PIB Backgrounder
azadi ka amrit mahotsav

کچرے والی زمین کی بازیابی


پرانے ڈمپنگ مقامات کو نئی شکل دینے کی پہل

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 21 SEP 2026 5:03PM by PIB Delhi

شہری بھارت میں ہر صاف ستھری سڑک کے پیچھے بنیادی ڈھانچے اور نظام کا ایک ایسا سلسلہ کارفرما ہوتا ہے جو شہروں سے پیدا ہونے والے کچرے کو ٹھکانے لگانے کا کام کرتا ہے۔ بھارت کا ہر بڑا شہر ایسا کچرا پیدا کرتا ہے جو گھروں، بازاروں، اداروں، تجارتی مراکز اور عوامی مقامات سے نکلتا ہے۔ اس کچرے کا بیشتر حصہ کچرا گاہوں میں بھیج دیا جاتا ہے، جہاں وقت کے ساتھ یہ جمع ہوتا رہتا ہے اور پرانے کچرا مقامات کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے سوچھ بھارت مشن-اربن (ایس بی ایم-یو) اکتوبر 2014 میں شروع کیا گیا تھا۔

12 برسوں میں ایس بی ایم-یو بنیادی صفائی ستھرائی سے آگے بڑھ کر بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کر رہا ہے۔ اب اس کی توجہ شہری کچرے کے انتظام اور شہروں کو رہنے، کام کرنے اور ٹھہرنے کے لیے بہتر مقامات بنانے پر ہے۔ اکتوبر 2021 میں شروع کیے گئے سوچھ بھارت مشن-اربن 2.0 کے تحت بھارت بھر کے شہر پرانے کچرا مقامات کو کارآمد اور ماحولیاتی طور پر پائیدار مقامات میں تبدیل کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ اس کوشش کے نتائج جنوری سے دسمبر 2025 کے درمیان 3.66 کروڑ میٹرک ٹن پرانے کچرے کے سائنسی طریقے سے ازالے کی صورت میں سامنے آئے۔ اس مدت کے دوران 29 ریاستوں کے 459 شہری بلدیاتی اداروں نے کچرا مقامات کے مکمل ازالے کا ہدف حاصل کیا۔ اس مشن کے تحت ’زیرو ڈمپ سائٹ‘ پہل ریاستوں اور شہری بلدیاتی اداروں میں ایسے مقامات کا سائنسی طریقے سے ازالہ کرنے کے لیے ایک منظم اور مقررہ مدت پر مبنی کوشش چلا رہی ہے۔

گورکھپور

اتر پردیش کے گورکھپور میں 40 ایکڑ پر مشتمل ایک علاقہ کبھی جمع شدہ بلدیاتی کچرے کے ایک بڑے ڈھیر کی صورت میں موجود تھا۔ سات برس تک یہ شہر کے بنیادی کچرا ٹھکانے کے مقام کے طور پر استعمال ہوتا رہا۔ بڑھتے ہوئے کچرے کے ڈھیر نے ارد گرد کے ماحول کو متاثر کیا اور قریبی رہائشیوں کے لیے مشکلات پیدا کیں۔ اس مقام کا بایومائننگ کے ذریعے سائنسی طریقے سے ازالہ کیا گیا، جس کے تحت روزانہ تقریباً 400 ٹن کچرے کو پراسیس کیا گیا۔ اس عمل کے ذریعے جمع شدہ کچرے کو کچرے سے تیار ایندھن، کالی مٹی، قابل ری سائیکل اور غیر فعال  اشیاء میں الگ کیا گیا۔ حاصل ہونے والی کالی مٹی کا استعمال نشیبی علاقوں کو بھرنے کے لیے کیا گیا، جبکہ کچرے سے تیار ایندھن کو مشترکہ پروسیسنگ کے لیے سیمنٹ صنعتوں کو بھیجا گیا۔ رفتہ رفتہ کچرے کا یہ ڈھیر زمین کی بازیابی کی راہ ہموار کرتا گیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image005_20260921171013_1dcdd6.jpg

تصویر 1: گورکھپور، اتر پردیش میں کچرا گاہ

جمع شدہ کچرے کو صاف کرنے سے آگے بھی تبدیلی کا عمل جاری رہا۔ 40 ایکڑ پر مشتمل پورے مقام کو کچرے سے کنچن راپتی ایکو پارک میں تبدیل کر دیا گیا۔ نئے عوامی مقام میں اب سرسبز لان، پیدل چلنے اور جاگنگ کے ٹریک اور بچوں کے کھیلنے کے لیے جگہ شامل ہے۔ اوپن جم، یوگا ایریا، شمسی روشنی کا انتظام اور پانی کے تحفظ کے لیے بنائے گئے ڈھانچے اس کے عوامی استعمال کو مزید وسعت دیتے ہیں۔ فوڈ کورٹ، پارکنگ کی سہولت اور دیگر ضروری انتظامات بھی پارک میں شامل کیے گئے ہیں۔ ری سائیکل کیے گئے کچرے سے تیار کی گئی کئی تنصیبات وسائل کی بازیابی کے امکانات کو اجاگر کرتی ہیں۔ پارک نے مقامی روزگار کے لیے بھی جگہ پیدا کی ہے۔ خواتین کی زیر قیادت سیلف ہیلپ گروپ شکتی کی رسوئی پارک کے اندر ایک ریسٹورانٹ چلاتا ہے۔ آج یہ پارک روزانہ تقریباً 500 افراد کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے۔ ایک وقت میں جمع شدہ کچرے سے بھرا یہ مقام اب تفریح اور اجتماعی زندگی کا مرکز بن گیا ہے۔

