ایچ ڈی اسکالر، بی آر آئی سی-این آئی آئی

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ش ح۔ک ح۔ ر ب۔

U-3926

                          


(ریلیز آئی ڈی: 2313587) وزیٹر کاؤنٹر : 7
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी