ہنر مندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت
این ایس سی نے ہریانہ کے کروکشیتر آئی ٹی آئی کلسٹر کے لیے پی ایم-سیتو کے تحت 320 کروڑ روپے کی منظوری دی، جندل نوین اوسر لمیٹڈ سات آئی ٹی آئیز کی جدید کاری میں شراکت دار بنے گی
دس آئی ٹی آئی کلسٹروں میں پی ایم-سیتو کے تحت مجموعی سرمایہ کاری2,491 کروڑ روپے تک پہنچ گئی، جس سے ملک بھر میں جدید، صنعت کی ضرورتوں کے مطابق اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ پیشہ ورانہ تربیتی اداروں کے قیام کو فروغ ملے گا
نوجوانوں کے لیے روزگار کے بہتر مواقع پیدا کرنے کے لیے صنعت کو آئی ٹی آئیز کے مزید قریب لانا ضروری ہے: جینت چودھری
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
21 SEP 2026 3:41PM by PIB Delhi
وزارت ہنرمندی کی ترقی اور کاروباری صلاحیت کے قومی رہنما کمیٹی(این ایس سی) نے پردھان منتری اسکلنگ اینڈ ایمپلائبلٹی ٹرانسفارمیشن تھرو اپ گریڈڈ آئی ٹی آئیز (پی ایم-سیتو) اسکیم کے تحت ہریانہ کے کروکشیتر آئی ٹی آئی کلسٹر کے لیے 320 کروڑ روپے کے اسٹریٹیجک انویسٹمنٹ پلان (ایس آئی پی) کو منظوری دے دی ہے۔ جندل نوین اوسر لمیٹڈ اس کلسٹر کے لیے مرکزی صنعتی شراکت دار کے طور پر حکومت ہریانہ کے ساتھ شراکت کرے گی۔
اس منظوری کے ساتھ پی ایم-سیتو کے تحت 10 آئی ٹی آئی کلسٹروں کے لیے منظور شدہ مجموعی سرمایہ کاری2,491 کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے۔ اس سے صنعتی شعبے کی قیادت میں صنعتی تربیتی اداروں کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ بہترین مراکز میں تبدیل کرنے اور افرادی قوت کی بدلتی ضروریات کے مطابق انہیں ڈھالنے کے حکومت کے عزم کو مزید تقویت ملی ہے۔
یہ منظوری سرکاری صنعتی تربیتی اداروں کی صنعت کی قیادت میں تبدیلی کو مضبوط بنانے اور طلب پر مبنی پیشہ ورانہ تربیتی نظام کو فروغ دینے کی سمت ایک اور اہم قدم ہے۔
ہنرمندی کی ترقی اور کاروباری صلاحیت کی وزارت کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج)جناب جینت چودھری نے کہا کہ‘‘صنعت کو آئی ٹی آئیز کے مزید قریب لانے سے ہمارے نوجوانوں کے لیے روزگار کے بہتر مواقع پیدا ہوں گے۔ پی ایم-سیتو کے تحت کروکشیتر کلسٹر کی منظوری اس عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ ہنرمندی کی ترقی کو صنعت کی بدلتی ضروریات کے مطابق مزید بامعنی، پرکشش اور جواب دہ بنایا جائے۔ مضبوط صنعتی شراکت داریوں کے ذریعے ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں کہ نوجوانوں کو وہ ہنر، عملی تجربہ اور مواقع حاصل ہوں جو انہیں ہندوستان کی ترقی کے سفر میں بامعنی طور پر حصہ لینے کے لیے درکار ہیں۔’’
ایک مرکزی اور چھ ذیلی آئی ٹی آئیز کو جدید بنایا جائے گا
کروکشیتر کلسٹر کو پی ایم-سیتو کے تحت وضع کیے گئے مرکزی و ذیلی اداروں کے ماڈل پر تیار کیا جائے گا اور اس میں سات سرکاری آئی ٹی آئیز شامل ہوں گے۔
سرکاری آئی ٹی آئی، کروکشیتر مرکزی آئی ٹی آئی کے طور پر کام کرے گا۔جبکہ درج ذیل ادارے ذیلی آئی ٹی آئیز کے طور پر کام کریں گے:
- سرکاری آئی ٹی آئی(خواتین)، کروکشیتر
- سرکاری آئی ٹی آئی، کیتھل
