الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
درستگی پر مبنی مینوفیکچرنگ کا ماحولیاتی نظام ہندوستان کی سیمی کنڈکٹر صنعت کے لیے اہم معاون کے طور پر ابھر رہا ہے
چار سو انجینئرنگ کالجوں اور 105 اسٹارٹ اپ کو صنعتی معیار کے ای ڈی اے ٹول تک رسائی حاصل ہونے کے ساتھ ہندوستان کا ہدف 200 چِپ ڈیزائن کمپنیوں کا قیام ہے
پانچ سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ پلانٹس میں تجارتی پیداوار شروع ہو چکی ہے
چار برسوں میں تقریباً 70,000 ڈیزائن انجینئروں کو تربیت دی گئی؛ اب سسٹم ڈیزائن اور درستگی پر مبنی مینوفیکچرنگ کے شعبوں کو وسعت دینے پر توجہ دی جا رہی ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
18 SEP 2026 7:26PM by PIB Delhi
الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے مرکزی وزیر، جناب اشونی ویشنو نے آج سیمیکون انڈیا 2026 میں کہا کہ ہندوستان کا سیمی کنڈکٹر مشن بنیادی ڈھانچہ قائم کرنے کے مرحلے سے آگے بڑھ کر بڑے پیمانے پر صنعت کی تعمیر کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن 2.0 کے تحت اگلے مرحلے میں ایک مکمل سیمی کنڈکٹر ماحولیاتی نظام تیار کرنے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔
سیمیکون انڈیا 2026 کے دوران ایک فائر سائیڈ چیٹ میں خطاب کرتے ہوئے جناب ویشنو نے کہا کہ آئی ایس ایم 1.0 نے بنیادی ماحولیاتی نظام تشکیل دینے پر توجہ مرکوز کی، جبکہ آئی ایس ایم 2.0 سیمی کنڈکٹر صنعت کو چھ اہم ستونوں کے ذریعے آگے بڑھائے گا — ڈیزائن؛ مواد اور مشینیں؛ مزید فیب یونٹ؛ مزید اے ٹی ایم پی یونٹ؛ تحقیق و ترقی اور افرادی صلاحیت۔
وزیر موصوف نے کہا کہ آئی ایس ایم 1.0 کو اصل میں چھ سالہ پروگرام کے طور پر تصور کیا گیا تھا، لیکن اس نے صرف چار سال میں اپنے مقاصد حاصل کر لیے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ سرمایہ کاروں کی مضبوط اور مسلسل بڑھتی ہوئی دلچسپی کے تعاون سے آئی ایس ایم 2.0 بھی مقررہ مدت سے پہلے اسی طرح پیش رفت کرے گا۔

پانچ سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ پلانٹ میں تجارتی پیداوار شروع ہو چکی ہے
جناب ویشنو نے کہا کہ ہندوستان میں چِپس تیار کرنے والے پانچ پلانٹ میں تجارتی پیداوار شروع ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہندوستانی سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ لاگت اور معیار کے اعتبار سے مسابقت کی صلاحیت رکھتی ہے، جو عالمی منڈی میں مسابقت کے لیے ضروری ہے۔
وزیر موصوف نے کہا کہ اس وقت سیمی کنڈکٹر مصنوعات کی طلب زیادہ ہے اور کئی کمپنیاں تیزی سے اپنی پیداوار میں توسیع کر رہی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ 2028 میں شروع کیے جانے والے ایک فیب کی پیداواری صلاحیت کا ایک بڑا حصہ پہلے ہی بک ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیمی کنڈکٹر اور الیکٹرانکس انتہائی عالمگیر صنعتیں ہیں، جن میں عالمی سپلائی چین کے ایک حصے کے طور پر اجزا اور مصنوعات بین الاقوامی سرحدوں کے آرپار منتقل ہوتے ہیں۔
