کوئلے کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

کول انڈیا توانائی، معدنیات، جدیدخام مال اور تحقیق و ترقی کے شعبوں میں ٹیکنالوجی پر مبنی تنوع کو فروغ دینے میں مصروف عمل


حکمت عملی پر مبنی اقدامات میں کوئلے سے گیس کی تیاری، حرارتی بجلی، قابل تجدید توانائی، توانائی ذخیرہ کرنے، اہم معدنیات اور مقامی ٹیکنالوجی کی ترقی شامل

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 20 SEP 2026 11:31AM by PIB Delhi

کول انڈیا لمیٹڈ (سی آئی ایل) اپنے روایتی کوئلہ کان کنی کے کاموں سے آگے بڑھتے ہوئے توانائی، معدنیات، جدید خام مال اور تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی) سمیت متنوع اور ٹیکنالوجی پر مبنی کاروباری پورٹ فولیو تیار کر رہی ہے۔ کمپنی کا کاروباری ترقی کا پورٹ فولیو باہم ایک دوسرے کو تقویت دینے والے پانچ شعبوں پر مبنی ہے، جس میں کوئلے سے گیس کی تیاری اور کوئلے سے کیمیکلز کی تیاری؛ حرارتی توانائی؛ قابل تجدید توانائی اور توانائی کا ذخیرہ؛ اہم معدنیات اور ترقی یافتہ مواد اور لوہے کی خام دھات سمیت متنوع معدنیات شامل ہیں۔

اس پورٹ فولیو میں پہلے ہی قومی سطح کے منصوبے شامل ہیں، جن میں کوئلے سے کیمیکلز کی تیاری کی چار پہلوں میں تقریباً 69,346 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری، 2×800 میگاواٹ چندرپورہ الٹرا سپر کریٹیکل توسیعی منصوبہ، تقریباً 550 میگاواٹ کی فعال شمسی توانائی کی صلاحیت، گرڈ پیمانے کے بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم (بی ای ایس ایس) کے اقدامات اور اہم معدنیات اور ذیلی سطح پر تیار ہونے والے مواد کے شعبوں میں مواقع شامل ہیں۔

حکمت عملی کا تناظر اور کاروباری ترقی

کول انڈیا لمیٹڈ( سی آئی ایل) کی ملک گیر موجودگی، کان کنی اور منصوبوں کی ترقی کا تجربہ، حکومت کے ساتھ تعلقات، زمین اور کوئلے کے وسائل، خریداری کے نظام، مالیاتی مضبوطی اور شراکت داری کی صلاحیتیں اسے کاروباری تنوع کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ اس کا رہنما اصول ’’مقصد کے ساتھ تنوع‘‘ ہے، جس کا مقصد توانائی اور معدنی تحفظ، درآمدات کا متبادل، مقامی ٹیکنالوجی، کم کاربن والی ترقی، سرکاری اثاثوں کے مؤثر استعمال اور مضبوط ملک کے اندرپیداوار کو فروغ دینے کے ساتھ تجارتی پائیداری اور خطرات کے مطابق منافع کو برقرار رکھنا بھی شامل ہے۔

کوئلے سےگیس کی تیاری، کوئلے سے کیمیکلز کی تیاری اور زیر زمین کوئلے  کو گیس میں تبدیل کرنا:

کوئلے سے گیس کی تیاری کے عمل میں کوئلے کو ترکیبی گیس یا ’’سِنگیس‘‘ میں تبدیل کیا جاتا ہے، جسے مصنوعی قدرتی گیس(ایس این جی)، امونیا، یوریا، امونیم نائٹریٹ، میتھانول اور دیگر کیمیکلز تیار کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی کوئلے سے کیمیائی مصنوعات کی قدر حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ درآمدات کے متبادل کو فروغ دینے میں مدد دے سکتی ہے۔

