سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
عالمی چیلنجز کے دور میں سائنس پالیسی اور ابلاغ:حدود سے کامیابیوں تک
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
17 SEP 2026 5:11PM by PIB Delhi
سائنسی اور صنعتی تحقیق کی کونسل (سی ایس آئی آر) اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (یو این جی اے) کے سائنس سربراہ اجلاس کے دوران ہر سال ورچوئل موڈ میں خصوصی اجلاس منعقد کرتی ہے، جن کا مقصد سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں سی ایس آئی آر کی خدمات اور عالمی پائیدار ترقی کے لیے اس کی کوششوں کو اجاگر کرنا ہے۔ ایس ایس یو این جی اے 81 کا مرکزی موضوع ’’حدود سے نئی کامیابیوں تک: ایک احیاء پذیر اور مساوی مستقبل کے لیے سائنس‘‘ ہے۔ اسی پس منظر میں سی ایس آئی آر-این آئی ایس پی آر نے 16 ستمبر 2026 کو ’’عالمی چیلنجز کے دور میں سائنس پالیسی اور ابلاغ: حدود سے نئی کامیابیوں تک‘‘ کے موضوع پر ایک آن لائن اجلاس منعقد کیا، جس میں ماہرین اور شعبے سے وابستہ افراد نے شرکت کی اور پیچیدہ عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سائنس، پالیسی اور معاشرے کے درمیان رابطے کو مزید مضبوط بنانے کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔
سی ایس آئی آر-این آئی ایس پی آر کے چیف سائنسداں ڈاکٹر نریش کمار نے استقبالیہ خطاب میں سائنسی علم کو تحقیق کے مرحلے سے نکال کر حقیقی زندگی میں اس کے عملی استعمال تک پہنچانے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے تحقیق، پالیسی سازی اور عملی نفاذ کے درمیان بہتر رابطے کے لیے مضبوط ادارہ جاتی نظام کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
سائنسی اجلاس کا خاکہ پیش کرتے ہوئے سی ایس آئی آر-این آئی ایس پی آر کی سینئر پرنسپل سائنسداں اور اجلاس کی کنوینر ڈاکٹر کستوری منڈل نے بنیادی ڈھانچے، مہارتوں اور شمولیت کے حوالے سے عالمی سطح پر موجود مستقل ’’سائنسی خلا‘‘ کی نشاندہی کی۔ انہوں نے کہا کہ اس اجلاس کا بنیادی مقصد یہ اجاگر کرنا ہے کہ سائنس پالیسی اور سائنسی ابلاغ پائیدار اور جامع ترقی کے لیے ایک دوسرے کے تکمیلی ستون ہیں۔
سی ایس آئی آر-نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سائنس کمیونیکیشن اینڈ پالیسی ریسرچ (سی ایس آئی آر-این آئی ایس پی آر) کی ڈائریکٹر ڈاکٹر (محترمہ) گیتا وانی ریاسام نے سائنسی اجلاس کی صدارت کی۔ انہوں نے ٹیکنالوجی کی تیاری، سائنسی صنعت کاری اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے بارے میں پیشگی طور پر جائزہ لینے کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی، خاص طور پر مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ہونے والی تیز رفتار پیش رفت کے تناظر میں۔ انہوں نے ابھرتے ہوئے حالات کا پیشگی اندازہ لگانے اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ سائنسی اور تکنیکی ترقی کو معاشرے کے لیے بامعنی نتائج میں تبدیل کیا جا سکے۔