دہلی

گورکھپور واحد کامیاب شہر نہیں ہے۔ قومی دارالحکومت میں بھی کچرے کا ایک اور بڑا ڈھیر مسلسل کم ہو رہا ہے۔ تقریباً 70 ایکڑ میں پھیلی بھلسوا کچرا گاہ میں کبھی بڑی مقدار میں پرانا کچرا جمع تھا۔ جولائی 2022 سے اس مقام پر مشن موڈ کے تحت مسلسل بایومائننگ کی جا رہی ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image007_20260921171019_3a5ccc.jpg

تصویر 2: دہلی کے بھلسوامیں کچرا گاہ

ستمبر 2025 میں بھلسوا سے قومی سطح پر سالانہ ’سوچھتا ہی سیوا‘ صفائی مہم کا آغاز کیا گیا تھا۔ اس مقام کو فوری طور پر کچرے کے ازالے کے لیے منتخب کیا گیا۔ نومبر 2025 میں ’ڈمپ سائٹ ریمیڈی ایشن ایکسیلیریٹر پروگرام‘ (ڈی آر اے پی) شروع کیا گیا۔ یہ ملک گیر، مشن موڈ پر مبنی پہل سوچھ بھارت مشن-اربن 2.0 کے تحت باقی ماندہ کچرا گاہوں کے ازالے کے عمل کو تیز کرتی ہے۔

ڈی آر اے پی کے تحت اب بھلسوا میں اس کے نتائج نظر آنے لگے ہیں۔ مئی 2026 تک اس مقام کے نصف سے زیادہ حصے کو بازیاب کیا جا چکا تھا اور 31 جولائی 2026 تک 99.07 لاکھ میٹرک ٹن پرانے کچرے کوٹھکانے لگایا جا چکا تھا۔

یہ کام صرف پرانے کچرے کو ہٹانے تک محدود نہیں ہے۔ آگ سے بچاؤ کے اقدامات، لیچیٹ کے انتظام اور ماحول کے تحفظ کے دیگر اقدامات سے اس مقام کے اطراف سلامتی کو یقینی بنانے میں مدد مل رہی ہے۔ لینڈ فل میں تازہ کچرے کو پراسیس کرنے کے لیے نئے تفویض کیے گئے کام میں بھی تیزی لائی جا رہی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ نئے پرانے کچرے کو دوبارہ جمع ہونے سے روکا جا سکے۔

ناگپور

ناگپور میں بھانڈے واڑی ڈمپنگ یارڈ کو دوبارہ ایک فعال کچرا پراسیسنگ یونٹ کی شکل دی جا رہی ہے۔ 30 لاکھ سے زیادہ آبادی والے تیزی سے ترقی کرتے شہر ناگپور میں گھروں، بازاروں، اداروں اور عوامی مقامات سے کچرا پیدا ہوتا ہے۔ اس کچرے کا ایک بڑا حصہ بھانڈے واڑی ڈمپنگ یارڈ میں جاتا تھا، جو وقت کے ساتھ ایک بڑے کچرا مقام میں تبدیل ہو گیا۔

شہر نے کھلے میں کچرا پھینکنے کے طریقے سے سائنسی بنیادوں پر کچرے کے انتظام کی جانب بڑھنے کا فیصلہ کیا۔ پرانے جمع شدہ کچرے کو نکال کر الگ کیا گیا اور منظم طریقے سے اس کی پروسیسنگ کی گئی۔ 10 لاکھ میٹرک ٹن سے زیادہ جمع شدہ کچرے کو ٹھکانے لگایا جا چکا ہے، جس کے نتیجے میں کچرے کے نیچے دبی  کئی ایکڑوں پر مشتمل قیمتی زمین کو دوبارہ قابل استعمال بنانے میں مدد ملی ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image009_20260921171026_cdf3d1.jpg

تصویر 3: بھانڈے واڑی ڈمپنگ یارڈ، ناگپور

یہ کہانی زمین کی بازیابی کے ساتھ ختم نہیں ہوئی۔ یہ مقام اب مربوط میونسپل سالڈ ویسٹ پراسیسنگ سہولت میں تبدیل ہو چکا ہے۔ یہاں قابل استعمال اشیاء کو  بازیاب کیا جاتا ہے، کچرے سے کھاد تیار کی جاتی ہے اور کچرے سے حاصل شدہ ایندھن تیار کیا جاتا ہے۔ جدید مشینوں کے ذریعے کچرے کو پراسیس کیا جاتا ہے، جبکہ ریئل ٹائم نگرانی اور سی سی ٹی وی کے ذریعے اس پر کڑی نظر رکھی جاتی ہے۔ گرد و غبار پر قابو پانے کے اقدامات اور لیچیٹ ٹریٹمنٹ سے ارد گرد کے ماحول کے تحفظ میں مدد ملتی ہے۔