سی آئی ایل کی کوئلے سے کیمیکلز تیار کرنے کی چار اہم پہلیں درج ذیل ہیں: تلچر فرٹیلائزرز لمیٹڈ، جس کی یوریا کی پیداواری صلاحیت 1.27 ایم ایم ٹی پی اے ہے اور منصوبے کی تخمینہ لاگت 19,062.22 کروڑ روپے ہے؛ بھارت کول گیسفیکیشن اینڈ کیمیکلز لمیٹڈ، جس کی امونیم نائٹریٹ کی پیداواری صلاحیت 0.66 ایم ایم ٹی پی اے ہے اور منصوبے کی تخمینہ لاگت 25,015.89 کروڑ روپے ہے؛ کول گیس انڈیا لمیٹڈ، جس کی ایس این جی کی پیداواری صلاحیت 633.6 ملین این ایم³ سالانہ ہے اور منصوبے کی تخمینہ لاگت 13,052.81 کروڑ روپے ہے اور سی آئی ایل-بی پی سی ایل چندرپور کوئلے سے ایس این جی تیار کرنے کی پہل، جس کی صلاحیت 633.6 ملین این ایم³ سالانہ ہے اور منصوبے کی تخمینہ لاگت 12,214.86 کروڑ روپے ہے۔

ان پہلوں کے لیے ٹیکنالوجی سے متعلق ترجیحات میں زیادہ راکھ والے ہندوستانی کوئلے کے لیے عمل کو موزوں و بہتر بنانا، اہم آلات کی مقامی سطح پر تیاری، جدید عمل کنٹرول اور ڈیجیٹل ٹوئن، پیشگی دیکھ بھال اور پانی، راکھ اور اخراج کے بہتر انتظام کو شامل کیا گیا ہے۔ منصوبوں کو صرف آپریشن سے متعلق اعداد و شمار اور تجارتی کارکردگی کی تصدیق کے بعد ہی دوہرایا جائے گا۔

زیر زمین کوئلے کو گیس میں تبدیل  کرنا (یو سی جی) گہرائی میں موجود یا کان کنی کے قابل نہ رہنے والے کوئلے کو ترکیبی گیس میں تبدیل کرنے کا ایک ممکنہ ذریعہ فراہم کرتی ہے۔ چونکہ اس ٹیکنالوجی کی ابھی تک عالمی سطح پر تجارتی طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے، اس لیے سی آئی ایل ایسٹرن کول فیلڈز لمیٹڈ (ای سی ایل) کے کستا ویسٹ بلاک میں مرحلہ وار پائلٹ منصوبہ چلا رہی ہے۔ پہلا مرحلہ 31 مئی 2025 کو مکمل ہوا، جبکہ دوسرا مرحلہ 20 جون 2025 کو شروع ہوا۔ دوسرے مرحلے میں تفصیلی انجینئرنگ، سمت نما ڈرلنگ، انجیکشن اور پیداوار کے کنویں اور آگ لگنے و کنٹرول  کانظام شامل ہیں۔ دوسرے مرحلے کی تکمیل 2026 میں متوقع ہے۔

حرارتی بجلی، شمسی توانائی اور تیرتی شمسی توانائی

سی آئی ایل اور دامودر ویلی کارپوریشن(ڈی وی سی) جھارکھنڈ کے چندرپورہ میں 2×800 میگاواٹ کے الٹرا سپر کریٹیکل براؤن فیلڈ توسیعی منصوبے پر مجوزہ 50:50 مشترکہ منصوبے کے ذریعے عمل درآمد کر رہے ہیں۔ ڈی وی سی بجلی کی فروخت میں سہولت فراہم کرے گا۔ مستقبل میں توجہ کے اہم شعبوں میں اعلیٰ کارکردگی کے ساتھ بجلی پیدا کرنا، پیشگی دیکھ بھال، بجلی گھر کو لچکدار انداز میں چلانا، اخراج پر قابو پانا، پانی کی ری سائیکلنگ اور راکھ کا سائنسی استعمال شامل ہیں۔

