سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

 شراب کی عادت سے باوقار زندگی تک: دارا سنگھ کی صحت یابی کا سفر

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 19 SEP 2026 5:52PM by PIB Delhi

بروقت علاج، مشاورت اور بحالی کی معاونت سے کسی شخص کو منشیات اور نفسیاتی اثرات رکھنے والے مادوں پر انحصار سے نجات حاصل کرنے، خاندانی رشتے بحال کرنے اور دوبارہ ایک فعال و با مقصد زندگی گزارنے میں مدد مل سکتی ہے۔

منشیات پر انحصار کسی فرد کی صحت، رشتوں، روزگار اور معاشرے میں اس کی حیثیت کو شدید متاثر کرسکتا ہے۔

دارا سنگھ (نام تبدیل کیا گیا ہے)، راجستھان کے دوسہ ضلع کے 29 سالہ خود روزگار شخص نے دیدوانہ کے نشہ مکتی کیندر، جو نشے کے عادی افراد کے لیے ایک مربوط بحالی مرکز ہے، میں علاج اور بحالی کی معاونت سے کئی برسوں سے شراب پر انحصار پر قابو پالیا۔ اب وہ مکمل طور پر شراب سے پرہیز کر رہے ہیں، اپنے خاندانی رشتے دوبارہ استوار کرچکے ہیں اور خود روزگار کے ذریعے روزانہ تقریباً 500 روپے کماتے ہیں۔

کئی برسوں تک شراب پر انحصار نے دارا سنگھ کی جسمانی اور ذہنی صحت کو متاثر کیا اور ان کی روزمرہ زندگی میں خلل ڈالا۔ انہیں جذباتی بے چینی، ذہنی دباؤ اور خود اعتمادی میں کمی کا سامنا رہا، جبکہ ان کے اہل خانہ کو گھریلو تنازعات، سماجی بدنامی اور بڑھتے ہوئے مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ گھر کے وسائل کا ایک بڑا حصہ شراب پر خرچ ہونے کے باعث خاندان کی مالی حالت غیر مستحکم ہوگئی اور خاندان اور معاشرے میں ان کے تعلقات بھی خراب ہوتے گئے۔

ان مشکلات کے باوجود دارا سنگھ ایک مستحکم اور صحت مند زندگی دوبارہ حاصل کرنا، اپنے اہل خانہ کا اعتماد بحال کرنا، مالی طور پر خود کفیل بننا اور معاشرے میں دوبارہ اپنا مقام بنانا چاہتے تھے۔ ان کے اہل خانہ نے بھی ان کا ساتھ دیا اور جب شراب پر انحصار کے اثرات زیادہ سنگین ہونے لگے تو پیشہ ورانہ مدد حاصل کی۔

انہیں دیدوانہ کے نشہ مکتی کیندر میں داخل کرایا گیا، جہاں انہوں نے مرکز کے معمولات پر فعال طور پر عمل کیا اور مشاورتی نشستوں، یوگا، طبی نگہداشت اور بحالی کی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ روزانہ کی مشاورت، رویے میں بہتری کے لیے رہنمائی اور مفید سرگرمیوں و روزگار کے مواقع سے متعلق آگاہی نے انہیں نشہ آور مادوں کے استعمال کے اثرات سمجھنے اور صحت مند عادات اپنانے میں مدد دی۔ باقاعدہ فالو اَپ اور مسلسل معاونت نے بھی ان کی صحت یابی کے عمل کو مضبوط کیا اور انہیں شراب سے پاک زندگی کے عزم پر قائم رہنے کی ترغیب دی۔

 علاج مکمل ہونے کے بعد فالو اَپ اور طبی جائزوں میں بھی ان کی صحت یابی میں مسلسل مثبت پیش رفت ریکارڈ کی گئی۔ ان کی صحت اور رویے میں نمایاں بہتری آئی اور انہوں نے شراب سے مکمل طور پر پرہیز شروع کردیا۔ اب وہ منفی اثرات رکھنے والے لوگوں اور ماحول سے دور رہتے ہیں، اپنے اہل خانہ کے ساتھ خوشگوار تعلقات برقرار رکھتے ہیں اور کامیابی کے ساتھ معاشرے میں دوبارہ گھل مل گئے ہیں۔

دارا سنگھ نے دوبارہ خود روزگار شروع کردیا ہے اور روزانہ تقریباً 500 روپے کماتے ہیں۔ ان کی آمدنی سے وہ گھر کے اخراجات میں اپنا حصہ ڈالنے اور مالی خود کفالت کی جانب بڑھنے کے قابل ہوئے ہیں۔ ان کی صحت یابی سے خاندان میں بھی سکون بحال ہوا ہے اور شراب پر انحصار کے باعث متاثر ہونے والے اعتماد اور عزت کو دوبارہ قائم کرنے میں مدد ملی ہے۔

اپنے تجربے کا ذکر کرتے ہوئے دارا سنگھ نے کہا، ’’علاج اور مشاورت نے مجھے شراب چھوڑنے اور اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کی طاقت دی۔ آج میں صحت مند ہوں، اپنے خاندان کے لیے کما رہا ہوں اور عزت کے ساتھ زندگی گزار رہا ہوں۔‘‘

دارا سنگھ کا سفر اس بات کی مثال ہے کہ خاندانی تعاون، پیشہ ورانہ مشاورت، طبی نگہداشت اور مسلسل بحالی کی معاونت سے کسی شخص کو مادوں پر انحصار پر قابو پانے اور صحت مند، فعال اور باوقار زندگی کی جانب واپس آنے میں مدد مل سکتی ہے۔

***

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

U : 3790


(ریلیز آئی ڈی: 2312535) وزیٹر کاؤنٹر : 11
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Kannada