اس تبدیلی سے شہر کو کئی فوائد حاصل ہوئے ہیں۔ لینڈ فل پر انحصار میں نمایاں کمی آئی ہے۔ آس پاس کے علاقوں میں عوامی صحت کے ساتھ ساتھ ہوا، پانی اور مٹی کے معیار میں بھی بہتری آئی ہے۔ شہر نے کمپوسٹنگ پلانٹس، ماڈیولر پراسیسنگ یونٹس اور تعمیرات و انہدام سے پیدا ہونے والے کچرے کے انتظام کے نظام بھی قائم کیے ہیں۔ یہاں اب کچرے کو بوجھ نہیں بلکہ دوبارہ حاصل کیے جانے والے وسائل کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

رائچور

کرناٹک کے رائچور میں بازیاب کی گئی زمین ایک مختلف شکل اختیار کر رہی ہے، جہاں 35 ایکڑ پر پھیلی یاکلاس پورا کچرا گاہ کو پرانے کچرے کے سائنسی ازالے کے ذریعے تبدیل کیا جا رہا ہے۔ تقریباً 62,252 میٹرک ٹن کچرے کو پراسیس کیا جا چکا ہے، جس کے نتیجے میں تقریباً 22 ایکڑ شہری زمین بازیاب کی گئی ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image011_20260921171056_274440.jpg

شکل 4: یاکالپورہ ڈمپ سائٹ، رائچور، کرناٹک

کچرا سے پاک مقام کا ایک حصہ اب مستقل زمین کے استعمال میں لایا جا رہا ہے، جس میں تقریباً 5 سے 7 ایکڑ پر پھیلا میاواکی جنگل بھی شامل ہے۔ یہ اس بات کی مثال ہے کہ کس طرح ایک پرانے کچرا گاہ کو ایک سرسبز اور ترقی پذیر ماحولیاتی مقام میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ سبز احاطے کو وسعت دینے، حیاتیاتی تنوع کو فروغ دینے اور مٹی کو زرخیز بنانے کے لیے تقریباً 60,000 بانس اور مقامی پودے لگائے جا رہے ہیں۔ شجرکاری کا آغاز 5 جون 2026 کو عالمی یوم ماحولیات کے موقع پر افتتاح کے ساتھ ہوا۔ یاکل پورا کی یہ تبدیلی کچرے کے ازالے سے کہیں آگے کی کوشش ہے۔ یہ پہل ’’زہریلے کچرے سے ماحولیاتی اثاثے تک‘‘ کے تصور کے تحت تیار کی گئی ہے۔ یہ ظاہر کرتی ہے کہ کچرا سے پاک ڈمپ سائٹ کی زمین کس طرح ماحولیاتی بحالی اور پائیدار شہری ترقی میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

صفائی سے آگے کی تحریک

بازیاب کی گئی کچرا گاہ محض دوبارہ حاصل کی گئی زمین سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ شہروں سے پیدا ہونے والے کچرے کے انتظام کے بدلتے ہوئے نقطہ نظر  کی  نمائندگی کرتی ہے۔ گورکھپور، دہلی، ناگپور اور رائچور میں بھی صورت حال ایک جیسی ہے۔ کچرے کےبنجر پہاڑوں کی کھدائی کی جاتی ہے، انہیں الگ کیا جاتا ہے اور دوبارہ قابل استعمال زمین میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔

صرف مشینیں اور پلانٹ اس عمل کو مکمل نہیں کر سکتے۔ شہری سالڈ ویسٹ ایکشن پلان، ایس بی ایم-یو پورٹل پر درج پیش رفت اور سالانہ سوچھ سرویکشن کی درجہ بندی افتتاحی تقریب کے بعد بھی طویل عرصے تک اس کام کو جاری رکھتی ہے۔ بنیادی ڈھانچہ اور ادارے مل کر ایک مرتبہ کی صفائی کو ایک مستقل نظام میں تبدیل کرتے ہیں۔ سوچھ بھارت مشن-اربن کا آغاز صفائی ستھرائی سے ہوا تھا، لیکن اب یہ اس سے کہیں آگے بڑھ چکا ہے۔ یہ اب اس طریقے کو نئی شکل دے رہا ہے کہ شہر کس طرح زمین کو دوبارہ قابل استعمال بناتے ہیں، ماحولیاتی نظام کو بحال کرتے ہیں اور ایسے عوامی مقامات تعمیر کرتے ہیں جہاں لوگ رہتے، کام کرتے اور ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔

حوالہ

رہائش اور شہری امور کی وزارت

 پی ڈی ایف دیکھنے کیلئے یہاں کلک کریں

***

ش ح۔ع ح۔م ش

U.NO-3894


(ریلیز آئی ڈی: 2313314) وزیٹر کاؤنٹر : 6