حکومت ہند کے پرنسپل سائنٹفک ایڈوائزر کے دفتر کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر جناب روہت گپتا نے ٹی آر ایل کمپاس پیش کیا، جو ٹیکنالوجی کی تیاری کی سطح کا جائزہ لینے کے لیے بھارت کا شواہد پر مبنی قومی فریم ورک ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح ایک منظم اور شعبہ جاتی مخصوص طریقہ کار گہری ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کے خطرات کو کم کر سکتا ہے اور ترقی پذیر معیشتوں کے لیے ایسا نمونہ پیش کر سکتا ہے جسے وہ اپنی ترجیحات کے مطابق اختیار کر سکیں۔ انہوں نے بھارت کے لیے شعبہ جاتی مخصوص ٹی آر ایل جائزہ فریم ورک تیار کرنے میں پرنسپل سائنٹفک ایڈوائزر (پی ایس اے) کے دفتر اور سی ایس آئی آر-این آئی ایس پی آر کے درمیان تعاون کو بھی اجاگر کیا، جو گلوبل ساؤتھ کے ممالک کے لیے بھی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
اوپن ایکسس جرنلز کی مینیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر جوانا بال نے اوپن نالج نظام کو مضبوط بنانے میں حکومتوں، فنڈ فراہم کرنے والے اداروں، محققین، یونیورسٹیوں، کتب خانوں اور ناشرین کی شمولیت کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے بھارتی تحقیق کو محققین اور وسیع تر معاشرے سے جوڑنے میں سی ایس آئی آر-این آئی ایس پی آر کے کردار کو بھی اجاگر کیا۔

سی ایس آئی آر-این آئی ایس پی آر کے سائنس دان ڈاکٹر اویناش کشتیج نے ٹیکنالوجی کی ترقی کو سماجی ضروریات، سرمایہ کاری، مہارتوں اور مارکیٹ کی تیاری کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے ابھرتے ہوئے رجحانات اور پالیسی کی ترجیحات کا پیشگی اندازہ لگانے کے لیے ٹیکنالوجی فورسائٹ کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔ تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسٹارٹ اپس اور صنعت کاری ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے ذریعے سماجی مسائل سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
سی ایس آئی آر-این آئی ایس پی آر کے سائنس دان ڈاکٹر ونایک نے پیچیدگی پر مبنی ایک ایسے طریقہ کار کو اجاگر کیا جو صرف حوالہ جات کی تعداد تک محدود نہیں رہتا بلکہ حوالہ جاتی نیٹ ورکس کے مقامی ڈھانچے سے استفادہ کرتے ہوئے اہم اور انقلابی تحقیق کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس طریقہ کار کے ذریعے یہ بھی معلوم کیا جا سکتا ہے کہ کون سے ممالک کن شعبوں میں اہم سائنسی پیش رفت کر رہے ہیں اور مختلف ممالک کی سائنسی صلاحیتوں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
سی ایس آئی آر-این آئی ایس پی آر کے سائنسداں ڈاکٹر پرمانند برمن نے جامع سائنسی ابلاغ کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے زبان، خواندگی، ثقافت اور ڈیجیٹل رسائی جیسی رکاوٹوں کا ذکر کرتے ہوئے سائنسی ابلاغ کو مضبوط بنانے کے لیے سی ایس آئی آر-این آئی ایس پی آر کی جانب سے اختیار کیے گئے طریقہ کار اور اس کی خدمات کو اجاگر کیا۔
آر آئی ایس انڈیا کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر امیت کمار نے آزادی کے بعد سے ٹیکنالوجی پر مبنی ترقی اور تبدیلی کے میدان میں بھارت کے کامیاب تجربے اور مہارت کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر (ڈی پی آئی) کے ذریعے اس تجربے کو نئی سطح تک لے جایا گیا ہے، جس میں گلوبل ساؤتھ کے ممالک کے ساتھ اشتراک کے لیے وسیع امکانات موجود ہیں۔

اجلاس کا اختتام سائنسی علم، پالیسی سازی کے عمل اور سماجی ضروریات کے درمیان روابط کو مزید مضبوط بنانے پر مشترکہ زور دینے کے ساتھ ہوا۔ مباحثے میں جامع، مستحکم اور پائیدار مستقبل کی راہ ہموار کرنے کے لیے باہمی تعاون، بین شعبہ جاتی اور شراکتی طریقہ کار کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
****
(ش ح –ش ت-ع ن)
U. No. 3836
(ریلیز آئی ڈی: 2312893)
وزیٹر کاؤنٹر : 15