سی آئی ایل کی جانب سے تقریباً 550 میگاواٹ شمسی توانائی کی صلاحیت نصب کی جا چکی ہے، جبکہ چھتوں  اور زمین پر نصب، کیپٹیو، بین ریاستی اور مارکیٹ سے منسلک منصوبے ترقی کے مرحلے میں ہیں۔ سی آئی ایل دو ماڈلوں بجلی کی لاگت اور کاربن فٹ پرنٹ کم کرنے کے لیے کیپٹیو شمسی منصوبے اور تجارتی طور پر قابل تجدید بجلی پیدا کرنے کے لیے بڑے پیمانے کے منصوبے پر عمل کر رہی ہے۔

شمسی توانائی کے منصوبوں کا انتخاب مدت اور خطرات پر مبنی جائزے کی بنیاد پر کیا جائے گا، جس میں وسائل کا معیار، بجلی کی ترسیل، زمین کی دستیابی، توانائی کا ذخیرہ، بجلی کی پیداوار میں کمی، بجلی کی کھپت اور لاگت جیسے عوامل شامل ہوں گے۔ ڈیجیٹل نگرانی اور ہائبرڈ توانائی ذخیرہ کرنے کے حل منصوبوں کی کارکردگی اور عملیاتی لچک کو بہتر بنانے میں معاون ہوں گے۔

سی آئی ایل گورکھپور کے چلوا تال میں 20 میگاواٹ اے سی گرڈ سے منسلک تیرتے شمسی توانائی کے منصوبے کی بھی ترقی کر رہی ہے۔ تیرتی شمسی توانائی موزوں آبی ذخائر کے لیے زمین کے مؤثر استعمال کا متبادل فراہم کرتی ہے۔ تاہم، پانی کی سطح، گہرائی، ہوا اور لہروں، لنگر اندازی، زنگ لگنے، دیکھ بھال، تحفظ اور ماحولیاتی نظام سے متعلق خطرات سے نمٹنے کے لیے مقام کے لحاظ سے جائزہ اور معیاری جانچ ضروری ہوگی۔

بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز

بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز(بی ای ایس ایس) قابل تجدید توانائی کو بجلی کے نظام میں شامل کرنے، زیادہ طلب کے وقت بجلی کی طلب کے انتظام، گرڈ میں لچک پیدا کرنے اور بجلی کی ترسیل کے نظام کے بہتر استعمال میں معاون ہوتے ہیں۔ سی آئی ایل کے اقدامات میں تلنگانہ کا ٹی جی جینکو چوٹوپل منصوبہ شامل ہے، جس کی صلاحیت 187.5 میگاواٹ/750 میگاواٹ گھنٹہ اور دورانیہ چار گھنٹے ہے۔ یہ منصوبہ سی آئی ایل کو الاٹ کیا جا چکا ہے، جبکہ ای پی سی کے انتخاب اور طویل مدتی آپریشن و دیکھ بھال کے انتظامات پر پیش رفت جاری ہے۔

سی آئی ایل اڈیشہ میں چار مقامات پر 80 میگاواٹ/320 میگاواٹ گھنٹہ کا بی ای ایس ایس پورٹ فولیو بھی تیار کر رہی ہے، جس کا دورانیہ چار گھنٹے ہے۔ صلاحیت سولر انرجی کارپوریشن آف انڈیا(ایس ای سی آئی) کے ذریعے حاصل کی گئی ہے اور ای پی سی ٹینڈر جاری کر دیا گیا ہے۔

بی ای ایس ایس منصوبوں کی تجارتی کامیابی کا انحصار اعلیٰ دستیابی، چارج کی حالت کے قابل اعتماد انتظام، بجلی کی ترسیل سے متعلق تقاضوں کی پابندی اور صلاحیت میں اضافے کے لیے پیشگی منصوبہ بندی پر ہوگا۔

