مواصلات اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت
مرکزی وزیر مواصلات جناب جیوتی رادتیہ سندھیا نے محکمہ ٹیلی مواصلات کے سکریٹری اور اعلیٰ عہدیداران کے ہمراہ گوالیار میں ٹیلی کام مینوفیکچرنگ زون کے لیے نشان زد مقام کا معائنہ کیا
ایشیا کے پہلے ٹیلی کام مینوفیکچرنگ زون (ٹی ایم زیڈ) کے لیے 24 کمپنیوں نے 5,500 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی تجویز پیش کی ہے: مرکزی وزیر جناب سندھیا
ٹیلی کام مینوفیکچرنگ زون سے 18,000 سے زائد براہ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے
مجوزہ 5,500 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے گوالیار میں ٹیلی کام آلات کی تیاری اور صنعتی ترقی کو نئی رفتار ملنے کی توقع ہے
پہلے مرحلے کے لیے 170 ایکڑ اراضی کی نشاندہی؛ 24 عالمی کمپنیوں نے درخواست کا عمل شروع کر دیا ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
20 SEP 2026 6:49PM by PIB Delhi
ایشیا کے پہلے ٹیلی کام مینوفیکچرنگ زون (ٹی ایم زیڈ) کے قیام کے ساتھ گوالیار ہندوستان کے ٹیلی کام مینوفیکچرنگ شعبے کے ایک بڑے مرکز کے طور پر ابھرنے کے لیے تیار ہے۔ مواصلات اور شمال مشرقی خطے کی ترقی کے مرکزی وزیر جناب جیوتی رادتیہ سندھیا نے آج محکمہ ٹیلی مواصلات، حکومت ہند کے سکریٹری اور دیگر اعلیٰ عہدیداران کے ہمراہ شریمنت مادھوراؤ سندھیا کاؤنٹر میگنیٹ سٹی (ایس اے ڈی اے، گوالیار) میں مجوزہ ٹیلی کام مینوفیکچرنگ زون کے لیے نشان زد مقام کا معائنہ کیا۔


مجوزہ ٹیلی کام مینوفیکچرنگ زون تقریباً 5,500 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے قائم کیا جائے گا اور اس سے 18,000 سے زائد براہ راست روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ یہ منصوبہ کسی ایک صنعتی یونٹ کے قیام تک محدود نہیں ہے بلکہ گوالیار میں 24-25 ٹیلی کام مینوفیکچرنگ یونٹوں پر مشتمل ایک مکمل صنعتی ماحولیاتی نظام تشکیل دینے سے متعلق ہے۔ یہ یونٹ ٹیلی کام آلات اور مختلف اقسام کے پرزہ جات تیار کریں گے، جس سے گوالیار کی ایک ابھرتے ہوئے ٹیلی کام مینوفیکچرنگ مرکز کے طور پر حیثیت مزید مستحکم ہوگی۔
پہلے مرحلے کے لیے 170 ایکڑ اراضی کی نشاندہی
مجوزہ ٹیلی کام مینوفیکچرنگ زون کے لیے ایس اے ڈی اے میں تقریباً 90 سے زائد ایکڑ اور آئی ٹی پارک میں 70 سے زائد ایکڑ، یعنی مجموعی طور پر تقریباً 170 ایکڑ اراضی کی نشاندہی کی گئی ہے۔


