ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
صدر جمہوریہ ہند نے نئی دہلی میں این جی ٹی کی ’ماحولیات کے مستقبل اور موسمیاتی حرکیات‘ کے موضوع پر بین الاقوامی کانفرنس کے اختتامی اجلاس سے خطاب کیا
کانفرنس کا اختتام وعدوں کو مؤثر عملی اقدامات میں تبدیل کرنے اور پائیدار، لچکدار اور منصفانہ مستقبل کے لیے مسلسل بین الاقوامی تعاون پر زور دینے کے ساتھ ہوا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
20 SEP 2026 7:02PM by PIB Delhi
صدر جمہوریہ ہند محترمہ دروپدی مرمو نے آج نئی دہلی میں نیشنل گرین ٹریبونل (این جی ٹی) کی جانب سے ’ماحولیات کے مستقبل اور موسمیاتی حرکیات‘ کے موضوع پر منعقدہ دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس کے اختتامی اجلاس سے خطاب کیا۔ اختتامی اجلاس میں مکانات اور شہری امور اور بجلی کے مرکزی وزیر جناب منوہر لال، سپریم کورٹ آف انڈیا کے جج جسٹس بی وی ناگ رتنا، نیشنل گرین ٹریبونل (این جی ٹی) کی چیئرپرسن جسٹس پرکاش شری واستو اور ہندوستان کے سالیسٹر جنرل جناب تشار مہتا نے شرکت کی۔

اپنے کلیدی خطاب میں صدر جمہوریہ نے ماحولیاتی نظم و نسق کو مضبوط بنانے میں نیشنل گرین ٹریبونل کے کردار کی تعریف کی اور روایتی علم پر مبنی عوام مرکوز اور برادری پر مبنی موافقتی طریقۂ کار کے ذریعے موسمیاتی لچک کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔
(پریس ریلیز کا لنک: https://www.pib.gov.in/PressReleasepage.aspx?PRID=2312728®=3&lang=1)
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر جناب منوہر لال نے تیز رفتار ترقی اور ماحولیاتی پائیداری کے درمیان توازن قائم کرنے کے لیے ہندوستان کی کوششوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ غیر فوسل ذرائع نصب شدہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کا تقریباً 55 فیصد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے مقررہ مدت سے پانچ سال قبل ہی غیر فوسل ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کی 50 فیصد صلاحیت کا ہدف حاصل کر لیا ہے۔ انہوں نے پائیدار شہری ترقی، آبی تحفظ، عوامی نقل و حمل، سبز نقل و حرکت اور برقی گاڑیوں کے شعبوں میں کیے جانے والے اقدامات کو بھی اجاگر کیا اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے مثبت اجتماعی اقدام کی ضرورت پر زور دیا۔
اپنی تقریر میں جسٹس بی وی ناگ رتنا نے کہا کہ ماحولیاتی نظم و نسق میں ترقی اور تحفظ، موجودہ ضروریات اور مستقبل کے مفادات کے درمیان توازن قائم کرنا چاہیے، جبکہ مختلف برادریوں اور نسلوں پر پڑنے والے مختلف اثرات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔ انہوں نے سپریم کورٹ آف انڈیا کے ماحول مرکوز نقطۂ نظر کی جانب منتقلی پر روشنی ڈالی اور مؤثر اداروں، قوانین کے نفاذ، شفافیت، جواب دہی اور انصاف تک رسائی پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی، حیاتیاتی تنوع میں کمی، آلودگی اور پانی کی قلت جیسے باہم مربوط چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مختلف دائرہ اختیار کے درمیان تعاون، علم اور تجربات کا تبادلہ اور اقوام کے درمیان منصفانہ ذمہ داری ضروری ہے۔

