جل شکتی وزارت
محکمہ جاتی سربراہی اجلاس کے فالو اپ کے ضمن میں ڈی ڈی ڈبلیو ایس کی جانب سے جل جیون مشن 2.0 کے تحت ہنرمند دیہی آبی افرادی قوت کو مضبوط بنانے کے واسطے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ پہلی ورچوئل کانفرنس کا انعقاد
پائیدار دیہی آبی خدمات کی فراہمی کے لیے پیشہ ورانہ اور مقامی سطح پر دستیاب افرادی قوت تیار کرنے کے واسطے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے نل جل متر اور سوجلم شکتی اقدامات میں تیزی لانے کی اپیل
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
21 SEP 2026 8:21PM by PIB Delhi
جل شکتی کی وزارت کے ماتحت پینے کے پانی اورحفظان صحت کے محکمہ (ڈی ڈی ڈبلیو ایس) نے آج ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ پہلی قومی ورچوئل کانفرنس کا انعقاد کیا۔ یہ کانفرنس یکم اور 2 ستمبر 2026 کو منعقدہ محکمہ جاتی سربراہی اجلاس کے سلسلے کی کڑی تھی۔ اس کا مقصد جل جیون مشن (جے جے ایم) 2.0 کے تحت پینے کے پانی کے دیہی بنیادی ڈھانچے کے پائیدار آپریشن اور دیکھ ریکھ (او اینڈ ایم)، پانی کے معیار کی نگرانی اور طویل مدتی آپریشن کے لیے درکار ہنرمند دیہی افرادی قوت کو مضبوط بنانے کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔

کانفرنس میں ریاستی آبی و صفائی مشن، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے محکموں، ریاستی ہنرسازی مشن، دیہی ترقیاتی محکموں، پنچایتی راج کے اداروں، تکنیکی تعلیم کے محکموں اور ہنرمندی کے فروغ و تکنیکی تعلیم کے شعبے میں کام کرنے والے دیگر شراکت دار اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
ڈی ڈی ڈبلیو ایس کے سکریٹری جناب اشوک کے کے مینانے اپنے افتتاحی خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ جل جیون مشن کی طویل مدتی کامیابی کا انحصار صرف بنیادی ڈھانچہ تیار کرنے پر نہیں بلکہ دیہی پانی کی فراہمی کے نظام کو چلانے، اس کی دیکھ ریکھ کرنے اور نگرانی کرنے کے لیے تربیت یافتہ اور ہنرمند انسانی وسائل کی دستیابی پر بھی ہے۔ انہوں نے دیہات میں محفوظ اور قابل اعتماد پینے کے پانی کی خدمات کو برقرار رکھنے کے لیے آپریشن اور دیکھ ریکھ کا ایک منظم اور پیشہ ورانہ نظام قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
کانفرنس میں نل جل متر (این جے ایم) پروگرام کے نفاذ پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی۔ شرکا کو بتایا گیا کہ ڈی ڈی ڈبلیو ایس نے ہنرمندی کی ترقی اور انٹرپرینیور شپ کی وزارت اور این سی وی ٹی ای کے اشتراک سے پینے کے پانی کے دیہی نظام کے لیے این ایس کیو ایف کے مطابق نل جل متر کا اہلیتی معیار طے کیا ہے۔ اس پروگرام کا مقصد گاؤں کی سطح پر کثیر تعداد ایسی ہنرمند تکنیکی افرادی قوت تیار کرنا ہے، جو دیہی پانی کی فراہمی کے بنیادی ڈھانچے کے معمول کے آپریشن، پیشگی دیکھ ریکھ اور ابتدائی سطح کی مرمت کا کام انجام دے سکے۔ پمپس، پائپ لائن، پانی صاف کرنے کے نظام، برقی تنصیبات اور متعلقہ بنیادی ڈھانچے سے متعلق مہارتوں پر مشتمل یہ پروگرام جے جے ایم 2.0 کے تحت پینے کے پانی کے دیہی نظام کو پائیدار بنیادوں پر جاری رکھنے کے لیے پیشہ ورانہ افرادی قوت تیار کرنے کی ڈی ڈی ڈبلیو ایس کی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔

ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو مذکورہ پروگرام کے تحت عمل درآمد کے دو طریقوں سے آگاہ کیا گیا: نئے افراد کے لیے 510 گھنٹے کا قلیل مدتی تربیتی کورس اور پانی کی فراہمی کے دیہی نظام میں پہلے سے کام کرنے والے آپریٹر، پلمبر، الیکٹریشن، پمپ اٹینڈنٹس اور دیگر عملے کے لیے 120 گھنٹے کا سابقہ حصول شدہ مہارت کی شناخت (آر پی ایل) کا طریقہ۔ ریاستوں کو یہ ترغیب دی گئی کہ وہ دونوں طریقوں سے استفادہ کریں اور مقامی نوجوانوں کو ترجیح دیں، تاکہ دیہی علاقوں میں ہنرمند افرادی قوت کی دستیابی یقینی بنانے کے ساتھ مقامی سطح پر روزگار کے مواقع بھی پیدا کیے جاسکیں۔

این سی وی اٹی ای کے نمائندوں نے منظور شدہ اہلیت اپنانے کے طریقہ کار کی وضاحت کی اور ریاستوں کو تربیت، تشخیص اور سرٹیفیکیشن کے لیے تسلیم شدہ سرٹیفکیٹ جاری کرنے والے ادارے بننے کے مواقع سے آگاہ کیا۔ ہنرمندی کی ترقی اور انٹر پرینیور شپ کی وزارت نے پی ایم کے وی وائی 4.0 کے تحت دستیاب مواقع کی بھی وضاحت کی اور ریاستوں کو مشورہ دیا کہ وہ ریاستی ہنرسازی مشن، آئی ٹی آئی، پولی ٹیکنکس اور دیگر سرکاری تربیتی اداروں کے ساتھ اشتراک کرکے اضلاع کے لحاظ سے تربیتی منصوبے تیار کریں۔

محکمے نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو بتایا کہ وسعت پذیر دیہی آبی شعبہ مقامی سطح پر روزگار پیدا کرنے کا ایک اہم ذریعہ بن کر ابھر رہا ہے۔ جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ آنے والے برسوں میں پانی کی فراہمی کے دیہی بنیادی ڈھانچے کے آپریشن اور دیکھ ریکھ کے لیے 13 لاکھ سے زیادہ افراد کی ضرورت پڑسکتی ہے، جن میں تکنیکی ماہرین، آپریٹر، پلمبر، الیکٹریشن، پمپ مکینک، لیبارٹری کا عملہ، نگراں اور پانی کے معیار سے متعلق کارکنان شامل ہیں۔ ریاستوں کو مشورہ دیا گیا کہ وہ ہنرمندی کے فروغ کی کوششوں کو مستقبل میں درکار افرادی قوت کے مطابق ترتیب دیں، تاکہ بنیادی ڈھانچے میں کی جانے والی سرمایہ کاری دیہی نوجوانوں کے لیے پائیدار روزگار کے مواقع میں بھی تبدیل ہوسکے۔
این جے جے ایم کی جوائنٹ سکریٹری محترمہ سواتی مینا نائک نے سوجلم شکتی کے نفاذ کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ یہ خواتین کی قیادت میں شروع ہونے والا اقدام ہے، جس کا مقصد پانی کے معیار کی نگرانی، جانچ اور بنیادی سطح پر پانی کو جراثیم سے پاک کرنے کے لیے گاؤں کی سطح پر تربیت یافتہ افرادی قوت تیار کرنا ہے۔ اس اقدام کے ذریعے گاؤں کی سطح پر پینے کے پانی کے معیار کی باقاعدہ نگرانی کے لیے کمیونٹی پر مبنی نظام قائم کرنے کے ساتھ دیہی آبی نظم میں خواتین کی شمولیت کو بھی مضبوط بنانا ہے۔
انہوں نے شرکا کو بتایا کہ یہ پروگرام این ایس کیو ایف لیول-2 کی مطلوبہ اہلیت"بنیادی پانی کے معیار کی جانچ اور جراثیم کشی کے بنیادی اصول" پر مبنی ہے۔ اس اقدام کا مقصد خواتین کو پانی کے پیمائشی نمونے لینے، فیلڈ ٹیسٹ کٹس (ایف ٹی کے) کے استعمال، کلورین ملانے اور پانی کو جراثیم سے پاک کرنے کے بنیادی طریقوں، حفظان صحت سے متعلق معائنے، آبی ذرائع کے تحفظ، ریکارڈ برقرار رکھنے اور ڈیجیٹل رپورٹنگ کی مہارتوں سے آراستہ کرنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں ریاستی دیہی لائیولی ہڈ مشن، پنچایتی راج اداروں، دیہی ذاتی روزگار کے تربیتی اداروں (آر ایس ای ٹی آئی) اور دیگر تربیتی نیٹ ورکس کے ساتھ اشتراک کے ذریعے تقریباً 1.35 سے 1.70 لاکھ خواتین کو تربیت دینے کا ہدف ہے۔ ریاستوں کو مشورہ دیا گیا کہ وہ جل جیون مشن کے تحت پہلے سے پانی کے معیار کی جانچ کی سرگرمیوں سے وابستہ خواتین، سیلف ہیلیپ گروپوں کی ارکان اور دیگر کمیونٹی نمائندوں کو ترجیح دیں۔
