وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر جناب  راجیو رنجن سنگھ اور مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ جناب شبھیندو  ادھیکاری مغربی بنگال میں ماہی پروری اور آبی زراعت کی ترقی کے لیے اسکیموں اور پروگراموں کے نفاذ سے متعلق جائزہ اجلاس کی مشترکہ صدارت کریں گے


پیداوار میں اضافے، مارکیٹ سے روابط کو مضبوط بنانے اور ماہی پروری  کی ویلیو چین کو فروغ دے کر ماہی پروری  کے شعبے کی پائیدار ترقی کے لیے روڈ میپ تیار کرنے پر توجہ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 20 SEP 2026 3:41PM by PIB Delhi

حکومت ہند کے  محکمہ ماہی گیری کی جانب سے 21 ستمبر 2026 کو مغربی بنگال کے کولکاتا شہر میں مغربی بنگال میں ماہی پروری  اور آبی زراعت کی ترقی سے متعلق جائزہ اجلاس منعقد کیا جائے گا۔ اجلاس کی مشترکہ صدارت  ماہی پروری ، مویشی پروری و ڈیری اور پنچایتی راج کے مرکزی وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ اور مغربی بنگال کے وزیر اعلی جناب شبھیندو  ادھیکاری کریں گے۔ ایک دہائی سے زائد عرصے کے بعد اعلیٰ سطح پر ماہی  پروری سے متعلق یہ جائزہ اجلاس منعقد کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد مغربی بنگال میں ماہی پروری کے وسیع امکانات سے بھرپور استفادہ کرنے کے لیے روڈ میپ تیار کرنا ہے۔

یہ جائزہ اجلاس  مغربی بنگال حکومت میں ماہی  پروری  اور  مویشیوں کے   وسائل کی ترقی کے محکمہ کے   وزیر مملکت (آزادانہ چارج) کی موجودگی میں منعقد ہوگا۔اجلاس میں حکومت ہند کے محکمۂ ماہی  پروری، مغربی بنگال کے محکمۂ ماہی گیری، ماہی پروری کی ترقی کے قومی بورڈ (این ایف ڈی بی)، آئی سی اے آر کے اداروں، مچھلیو کے جینیاتی وسائل کے قومی بیورو (این بی ایف جی آر) ، سینٹرل انسٹی ٹیوٹ آف فشریز ایجوکیشن(سی آئی ایف ای )، نیشنل بینک فار ایگریکلچر اینڈ رورل ڈیولپمنٹ (نابارڈ)، نیشنل کوآپریٹو ڈیولپمنٹ کارپوریشن(این سی ڈی سی )، ساحلی آبی زراعت سے متعلق اتھارٹی(سی اے اے) ، برآمداتی جانچ سے متعلق کونسل (ای آئی سی) اور سمندری مصنوعات کی برآمدات کے فروغ  سے متعلق  اتھارٹی (ایم پی ای ڈی اے) کے افسران بھی شرکت کریں گے۔

یہ اجلاس مغربی بنگال میں مختلف اسکیموں اور پروگراموں کی پیش رفت کا جامع جائزہ لینے اور ریاست میں ماہی پروری کے شعبے کی مستقبل کی ترقی کے لیے اہم ترجیحی شعبوں پر غور و خوض کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔ حکومت ہند اور مغربی بنگال کی حکومت کے محکمۂ ماہی  پروری  کی جانب سے پیشکشوں اور ماہی پروری سے متعلق سرکردہ تحقیقی، ضابطہ کار اور مالیاتی اداروں کے ساتھ تبادلۂ خیال کے ذریعے پیداوار میں اضافے، آبی زراعت کے فروغ، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، ادارہ جاتی تعاون اور سرمایہ کاری کے فروغ جیسے موضوعات  پر تفصیلی غورو خوض  کیا جائے گا۔ اس کے بعد مغربی بنگال میں مربوط آبی ذخائر کی ترقی کے لیے انتظامی منظوری بھی دی جائے گی۔ توقع ہے کہ اجلاس میں ہونے والی بات چیت سے ترجیحی اقدامات کی نشاندہی کرنے اور مرکز و ریاست کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے میں مدد ملے گی، تاکہ مغربی بنگال میں ماہی پروری کے شعبے کی پائیدار اور جامع ترقی کو رفتار دی  جا سکے۔