اہم معدنیات اور گریفائٹ کی مربوط ویلیو چین

اہم معدنیات بیٹریوں، برقی گاڑیوں، قابل تجدید توانائی کے نظام، الیکٹرانکس، جدید مینوفیکچرنگ، ایرو اسپیس اور دفاع کے لیے ضروری ہیں۔ سی آئی ایل کے ملکی مواقع میں مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں گریفائٹ کے اثاثے، نیز آندھرا پردیش اور مہاراشٹر میں نایاب ارضی عناصر (آر ای ای) اور نایاب دھاتوں کے مواقع شامل ہیں۔

توجہ کے اہم شعبوں میں وسائل کی نشاندہی، جیومیٹالرجی، معدنی افزودگی، بازیابی، مصنوعات کی خصوصیات کا تعین، فضلے کا انتظام اور مارکیٹ سے ربط شامل ہیں۔ ان کوششوں کو انڈین ریئر ارتھس لمیٹڈ(آئی آر ای ایل)، نان فیرس ٹیکنالوجی ڈیولپمنٹ سینٹر(این ایف ٹی ڈی سی) کرٹن یونیورسٹی، ہندوستان کاپر اور ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون کے ذریعے تقویت دی جا رہی ہے۔ بیرون ملک مواقع کا جائزہ مرحلہ وار تکنیکی اور مالیاتی جانچ پڑتال کے ذریعے لیا جائے گا۔

سی آئی ایل کا مقصد کان کنی، معدنی افزودگی، تطہیر، کروی شکل دینے اور کوٹنگ سے لے کر اینوڈ مواد کی تیاری تک گریفائٹ کی ایک مربوط ویلیو چین قائم کرنا ہے۔ این ایف ٹی ڈی سی کے تعاون سے کم از کم 99.95 فیصد خالصیت والے کوٹیڈ اسفیریکل پیوریفائیڈ گریفائٹ (سی ایس پی جی) کے لیے ایک مظاہراتی پلانٹ کو مصنوعات کی اہلیت جانچنے کے پلیٹ فارم کے طور پر قائم کرنے کی تجویز ہے۔ مصنوعات کے معیار، عمل کی کارکردگی اور صارفین کی منظوری میں مسلسل بہتری اور استحکام کے بعد اسے تجارتی پیمانے پر وسعت دی جائے گی۔

ڈیجیٹل اور ادارہ جاتی ڈھانچہ

کان کنی، صنعتی عمل، بجلی، قابل تجدید توانائی، گرڈ خدمات اور جدید خام مال کے شعبوں میں ایک مشترکہ ڈیجیٹل ڈھانچہ درکار ہے۔ اس کے اہم اجزا میں محفوظ ادارہ جاتی ڈیٹا روم، منصوبوں کے مالیاتی ماڈل کا معیاری نظام، جی آئی ایس پر مبنی مواقع کی نقشہ سازی اور ایسے پورٹ فولیو ڈیش بورڈز شامل ہوں گے جو منصوبے کے مرحلے، منظوریوں، سرمایہ کاری، نظام الاوقات، خطرات اور منافع کی نگرانی کریں گے۔ اس کے علاوہ ٹینڈر کے مرحلے سے ہی ڈیجیٹل انجینئرنگ اور اثاثوں سے متعلق معلومات کے تقاضوں کو شامل کیا جائے گا۔

ایک مشترکہ مرحلہ وار ماڈل کے تحت مواقع کی ابتدائی جانچ، تصور کی توثیق، فزیبلٹی، معاہدہ بندی، مظاہراتی مرحلہ اور تجارتی آپریشن شامل ہوں گے۔ سی آئی ایل خصوصی ٹیکنالوجیز اور منڈیوں تک رسائی کے لیے مشترکہ منصوبوں اور حکمت عملی پر مبنی شراکت داریوں سے فائدہ اٹھائے گی، جس میں ٹیکنالوجی کی منتقلی، مقامی سطح پر تیاری، قابل پیمائش نتائج اور مقررہ مدت کے اہداف پر زور دیا جائے گا۔