کانفرنس میں دیہی آبی شعبے اور تکنیکی تعلیم کے درمیان روابط کو مزید مضبوط بنانے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس سلسلے میں اے آئی سی ٹی ای نے ڈپلومہ اور انجینئرنگ کے طلبہ کے لیےپانی کی فراہمی کے نظم سے متعلق ایک مخصوص اختیاری کورس تیار کرنے میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا، جس میں پانی کی فراہمی کے دیہی نظام کے عملی تجربے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔

آئی آئی ٹی کانپور نے مستقبل کے آبی شعبے کے نصاب اور تربیتی پروگراموں میں ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کو شامل کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ غور و خوض میں آبی بنیادی ڈھانچے کے نظم میں آئی او ٹی سے مربوط نگرانی کے نظام، ٹیلی میٹری، ایس سی اے ڈی اے، جی آئی ایس ایپلی کیشن، پیشگی دیکھ ریکھ کے آلات، مشین لرننگ اور اعداد و شمار پر مبنی فیصلہ سازی کے معاون نظام کے بڑھتے ہوئے کردار پر توجہ مرکوز کی گئی۔ شرکا نے کہا کہ پانی کے شعبے کے مستقبل کے تکنیکی تعلیمی اور ہنرمندی کے پروگراموں میں ایسی ٹیکنالوجی کو بتدریج زیادہ شامل کیا جانا چاہیے، تاکہ آبی شعبے کے ماہرین کی اگلی نسل کو ان کے استعمال کے لیے تیار کیا جاسکے۔
ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو مشورہ دیا گیا کہ وہ بنیادی ڈھانچے اور حقیقی آپریشنل ضروریات کی بنیاد پر اضلاع کے لحاظ سے انسانی وسائل کی ضروریات کا جائزہ لیں۔ اس میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس، پمپنگ اسٹیشن، پانی کی فراہمی کا نظام، آبی ذخائر، تقسیم کے نیٹ ورک اور پانی کے معیار کی جانچ کےمراکز شامل ہیں۔ اس طرح کے جائزوں سے افرادی قوت کی کمی کی نشاندہی کرنے اور ہنرمندی کے فروغ کے لیے ہدف بند اقدامات کی رہنمائی میں مدد ملے گی۔ ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو مقررہ مدت کے ساتھ درج ذیل قابل عمل نکات سے بھی آگاہ کیا گیا:
- ریاستوں/ایس ڈبلیو ایس ایم کو 15 اکتوبر 2026 تک یہ فیصلہ کرنا ہے کہ موجودہ نل جل متر (جل وِترن سنچالک) کورس کو اپنایا جائے یا ریاست کی مخصوص ضروریات کے مطابق نیا کورس تیار کیا جائے۔ کورس کو حتمی شکل دیے جانے کے بعد اسی کے مطابق ریاست کو سرٹیفکیٹ جاری کرنے والے ادارے کا درجہ دینے کی تجویز این سی وی ای ٹی کو پیش کی جائے گی۔
- ایس ڈبلیو ایس ایم، پی ایم کے وی وائی کے تحت قلیل مدتی تربیت (ایس ٹی ٹی) اور پیشہ ورانہ مہارت کی باقاعدہ منظوری (آر پی ایل) کے لیے ایس ایس ڈی ایم یا کسی دوسرے مناسب ادارے کو پروگرام نافذ کرنے والی ایجنسی (پی آئی اے) کے طور پر نامزد کرسکتا ہے۔ ایس ڈبلیو ایس ایم اور ایس ایس ڈی ایم کے درمیان 5 اکتوبر سے پہلے ایک میٹنگ منعقد کی جائے، جس میں موجودہ مالی سال کے لیے ہنرمندی کے فروغ کےہدف کوحتمی شکل دی جائے۔
- ایس ڈبلیو ایس ایم کو تربیت حاصل کرنے والے امیدواروں کی تعداد کا تعین کرنا ہے، جبکہ امیدواروں کی نامزدگیاں گرام پنچایتوں کے ذریعے بھیجی جائیں گی۔
- ایس ڈبلیو ایس ایم، ڈی ڈبلیو ایس ایم کو ہدایت دے کہ وہ پی ایم کے وی وائی کی ہدایات کے مطابق بنیادی سہولیات سے لیس آئی ٹی آئی کی نشاندہی کریں۔ ڈی ڈبلیو ایس ایم زمینی سطح پر ان کی تصدیق کا ذمہ دار ہوگا۔ اس سلسلے میں ایس ایس ڈی ایم یا نامزد پی آئی اے کی جانب سے درکار معاونت فراہم کی جائے گی۔