جناب سندھیا نے کہا کہ سرمایہ کاروں کی جانب سے دلچسپی نمایاں رہی ہے اور اس وقت موصول ہونے والی درخواستوں کی تعداد دستیاب اراضی سے بھی زیادہ ہے۔ اس کے پیش نظر ٹیلی کام مینوفیکچرنگ زون کے پہلے مرحلے کی توسیع کے لیے اضافی اراضی کی نشاندہی کی جائے گی اور ضرورت کے مطابق مختص کی جانے والی اراضی میں اضافہ کیا جائے گا۔
ایس اے ڈی اے کو ابتدا میں ایک کاؤنٹر میگنیٹ سٹی کے طور پر اس تصور کے ساتھ قائم کیا گیا تھا کہ گوالیار کو ایک نئے صنعتی مرکز اور دہلی کے متبادل صنعتی مرکز کے طور پر ترقی دی جائے۔ مجوزہ ٹیلی کام مینوفیکچرنگ زون گوالیار میں ایشیا کا پہلا مخصوص ٹیلی کام مینوفیکچرنگ زون قائم کرکے اس صنعتی وژن کو مزید آگے بڑھاتا ہے۔
5,500 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کے لیے 24 کمپنیوں نے درخواست کا عمل شروع کیا
جولائی 2026 میں مرکزی وزیر جناب جیوتی رادتیہ سندھیا کی قیادت میں محکمہ ٹیلی مواصلات اور وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کی قیادت میں حکومت مدھیہ پردیش نے ٹیلی کام مینوفیکچرنگ زون کے قیام کے لیے مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے۔ اس کے بعد اگست میں نئی دہلی اور ممبئی میں سرمایہ کاروں کے لیے روڈ شوز منعقد کیے گئے، جن کی قیادت مرکزی وزیر جناب سندھیا اور وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کی۔
نئی دہلی میں منعقدہ روڈ شو میں تقریباً 3,500 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کے وعدے موصول ہوئے، جن سے تقریباً 14,000 روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔ اگست میں ممبئی میں منعقدہ روڈ شو میں تقریباً 2,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کے وعدے کیے گئے، جن سے تقریباً 4,000 روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔
جناب سندھیا نے واضح کیا کہ یہ سرمایہ کاریاں محض زبانی وعدے نہیں ہیں۔ جن کمپنیوں نے دلچسپی ظاہر کی تھی، ان سے کہا گیا تھا کہ اراضی مختص کیے جانے کے وقت درخواست کے عمل میں حصہ لیں۔ نتیجتاً، اب 24 کمپنیوں نے ٹیلی کام مینوفیکچرنگ زون میں اپنے یونٹ قائم کرنے کے لیے درخواست کا عمل شروع کر دیا ہے۔
مدھیہ پردیش اور مرکز کی جانب سے پرکشش ترغیبی پیکیج
جناب سندھیا نے ٹیلی کام مینوفیکچرنگ صنعت کے لیے پرکشش ترغیبی پیکیج تیار کرنے پر وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو اور حکومت مدھیہ پردیش کا شکریہ ادا کیا۔ اس پیکیج میں اراضی کی لیز، بجلی روزگار اور پیداوار سے منسلک ترغیبات کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی پائیداری اور سبز ترقی پر مرکوز ترغیبات بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ محکمہ ٹیلی مواصلات نے تقریباً 500 کروڑ روپے کے کامن ٹیسٹنگ لیب پیکیج کی تجویز پیش کی ہے۔
گوالیار کی ترقی میں رابطہ کاری، بنیادی ڈھانچہ اور ہنرمند افرادی قوت کلیدی کردار ادا کریں گے
جناب سندھیا نے ٹیلی کام مینوفیکچرنگ زون کی ترقی کے لیے گوالیار کی رابطہ کاری، بنیادی ڈھانچے اور ہنرمند انسانی وسائل کو اہم طاقت قرار دیا۔ تقریباً 120 کلومیٹر طویل آگرہ-گوالیار ہائی اسپیڈ کوریڈور گوالیار کا دہلی اور شمالی ہندوستان کی بڑی منڈیوں کے ساتھ رابطہ مضبوط کرنے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے، جس سے یہ شہر اہم صنعتی اور تجارتی مراکز کے مزید قریب آ جائے گا۔
گوالیار اہم ریلوے راستوں پر بھی واقع ہے، جس سے ملک کے مختلف حصوں تک اشیا اور انسانی وسائل کی نقل و حرکت میں سہولت حاصل ہوگی۔ شہر کے ہوائی اڈے کو تقریباً 650 کروڑ روپے کی لاگت سے ریکارڈ 16 ماہ میں تیار کیا گیا ہے، جس سے دہلی، ممبئی اور بنگلورو سمیت بڑے شہروں کے ساتھ فضائی رابطہ مزید مضبوط ہوا ہے۔
گوالیار میں انجینئرنگ کے تعلیمی اداروں کا بھی ایک مضبوط نیٹ ورک موجود ہے، جہاں ہر سال تقریباً 25,000 انجینئرنگ طلبہ فارغ التحصیل ہوتے ہیں۔ اس سے ٹیلی کام مینوفیکچرنگ شعبے کے لیے درکار تکنیکی اور ہنرمند افرادی قوت کی دستیابی یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔

ٹیلی کام مینوفیکچرنگ زون کو ایک مکمل ماحولیاتی نظام کے طور پر تیار کرنے کا منصوبہ ہے، جس میں ٹیلی کام مینوفیکچرنگ کے چھ اہم شعبے شامل ہوں گے۔ جناب سندھیا نے کہا کہ حکومت ہند، حکومت مدھیہ پردیش اور تمام متعلقہ محکمے سرمایہ کاروں کو گوالیار میں اپنے مینوفیکچرنگ یونٹس قائم کرنے کے لیے ضروری تعاون فراہم کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔
گوالیار میں ایشیا کے پہلے ٹیلی کام مینوفیکچرنگ زون (ٹی ایم زیڈ) کا قیام شہر کی صنعتی ترقی میں ایک نئے باب کا آغاز ہے اور شریمنت مادھوراؤ سندھیا کاؤنٹر میگنیٹ سٹی کے صنعتی وژن اور ورثے کو آگے بڑھاتا ہے۔
جناب سندھیا نے یہ بھی اعلان کیا کہ گوالیار کے اپنے دو روزہ دورے کے بعد وہ 22 ستمبر کو بنگلورو جائیں گے، جہاں وہ ٹیلی کام شعبے کے سرمایہ کاروں کے ساتھ روڈ شو میں شرکت کریں گے۔
مزید جاننے کے لیے ڈی او ٹی ہینڈل کو فالو کریں:
ایکس: https://x.com/DoT_India
انسٹا: https://www.instagram.com/department_of_telecom?igsh=MXUxbHFjd3llZTU0YQ
ایف بی: https://www.facebook.com/DoTIndia
یوٹیوب: https://youtube.com/@departmentoftelecom?si=DALnhYkt89U5jAaa
***********
ش ح۔ ف ش ع
U: 3822
(ریلیز آئی ڈی: 2312754)
وزیٹر کاؤنٹر : 11