خطرات کا انتظام، اہم کارکردگی اشاریے اور آئندہ کا لائحہ عمل

سی آئی ایل خطرات کے انتظام کے لیے ایک فعال اور مرحلہ وار طریقہ کار اختیار کرے گی، جس میں ٹیکنالوجی اور وسائل سے متعلق خطرات؛ مارکیٹ اور مالیاتی خطرات؛ منصوبوں پر عمل درآمد اور لاگت سے متعلق خطرات؛ ماحولیاتی، سماجی اور انتظامی(ای ایس جی) اور سپلائی چین سے متعلق خطرات؛ سائبر اور عملیاتی خطرات اور صلاحیت سے متعلق خطرات شامل ہوں گے۔

خطرات سے نمٹنے کے اقدامات میں پائلٹ منصوبوں کی توثیق اور آزادانہ جائزہ؛ صارفین کی منظوری اور پیداوار کی خریداری کے انتظامات؛ مضبوط تفصیلی منصوبہ جاتی رپورٹیں(ڈی پی آر ایس) اور ہنگامی انتظامات؛میعاد کے جائزے اور مقامی سطح پر تیاری؛ عملیاتی ٹیکنالوجی کا تحفظ اور حادثات سے نمٹنے کا نظام؛ اور ہدف پر مبنی تربیت اور علم کی منتقلی شامل ہوں گے۔

اہم کارکردگی اشاریوں میں منصوبوں کی تکمیل، عملیاتی دستیابی اور معیار، میگاواٹ میں قابل تجدید توانائی کی صلاحیت اور میگاواٹ گھنٹہ میں توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت، معدنی وسائل میں پیش رفت اور ذیلی سطح پر مصنوعات کی منظوری، درآمدات کے متبادل اور مقامی ٹیکنالوجی، خطرات کے مطابق منافع اور نقد رقم کی پیداوار، نیز اخراج، پانی، فضلے، بحالی، تحفظ اور برادری پر اثرات سے متعلق ماحولیاتی، سماجی اور انتظامی نتائج شامل ہوں گے۔

کاروباری ترقی کا شعبہ ٹیکنالوجی پر مبنی کاروباری تنوع کے لیے ادارے کے مربوط شعبے کے طور پر کام کرے گا۔ اس کی ذمہ داریوں میں مواقع کی نشاندہی، شراکت داریوں کا ڈھانچہ تیار کرنا، ٹیکنالوجیز کی توثیق، تجارتی ماڈل قائم کرنا، منظوریوں کا حصول اور منصوبوں کو منظم انداز میں عمل درآمد کے مرحلے تک پہنچانا شامل ہے۔ فوری ترجیحات میں ذمہ دار اسپانسرز کے ساتھ ایک متحد کاروباری تنوع اور ٹیکنالوجی روڈ میپ تیار کرنا، معیاری تکنیکی، مالیاتی اور ماحولیاتی، سماجی و انتظامی جائزہ ٹیمپلیٹس تیار کرنا  اور پہلے سے طے شدہ کامیابی کے معیار اور آزادانہ توثیق کے ساتھ مظاہراتی منصوبے شروع کرنا شامل ہیں۔

سی آئی ایل میں تحقیق و ترقی کا اقدام

تحقیق و ترقی، ٹیکنالوجی اور اختراع کا ماحولیاتی نظام

سی آئی ایل کا تحقیق و ترقی کا نظام 1975 میں قائم سائنس اور ٹیکنالوجی کی قائمہ کمیٹی سے شروع ہو کر 1994 میں تشکیل دیے گئے تحقیق و ترقی بورڈ اور 2003 میں قائم اپیکس کمیٹی تک ترقی کرتا رہا ہے۔ اب یہ نظام 2026 کی آزاد تحقیق و ترقی پالیسی اور رہنما خطوط تک پہنچ چکا ہے، جس میں ٹیکنالوجی کی تیاری کی سطح(ٹی آر ایل)4 اور اس سے اوپر کے منصوبوں کو ترجیح دی گئی ہے۔