ڈیزائن کی صلاحیت سیمی کنڈکٹر ماحولیاتی نظام کو آگے بڑھائے گی
ہندوستان کی بڑی طاقتوں میں سے ایک کے طور پر ڈیزائن کی صلاحیت کو اجاگر کرتے ہوئے جناب ویشنو نے کہا کہ ملک کی ڈیزائن کی صلاحیت، جس کی بنیاد آئی ٹی صنعت اور عالمی صلاحیت مراکز میں ہے، اب سیمی کنڈکٹر شعبے تک پھیل رہی ہے۔ وزیر موصوف نے اندازہ ظاہر کیا کہ آئی ایس ایم 2.0 کے تحت کم از کم 200 چِپ ڈیزائن کمپنیاں وجود میں آئیں گی، اور اسے مقامی طور پر تیار کردہ سیمی کنڈکٹر آئی پی تیار کرنے کے لیے "گیم چینجر" قرار دیا۔
وزیر موصوف نے کہا کہ آئی ایس ایم 1.0 میں چِپ ڈیزائن اسٹارٹ اَپس کے لیے معاونت کے پہلے مرحلے میں الیکٹرانک ڈیزائن آٹومیشن ٹولز کی بلند لاگت سے متعلق مسئلے کو حل کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اس اقدام کے ذریعے 105 سے زائد چِپ ڈیزائن اسٹارٹ اپ کو جدید ترین ای ڈی اے ٹول تک رسائی حاصل ہوئی، جبکہ 20 اسٹارٹ اپ کو وینچر کیپیٹل فنڈنگ فراہم کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ اس شعبے میں اسٹارٹ اَپس کی پیش رفت، جس میں مصنوعات کے لیے تیار کیے جانے والے چِپس بھی شامل ہیں، نے پروگرام کو وسعت دینے اور بڑی کمپنیوں کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں کام کرنے والے ہندوستانی نژاد انجینئروں کی زیادہ سے زیادہ شرکت کی حوصلہ افزائی کی ہے۔
درستگی پر مبنی مینوفیکچرنگ اور اطلاقی تحقیق و ترقی
جناب ویشنو نے کہا کہ الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کے ماحولیاتی نظام نے خاص طور پر ایم ایس ایم ای کے درمیان درستگی پر مبنی مینوفیکچرنگ کی صلاحیتیں پیدا کرنے میں مدد کی ہے، جو اب الیکٹرانکس، موبائل مینوفیکچرنگ، ایرو اسپیس، ہوا بازی، دفاع اور سیمی کنڈکٹر سمیت متعدد شعبوں کی معاونت کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگلی توجہ مینوفیکچرنگ پلانٹس کے اندر اطلاقی تحقیق و ترقی پر ہونی چاہیے، جس کا مقصد مصنوعات کے معیار اور مینوفیکچرنگ کے عمل کو بہتر بنانا ہے۔
وزیر موصوف نے درستگی پر مبنی مینوفیکچرنگ کے لیے ہنرمندی پیدا کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ درستگی پر مبنی مینوفیکچرنگ کے ماحولیاتی نظام کے لیے ہنرمند افرادی قوت کی ضرورت پوری کرنے کے لیے کثیر سطحی تربیتی ماڈل تیار کیا جا رہا ہے۔
چار برسوں میں 70,000 ڈیزائن انجینئروں کو تربیت دی گئی
سیمی کنڈکٹر شعبے میں ہنرمندی کی ترقی کے حوالے سے جناب ویشنو نے کہا کہ ہندوستان نے ابتدا میں 85,000 ڈیزائن انجینئروں کو تربیت دینے کا ہدف مقرر کیا تھا اور صرف چار برسوں میں تقریباً 70,000 ڈیزائن انجینئروں کو تربیت دی جا چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 400 کے قریب انجینئرنگ کالجوں کے طلبہ، جن میں چھوٹے شہروں کے ادارے بھی شامل ہیں، کو صنعتی معیار کے ای ڈی اے ٹول تک رسائی حاصل ہوئی ہے۔ طلبہ کو اپنے ڈیزائن ٹیپ آؤٹ کے مرحلے تک لے جانے اور اپنے خیالات کو مصنوعات کی شکل اختیار کرتے ہوئے دیکھنے کے مواقع بھی فراہم کیے جا رہے ہیں۔