این جی ٹی کے چیئرپرسن جسٹس پرکاش شری واستو نے اپنے اختتامی خطاب میں کہا کہ دو روزہ مباحثوں میں ماحولیاتی چیلنجوں کی صرف نشاندہی کرنے سے آگے بڑھ کر ایسے قوانین، ادارے اور شراکت داریاں تشکیل دینے کی ضرورت کو اجاگر کیا گیا جو ان چیلنجوں سے مؤثر طور پر نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی کارروائی جامع اور منصفانہ ہونی چاہیے، خاص طور پر کمزور طبقات اور آنے والی نسلوں کی ضروریات پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی قانون کو بھی حالات کے مطابق مؤثر اور مستقبل پر نظر رکھنے والا ہونا چاہیے اور اس میں ٹیکنالوجی، اختراع، پائیدار مالیات اور منصفانہ منتقلی کو اپنانا چاہیے۔
ہندوستان کے سالیسٹر جنرل جناب تشار مہتا نے اپنے خطاب میں کہا کہ ماحولیاتی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے قانون، حکمرانی، سائنس، معیشت اور معاشرے کی مشترکہ دانش کی ضرورت ہے۔ انہوں نے حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کو موسمیاتی کارروائی اور ترقی کے ساتھ متوازن کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ اس کے لیے سائنسی جائزے، اختراع اور پائیدار ترقی کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تحفظ انسانی ترقی میں رکاوٹ نہیں بلکہ پائیدار اور دیرپا ترقی کی بنیاد ہے، جس کے لیے مضبوط اداروں، مؤثر نفاذ اور ذمہ دارانہ حکمرانی کی ضرورت ہے۔
اس موقع پر جناب منوہر لال نے این جی ٹی کی یادگاری کتاب ’ہریِت نیایَم‘ جاری کی اور اس کی پہلی کاپی صدر جمہوریہ ہند کو پیش کی۔ اس دستاویز میں ٹریبونل کے قیام، ترقی اور کامیابیوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ یہ پالیسی سازوں، قانونی برادری اور ملک کے شہریوں کے لیے بھی معلومات کا ایک اہم ذخیرہ ہے، کیونکہ یہ ان خیالات، نقطۂ ہائے نظر اور اجتماعی عزم کی دیرپا عکاسی کرتی ہے جنہوں نے دو روزہ کانفرنس کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

دو روزہ کانفرنس کا افتتاح وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے 19.09.2026 کو کیا تھا۔ اس کانفرنس میں 17 ممالک کے ماہرین قانون، ماہرین تعلیم، پالیسی سازوں، سائنس دانوں، ماحولیاتی ماہرین اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (یو این ای پی) اور ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے نمائندوں نے شرکت کی۔ کانفرنس نے عدالتی، سائنسی، پالیسی اور ادارہ جاتی بہترین طریقۂ کار کے حوالے سے مکالمے اور علم کے تبادلے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کیا، جبکہ اہم ماحولیاتی اور موسمیاتی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اقدامات کی حوصلہ افزائی بھی کی۔
کانفرنس کے دوسرے دن درج ذیل دو تکنیکی اجلاس منعقد ہوئے:
’کرۂ ارض کو درپیش ماحولیاتی چیلنج اور تعاون‘ — اس اجلاس میں باہم مربوط ماحولیاتی اور موسمیاتی چیلنجوں، مشترکہ قدرتی وسائل، باہم متصادم قومی مفادات، سرحد پار تعاون اور علاقائی و بین الاقوامی بہترین طریقۂ کار پر توجہ مرکوز کی گئی۔
- ’مستقبل کے لیے جنگلات: جنگلات کے تحفظ اور بحالی پر مکالمہ‘ — اس اجلاس میں جنگلاتی نظم و نسق، پائیدار جنگلاتی انتظام، برادری کی شمولیت، حیاتیاتی تنوع کا تحفظ، جنگلات کو در پیش ابھرتے ہوئے خطرات، قانونی اور ادارہ جاتی طریقۂ کار، نیز ٹیکنالوجی اور سائنسی و سیٹلائٹ پر مبنی نگرانی کے استعمال پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اجلاس میں مستقبل کے لائحہ عمل کے حوالے سے بھی غور و فکر کیا گیا، جس میں مشترکہ وژن، ترجیحی اقدامات، علاقائی تعاون، ادارہ جاتی شراکت داری اور قابل پیمائش اہداف شامل تھے۔
دو روز کے دوران ہونے والے مباحثوں نے مختلف دائرۂ اختیار سے تعلق رکھنے والے عدالتی، سائنسی، پالیسی اور ادارہ جاتی نقطۂ ہائے نظر کو مشترکہ ماحولیاتی چیلنجوں پر یکجا ہونے کا موقع فراہم کیا۔ کانفرنس میں مضبوط تر ماحولیاتی نظم و نسق، موسمیاتی انصاف، ادارہ جاتی تعاون، علم کے تبادلے اور سرحد پار ماحولیاتی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے عملی طریقۂ کار کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
کانفرنس کا اختتام اس مشترکہ عزم کے ساتھ ہوا کہ ماحولیاتی اصولوں اور وعدوں کو مؤثر عملی اقدامات، مضبوط اداروں اور مسلسل بین الاقوامی تعاون میں تبدیل کیا جائے تاکہ ایک پائیدار، لچکدار اور منصفانہ مستقبل کو یقینی بنایا جا سکے۔
***********
ش ح۔ ف ش ع
U: 3823
(ریلیز آئی ڈی: 2312771)
وزیٹر کاؤنٹر : 11