ترجیحی شعبوں میں کان کی منصوبہ بندی، پیداواری صلاحیت، تحفظ اور تلاش؛ مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ اور انٹرنیٹ آف تھنگز پر مبنی اسمارٹ مائننگ؛ ماحولیات اور پائیداری؛ فضلے سے دولت؛ ٹیکنالوجی میں اختراع اور مقامی سطح پر ٹیکنالوجی کی تیاری؛ کوئلے کے متبادل استعمال؛ قابل تجدید توانائی اور صاف کوئلہ، معدنی افزودگی اور معدنی عمل کاری شامل ہیں۔

تحقیق و ترقی کے انتظامی نظام میں منصوبے کی مالیت کے لحاظ سے سی آئی ایل بورڈ، تحقیق و ترقی بورڈ، اپیکس کمیٹی اور ذیلی اداروں کی سطح پر تحقیق و ترقی کمیٹیوں کے ذریعے منظوری کا انتظام ہے۔ نیشنل سینٹر فار کول اینڈ انرجی ریسرچ(این اے سی سی ای آر) ایک آزاد مرکزی نوڈل ادارے اور اہم مرکز کے طور پر کام کرتا ہے، جسے ایک ایسے ’’ہب اینڈ اسپوک‘‘ نیٹ ورک کی مدد حاصل ہے جو سی آئی ایل کے مراکز برائے اعلیٰ مہارت، آئی آئی ٹیز اور این آئی ٹیز، سی ایس آئی آر کی لیبارٹریوں، تحقیقی اداروں، ذیلی اداروں، انکیوبیشن مراکز، اسٹارٹ اَپس اور صنعتی شراکت داروں کو آپس میں جوڑتا ہے۔

سی آئی ایل کے تعاون سے قائم اعلیٰ مہارت کے اہم مراکز

سی آئی ایل کی مالی اعانت سے قائم اعلیٰ مہارت کے اہم مراکز آئی آئی ٹی مدراس میں سی آئی ایل سینٹر آف سسٹین ایبل انرجی شامل ہے، جسے 87.90 کروڑ روپے کی مالی مدد فراہم کی گئی ہے اور جو پائیدار مواد، کانوں کے متبادل استعمال اور توانائی کی منتقلی پر توجہ مرکوز کرتا ہے؛ آئی آئی ٹی حیدرآباد میں کلینز(سی ایل ای اے این زیڈ) شامل ہے، جسے 98 کروڑ روپے کی مالی اعانت دی گئی ہے اور جو صاف کوئلہ ٹیکنالوجی اور کم درجے کے ہندوستانی کوئلے پر توجہ مرکوز کرتا ہے؛ آئی آئی ٹی (آئی ایس ایم) دھنباد میں سی آئی ایل سینٹر فار انوویشن اِن مائننگ شامل ہے، جسے 67.45 کروڑ روپے کی مالی مدد فرہاہم کی گئی ہے اور جوکان کنی 4.0، انٹرنیٹ آف تھنگز، اسمارٹ کانوں، عمیق ٹیکنالوجیز اور 5جی پر توجہ مرکوز کرتا ہے اور آئی آئی ٹی (آئی ایس ایم) دھنباد میں سی آئی آئی سینٹر شامل ہے، جسے 10 کروڑ روپے کی مالی اعانت دی گئی ہے اور جو اختراع، انکیوبیشن، پروٹوٹائپ سازی، ورچوئل ریئلٹی، سیمولیشن اور خودکاری پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔

تحقیق و ترقی کا پورٹ فولیو، اخراجات اور کامیابیاں

تحقیق و ترقی کے پورٹ فولیو میں 20 انفرادی منصوبے شامل ہیں، جن کے لیے 231 کروڑ روپے کی منظور شدہ رقم مختص ہے۔ زیادہ اثر رکھنے والے اقدامات میں کستا ویسٹ میں زیر زمین کوئلے سے گیس کی تیاری(یو سی جی)، کھلی اور زیر زمین کانوں کے لیے5 جی کیپٹیو نیٹ ورکس، دو طرفہ پیرووسکائٹ شمسی خلیے اور اہم معدنیات کی تلاش کے لیے مصنوعی ذہانت اور جیو فزیکل ایکسپلوریشن شامل ہیں۔