آئی ایس ایم 2.0 کے تحت ہنرمندی کی ترقی میں توجہ چِپ ڈیزائن سے آگے بڑھ کر سسٹم ڈیزائن کی جانب منتقل کی جائے گی، جس کا مقصد ایسی باصلاحیت افرادی قوت تیار کرنا ہے جس کی صنعت میں بہت زیادہ طلب ہو۔
وزیر موصوف نے یہ بھی کہا کہ کلین روم ٹیکنیشنز اور مینٹیننس اہلکاروں کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے، اور صنعت کی طلب کو مدنظر رکھتے ہوئے آئی ایس ایم 2.0 کے تحت ایک لاکھ ٹیکنیشن کو تربیت دینے کے ہدف میں مزید اضافہ کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

الیکٹرانکس، اے آئی اور سیمی کنڈکٹر کا ماحولیاتی نظام ایک ساتھ فروغ پا رہا ہے
جناب ویشنو نے کہا کہ الیکٹرانکس، سیمی کنڈکٹر اور اے آئی کی ایپلی کیشن ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتی ہیں۔ انہوں نے اے آئی سرور کے لیے بڑھتے ہوئے مینوفیکچرنگ ماحولیاتی نظام کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ سرور کے بڑے مینوفیکچرر ہندوستان میں مینوفیکچرنگ یونٹس قائم کرنے میں دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اجزا، تیار مصنوعات، لیپ ٹاپ، سرور اور لوازمات پر مشتمل ماحولیاتی نظام بتدریج تشکیل پا رہا ہے، اور ایک مرتبہ یہ ماحولیاتی نظام قائم ہو جائے تو ترقی زیادہ مستقل اور مستحکم ہو سکتی ہے۔
ہندوستان کی ڈیزائن صلاحیت اور قابل اعتماد ماحولیاتی نظام
وزیر موصوف نے کہا کہ ہندوستان کی ڈیزائن صلاحیت ایک مضبوط سیمی کنڈکٹر ماحولیاتی نظام کی تعمیر اور زیادہ سے زیادہ مقامی سطح پر تیاری کو ممکن بنانے میں ایک اہم فائدہ ہے۔
انہوں نے ایک قابلِ اعتماد ملک کے طور پر ہندوستان کی حیثیت اور عالمی سیمی کنڈکٹر اور الیکٹرانکس کمپنیوں کو راغب کرنے میں اعتماد اور دانشورانہ ملکیت کے تحفظ کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔
جناب ویشنو نے کہا کہ ایسی کمپنیاں، جنہوں نے اس سے قبل اپنے آبائی ملک سے باہر کہیں اپنا کاروبار قائم نہیں کیا تھا، اب ہندوستان آ رہی ہیں۔ انہوں نے اسے ہندوستان کی صلاحیتوں پر ظاہر کیے جانے والے اعتماد کی ایک اہم علامت قرار دیا۔
میڈ اِن انڈیا اور ڈیزائنڈ ان انڈیا چِپ کی جانب پیش رفت
جناب ویشنو نے کہا کہ ہندوستان منظم انداز میں ایک مصنوعات تیار کرنے والی قوم بننے کی سمت آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوستان میں تیار کیے جانے والے بعض چِپس پہلے ہی اسٹریٹجک شعبوں میں استعمال ہو رہے ہیں، جبکہ چِپس برآمد بھی کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سیمی کنڈکٹر پروگرام کے دوران مزید بہت سے میڈ اِن انڈیا اور ڈیزائنڈ ان انڈیا چِپ تیار ہونے کی توقع ہے۔
وزیر موصوف نے کہا کہ اے ٹی ایم پی یونٹ پہلے ہی جاپان کو مصنوعات برآمد کر رہے ہیں، جبکہ چِپس کو سوئٹزرلینڈ اور جرمنی جیسے ممالک کو برآمد کی جانے والی مصنوعات میں بھی شامل کیا جا رہا ہے۔
**************
ش ح۔ ف ش ع
18-09-2026
U: 3761
(ریلیز آئی ڈی: 2312260)
وزیٹر کاؤنٹر : 5