- ریاستوں کو جے جے ایم 2.0 کے رہنما خطوط اور سی آئی آر پی کے تحت لازمی انسانی وسائل کی پالیسی تیار کرنی ہے اور اس سلسلے میں دیہی ترقی اور پنچایتی راج محکمہ کے ساتھ تال میل کرنا ہے۔
- ایس ڈبلیو ایس ایم، ڈی ڈبلیو ایس ایم کے ساتھ مل کر انسانی وسائل کا تفصیلی جائزہ لے تاکہ گرام پنچایت، بلاک اور ضلع کی سطح پر آپریشن اور دیکھ ریکھ کے لیے درکار افرادی قوت کی کمی کا تعین کیا جاسکے۔
- ریاستوں کو سوجلم شکتی کے ارکان کی شناخت کرنی ہے اور گرام پنچایت ڈیش بورڈ پلیٹ فارم پر ان کا رجسٹریشن یقینی بنانا ہے۔
کانفرنس کے دوران متعدد ریاستوں نے اپنے تجربات اور بہترین طریقہ کار پیش کیے۔ اڈیشہ نے مقامی مکینک، نل جل متر اور پانی کے معیار کی نگرانی سے وابستہ خواتین کو تربیت دینے کے لیے کیے گئے اقدامات پیش کیے۔ تلنگانہ نے افرادی قوت کی ضروریات کا اندازہ لگانے کے لیے اثاثہ جاتی طریقہ کار کو اجاگر کیا، جبکہ جموں و کشمیر نے اپنی منفرد جغرافیائی صورتحال کے مطابق افرادی قوت کی منصوبہ بندی کا طریقہ کار پیش کیا۔ مدھیہ پردیش نے سوجلم شکتی سرٹیفکیشن پروگراموں کے نفاذ کے لیے ریاستی دیہی ترقیاتی ادارے، توسیعی تربیتی مراکز اور دیہی ذاتی روزگار تربیتی اداروں سے استفادہ کرنے کی حکمت عملی پیش کی۔ ہریانہ اور پنجاب نے امیدواروں کی شناخت، ادارہ جاتی اشتراک، سرٹیفیکیشن اور افرادی قوت کی تعیناتی سے متعلق اقدامات کو اجاگر کیا۔
کانفرنس میں اس بات کو تسلیم کیا گیا کہ مضبوط ہنرمندی کا نظام نہ صرف پانی کی فراہمی کے دیہی نظام کے آپریشن اور دیکھ ریکھ کو مستحکم کرے گا بلکہ دیہات میں پائیدار روزگار کے مواقع بھی پیدا کرے گا۔ آپریٹر، پلمبر، الیکٹریشن، فٹر، پمپ مکینکوں، پانی کے معیار سے متعلق عملے اور دیگر تکنیکی ماہرین پر مشتمل تربیت یافتہ افرادی قوت جل جیون مشن کے تحت کی جانے والی سرمایہ کاری کے تحفظ اور طویل مدتی آبی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے نہایت اہم ہوگی۔
آئندہ کے لائحہ عمل کا جائزہ لیتے ہوئے این جے جے ایم کے ایڈیشنل سکریٹری اور مشن ڈائریکٹر جناب کمل کشور سون نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے کہا کہ وہ متعلقہ محکموں اور اداروں کے درمیان تال میل کو مضبوط کریں، اضلاع کے لحاظ سے افرادی قوت کا خاکہ تیار کریں، تربیتی شراکت داروں کی شناخت کریں، نل جل متر اور سوجلم شکتی کے اہلیتی معیارات کو تیزی سے اپنائیں اور تربیت یافتہ افراد کی تعیناتی، معاوضے اور کارکردگی کی نگرانی کے لیے مؤثر نظام قائم کریں۔

کانفرنس کے اختتام پر جناب کمل کشور سون نے پھر سے کہا کہ جل جیون مشن 2.0 بنیادی ڈھانچہ قائم کرنے سے پائیدار خدمات کی فراہمی کی جانب منتقلی کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیشہ ور، مستند اور مقامی سطح پر دستیاب افرادی قوت تیار کرنا دیہی پینے کے پانی کے بنیادی ڈھانچے کے قابل اعتماد طور پر چلانے اور دیکھ ریکھ کو یقینی بنانے اور آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ پینے کے پانی کی خدمات کو برقرار رکھنے کے لیے انتہائی اہم ہوگا۔ انہوں نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں پر زور دیا کہ وہ ہنرمندی کے فروغ کے لائحہ عمل کو فوری اور پختہ عزم کے ساتھ آگے بڑھائیں، تاکہ ملک بھر میں دیہی آبی تحفظ اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے، دونوں کو تقویت دی جاسکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ش ح۔م ش ع۔ ن م۔
U- 3892
(ریلیز آئی ڈی: 2313327)
وزیٹر کاؤنٹر : 4