- سرکاری آئی ٹی آئی(خواتین)، کیتھل
- سرکاری آئی ٹی آئی، پیہوا
- سرکاری آئی ٹی آئی، پبنوا
- سرکاری آئی ٹی آئی(خواتین)، انبالہ شہر
320 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے کلسٹر میں ایک مربوط اور صنعت کی ضروریات کے مطابق ہنرمندی کا نظام تیار کرنے میں مدد ملے گی۔ مجوزہ اقدامات کے تحت بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، تربیتی سہولتوں کو جدید بنانے، صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ کورسز متعارف کرانے اور زیر تربیت افراد کے لیے روزگار کے بہتر مواقع یقینی بنانے پر توجہ دی جائے گی۔
صنعت اور آئی ٹی آئیز کے درمیان روابط کو مضبوط بنانا
پی ایم-سیٹو کے تحت صنعتی شراکت دار آئی ٹی آئیز کی تبدیلی کے عمل میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ نصاب کی تیاری، بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے، تربیت کی فراہمی، اساتذہ کی شمولیت، اپرنٹس شپ، صنعتی تجربہ اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس اسکیم کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ پیشہ ورانہ تربیت ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور محنت کی منڈی کی بدلتی ضروریات سے ہم آہنگ رہے۔
مرکزی صنعتی شراکت دار کی حیثیت سے جنڈال نوین اوسر لمیٹڈ حکومت ہریانہ اور متعلقہ آئی ٹی آئیز کے ساتھ مل کر صنعتی روابط کو مضبوط بنانے اور طلبہ کو عملی تربیت، اپرنٹس شپ اور روزگار کے مواقع تک بہتر رسائی فراہم کرنے کے لیے کام کرے گی۔ کمپنی پہلے ہی اڈیشہ کے باربل آئی ٹی آئی کلسٹر سے وابستہ ہے، جہاں پی ایم-سیتو کے تحت 240 کروڑ روپے کے اسٹریٹیجک انویسٹمنٹ پلان کو منظوری دی جا چکی ہے۔ دونوں کلسٹروں میں کمپنی کی شمولیت صنعت کی قیادت میں ہنرمندی کی ترقی میں تبدیلی کے پی ایم-سیتو کے وژن پر صنعت کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔
پی ایم-سیتو کے بارے میں
پی ایم-سیتو حکومت ہند کی ایک اہم پہل ہے۔جس کا مقصد جدید بنیادی ڈھانچے، جدید لیبارٹریوں اور آلات، صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ نصاب، ابھرتے ہوئے شعبوں میں نئے کورسز متعارف کرانے اور صنعتی شراکت داری کو مضبوط بنا کر پیشہ ورانہ تربیت کے معیار، افادیت اور نتائج کو بہتر بنانا ہے۔
اس اسکیم کے لیے مجموعی طور پر 60,000 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے تحت صنعت کی قیادت میں مرکزی و ذیلی اداروں کے ماڈل کے ذریعے ملک بھر میں 1,000 سرکاری آئی ٹی آئیز کو جدید بنایا جائے گا، جن میں 200 مرکزی آئی ٹی آئیز اور 800 ذیلی آئی ٹی آئیز شامل ہوں گے۔
اس کے علاوہ، اسکیم کے تحت پانچ قومی ہنرمندی تربیتی اداروں (این ایس ٹی آئی) کی استعداد میں اضافہ کیا جائے گا۔ اس میں مختلف شعبوں کے لیے مخصوص قومی امتیازی مراکز کا قیام اور تربیت کاروں کی تربیت کی صلاحیت کو مضبوط بنانا بھی شامل ہے۔ جس سے ایک مضبوط اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہنرمندی کے نظام کی تشکیل میں مدد ملے گی۔
****
ش ح۔ م ح۔ ج ا
U.No. 3861
(ریلیز آئی ڈی: 2313020)
وزیٹر کاؤنٹر : 15