مغربی بنگال میں ماہی پروری کے وسیع وسائل موجود ہیں، جن کی بدولت ریاست نے 26-2025  میں 25.43 لاکھ ٹن مچھلی کی پیداوار حاصل کی۔ یہ کامیابی مختلف اسکیموں کے تحت 617 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے ممکن ہوئی، جس کے ذریعے پیداواری ٹیکنالوجی، ماہی پروری کے بعد کے بنیادی ڈھانچے، ڈبہ بندی  اور تربیت و صلاحیت سازی کو مضبوط کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں 30 لاکھ سے زائد ماہی پرور افراد  کے لیے روزگار اور ذریعۂ معاش کے مواقع پیدا ہوئے اور ویلیو چین اور مارکیٹ تک رسائی کے تعاون سے ایک مضبوط ماہی گیری کا ماحولیاتی نظام تشکیل پایا۔اس مضبوط بنیاد کو دیکھتے ہوئے ریاست میں اضافی مالی وسائل کو بروئے کار لانے اور جاری اقدامات کو بڑے پیمانے پر وسعت دینے کی خاطر خواہ گنجائش موجود ہے، جس سے ماہی پروری کے شعبے میں ریاست کی مکمل صلاحیت کو بروئے کار لانے میں مدد ملے گی۔حکومت ہند نے مغربی بنگال کے پوربا میدنی پور میں خشک مچھلی کے کلسٹر سمیت ماہی گیری کی پیداوار اور پروسیسنگ سے متعلق 34 کلسٹروں کو بھی مطلع  کیا ہے۔ حکومت ہند کا محکمۂ ماہی پروری ماہی پرور افراد کی کسان پیداواری تنظیموں (ایف ایف پی او) اور ماہی پروری سے متعلق کوآپریٹیو اداروں کو مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دے رہا ہے، جبکہ مختلف اقدامات کے ذریعے ماہی پروری کے شعبے کو ڈیجیٹل بنانے پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔بین الاقوامی سرحد سے متصل ریاست ہونے کے باعث مغربی بنگال میں سلامتی کے حوالے سے بھی حساس نوعیت کے معاملات موجود ہیں۔ خطے کی حفاظت اور نگرانی کے لیے کسٹمز سمیت دیگر سکیورٹی ایجنسیاں مسلسل تعینات ہیں۔

توقع ہے کہ یہ جائزہ اجلاس مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے ساتھ ساتھ متعلقہ اہم اداروں کے درمیان بہتر تال میل کے ذریعے مغربی بنگال میں ماہی پروری اور آبی زراعت کے شعبے کی ترقی کو تیز کرنے کے لیے نئی سمت فراہم کرے گا۔اجلاس میں ہونے والی بات چیت سے ترجیحی شعبوں میں ضروری اقدامات کی نشاندہی، ماہی گیری سے متعلق اہم اسکیموں اور پروگراموں کے مؤثر نفاذ کو مزید مضبوط بنانے، ٹیکنالوجی پر مبنی اور پائیدار ترقی کو فروغ دینے اور ماہی گیری کی پوری ویلیو چین میں سرمایہ کاری بڑھانے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔اس اجلاس سے ماہی پروروں کے ذریعۂ معاش کو بہتر بنانے، مچھلی کی پیداوار اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنے، منڈی سے روابط کو مضبوط بنانے اور ریاست میں ایک مضبوط، جامع اور عالمی سطح پر مسابقتی ماہی پروری کے شعبے کے قیام کے وژن کو آگے بڑھانے میں بھی مدد ملنے کی امید ہے۔

************

ش ح۔م ش ۔ م ذ

           (U: 3814) 


(ریلیز آئی ڈی: 2312773) وزیٹر کاؤنٹر : 10