مالی سال24-2023 میں تحقیق و ترقی پر 61.31 کروڑ روپے، مالی سال25-2024 میں 245.38 کروڑ روپے اور مالی سال 26-2025میں 183.88 کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔ مالی سال27-2026 کے لیے 225 کروڑ روپے، مالی سال 28-2027کے لیے 350 کروڑ روپے، مالی سال 29-2028کے لیے 400 کروڑ روپے اور مالی سال30-2029 کے لیے 500 کروڑ روپے کے اخراجات کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

مالی سال 27-2026 کے دوران حاصل ہونے والی کامیابیوں میں پانچ پیٹنٹس کے لیے درخواستیں دائر کرنا، جبکہ مزید دو پیٹنٹس پر کارروائی جاری ہے؛ دو طرفہ پیرووسکائٹ شمسی خلیے کے لیے ایک پیٹنٹ کا حصول؛ دھماکے کی رفتار کی پیمائش کرنے والے آلے کی تجارتی کاری کے لیے ٹیکنالوجی کی منتقلی اور آئی آئی آئی ٹی روڑکی اور آئی آئی ٹی کھڑگپور کے ساتھ نئے سی آئی ایل مراکز برائے اعلی مہارت قائم کرنے کے لیے بات چیت شامل ہے۔

آئندہ کے لائحہ عمل میں این اے سی سی ای آر کو مزید مضبوط بنانا، ہب اینڈ اسپوک نظام کو وسعت دینا، تحقیق سے عملی نفاذ تک منتقلی کی رفتار کو تیز کرنا، اورگیس کی تیاری، مستقبل کے لیے تیار مواد اور بیٹریوں جیسی مقامی اور مستقبل کی ضروریات کے مطابق ٹیکنالوجیز پر توجہ مرکوز کرنا شامل ہے۔

نتیجہ

سی آئی ایل روایتی کوئلہ کان کنی کے ادارے سے بتدریج ایک متنوع توانائی، معدنیات، مواد اور ٹیکنالوجی پر مبنی ادارے میں تبدیل ہو رہی ہے۔ کوئلے سے گیس کی تیاری، مؤثر بجلی پیداوار، قابل تجدید توانائی اور بی ای ایس ایس، اہم معدنیات، جدید مواد اور تحقیق و ترقی کے شعبوں میں اس کے اقدامات اس تبدیلی کے لیے ایک وسیع بنیاد فراہم کرتے ہیں۔

آگے بڑھتے ہوئے توجہ اس بات پر ہوگی کہ ٹیکنالوجی کی توثیق، مقامی صلاحیت، حکمت عملی پر مبنی شراکت داری، منظم سرمایہ کاری، ڈیجیٹل حکمرانی اور مضبوط خطرات کے انتظام کے ذریعے ان اقدامات کو قابل توسیع اور تجارتی طور پر پائیدار نتائج میں تبدیل کیا جائے۔ این اے سی سی ای آراور تحقیق و ترقی کے ہب اینڈ اسپوک ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے سے تحقیق اور اختراع سے عملی میدان میں نفاذ تک منتقلی مزید تیز ہوگی۔

واضح مرحلہ وار اہداف، قابل پیمائش نتائج اور جوابدہ عمل درآمد کے ساتھ، سی آئی ایل اپنی کان کنی کی مہارت، ادارہ جاتی صلاحیتوں اور ٹیکنالوجی کے ماحولیاتی نظام سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہندوستان کی توانائی اور معدنی تحفظ، درآمدات کے متبادل اور تکنیکی خود انحصاری میں تعاون کر سکتی ہے، جبکہ مستقبل کے لیے پائیدار ترقی کے نئے پلیٹ فارم بھی قائم کر سکتی ہے۔

 

********

ش ح۔   م ع ن۔ م ش

U-NO-3831


(ریلیز آئی ڈی: 2312891) وزیٹر کاؤنٹر : 4
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Tamil , Telugu